سرخ گلاب - توقیر عائشہ

’’واہ بھئی، تم نے تو بہت صفائی سے پودا نکالا ہے۔ چلو اسے باہر لے چلو۔ ‘‘ اشعر کے کہنے پر فیض مالی نے زمین سے پودا نکال تو لیا مگر باہر لگانے میں ابھی بھی اسے تردّد تھا۔ اشعر سے کہنے لگا۔’’ میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ صاحب اتنا قیمتی پودا باہر نہ لگوائیں۔ کوئی چلتا پھرتا اُڑا لے گا۔‘‘ مگر اشعر نے لا پروائی سے کہا ’’ارے بابا! یہ کوئی کچی بستی تو نہیں ہے۔ سب ہی گھروں کے باہر سبزہ لگا ہے۔ پھول کھلے ہیں۔ کون لے جائے گا بھلا؟‘‘ پھر اپنی نگرانی میں بیرونی گیٹ سے باہر بنی سبزے کی پٹی پر مناسب سی جگہ دیکھ کر پودا لگوا دیا۔ عمدہ قسم کے سرخ گلاب کے پودے ان کے دوست نے لاڑکانہ سے بھیجے تھے۔ کچھ پودے تو انہوں نے گھر کے اندرونی لان میں لگالیے تھے۔ اب یہ ایک پودا ان کی خواہش کے مطابق باہر کی زمین پر متقل ہو گیا۔

یہ ایک پوش علاقہ تھا۔ جہاں دن میں بھی سناٹے کا راج رہتا تھا۔ گھروں کے دروازے صرف اسی وقت کھلتے جب کسی گاڑی کو گھر کے اندر داخل ہونا ہوتا یا باہر نکلنا ہوتا۔صاف ستھری سڑکیں, ہر گھر کے آگے سبزہ اور پھولوں سے بھری کیاریاں۔ بعض گھروں میں شوقیہ اعلیٰ نسل کے کتے بھی پلے ہوتے لیکن اتنے مہذب کہ کسی کے لان میں جا کر روشیں خراب کرتے نہ پودوں کو روندتے۔ بس کچھ بھاگ دوڑ اور ’’ ڈاگ واک‘‘ کے بعد اپنے لیے رکھے گئے ملازم کے ہمراہ گھروں کو واپس ہو جاتے۔

اشعر جب آفس جانے کے لیے گھر سے نکلتا تو باہر کیاری میں اپنے لگے اپنے گلاب کے پودے کو ضرور دیکھتا۔ گو کہ وہاں اور بھی پودے تھے مگر اس پودے سے اشعر کو خاص دلچسپی تھی۔ پودے نے نئی زمین کو قبول کر لیا تھا اور اب نئے پتے بھی آنے لگے تھے۔ایک دن اس نے دیکھا کہ پتوں کے بیچ ایک کلی بھی سر اُٹھا رہی ہے۔ یعنی چھ سے سات دن میں پھول اپنی بہار دکھانے والا تھا۔ اس کو ایک انوکھا خیال آیا۔ چھ ہی دن تو باقی ہیں، اگر قدرت ساتھ دے تو وہ چودہ فروری کو اپنے پودے کا پہلا گلاب اپنے ہاتھوں سے ماہم کو پیش کرے گا۔ اس کی شادی کو تین سال کا عرصہ ہی تو ہوا تھا۔ اب تو ان کے پاس ایک جیتی جاگتی گڑیا بھی تھی۔ جس کا نام اس نے بڑے شوق سے ’ وردہ‘ رکھا تھا یعنی ’ سرخ گلاب ‘۔

