کلام کوسمولوجیکل آرگیومنٹ - کنزا بتول

ملحد کا مقدمہ: کائنات چونکہ علّت رکھتی ہے لہٰذا اس کی علت کی بھی ایک علت ہونی چاہیے۔ اس طرح خدا بھی علت و معلول سے باہر نہیں۔

جواب: یہ ایک ملحدانہ بونگی ہے۔ جو لوگ کلام کوسمولوجیکل آرگیومنٹ کو سمجھتے ہیں وہ اس قسم کی فضولیات میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔

کلام کوسمولوجیکل آرگیومنٹ کا مقدمہ مندرجہ ذیل ہے:

عبارت نمبر 1: ہر چیز جو (وقت میں) پیدا ہوتی ہے وہ ایک علت رکھتی ہے۔

عبارت نمبر 2: چونکہ کائنات بھی (وقت میں) پیدا ہوئی ہے

عبارت نمبر 3: لہٰذا یہ بھی علت رکھتی ہے

یہ دلیل صرف اور صرف اس معلول پر ثبت ہوتی ہو جو زمانی ہو اور کائنات زمانی ہے۔ جو چیز زمانی ہو وہ متناہی ہوتی ہے اور جو متناہی ہو وہ یقیناً اپنا ایک آغاز رکھتی ہے۔

کلام کوسمولوجیکل آرگیومنٹ یہ قطعاً نہیں بتاتی کہ وجود زمانی کی علت اولی متناہی ہوگی یا غیرمتناہی۔

اس دلیل کا علاقہ صرف یہ ہے کہ جو وجود (معلول یا مسبب) بھی "زمانے میں ہوگا" وہ یقیناً خودبخود نہیں ہوگا اور علت اولی چونکہ زمانے میں نہیں، لہٰذا اس پر کلام کوسمولوجیکل آرگیومنٹ کا اطلاق کرنا منطق کے بنیادی قضایا سے روگردانی ہے۔

دیکھا جائے تو یہ دلیل منطق ہی کی رو سے وجود خدا کو ازلی ثابت کر رہی ہے۔

ملحد کا دوسرا مغالطہ، جو اگرچہ غیرمتعلقہ ہے، یہ ہے کہ وہ پہلی علت ہے خدا ہی ہے وہ میرے نزدیک مندرجہ دو صورتوں پر غلط ہے:

1- خدا وجود زمانی نہیں بلکہ وجود ذاتی ہے لہٰذا اس کو ہمیشگی ہے اور چونکہ وہ وقت میں نہیں ہے اس لیے اس کی ابتداء نہیں۔

2- علت اولی بذات خود خدا نہیں بلکہ ایک امپلائیڈ ایجینسی ہے جس کو امام غزالی نے "ارادہ خدا" کہا ہے۔

اگر کوئی پوچھے کہ یہ علت تو پھر براہ راست خدا نہ ہوئی تو آپ ان سے کہیے کہ جب تم نے ایک زمانی وجود کی علت کو غیرزمانی تسلیم کر لیا تو تم نے خدا کا ہونا تسلیم کر لیا۔ بس یہی اس دلیل کا مغز ہے ۔

لہٰذا ملحد صاحبان، نا تو علت اولی کو زمانی ثابت کر سکتے ہیں اور نا ہی اس علت کو "براہ راست" خدا کہہ سکتے ہیں یہ منطق کی رو سے ایک بہت بڑی بونگی ہوگی۔

اس لیے کلام کوسمولوجیکل آرگیومنٹ کا درست اطلاق کرنے لیے وجود زمانی اور وجود ذاتی میں فرق جاننا ضروری ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس دلیل کی حدود کو بھی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */