زنا بالجبر اور شیعہ فقہ - سید ابن حسن

سانحہ قصور ایک المناک قومی سانحہ تھا۔ اس سانحہ کے کئی سماجی اور قانونی پہلو قابلِ بحث ہیں اور ہر وہ فکری یا عملی کاوش جو اس جیسے سانحات کے تکرار سے بچا سکے مستحسن اور مطلوب ہے۔ اس سانحے کے مختلف مفروضوں پر اسلامی قانون "فقہ" کی پوزیشن کیا ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو ہمارے اکثر دوستوں کے اذہان کو الجھائے ہوئے ہے۔ اس موضوع پر ہمارے کچھ فاضل دوستوں نے حنفی فقہ کا نکتہ نظر بیان کیا ہے۔ اس اہم موضوع پر شیعہ فقہ کا نکتہ نظر بیان کیا جانا بھی فائدے سے خالی نہیں لہٰذا ہم اپنی آج کی اس تحریر میں زنا بالجبر کے موضوع پر شیعہ فقہ کے نکتہ نظر کو بیان کریں گے۔

قرآن و سنت سماوی قانون کے دو بنیادی ماخذ ہیں۔ ایک مخصوص ضابطے کے تحت قرآن و سنت سے استخراج شدہ احکام کو فقہ کا نام دیا جاتا ہے۔ جدید معاشروں کا نظم و نسق چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے اسی الٰہی فقہ کی بنیاد پر ایک قانون وضع کریں۔ ایسے میں فقہ کی حیثیت ایک ایسے source of law کی ہو گی جو جہاں ایک اسلامی وضعی قانون کی فاؤنڈیشن فراہم کرے گا، وہیں بعد میں پیش آنے والی قانونی پیچیدگیوں کا حل پیش کرنا اور بشری عقلی مفروضوں کا جواب دینا بھی اسی علم کی ذمہ داری ہو گی مگر یہ کہ کوئی ثابت کر لے کہ شریعت بعنوان سماوی قانون معاشرہ چلانے کے لیےتنہا کافی اور کسی وضعی قانون کی ضرورت نہیں ہے ایسے میں فقہی منابع ہی قانونی کتابیں اور فقہی قواعد و ضوابط ہی قوانین کا درجہ رکھتے ہوں گے جو ایک ناممکن امر ہے۔ ممکن ہے کسی قانون و فقہ کے طالب علم کے ذہن میں یہ سوال جائے کہ قضات کی چند متصور صورتوں (مجتہد یا مقلد) میں سے قاضی مجتہد ہو تو ایسے میں تو کسی وضعی قانون کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ قاضی خود اسلام کے بنیادی ماخذ سے احکام کو استنباط کر کے حکم لگا سکتا ہے تو ہمارے نزدیک اس حالت میں بھی ایک وضعی قانون ناگزیر ہے تاکہ قانون کی یکسانیت جیسا اہم اور شرع کے مورد تاکید و تائید اصول نافذ رہ سکے۔ اس مسئلے کی مزید صورتیں متصور ہیں کہ جس پر علیحدہ سے ایک مستقل بحث کی ضرورت ہے۔ ہم یہاں صرف اسی مقدمے پر ہی اکتفا کریں گے۔ لہٰذا اگر فقہ مذکورہ بالا ذمہ داری ادا نہیں کر پاتی تو وہ موجودہ معاشرے کے لیے ناکارآمد کہلائے گی جبکہ ایسا نہیں ہے۔ فقہ ایک مکمل کارآمد اور جامع ضابطہ ہے کہ جس میں ایک اسلامی وضعی قانون کی فاؤنڈیشن فراہم کرنے سے لیکر تمام بشری عقلی مفروضوں کا جواب کلّی یا جزوی طور پر دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

مذکورہ موضوع پر بحث میں مشغول فاضل دوستوں میں سے ایک فریق کے ساتھ ہمارا بالواسطہ مکالمہ بھی رہا اور ہم نے شیعہ فقہ کااس حوالے سے نکتہ نظر ان کے ساتھ شئیر کیا لیکن جب ان فاضل دوستوں نے اپنی بحث کی جمع بندی میں ایک مضمون دیا تو اس میں اسلام کے پانچویں مذہب یعنی شیعہ مذہب کے نکتہ نظر کو یکسر نظرانداز کیا جبکہ ہم نے فاضل دوست کو عرض کیا تھا کہ شیعہ فقہا نے زنا بالجبر کے مسئلے کو بہت عمدہ طریقے سے حل کر رکھا ہے۔ فاضل دوست نے اپنے مفروضات کو اسلامی فقہ کے تضادات اور ابہامات سے تشبیہ دی اور ان ابہامات کو تمام اسلامی مذاہب پر لاگو کر دیا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ فاضل دوست اسلام کے مذاہب اربعہ کی اصطلاح یا کسی بھی دوسری اصطلاح کے ساتھ اپنے مضمون میں کّلی حکم نہ لگاتے اور شیعہ فقہ کو ان ابہامات سے مستثنی قرار دیتے؟ پس یہ امر اس موضوع پر اظہار نظر کی ضرورت کو دوچندان کر دیتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں فقہ چاہے اسلام کے پانچوں مذاہب میں سے کسی بھی مذہب کی ہو اگر وہ کسی مسئلے کا واضح حل پیش کرتی ہے تو اسے اسلامی وضعی قوانین میں اپنانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ اس عنوان سے ہمارے ایک فاضل دوست کے نزدیک وضعی قانون میں ایک ہی مذہب کی فقہ سے مستفید ہونا چاہیے کیونکہ اس کے اصول اور قواعد ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے حیف ہے اگر مذاہب پنجگانہ میں سے کسی ایک مذہب کی فقہ کسی قانونی پیچیدگی میں کوئی مناسب اور واضح راہ حل دیتی ہو اور ہم اسے صرف اس دلیل پر قبول نہ کریں کہ چونکہ بقیہ امور میں اس مذہب کی فقہ قبول نہیں کی گئی لہٰذا ہم اس مسئلے میں بھی قبول نہیں کرتے چاہے جتنی پیچیدگیاں بڑھتی جائیں اور انصاف ایون عدل کی دیواروں اور کتیبوں پر لکھے اسلاف کے اقوال اور کتابوں کے اوراق تک ہی محدود کیوں نہ رہ جائے۔

اس مقدمے کے بعد اصل موضوع یعنی زنا بالجبر اور شیعہ فقہ کا نکتہ نظر کی طرف واپس آتے ہیں۔

شیعہ فقہا نے اس مسئلے کو بہت خوبصورتی سے حل کیا ہے۔ شیعہ فقہا کے نزدیک زنا میں چند صورتیں متصور ہیں۔ ایک دفعہ ممکن ہے کہ زنا کے جرم میں شریک ہر دو طرف باہمی رضامندی سے زنا جیسے قبیح اور شنیع فعل کو انجام دیں ایسے میں یہ زنا بالرضا ہے اور اس کی سزا کے مختلف مدارج ہیں۔ زنا کے جرم میں دوسری صورت یہ ہے کہ زنا میں شریک دونوں فریقوں میں سے ایک کی رضا مندی ہو اور دوسرے کی رضا مندی نہ ہو اور یہ قبیح و شنیع فعل اس کے ساتھ زور زبردستی کے ساتھ انجام دیا جائے ایسے میں یہ زنا بالجبر ہے۔ ایک تیسری صورت بھی متصور ہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے اس فریق کی رضا مندی بھی ہو لیکن وہ رضا مندی اکراہ، اجبار یا فریب کے ذریعے حاصل کی گئی ہو تو ایسے میں بھی یہ زنا بالجبر کے زمرے میں آئے گا۔ شیعہ فقہا کے نزدیک اس دوسری اور تیسری صورت یعنی زنا بالجبر میں حتی مرد بھی نشانہ بن سکتا اور خاتون کی طرف سے زنا بالجبر کے ارتکاب کے تصور کا بھی انکار نہیں کیا گیا ہے۔