وہ اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ اس دن کو یادگار بنانا چاہتا تھا۔ ماہم کے سوٹ کے ساتھ اس نے اپنی بیٹی کے لیے بھی سرخ رنگ کی فراک خریدی تھی۔ جوں جوں کلی نمایاں ہو رہی تھی۔اشعر کے دل کی کلی بھی کھلتی جا رہی تھی۔ شام کو دفتر سے واپسی پر گاڑی سے اترتے ہوئے حسبِ معمول اپنے گلاب کے پودے کو دیکھا جہاں کلی اب کھلنے کو بیتاب تھی، اور ڈرائیور سے کہنے لگا۔ ’’ بس اب دیکھنا۔۔۔ صبح تک یہ گلاب کھل چکا ہوگا۔ ‘‘ڈرائیور ’’ جی صاحب ‘‘ کہ کر گاڑی لاک کرنے لگا۔ اور اشعر گھر میں داخل ہو گیا۔ ماہم کی مسکراہٹ اور وردہ کی معصوم اداؤں میں وہ اپنے پودے کو وقتی طور پر بھول گیا۔ شومئی قسمت، وہ آوارہ کتا جو کئی دن سے آس پاس کی گلیوں میں گھوم رہا تھا، آج اس گلی میں آن ٹپکا۔ شام کے سائے گہرے ہو چلے تھے۔ گھروں کے چوکیدار گیٹ بند کیے اندر بیٹھے تھے۔ بس کبھی کبھارکوئی گاڑی سبک سی سرسراہٹ کے ساتھ گزر جاتی۔ یہ ماحول کتے کے لیے بڑا سازگار تھا۔ وہ اشعر کے بیرونی لان کے ساتھ کھڑا اپنی پیلی پیلی آنکھوں سے ادھر ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی توجہ نئے کھلتے گلاب کی طرف ہو گئی۔ اس نے آنکھوں کو ترچھا کیا، سر موڑا، ہر زاویہ سے پھول کو پرکھا۔ نہ جانے کیوں سرخ گلاب دیکھ کر اسے شدید بھوک کا احساس ہوا۔

وہ سرخ گلاب جسے صبح کی شبنم سے غسل کر کے اپنے پورے جوبن پر آنا تھا۔ ایک جھٹکے سے اس کے غلیظ دانتوں کے بیچ آگیا تھا۔ کتے نے اس کو گوشت کا ٹکڑا سمجھا تھا۔ اس نے پھول کو بھنبھوڑ ڈالا۔ لیکن جب اس کا مزہ بوٹی جیسا نہ پایا اور کانٹوں نے بھی مزاحمت کی تو وہیں اگل دیا اور اپنے پیروں سے اردگرد کے مزید پودے کچلتا ہوا پنجوں سے چپ چپ کے آوازیں نکالتا آگے بڑھ گیا۔ صبح اتوار تھا۔ مالی کے آنے کا دن، روش کی تباہی پر سب سے پہلے مالی کی نظر پڑی، پھر چوکیدار نے اشعر کو اطلاع دی۔

وہ ناشتہ ادھورا چھوڑ کر باہر آگیا۔ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ’’ نان سینس! یہ کیا ہوا؟ اسے تو آج پورا کھِل جانا تھا۔۔۔ ‘‘ فیض مالی نے نے کہا۔ ’’ صاحب! میں نے اس لیے ہی تو منع کیا تھا۔ گھر کے باہر اتنا اچھا گلاب نہ لگوائیں۔ اسے کوئی نہیں رہنے دے گا۔ اندر ہوتا تو محفوظ تو رہتا۔‘‘ چوکیدار نے رائے ظاہر کی۔ ’’یہ تو کسی جانور کا کام لگتا ہے۔ اس نے تو پورا پودا ہی توڑ ڈالا۔ ‘‘ اسی وقت شور کی آواز آئی۔ سب نے آواز کی سمت دیکھا۔ دو گھر چھوڑ کے سلطان صاحب کے چوکیدار نے لان میں گھسے آوارہ کتے کو ڈنڈا مارا تھا اور وہ چیختا ہوا سڑک پر بھاگ رہا تھا۔ اشعر اداس ہو کر گھر میں داخل ہوا۔ سامنے ہی ماہم وردہ کو گود میں لیے کھڑی تھی۔ اپنے بابا کو دیکھ کر بچی نے اپنے ہاتھ آگے پھیلا دیے۔ وردہ کو اپنی گود میں لیتے وقت بھی وہ نہایت سنجیدہ تھا۔ اس کے ذہن میں ایک ایسا خیال آیا کہ وہ سر سے پاؤں تک کانپ اُٹھا۔ بچی کو سینے سے لگا کر ماہم سے کہنے لگا۔ ’’ آج میری بچی کو سرخ فراک نہ پہنانا۔ باہر کتا گھوم رہا ہے۔ کہیں کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے آگے وہ کچھ نہ بول سکا۔

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */