زنا بالجبرکی بحث میں اہل المورد کی غلطی - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمیں توقع تھی کہ اس موضوع پر ہم نے جتنی تفصیل سے غامدی صاحب کے متبعین کی غلط فہمیوں پر بحث کی ہے اس کے بعد کسی نئی غلط فہمی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں ہوگی لیکن لگتا ہے کہ ابھی بہت لمبا سفر باقی ہے۔ جناب احمد بلال صاحبِ علم ہیں اور ان سے بالخصوص یہ توقع تھی کہ ان کے لیے فقہاے کرام کے موقف کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہوگا ۔ اپنے تفصیلی مضمون کی ابتدا انھوں نے اسی نکتے سے کی جو ہمارے نزدیک اس ساری غلط فہمی کی جڑ کاٹ دیتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ یہ سرا چھوڑ کر کسی اور طرف چلے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے لیے گتھی سلجھنے کے بجاے مزید الجھ جاتی ہے۔

ڈور کو سلجھا رہے ہیں اور سرا ملتا نہیں!

پہلے یہ نکتہ خود ان کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ اس کے بعد آگے کی بحث کریں گے۔ وہ فرماتے ہیں :

"کسی عورت کی عصمت دری، یا عوام کی زبان میں عزت لوٹ لینے کے جرم کو ہمارے شریعت پر مبنی قانونی مسودات زنا بالجبر کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس اصطلاح میں نقائص ہیں اور یہ ہماری روایتی فقہ میں بھی اسی طرح موجود نہیں، اس لیے اس کی جگہ کوئی دوسری اور بہتر 'Umbrella term' وضع و اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ پھر مردوں، کم سن بچے بچیوں کو بھی اس کی مختلف صورتوں میں شامل تصور کرنا عقلی اقتصاءات کا تقاضا ہے۔ "

یہاں پہلی بات نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ "زنا بالجبر" کی اصطلاح کے متعلق ان کا بنیادی مفروضہ ہی غلط ہے۔ ہم بالتفصیل واضح کرچکے ہیں کہ یہ اصطلاح "ہماری شریعت پر مبنی قانونی مسودات" نے تخلیق نہیں کی بلکہ دراصل یہ انگریزوں کے دیے گئے قانون، مجموعۂ تعزیراتِ ہند، میں بنائے گئے جرم rape کا اردو ترجمہ ہے۔ جب ریپ کی دفعات حدود قوانین 1979ء کے ذریعے ختم کی گئیں تو ان نئے قوانین میں ریپ کی جگہ زنا بالجبر کی اصطلاح ہی استعمال کی گئی۔ اصلاً یہ اصطلاح "ہماری شریعت" سے نہیں آئی بلکہ انگریزوں کے قانون سے آئی ہے جسے "ہماری شریعت پر مبنی قانونی مسودات" میں بھی جگہ دی گئی، اور یہ بہت بڑی غلطی تھی لیکن براہ کرم اس غلطی کو "ہماری شریعت" کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف یہ مانتے ہیں کہ "اس اصطلاح میں نقائص ہیں" بلکہ یہ بھی مانتے ہیں کہ "اور یہ ہماری روایتی فقہ میں بھی اسی طرح موجود نہیں"۔ اس کے باوجود وہ اپنی اگلی ساری بحث اس مفروضے پر کرتے ہیں کہ فقہاے کرام نے "زنا بالجبر" کے احکام کو "زنا بالرضا" کے احکام پر "قیاس" کیا ہے۔ فیا للعجب! اس مفروضے کی غلطی ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں لیکن چونکہ احمد بلال صاحب نے پھر یہ نکتہ بڑے زور و شور سے اٹھایا ہے، اس لیے ہم بھی مجبوراً آگے چند نکات اس غلط فہمی کے ازالے کی کوشش میں ذکر کریں گے۔

تیسری بات یہ ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ جنسی تشدد کی کئی دیگر اقسام سرے سے اس اصطلاح کی تعریف میں آتے ہی نہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس بنیادی سوال پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ پھر اس ناقص اصطلاح اور ناقص تصور کے بجاے مسئلے کو جڑ سے کیوں نہ پکڑا جائے؟


"مظلوم" اور "ملزم" کا فرق ضروری ہے یا نہیں؟


ریپ کے کیسز میں جہاں یہ امکان ہوتا ہے کہ ریپ کا الزام لگانے والی خاتون واقعی مظلوم ہو وہاں یہ امکان بھی ماننا پڑتا ہے، اور بارہا ثابت بھی ہوا ہے، کہ اس کا الزام غلط بلکہ بدنیتی پر مبنی تھا۔ امریکا سے چند اعداد و شمار ذکر کرنے کے بعد احمد بلال صاحب لکھتے ہیں :