مذکورہ بالا صورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسری صورت کے لیے فقہا نے اپنی فقہی کتب میں غصب الفرج کی اصطلاح استعمال کی ہے اور تیسری صورت کے لیے اکراہ یا اجبار کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔

جہاں تک بات ہے اس قبیح اور شنیع فعل کی سزا کی تو طول تاریخ کے تمام شیعہ فقہا اس قبیح اور شنیع فعل کے مرتکب کے قتل یعنی سزائے موت کے قائل ہیں چاہے وہ شادی شدہ ہو یا نہ ہو، چاہے بالغ کے ساتھ زنا کرے یا نابالغہ کے ساتھ، فرق صرف مجرم کے قتل کے طریقے میں ہے کہ اسے تلوار سے قتل کیا جائے یا ہر دوسرے متعارف طریقے سے قتل کیا جا سکتا ہے۔

سند کے طور پر ہم چند مشہور شیعہ فقہا کی آرا کو بطور مثال ذکر کرتے ہیں۔

بارہویں صدی ہجری کے مشہور شیعہ فقیہ حضرت آیت اللہ العظمی محمد حسن نجفی علیہ الرحمہ اپنی مشہور فقہی کتاب جواہر الکلام میں جبری زنا اور اس کی حد بارے یوں فرماتے ہیں "یقتل من زنی بامرأۃ مکرھا لھا"۔ (جواھر الکلام، ج 41 ص 315)۔

عصر حاضر کے ایک مشہور شیعہ فقیہ حضرت آیت اللہ العظمی ابو القاسم خوئی علیہ الرحمہ مبانی تکملۃ المنھاج میں جبری زنا اور اس کی حد بارے یوں فرماتے ہیں "إذا أکرہ شخص إمراۃ علی الزنا فزنی بھا قتل من دون الفرق فی ذلک بین المحصن و غیرہ" (مبانی تکملۃ المنھاج، ص194، مسئلہ 153)۔

عصر حاضر کے ایک اور مشہور شیعہ فقیہ حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی علیہ الرحمہ تحریر الوسیلہ میں جبری زنا کی سزا کے بارے فرماتے ہیں کہ "و کذا یقتل من زنی بامرأۃ مکرھاً لھا۔ لا یعتبر فی المواضع المتقدمہ الاحصان، بل یقتل محصناً أو غیر محصن و یشتاوی الشیخ ولشاب والمسلم والکافر والحر والعبد"۔ (ج4، ص 178، مسئلہ نمبر 1)۔

شیعہ فقہا نے اس مسئلے کے ایک اور اہم پہلو کو بھی مورد توجہ قرار دیا اور اس احتمال یعنی زنا بالجبر کی کوشش کے دوران اپنی نجات کے لیے اگر وہ شخص کے جس پر تجاوز کیا جارہا ہے کوئی اقدام کرتا ہے کہ جس سے متجاوز کی موت واقع ہو جاتی ہے تو اس زانی کا خون معاف اور طرف مقابل پر دیت یا قصاص نہیں ہے۔ (استفتائات جدید، آیت اللہ لعظمی ناصر مکارم شیرازی حفظہ اللہ تعالی، ج3 ص 349)۔

ممکن ہے کسی محترم قاری کے ذہن میں یہ سوال جنم لے کہ شیعہ فقہا نے یہ حکم کہاں سے لیا ہے، اس کی قرآن یا سنت میں کوئی سند ملتی ہے یا یہ حکم ان فقہا نے اپنے اجماع اور رائے سے لگایا ہے؟ عرض ہے کہ شیعہ فقہا نے زنا بالجبر میں قتل کی سزا کا حکم بالکل اسی طرح سنت سے کشف کیا ہے جیسے زنا بالرضا میں رجم کا حکم سنت سے اخذ کیا گیا ہے۔ لازم بہ ذکر ہے کہ شیعہ فقہ میں اجتہاد سے مراد عقل اور دوسرے قرائن کی مدد سے شریعت کے بنیادی ماخذ قرآن و سنت سے حکم استنباط کرنا ہے کہ جس میں مجتہد کی ذاتی رائے یا صرف عقل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ حکم مستند بہ قرآن و سنت ہو۔ شیعہ فقہ میں سنت سے مراد نبی مکرم اسلام حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے جانشین معصوم اماموں کا قول، فعل اور تقریر ہے کہ جو بذات خود ایک مستقل موضوع ہے جس پر کسی دوسری فرصت میں قارئین کی دلچسی کے نکات قلم بند کریں گے ان شاء اللہ۔

زنا بالجبر کی حد یعنی زانی یا زانیہ کے قتل کی سزا کے ماخذ کے طور پر حدیث کی شیعہ کتب میں نقل صحیح احادیث میں سے ایک حدیث ترجمے اور چند دوسری بغیر ترجمے کے قارئیں کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

۱۔ محمد بن يعقوب، عن محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، وعن علي بن إبراهيم، عن أبيه جميعا، عن ابن محبوب، عن أبي أيوب، عن بريد العجلي قال: سئل أبوجعفر عليه ‌السلام عن رجل اغتصب امرأة فرجها؟ قال: يقتل محصنا كان أو غير محصن۔

ترجمہ: روای کہتا ہے میں نے امام محمد باقرعلیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے سوال کیا کہ جس نے عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا تو آپ نے فرمایا اسے قتل کر دیا جائے چاہے شادی شدہ ہے یا نہیں۔

۲۔ وعنه، عن أحمد، عن ابن أبي نجران، عن جميل بندراج، ومحمد بن حمران جميعا، عن زرارة، قال: قلت لإبي جعفر عليه‌السلام: الرجل يغصب المرأة نفسها، قال: يقتل۔

۳۔ وعن أبي علي الأشعري، عن محمد بن عبد الجبار، عن علي بن حديد، عن جميل، عن زرارة، عن أبي جعفر عليه‌السلام في رجل غصب امرأة فرجها، قال: يضرب ضربة بالسيف بالغة منه ما بلغت۔

۴۔ وعن علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن جميل، عن زرارة، عن أحدهما عليهما‌السلام في رجل غصب امرأة نفسها، قال: يقتل۔

۵۔ ورواه الصدوق بإسناده عن جميل مثله، إلا أنه قال: يقتل محصنا كان أو غير محصن۔

۶۔ وعنه، عن محمد بن عيسى، عن يونس، عن أبي بصير، عن أبي عبدالله عليه‌السلام، قال: إذا كابر الرجل المرأة على نفسها ضرب ضربة بالسيف مات منها أو عاش۔

(احادیث کا حوالہ: علامہ شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہِ، ج ۲۸، باب نمبر ۱۷ پہلی چھ احادیث)

پس یہ کہنا کہ زنا بالجبر کا تصور نیا یا مغربی قوانین سے لیا گیا ہے درست نہ ہوگا کیونکہ یہ مسئلہ اوائل اسلام میں مبتلا بہ رہا اور آئمہ ہدیٰ علیہم الصلوۃ والسلام نے اس مسئلے کی نوعیت اور سزا کا تعین فرما رکھا ہے اور شیعہ فقہا نے طول تاریخ میں انہی اقوال مبارکہ سے استنباط کرتے ہوئے اس مسئلے کی تمام فروعات کو بیان کیا ہے۔

رضایت کے ساتھ انجام پانے والے جنسی جرائم سے متعلق امور میں افراد و خاندان کی عزت و آبرو کی حفاظت، مرتکبین کو ندامت، پشیمانی اور توبہ کی طرف راہنمائی کرنا، معاشرے میں فحاشی اور ناموس پر تجاوز کے موضوعات کے زبان زد عام ہونے کا سدباب وغیرہ اسلام کے مدنظر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان جرائم کے ثابت کرنے کے لیے سخت شرائط معین کی گئی ہیں لیکن زنا بالجبر کہ جس میں پورے معاشرے کے احساسات متاثر ہوتے اور انسان کی بعنوان انسان حیثیت پر سوال اٹھتا ہے بعید ہے کہ ان امور میں شارع کہ جو ہمارے عقیدے کے مطابق حکیم و دانا ہے وہی عام جنسی جرائم والی سزا اور جرم کو ثابت کرنے کے لیے وہی سخت شرائط مدنظر رکھے۔ لہٰذا شارع نے اس قبیح اور شنیع جرم کے ثابت کرنے کے لیے ایک مختلف حکمت عملی اپنائی ہے۔

اگر اسلامی فقہ اور خصوصاً شیعہ فقہ کو مدنظر رکھا جائے تو جرائم کے اثبات میں دو طرح کی روش اپنائی گئی ہے۔ پہلی روش مخصوص جرائم میں جیسا کہ عام زنا وغیرہ میں چار گواہوں کی مخصوص شرائط کے ساتھ گواہی یا اقرار اور دوسری روش جرم کے اثبات کی عام روش ہے جو عام جرائم میں اپنائی گئی ہے۔ شیعہ فقہ کے مطابق اقرار، بینہ یعنی گواہوں کی گواہی، قسم اور قاضی کا سچائی کے بارے یقینی علم جرم کے اثبات کی عام روش میں سے ہے۔ شعیہ فقہ میں دوسری روش کے آخر الذکر مورد کو علم قاضی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لازم بہ ذکر ہے علم قاضی سے یہاں ہمارا مقصود جرم کے اثبات کے مرحلے میں قاضی کا سچائی کے بارے علم ہے۔ جرم کے اثبات کے مرحلے میں علمِ قاضی یعنی یہ کہ اگر قاضی ہر متعارف طریقے کہ جسے عقل و عرف قبول کرے جیسے طبی معائنہ، جدید ٹیکنالوجی، محل وقوع کا دورہ، اطراف سے ملنے والی معلومات، کیس کے دیگر قرائن وغیرہ سے اگر کسی جرم کی سچائی تک پہنچ جاتا ہے اور اس جرم کی دوسری مخصوص شرایط جیسے اقرار یا چار افراد کی گواہی نہیں بھی ملتی تو وہ قاضی (جج) متعارف ذریعہ سے حاصل ہونے والے سچائی کے یقینی علم کی بنا پر حد جاری کرنے کا مجاز ہے۔ بلکہ قضاوت کے واجب ہونے کے تناظر میں پابند ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی علیہ الرحمہ تحریر الوسیلہ میں اس بارے فرماتے ہیں کہ "یجوز للقاضی ان یحكم بعلمه من دون بینه او حلف فی حقوق الناس و كذا فی حقوق‌الله"۔ (تحریر الوسیلہ، ج 4 قاضی کے وظایف مسئلہ نمبر8)۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی علیہ الرحمہ قاضی (جج) کے سچائی کے بارے یقینی علم حاصل ہونے کی صورت میں حد کے جاری کرنے کے بارے فرماتے ہیں کہ "للحاکم أن یحکم بعلمہ فی حقوق اللہ و حقوق الناس فیجب علیہ إقامۃ الحدود اللہ تعالی لو علم بالسبب فیعد الزانی کما یجب علیہ مع قیام البینۃ والاقرار۔۔۔۔۔۔ " یعنی حاکم حق رکھتا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق الناس میں اپنے علم پرعمل کرے پس اگر وہ سبب کو جانتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اللہ کی حدود کو جاری کرے پس زانی پر اسی طرح حد جاری کی جائے گی جیسے گواہوں اور اقرار سے ثابت ہونے پر جاری کی جاتی ہے۔ (تحریر الوسیلہ، ج 4 ص 197)۔

شیعہ فقہ میں جرم کے اثبات کی عمومی روش تمام جرائم پر اور خصوصا ان جرائم پر کہ جہاں شریعت کی حکمت عملی ان جرائم پر پردہ پوشی یا ان جرائم میں رعائت برتنے کی نہیں ہے لاگو ہے۔ اور زنا بالجبر کا جرم انہی جرائم میں سے ایک جرم ہے کہ شارع کے نزدیک جس پر پردہ پوشی مقصود نہیں ہے بلکہ مرتکب کی سزا مقصود ہے۔ لہٰذا زنا بالجبر کا جرم اگر مخصوص روش یعنی اقرار، مخصوص شرائط کی حامل گواہی وغیرہ سے ثابت نہیں ہوتا یا ثابت ہونے کا امکان نہیں تو قاضی (جج) جرم کے اثبات کی عام روش اپنا سکتا اور اس میں سے بھی اگر کسی بھی متعارف طریقے سے موضوع کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے تو معین سزا (زنا بالجبر میں سزائے موت) دینے کا مجاز ہے بلکہ اگر قضاوت کے واجب ہونے کے تناظر میں دیکھا جائے تو پابند ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ زنا بالجبر کا تصور فقہ میں نہیں ہے یا اس کی سزا کا تصور نہیں ہے یا اس کے اثبات کی روش پر فقہ ساکت ہے درست نہیں ہے اور اس عنوان کو شیعہ فقہ نے اوائل اسلام سے حل و فصل کر رکھا اور شیعہ فقہا نے اس موضوع کے مختلف فروض پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

جیسے جیسے انسانی معاشرے ترقی کرتے اور علم و ٹیکنالوجی میں پیشرفت کرتے جا رہے ہیں ایسے ہی انسانی معاشروں میں موجود فاسد افراد نے جرائم کے بھی نت نئے طریقے تلاش کر لیے ہیں۔ متعدد ایسے جرائم وجود رکھتے ہیں کہ جو عام روایتی طریقوں سے ثابت نہیں ہو پاتے لہٰذا خطر ناک مجرم کیفر کردار کو نہیں پہنچتے۔ خصوصا ایسے جرائم میں کہ جہاں مجرم پہلے ثبوت خنثی کرتا بعد میں جرم انجام دیتا ہے جیسے جبری زنا وغیرہ کا جرم۔ ایسی صورت حال میں اگر کسی معاشرے کے عقلا حتی وہ غیر دینی معاشرہ ہی کیوں نہ ہو کسی انسانی مشکل کے حل پر ہم سے پہلے اتفاق کر لیتے ہیں تو اس حل کو اپنانے سے نہ تو عقل روکتی نہ شرع روکتی ہے مگر یہ کہ وہ راہ حل شرعی نصوص کی صراحت کے ساتھ خلاف ورزی کرتا ہو۔ فقہ کو دور حاضر میں جواب دہ اور کارآمد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اجتہاد کے موضوع پر نظر ثانی کی جائے اور اجتہاد کا ایک نیا دور شروع کیا جائے جو عصر حاضر کی ضروریات کے عین مطابق ہو۔ لازم بہ ذکر ہے کہ اسی ضرورت کے پیش نظر شیعہ فقہ میں اجتہاد عصر پیغمبر اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے بعد سے لیکر آج تک تقریبا آٹھ مختلف ادوار گزار چکا اور خود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے شریعت جو کہ ابدی اور ہمیشگی ہے سے بنی نوع انسان کی مشکلات کے حل کے لیے احکام کشف کر رہا ہے۔

تعارف

سید ابن حسن یونیورسٹی آف تہران ایران میں قانون کے طالب علم ہیں ۔ شرعی سزاؤں کی افادیت اور نفاذ کے امکانات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ ایم فل کا مقالہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وظائف اور اختیارات کے موضوع پر لکھ رکھا ہے۔ دین و دنیا میں تفکیک کے تصور کو رد کرتے ہیں قانون کی حکمرانی، مساوات اور آزادی پر یقین رکھتا ہوں مگر یہ کہ آزادی پر قدغن کی کوئی واضح دلیل موجود ہو۔

Comments

سید ابن حسن

سید ابن حسن

سید ابن حسن یونیورسٹی آف تہران، ایران میں قانون کے طالب علم ہیں۔ شرعی سزاؤں کی افادیت اور نفاذ کے امکانات کے موضوع پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھ رہے ہوں۔ ایم فل کا مقالہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ممالک کے وظائف اور اختیارات کے موضوع پر لکھا۔ دین و دنیا میں تفریق کے تصور کو رد کرتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی، مساوات اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں مگر یہ کہ آزادی پر قدغن کی کوئی واضح دلیل موجود ہو تو۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */