کیا آپ عربی زبان سیکھنا چاہتے ہیں؟ - ظہور احمد

جب آپ عربی زبان سیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ کو اپنا ہدف معلوم ہوکہ آپ کیوں سیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ دین سمجھنے کے لیے سیکھنا چاہتے ہیں یا عرب ممالک میں جانے کے لیے سیکھنا چاہتے تھے؟ اس لحاظ سےیہ مضمون آپ کےلیے بہت کارآمد ہے۔ ہمارے زمانے میں عربی زبان سکھانے کے لیے عالمی سطح تین طرح کے کورس دستیاب ہیں:

1۔ M.S.A، یعنی ماڈرن سٹینڈرڈ عربی۔ جسے العربیۃ الفصحی بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد درسی عربی ہے یعنی وہ عربی جو جرائد میں لکھی جاتی ہے خبروں میں پیش کی جاتی ہے اور ادبی کتابوں میں ملحوظ رکھی جاتی ہے۔ یہ حکومت، جامعات اور دفاتر کی زبان ہے۔ اس عربی میں نحو و صرف کا مکمل لحاظ موجود ہے۔ لیکن جدید اصطلاحات بھی بہت پائی جاتی ہیں جن کے بغیر آپ اس قابل نہیں ہوتے کہ جدید عربی سمجھ سکیں یا بول سکیں۔ اسی وجہ سے یہ کلاسیکی عربی سے جدا حیثیت رکھتی ہے۔

2۔C.A یعنیColloquial Arabic۔ روز مرہ بول چال کی عربی۔ اسے لغۃ عامہ بھی کہتے ہیں۔ پاکستان میں بعض حضرات کو سنا ہے کہ اسے لغۃ عمی بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک بالکل مختلف چیز ہے کیونکہ عرب عوام عربی بہت مختلف عربی استعمال کرتی ہے جس میں عوامی گرامر چلتی ہے آپ اسے قیاس پر نہیں پرکھ سکتے یہ ایک مکمل سماعی چیز ہے جس میں وہی درست ہےجو عوام کہہ رہی ہے اس کی سب سے بڑی مثال حرف جار کو افعال پر داخل کرنا اور اسم اشارہ کو مشارالیہ کے بعد ذکر کرنا ہے۔ اس عربی کی بہت سے اقسام ہیں مثلاً خلیجی عربی،مصری عربی، یمنی عربی وغیرہ۔ عرب ممالک میں رہنے اوراور کام کاج کے سلسلہ میں جانے والوں کے لیے اس عربی کا سیکھنا زیادہ بہتر ہے۔

3۔ Q.A یعنی قرآنی عربی۔ یہ ایک عنوان ہے اسے کلاسیکی عربی بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد پرانی عربی ہے جس میں قرآن، حدیث، سیرت، تاریخ اور تمام پرانا ادبی ورثہ پایا جاتا ہے۔ عہد اولی سے انیسویں صدی تک اسی عربی کی حکمرانی رہی ہے لیکن انیسویں صدی میں مختلف وجوہات کی بنا پر MSAکو رواج دیا گیا۔ یہ عربی سیکھناان تمام افراد کی ضرورت ہے جو دین میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یا قرآن و حدیث کو بہتر انداز سے سمجھنا چاہتے ہیں تاکہ ان پر عمل کریں۔ پاکستان کے مدارس دینیہ میں عموماً یہی عربی سیکھائی جاتی ہے۔ تمام صرف ونحو اور تمام ادب حقیقتا اسی کے گرد گھومتا ہے کہ ایک طالب اچھے طریقہ سے قرآن و حدیث سمجھنے کے قابل ہوسکے۔ لیکن یہ بول چال کی عربی نہیں ہے "قرآنی عربی بول چال کی سطح پر نویں صدی عیسوی تک ختم ہو گئی تھی۔ اُس کے بعد سے اب تک یہ زبان فصحیٰ کی شکل میں تحریر یا رسمی موقعوں پر استعمال ہوتی آئی ہے۔ البتہ آج بھی اسے ہی 'درست عربی' یا 'معیاری عربی' کہا جاتا ہے۔" اور یہی وجہ ہے کہ مدارس دینیہ کے طلبہ کو آٹھ سال مکمل عربی کتابیں پڑھنےکے باوجود جدید عربی نہیں آتی چاہیے وہ العربیۃ الفصحی ہی کیوں نہ ہو۔ الا ماشاء اللہ۔ عربی کے لہجات بول چال کی عربی کے پھر تین بڑے گروپ ہیں :

1۔ الدارجہ: دارجہ کو مغربی عربی بھی کہتے ہیں۔ یہ لہجہ اسلامی مغربی ممالک میں بولا جاتا یعنی بہت سے افریقی ممالک میں جن میں مراکش، تونس، الجزائر،اور لیبیا شامل ہیں۔ یہ عربی کا سب سے مشکل لہجہ شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ لہجہ دوسری زبانوں سے بہت متاثر ہے۔ حتیٰ کہ اس میں غور وخوض کے لیے باقاعدہ عربی ادب کے ماہرین کی مجلسیں بھی منعقد ہوئی ہیں۔

2۔الخلیجیہ Gulf Arabic یعنی خلیجی ممالک کا لہجہ: عربی کے اس لہجہ میں تمام خلیجی ممالک آجاتے ہیں جیسے سعودی عرب، دبئی، قطر، امارات، بحرین وغیرہ۔

3۔الشامیہ Levantine Arabic: یہ لہجہ شامی ممالک میں بولا جاتا ہے اس گروپ میں شام، فلسطین،لبنان اور اردن آجاتے ہیں۔ یہ لہجہ پہلے لہجہ کی بہ نسبت آسان ہے۔

ان تین بڑے گروپ کے علاوہ کئی ایسے ممالک بھی ہیں جن کا اپنا لہجہ ہے اور وہ کسی گروپ میں نہیں ہیں۔ مثلاً مصری لہجہ کافی مشہور لہجہ ہے یہ دارجہ کے قریب ہے۔ یا مثلاً عراقی لہجہ جو لغت فصحی کے کافی قریب ہے۔ امید ہے کہ اس تفصیل سے آپ کو اپنی ضرورت کی عربی سیکھنے میں کافی مدد ملے گی۔