مدارس کے مہتمم حضرات کو سوچنا ہوگا - ابوبکر قدوسی

کل سے ایک معصوم بچے کی تشدد زدہ تصویر وائرل ہو رہی ہے جس کو مدرسے کے استاد نے مار دیا۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے حفظ کے مدارس میں ایسا وحشیانہ تشدد ہوتا ہے اور بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے شاید چار برس پہلے اس پر ایک لمبا مضمون لکھا تھا، جو چند اخبارات میں بھی شائع ہوا تھا۔ میں نے تب بھی سوال کیا تھا اور آج بھی ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر، انجینیئر، اکاؤنٹنٹ اور کمپیوٹر کا ماہر عمر بھر ایک تھپڑ کھائے بنا تعلیم مکمل کر سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ قرآن کا حافظ ہڈی پسلی تڑوائے بنا ایسا نہیں کر سکتا؟ ممکن ہے کہ آپ کہیں کہ ایسا ہر جگہ تو نہیں ، لیکن ہم کہیں گے کہ کسی بھی پیمانے پر ہی سہی ایسا کیوں ہے؟

تب لکھنے کی وجہ یہ بنی تھی کہ میرے قریبی عزیز کا بچہ حفظ کے واسطے مدرسے گیا۔ پہلے روز ہی اس کے سامنے ایک استاد نے بچے کو پائپ سے مارا۔ وہ بچہ ذرا "ممی ڈیڈی " قسم کا تھا، گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ میں نے اس مدرسے کے ایک استاد صاحب کو کہا کہ آپ وہاں ہوتے ہیں، ذرا اس معاملے کو دیکھیے کہ ایسا کیوں ہے؟ ان کا جواب مایوس کن تھا۔ وہ اس استاد کا دفاع کرنے لگے اور لڑکوں کی شرارتیں ذکر کرنے لگے۔ میں بہت مایوس ہوا کہ اصلاح احوال کی صورت تب پیدا ہو سکتی ہے جب غلطی کا احساس ہو؟ جب سود و زیاں کا احساس ہی مٹ جائے تو اصلاح کی کیا صورت ہو؟

آپ جانتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ فیس بک پر مولوی کے دفاع میں مسلسل شاید ہی کسی نے لکھا ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے ان احباب کی غلطیوں سے صرفِ نظر کیے رکھیں اور اہل مذہب کی بدنامی کی انہیں اجازت دیے رکھیں ؟

مدارس کو ایسے اساتذہ کا احتساب کرنا ہو گا، اگر وہ اس وحشی پن سے باز نہیں آتے تو ان کو سہولت کے ساتھ الگ کر دیجیے۔ کم از کم ایسے تشدد پسند تعلیم کے شعبے کے قابل نہیں ہیں ۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ حفظ قرآن کوئی جبر کا معاملہ نہیں، محبت اور پیار کا معامله ہے۔ آپ محبت سے بچے کو پڑھائیں تو اس کے دل میں قرآن کی محبت اتر جائے گی۔ لیکن ہڈیاں توڑ کے پڑھائیں گے تو بچہ حفظ کر بھی لے گا تو اس کے لاشعور میں قرآن سے دوری بیٹھ جائے گی۔ ممکن ہے معاشرتی اقدار اور گھریلو ماحول اس کا ایمان بچا جائے ورنہ یہ نفرت الحاد تک لے جا سکتی ہے ۔

سادہ سی بات ہے کہ مار مار کے آپ یاد تو کروا لیں گے، جیسے مار کے خوف سے قیدی ناکردہ گناہ کا بھی اقرار کر کے جان چھڑاتے ہیں۔ لیکن قرآن کی محبت دل میں نہیں اتار سکتے ۔

اب تصویر کا دوسرا رخ ..... ایسا نہیں ہے کہ تمام مدارس میں یہی ماحول ہے۔ ایک وقت تھا کہ ماں باپ بچے کو مدرسے لاتے اور استاد کو کہتے کہ "حضور! لیجیے بچے کو حفظ کروانا ہے ہڈیاں ہماری اور گوشت آپ کا ۔"مطلب یہ کہ اتنا نہ ماریے کہ ہڈی ٹوٹ جائے، باقی جتنا جی چاہے مار لیجیے۔ بعض ظالموں نے گوشت کی حلت کو بہت حد تک دراز کر لیا۔

مگر اب وقت بدل چکا ہے، نہ ماں باپ ایسا کہتے ہیں، نہ برداشت کرتے ہیں۔ سو اکثر مدارس میں مار پیٹ کے بغیر ہی پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن بہت سے استاد مار پیٹ کرتے ہیں اور جب معامله حد سے گزر جاتا ہے تو اخبارات میں خبریں آتی ہیں۔ اس صورت میں تمام مدارس بدنام ہوتے ہیں۔ میرے خاندان میں بہت سے حفاظ ہیں، لیکن مجھے نہیں یاد کہ کبھی ایسے کوئی شکایت ملی ہو۔ لیکن جب کوئی ایک آدھ واقعہ بھی پیش آ جاتا ہے تو اس کا بہت شور ہوتا ہے اور کل کے واقعے میں تو ایک معصوم جان چلی گئی، سو احتجاج کا ہنگام معمول سے زیادہ ہے اور بدنامی سب مدارس کی ہو رہی ہے۔ ان حالات میں مدارس کی انتظامیہ کا فرض ہے کہ ایسے استادوں کو ان کے منصب سے ہٹا دیں کیونکہ یہ سب کی عزت کا اور معصوم بچوں کی نفسیات کا سوال ہے ۔ جب میڈیا پر مکمل قابض، لبرل گروہ مخصوص مقاصد کے تحت آپ کی بدنامی کے درپے ہے۔ نسبتاً معمولی واقعات کو بھی بڑھا چڑھا کے بیان کیا جاتا ہے اور اس بار تو اصلاً واقعہ ہی بہت بڑا ہے۔ تو ایسی صورت میں تو مزید احتیاط کی ضرورت ہے ۔