حادثہ ایک دم نہیں ہوتا - روبینہ شاہین

زینب کے ساتھ جو بھی ہوا اس پہ جتنے بھی اشک بہائے جائیں کم ہیں۔سوچ سوچ کے دماغ کی نسیں پٹھنے لگتی ہیں کہ اس کم عمر نے یہ ستم کیسے سہا ہو گا؟ کیا لوگ اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ اب انہیں بچوں پہ بھی ترس نہیں آتا؟ اور اس نازک کلی کو مسل دیا ؟ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حادثے یکدم ہوتے ہیں؟

یقیناً نہیں… معاشرتی بے راہ روی اور اسلامی احکامات اور تعلیمات سے بے بہرہ معاشرے میں، جہاں ہر دم فحش مواد ایک کلک کی رسائی پر ہو، جہاں نکاح مہنگا اور حرام کاری سستی ہو، جہاں والدین بچوں کو میڈیا کے حوالے کر کے غم دنیا میں مصروف ہوں، جہاں حکومتیں امن و امان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوں، جہاں جنگل کا راج ہو، جہاں شرفاء چھپتے اور بدمعاش دندناتے پھرتے ہوں، جہاں ادارے کمزور اور افراد مضبوط ہوں، وہاں یہ سب نہیں ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟

اگر قصور میں سینکڑوں بچوں کے قاتلوں کو پکڑ کر سزائیں دی جاتیں تو کچھ شک نہیں آج زینب محفوظ ہوتی۔ لیکن اس سے بھی بڑا سوال آگے کھڑا ہے کہ نجانے اور کتنی زینبیں اس خونخوار درندے کی بھینٹ چڑھیں گی؟ کیا ہمارے ادارے اتنے کمزور ہیں کہ اس تک رسائی نہیں ہو پا رہی؟ اے اللہ!! تو ہی ظالموں کو اپنے انجام تک پہنچا، بس اب تو یہی دعا ہے۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.