" اس طرح کے کیسز میں قانون سازی کی باتیں کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ قانون میں مظلوم (victim) اور ملزم (accused) کے حقوق کے مابین ایک لطیف بیلنس قائم کرنا پڑتا ہے جو ایک بہت دقیق مشق ہے۔ اسی لیے یہ مضمون اس کی کوئی کوشش بھی نہیں کرے گا۔ "

ایک دفعہ پھر اصل مسئلے تک رسائی کے بعد وہ کتنی آسانی سے اسے جوں کا توں چھوڑ دیتے ہیں اور آگے چلے جاتے ہیں! جب تک اس بنیادی حقیقت پر توجہ نہیں ہوگی کہ عدالت نے ہر مدعی کو مظلوم نہیں فرض کرنا، قانونی مسائل کی پیچیدگیوں کا صحیح ادراک ہو ہی نہیں سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ یہاں وہ یہ دعوی کررہے ہیں کہ وہ اس مضمون میں مظلوم اور ملزم کے درمیان بیلنس قائم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن آگے کی بحث میں وہ پہلے ریپ کا الزام لگانے والی کو مظلوم مان کر سارا تجزیہ اسی زاویے سے پیش کردیتے ہیں اور اس کے بعد جب اس موقف پر اعتراضات کی طرف آتے ہیں تو مان جاتے ہیں کہ اگر عورت نے جھوٹا الزام لگایا ہو تو اسے جھوٹے الزام کی سزا ملنی چاہیے۔ یہی تو وہ بیلنس تھا جسے قائم کرنے سے آپ گریزاں تھے! یہی تو وہ پہلو ہے جسے نظرانداز کرنے سے ہی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔

اس لیے ان کا یہ کہنا محض تجاہل عارفانہ ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں کہ:

"یہ بدیہی بات ہے کہ جس طرح زیادتی کے نوعیت کے باقی مقدمات میں انصاف کے ادارے پہلے یہ تسلی کرتے ہیں کہ جرم ہوا بھی ہے کہ نہیں، اسی طرح عصمت دری کے مقدمات میں بھی کریں گے۔ اس کو بیان میں لانا کیونکر ضروری تھا؟"

اس کو بیان میں لانا اس لیے ضروری ہے کہ اسے بیان میں لائے بغیر تصویر مکمل نہیں ہوتی اور آپ کے دوست یک رخے پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ احمد بلال صاحب نے آگے ایک دلچسپ مثال دی ہے:

"موٹروے پر حد رفتار سے تجاوز کرنے پر سزا مقرر ہے۔ اب ایک شخص یہ مشہور کرنا شروع کر دیتا ہے یا موٹروے پولیس کے پاس یہ الزام لیکر آتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو فلاں مقام اور وقت پر حد رفتار سے تجاوز کرتے دیکھا ہے۔ ایک دوسری مثال میں ایک شخص جس کی گاڑی کے ساتھ تیز رفتاری کے باعث کسی دوسری گاڑی کی ٹکر ہو گئی اور وہ بھاگ گئی، اپنا استغاثہ لیکر آیا ہے کہ اسے انصاف دلایا جائے۔ یہ دونوں کیسز ایک جیسے ہو گئے؟ دوسرا اپنے ساتھ زیادتی کا مقدمہ لیکر آیا ہے۔ ٹوٹی ہوئی گاڑی اس کے پاس ہے اور اپنے نقصان کا مداوا چاہتا ہے۔ جبکہ پہلا محض ایک ایسا الزام لیکر آیا ہے جس سے اس کا نہ تو کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اس کا کوئی نقصان ہوا ہے۔ "

اس مثال سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح کیسے وہ قانونی مسئلے کی پیچیدگی کو سادہ بنا کر پیش کررہے ہیں اور اس وجہ سے اصل مسئلہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ بھئی یہاں تو جسے آپ مظلوم کہہ رہے ہیں وہ اس وجہ سے مظلوم نہیں کہ وہ کہتا ہے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے بلکہ اس وجہ سے اسے مظلوم مانا گیا ہے کہ " ٹوٹی ہوئی گاڑی اس کے پاس ہے"۔ ایک لمحے کے لیے فرض کیجیے کہ اس کے پاس ٹوٹی ہوئی گاڑی نہیں ہے بلکہ اس کی گاڑی بالکل صحیح سلامت ہے، تو کیا پھر بھی اسے محض اس وجہ سے مظلوم مانا جائے گا کہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میری گاڑی کو کسی نے ٹکر ماری جبکہ دوسرا شخص تو کسی اور کی گاڑی کے بارے میں بات کررہا تھا؟ ذرا سے تامل سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کون اپنی گاڑی کی بات کررہا ہے اور کون کسی دوسرے کی گاڑی کی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی گاڑی ٹوٹی ہوئی ہے؟


کیا فقہاے کرام "زنا بالجبر" کو "زنا بالرضا" پر قیاس کرتے ہیں؟


یہ بات اتنی کثرت سے دہرائی جارہی ہے کہ عام لوگ اسے مسلمہ حقیقت سمجھنے لگے ہیں۔ احمد بلال صاحب نے اسے ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر ہی پیش کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

"ہماری روایتی فقہ میں بالعموم اصلاً اور اوّلاً زنا بالجبر کو زنا بالرضا پر ہی قیاس کیا گیا، اور اسی لیے حدود میں سے شمار کیا گیا ہے۔ یہ بات اتنی واضح ہے کہ اس ضمن میں کسی کو 'hide the ball' کھیلنے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ "

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں وہ خود اپنا بیان کردہ نکتہ بھول گئے ہیں جس سے انھوں نے اپنے مضمون کی ابتدا کی تھی۔ ہم ان کی یاددہانی کے لیے ان کے الفاظ یہاں دہرا دیتے ہیں:

"کسی عورت کی عصمت دری، یا عوام کی زبان میں عزت لوٹ لینے کے جرم کو ہمارے شریعت پر مبنی قانونی مسودات زنا بالجبر کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس اصطلاح میں نقائص ہیں اور یہ ہماری روایتی فقہ میں بھی اسی طرح موجود نہیں۔ "

سوال یہ ہے کہ اس بات کے بعد اس دعوے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے کہ فقہاے کرام نے "زنا بالجبر" کو "زنا بالرضا" پر قیاس کیا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی دلیل یا کوئی حوالہ دینا بھی پسند نہیں کرتے بلکہ یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ: "یہ بات اتنی واضح ہے کہ اس ضمن میں کسی کو 'hide the ball' کھیلنے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ " یعنی غامدی صاحب کے الفاظ میں "اس معاملے میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں!"

احمد بلال صاحب فرماتے ہیں:

" میرے اس مضمون کا محور زنا بالجبر کی سزا کے اس پہلے اور اکیلے جزئیے سے ہے جسے حد میں شمار کیا جاتا ہے، اور جس کے تحت زنا بالرضا پر قیاس کے نتیجے میں اسی کی سزائیں زنا بالجبر کے لیے متعیّن ہو جاتی ہیں، اور اسی کا معیارِ ثبوت – یعنی چار چشم دید گواہ – اس کے لیے بھی ضروری۔ "

ان سے پہلے اس مکتب فکر کے جن اصحاب نے بعض فقہی جزئیات سے یہ استدلال کیا تھا اور ہم تفصیل سے ان کے اس استدلال کی غلطی واضح کرچکے ہیں۔ تاہم چونکہ یہ بات پھر دہرائی گئی ہے اس لیے ایک دفعہ پھر ہمیں اپنی وضاحت یہاں پیش کرنی پڑ رہی ہے۔ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات! ہم نے لکھا تھا:

زنا کے احکام پر بحث کرتے ہوئے فقہاے کرام کے سامنے ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر چار گواہوں نے گواہی دی کہ مرد نے عورت کے ساتھ زنا کیا لیکن عورت کو مجبور کیا گیا تھا تو عورت سے تو حد ساقط ہوجاتی ہے لیکن کیا مرد پر زنا کی حد جاری کی جائے گی؟ یہ سوال اس لیے اٹھا کہ فعلِ زنا میں دو افراد شامل ہوتے ہیں جن میں ایک سے حد ساقط ہوچکی ہے تو کیا اس سے دوسرے کے فعل کے متعلق شبہ پیدا ہوجاتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب فقہاے کرام صراحت سے نفی کے ساتھ دیتے ہیں۔ امام سرخسی فرماتے ہیں: فأما إذا زنى بمكرهة يلزمه الحد ۔ (اگر اس نے عورت کو مجبور کرکے اس سے زنا کیا تو اس پر حد لازم ہے ۔ )

واضح رہے کہ یہاں بحث یہ نہیں ہورہی کہ کیا "زنا بالجبر" زنا کی قسم ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہورہی ہے کہ جب کسی شخص کے متعلق چار گواہوں سے ثابت ہوا کہ اس نے زنا کیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ خاتون کو مجبور کیا گیا تھا تو خاتون تو سزا سے محفوظ رہے گی لیکن مرد پر زنا کی حد لازم ہوگی کیونکہ مرد کا فعل الگ فعل ہے اور اسے اپنے مستقل بالذات فعل کی سزا مل رہی ہے ۔

پھر نوٹ کریں کہ یہاں یہ بحث نہیں ہورہی کہ عورت کے ساتھ جبر کیا گیا تو اسے کیسے ثابت کیا جائے گا؟ بحث یہ ہورہی ہے کہ زنا کا فعل ثابت ہوچکا ہے لیکن یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ مرد نے عورت کو مجبور کیا تھا تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے گا؟

زنا پر بحث میں فقہاے کرام اس سوال پر بھی غور کرتے ہیں کہ اگر زنا کے گواہوں کا اختلاف ہوجائے کہ بعض اکراہ کا اثبات کریں اور بعض اس کی نفی کریں تو کیا ان کی گواہی سے مرتکبین میں کسی کا جرم ثابت ہوسکے گا؟

امام ابوحنیفہ کا موقف یہ ہے کہ اس صورت میں کسی کے لیے بھی زنا کا جرم ثابت نہیں ہوتا ۔ امام سرخسی اس کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ اگر دو گواہوں نے اکراہ کا ذکر کیا اور دو نے رضامندی کا تو یہ دو الگ افعال کی گواہیاں ہوگئیں کیونکہ اکراہ کے تحت کیا گیا فعل رضامندی کے تحت کیے گئے فعل سے مختلف ہوتا ہے ؛ اور معلوم حقیقت ہے کہ زنا کا جرم چار گواہوں کی گواہی سے ہی ثابت ہوتا ہے ۔

اس جزئیے پر غور کرتے ہوئے یہ بات نگاہوں سے اوجھل نہ ہوجائے کہ یہاں بحث اس پر نہیں ہورہی کہ "زنا بالجبر" کے ثبوت کے لیے چار گواہ چاہئیں ، بلکہ اس پر ہورہی ہے کہ زنا کے لیے چار گواہ چاہئیں اور جب دو نے اکراہ کا اور دو نے رضامندی کا ذکر کیا تو زنا کے متعلق چار گواہ میسر نہ ہوسکے۔ یہاں فقہاے کرام یہ بحث کرہی نہیں رہے کہ عصمت دری کا جرم کیسے ثابت کیا جاتا ہے ۔ وہ یہ واضح کررہے ہیں کہ جب مرد و عورت پر زنا کا الزام لگا لیکن گواہوں میں اختلاف ہوا تو کیا زنا کا جرم ثابت ہوسکتا ہے؟

اس کی مزید وضاحت اس سوال سے ہوجاتی ہے کہ اس صورت میں کیا ہوگا اگر گواہوں کا اختلاف جگہ یا وقت پر ہوا ؟امام سرخسی نے تصریح کی ہے:

الزنا فعل یختلف باختلاف المحل و المکان و الزمان ؛ و ما لم یجتمع الشھود الأربعۃ علی فعل واحد ، لا یثبت ذلک عند الامام ۔

(زنا کے فعل کی نوعیت فعل کے محل ، مکان اور وقت پر اختلاف سے تبدیل ہوتی ہے ۔ اس لیے جب تک چار گواہ ایک فعل پر متفق نہ ہوں ، عدالت کے سامنے یہ فعل ثابت نہیں ہوتا۔ )

یہاں یہ بات بھی مد نظر رہے کہ حدود کے معاملے میں جہاں معمولی سا بھی امکان پیدا ہوجائے جس کی بنا پر حد کی سزا روکی جاسکتی ہے تو فقہاے کرام حد کی سزا روکنے کے قائل ہوجاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اگر کسی جوڑے کے متعلق چار افراد زنا کی گواہی دیں اور وہ نکاح کا دعوی کریں تو خواہ ان کے پاس نکاح کا گواہ نہ ہو، فقہاے کرام کے نزدیک حد ساقط ہوجاتی ہے ، بلکہ اگر مرد نکاح کا انکاری بھی ہو تب بھی حد ساقط ہوجائے گی ۔ (یاد کریں کہ گواہوں کے بغیر نکاح کے بعد جب دخول ہوجائے تو اس پر عقدِ فاسد کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے!)

زنا پر بحث کے وقت فقہاے کرام یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر زنا کے ساتھ کسی اور جرم کا بھی ارتکاب ہوا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟

مثال کے طور پر اگر کسی عورت کے ساتھ زنا کیا گیا اور اس کے کسی عضو کو نقصان پہنچایا گیا تو فقہاے کرام کہتے ہیں کہ اس صورت میں اس عضو کا ارش لازم ہوتا ہے امام سرخسی نے یہاں ایک اہم نکتے کی وضاحت کرتے ہیں جو زیربحث موضوع کے لیے قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اس صورت میں ارش اور حد دونوں کا اطلاق ہوتا ہے لیکن اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ ایک جرم پر دو سزائیں کیوں دی جارہی ہیں کیونکہ دونوں سزاؤں کے اسباب الگ ہیں: و ما یجب بالجنایۃ لیس بدل المستوفی بالوطء حتی یقال : لا یجمع بینہ و بین الحد ؛ بل ھو بدل المتلَف بالجنایۃ۔ (جرم کی وجہ سے جو تاوان واجب ہوتا ہے وہ وطی کے ذریعے حاصل کی جانے والی چیز کا بدل نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اسے حد کے ساتھ اکٹھا نہیں کیا جاسکتا؛ بلکہ وہ اس چیز کا بدل ہے جس کا اتلاف جرم کے نتیجے میں کیا گیا ۔ )

اسی طرح صاحبِ ہدایہ واضح کرتے ہیں کہ اس صورت میں دو الگ جرائم ہوتے ہیں اور ہر جرم کے اپنے نتائج ہوتے ہیں : انہ جنی جنایتین ، فیوفر علی کل واحد منھما حکمہ ۔ (اس نے دو جرم کیے ہیں ، اس لیے اس پر ان میں سے ہر جرم کے احکام کا اطلاق ہوگا۔ )

اس کے علاوہ ہم یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان میں رائج کیے گئے جرم زنا آرڈی نینس کے تحت بھی "زنا بالجبر" کے لیے چار گواہوں کی شرط نہیں تھی بلکہ چار گواہوں کی عدم موجودگی میں بھی دیگر طرقِ اثبات سے زنا بالجبر ثابت کیا جاسکتا تھا۔

جرم زنا آرڈی نینس کی دفعہ 6 میں زنا بالجبر کی تعریف پیش کی گئی تھی اور دفعہ 8 میں اس کے لیے معیار ثبوت یہ رکھا گیا تھا کہ ملزم اقرار کرے یا اس کے خلاف چار گواہ پیش ہوں۔ آرڈی نینس کے ناقدین نے اس سے آگے پڑھنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی۔ دفعہ 10 میں قرار دیا گیا تھا کہ چار گواہ نہ ہوں تو کیا کیا جائے گا۔ ملاحظہ کریں:

whoever commits ... zina-bil-jabr which is not liable to hadd, or for which proof in either of the forms mentioned in Section 8 is not available and the punishment of ‘qazf’ liable to hadd has not been awarded to the complainant, or for which hadd may not be enforced under this Ordinance, shall be liable to tazir.

اسی دفعہ کی ذیلی دفعہ 3 میں قرار دیا گیا تھا:

Whoever commits zina-bil-jabr liable to tazir shall be punished with imprisonment for a term which may extend to twenty-five years and shall also be awarded the punishment of whipping numbering thirty stripes.

ان دفعات کی روشنی میں یہ دعوی قطعی غلط تھا کہ ریپ کی شکار خاتون اگر چار گواہ پیش نہ کرسکی تو ریپ ثابت نہ ہوتا، یا یہ کہ ریپ کے ثبوت میں ڈی این اے اور میڈیکل رپورٹس ناقابل اعتبار ٹھہرائی گئیں۔ ایسا نہیں تھا بلکہ معاملہ صرف اتنا تھا کہ چار گواہ "حد" کی سزا کے لیے درکار تھے۔ ڈی این اے اور دیگر رپورٹس اور ثبوتوں پر 25 سال تک قید اور 30 کوڑوں کی تعزیری سزا دی جاسکتی تھی۔

اپنے ایک مضمون میں ہم نے آخر میں یہ سوالات ان دوستوں کے سامنے رکھے تھے۔ وہی سوالات یہاں پھر پیش کرنے پڑ رہے ہیں کیونکہ ان سوالات کا جواب دیے بغیر یہ مفروضہ مانا نہیں جاسکتا کہ فقہاے کرام "زنا بالجبر" کو "زنا بالرضا" پر قیاس کرتے ہیں:

1۔ کیا متخصصین فی المیزان کسی ایک فقیہ کا نام بتاسکتے ہیں جو جنسی تشدد کے ثبوت کے لیے چار گواہ لازمی سمجھتے ہوں؟

2۔ چلیں کسی ایسے فقیہ کا ہی نام بتادیں جو جنسی تشدد کے الزام کو قذف کہتا ہو۔

3۔ یہ بھی نہیں تو کسی ایسے فقیہ کا نام بتادیں جو "زنا بالجبر" کے الزام کو قذف کہتا ہو اور اس وجہ سے ثبوت میں چار گواہ مانگتا ہو۔


صحافیانہ فنکاری کی روایت


فراہی مکتبِ فکر کے منتسبین میں عموماً یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ قانونی مسائل پر بحث میں صحافیانہ فنکاری کے کمالات دکھانا شروع کردیتے ہیں۔ دور کیوں جائیں؟ زانی محصن کی سزا کی روایات کے متعلق تدبر قرآن میں مولانا اصلاحی کی 'تحقیق' ہی پڑھ لیجیے۔ جناب احمد بلال صاحب سے ہمیں یہ توقع تھی کہ کم از کم وہ ایسا نہیں کریں گے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! انھوں نے یہ روایت برقرار رکھی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

"ہمارے فقہا چونکہ زنا بالجبر کو زنا بالرضا پر ہی قیاس کرتے ہیں اسی لیے ایسا بیانِ قانون ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر فلاں شرائط پوری ہوئیں تو مستغیثہ پر قذف کی حد جاری نہیں کی جائیگی۔ یعنی یہاں بھی کمال دیکھیں۔ میں اسے دوسرے جرائم پر محمول کر کے اس جملے کی حیرت انگیز لغویت واضح کرتا ہوں: کسی مقتول کے ورثا اگر انصاف لینے آئے تو اگر انہوں نے فلاں شرائط پوری کر دیں تو خود ان پر قذف کی سزا جاری نہیں کی جائیگی ؛ اگر کوئی عضو تلف کیے جانے پر انصاف کے لیے آیا تو اگر اس نے فلاں شرائط پوری کر دیں تو خود اس پر قذف کی سزا جاری نہیں کی جائیگی ۔ ؛ اگر کسی کا مال ڈاکو لوٹ لے گئے اور وہ انصاف کے لیے قانونی ادارے کے پاس آیا تو اگر اس نے فلاں شرائط پوری کیں تب ہی خود اس پر قذف کی سزا جاری نہیں کی جائیگی ۔ "

یہ صحافیانہ فنکاری کیوں ہے؟ اس کے لیے درج ذیل نکات پر غور کریں:

ایک یہ کہ فقہاے کرام کے متعلق یہ مفروضہ کہ وہ زنا بالجبر کو زنا بالرضا پر قیاس کرتے ہیں، محض ایک مفروضہ ہے اور اس مفروضے کے حق میں احمد بلال صاحب کوئی دلیل یا حوالہ پیش نہیں کرسکے ہیں۔

دوم یہ کہ فقہاے کرام کے متعلق یہ کہنا کہ " اگر فلاں شرائط پوری ہوئیں تو مستغیثہ پر قذف کی حد جاری نہیں کی جائیگی" ادھوری بات ہے۔ فقہاے کرام اس سے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ اگر ثابت ہوا کہ عورت کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی تو قذف کا قانون اس پر لاگو ہی نہیں ہوتا اور اسی لیے اس سے چار گواہ طلب نہیں کیے جائیں گے۔ باقی باتیں ایک طرف، پاکستان میں جو جرم زنا آرڈی نینس اور قذف آرڈی نینس نافذ کیے گئے تھے ان میں بھی یہی پوزیشن تھی جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں۔ ہم پہلے بھی یہ مطالبہ کرچکے ہیں اور اب پھر دہرارہے ہیں کہ اگر احمد بلال صاحب یا المورد کے کسی اور 'محقق' یا 'ڈائریکٹر' کا یہ دعوی ہے کہ زنا بالجبر کی شکار خاتون سے فقہاے کرام چار گواہ طلب کرتے ہیں اور پیش نے کرنے پر اس پر قذف کی حد جاری کرتے ہیں تو وہ فقہ کی کسی کتاب سے اس کا حوالہ دے دیں۔

سوم یہ کہ دیگر جرائم کا ذکر محض مبالغہ اور رنگ آمیزی ہے ورنہ احمد بلال صاحب بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ قذف صرف زنا کے الزام کو کہتے ہیں اور اس وجہ سے یہ دیگر ساری مثالیں قطعی غیر متعلق ہیں لیکن ظاہر ہے کہ جذبات ابھارنے کے لیے ایسی مثالیں دینا صحافیانہ فنکاری کا کمال ہے۔

چہارم یہ کہ خود احمد بلال صاحب یہ امکان مانتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ جنسی تشدد کا الزام جھوٹا ہو اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر ایسا ثابت ہوا تو پھر جھوٹا الزام لگانے والی عورت کو سزا بھی دینی چاہیے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

"ایک سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ اگر مستغیثہ جھوٹ بول رہی ہو تو پھر کیا کیا جائے گا۔ تو بھئی وہی کچھ کیا جائے گا جو زیادتی کے نوعیت کے دوسرے criminal مقدمات میں کیا جاتا ہے۔ کوئی جس طرح چوری کا جھوٹا الزام لگا سکتا ہے، ڈاکے کا لگا سکتا ہے، قتل وغیرہ کا لگا سکتا ہے، تو اسی طرح rape کا بھی ظاہر ہے لگا سکتا ہے۔ یعنی یہ اس طرح کے سوال پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے، ناقابلِ فہم ہے۔ "

بھئی جب آپ خود یہ مانتے ہیں کہ جھوٹا الزام لگانے کی صورت میں الزام لگانے والے/والی کو سزا دی جائے گی تو پھر فقہاے کرام پر تنقید کا مطلب کیا ہوا؟ اور اس اقتباس کے آخر میں بھی صحافیانہ فنکاری دیکھیے۔ پوچھتے ہیں: "یہ اس طرح کے سوال پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے، ناقابلِ فہم ہے۔ " یہ ناقابلِ فہم کیوں ہے؟ کیا عقلاً اس کا امکان نہیں؟ یا عملی طور پر ایسا ہوتا نہیں؟ خود آپ نے امریکا سے جو اعداد و شمار دیے ان سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیا پاکستان سے اس کی مثالیں نہیں ملتیں؟ اگر عقلی امکان اور عملی وقوع دونوں ثابت ہیں تو پھر قانونی تجزیے میں اس سوال سے گریز کیسے کیا جاسکتا ہے اور اس کے بغیر تجزیہ یک رخے پن کا شکار کیوں نہیں ہوگا؟

احمد بلال صاحب نے آگے جناب غامدی صاحب کے موقف پر ہماری تنقید کو جواب دینے کی بھی کوشش کی ہے لیکن اس پر بحث کو ہم فی الحال مؤخر کرتے ہیں کیونکہ وہ الگ سے تفصیلی تجزیہ چاہتا ہے۔


جناب سید منظور الحسن صاحب کی خدمت میں


اہل المورد میں جن صاحب کے متعلق ہمیں سب سے زیادہ یہ توقع تھی کہ وہ اس بحث میں گروہی تعصب سے بالاتر ہو کر حصہ ڈالیں گے وہ برادر محترم جناب سید منظور الحسن صاحب ہی تھے لیکن ان کے مضمون نے یہ خوش فہمی بھی ختم کردی ۔ انھیں نہ صرف ہمارا اسلوب 'عامیانہ' نظر آیا بلکہ 'اگر زینب زندہ ہوتی' کے سوقیانہ ڈرامے کے لیے انھیں جواز بھی تراشنے پڑے کیونکہ بہرحال اس ڈرامے کے خالق المورد کے ڈائریکٹر کے منصب پر (ذاتی قابلیت کی بنیاد پر نہ کہ اقربا پروری کی وجہ سے) فائز ہیں۔ بہرحال منظور بھائی کے طویل مضمون کے اہم نکات پر مختصر تبصرہ پیشِ خدمت ہے:

اولاً انھوں نے فقہاے کرام کے موقف کی تحقیق کے لیے مولانا تقی عثمانی صاحب کا مختصر مقالہ چنا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ میرا بیان کردہ موقف مولانا کے موقف سے مختلف ہے۔ جناب احمد بلال صاحب کے مضمون پر تبصرے میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ انھوں نے فقہاے کرام کے موقف کو کیسے غلط سمجھا ہے۔ بعینہ یہی غلطی منظور بھائی نے مولانا تقی عثمانی صاحب کے موقف کو سمجھنے میں کی ہے ۔ اس لیے جو سوالات ہم نے احمد بلال صاحب کے سامنے رکھے ہیں وہی منظور بھائی کے سامنے بھی رکھتے ہیں اور وہ چاہیں تو براہ راست یہ سوالات مولانا تقی عثمانی صاحب سے بھی پوچھ کر ان کا جواب معلوم کرسکتے ہیں :

1۔ کیا متخصصین فی المیزان کسی ایک فقیہ کا نام بتاسکتے ہیں جو جنسی تشدد کے ثبوت کے لیے چار گواہ لازمی سمجھتے ہوں؟

2۔ چلیں کسی ایسے فقیہ کا ہی نام بتادیں جو جنسی تشدد کے الزام کو قذف کہتا ہو۔

3۔ یہ بھی نہیں تو کسی ایسے فقیہ کا نام بتادیں جو "زنا بالجبر" کے الزام کو قذف کہتا ہو اور اس وجہ سے ثبوت میں چار گواہ مانگتا ہو۔

ہم یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان میں رائج کیے گئے جرم زنا آرڈی نینس اور جرم قذف آرڈی نینس کی رو سے بھی زنا بالجبر کے ثبوت کے لیے چار گواہ ضروری نہیں تھے نہ ہی زنا بالجبر کی شکار خاتون کو قذف کی سزا دی جاسکتی تھی۔ یہ بھی معلوم حقیقت ہے کہ حدود آرڈی نینسز کے متعلق کئی عدالتی فیصلے خود مولانا تقی عثمانی صاحب نے لکھے ہیں۔ ان فیصلوں میں ، اور نہ ہی منظور بھائی کے ذکر کردہ مختصر مضمون میں، انھوں نے کہیں زنا اور قذف آرڈی نینسز کے اس موقف کو غلط کہا ہے۔

ثانیاً منظور بھائی کو ہمارے مضمون "فقہ اور اصول فقہ کے متعلق جہل مرکب کا شاہکار" کے اسلوب پر اعتراض ہے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ 'اگر زینب زندہ ہوتی' پر تبصرے کے لیے اس سے بہتر عنوان اور اسے بہتر اسلوب میرے بس میں نہیں تھا۔ مجھے اس سلسلے میں معذور جانیے۔ ہاں، ان کی خوشی کے لیے ہم اس عنوان سے "شاہکار" کا لفظ ہٹانے کے لیے سوچ سکتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ اس مضمون میں غامدی صاحب کے اس اسلوبِ تنقید کی پیروی کی کوشش کی گئی ہے جو انھوں نے "برہان" میں اپنے تنقیدی مضامین میں اپنایا ہے۔ اس سے زیادہ میں نے کچھ نہیں کیا ہے۔ جب تک "برہان "موجود ہے اور "اگر زینب زندہ ہوتی" جیسے ڈرامے وجود میں آئیں گے، ان پر تنقید کے لیے یہی اسلوب مناسب سمجھا جائے گا۔


جنسی تشدد کا ثبوت اور سزا: ڈاکٹر عرفان صاحب کی خدمت میں


ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب کے ساتھ اس موضوع پر تفصیلی بحث ہوچکی لیکن انھوں نے پھر یہ سوال اٹھایا ہے۔ فرماتے ہیں:

"مشتاق صاحب آپ ذہین آدمی ہیں، مگر مدار بحث پر بات نہیں کرتے ۔ میں ایک بار پھر بصد احترام متعین کر کے استفتا کر لیتا ہون۔

مرد نے زبردستی عورت یا بچی سے زنا کر لیا۔ عضو کو وہی نقصان پہنچا جو نارمل ہے۔ متاثرہ فریق نے استغاثہ کیا۔ اب اولا کیا ہوگا؟ عورت یا بچی سے چار گواہ طلب کیے جائیں گے یا نہیں؟ یا یہ جانتے ہی کہ مقدمہ جنسی زیادتی کا ہے، اسے سیاستہ کے زمرے میں رکھتے ہوئے دیگر قرائن اور شواہد دیکھے جائیں گے؟ یعنی اولا کیا ہوگا؟
اگر اولا چار گواہ طلب کیے جائین گے تو یہ کیس حدود کا ہوا۔ اگر چار گواہ موجود کر دیے جائیں تو زنا کی حد کی سوا کیا ساتھ اکراہ کے لیے تعزیرا بھی کوئی سزا دی جائے گی؟"


اس کے جواب میں عرض ہے:

ما شاء اللہ آپ کو بھی اللہ نے ذہانت سے نوازا ہے لیکن آپ اسے کام میں لانے سے گریزاں ہیں۔ میری دعا آپ کے ساتھ ہے۔

آپ کے سوالات کے جواب کئی بار دیے گئے۔ پھر سن لیجیے:

آپ کا پہلا سوال ہے:

مرد نے زبردستی عورت یا بچی سے زنا کر لیا۔ عضو کو وہی نقصان پہنچا جو نارمل ہے۔ متاثرہ فریق نے استغاثہ کیا۔ اب اولا کیا ہوگا؟

اس کا جواب یہ ہے (اچھی طرح نوٹ کرلیں):

اگر یہ ثابت ہوجائے کہ زبردستی کی گئی تھی تو چاہے عضو کو کوئی نقصان پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو، چاہے دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، عورت یا بچی سے چار گواہ طلب نہیں کیے جائیں گے بلکہ قرائن اور میڈیکل رپورٹ پر بھی مجرم کا تعین کیا جاسکتا ہے اور اگر قاضی مطمئن ہو کہ ملزم کا جرم ثابت ہوا ہے تو اسے مناسب سزا دے سکتا ہے جو سزاے موت بھی ہوسکتی ہے اور سزاے موت کا کوئی عبرتناک طریقہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ حدود کا نہیں، سیاسہ کا مسئلہ ہے۔

اگر کسی شخص کا یہ دعوی ہے کہ اس صورت میں فقہاے کرام عورت یا بچی سے چار گواہ طلب کرتے ہیں تو وہ کسی بھی فقہی کتاب کی ایک عبارت ایسی پیش کردے جس میں کہا گیا ہو کہ جس عورت کے ساتھ زبردستی نکاح کیا گیا وہ چار گواہ پیش کرے گی ورنہ اسے قذف کی سزا دی جائے گی۔

فقہاے کرام کا تو ذکر ہی کیا، پاکستان میں جرم زنا آرڈی نینس کے تحت بھی یہی اصول مانے گئے تھے کہ "زنا بالجبر" کے لیے چار گواہ کی شرط نہیں اور یہ کہ زنا بالجبر کی شکار خاتون کو قذف کی سزا نہیں دی جائے گی۔

آپ کا دوسرا سوال ہے:

اگر چار گواہ موجود کر دیے جائیں تو زنا کی حد کی سوا کیا ساتھ اکراہ کے لیے تعزیرا بھی کوئی سزا دی جائے گی؟

اس کا جواب یہ ہے:

اگر چار گواہ موجود ہوں تو بالغ عورت کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں زنا کی بھی سزا دی جائے گی کیونکہ اس پر دو جرم ثابت ہوئے: زنا اور جنسی تشدد۔

اگر چار گواہ موجود ہوں تب بھی نابالغ بچی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں زنا کی حد جاری نہیں کی جاسکے گی کیونکہ نابالغ بچی/بچے کے ساتھ جنسی تعلق کو قانوناً زنا نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ جنسی تشدد کی بدترین شکل ثابت ہے (جو چار گواہوں کے بغیر بھی ثابت ہے اور ان کے ساتھ بھی)۔ اس لیے اس پر عبرتناک انداز میں سزاے موت اور اس کے ساتھ کوئی اور سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

امید ہے اب آپ اپنی ذہانت کا صحیح استعمال کرسکیں گے۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */