انقلاب، ریفارمز، احتجاجی تحریک اور عوامی نفسیات (3) - وقاص احمد

پچھلی قسط
سلسلہ کے اس تیسرے مضمون میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا کسی بھی مطالبے پر اگر پانچ ہزار لوگ جمع ہوجائیں تو کیا وہ مطالبہ جائز بن جاتا ہے؟ اور ریاست یرغمال ہوجاتی ہے؟ ۔ کیا ایک ناحق مطالبہ صرف زیادہ افراد کے احتجاج کی وجہ سے حق اور ایک حق بجانب مطالبہ ایک یا چند لوگوں کے کھڑے ہونے کی بنا پر ناحق تصور ہوتا ہے؟ یا اس میں ہم سب کو، خاص طور پر تجزیہ کاروں اور دانشوروں کو کچھ اصولوں کے تحت تفریق و تمیز کرنا چاہیے؟۔ اس معاملے پر سطحی، یک رخی اورمعمولی درجہ کی گفتگو کے بجائے، حکیمانہ گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ وہ کیا حا لات ہوتے ہیں، وہ کیا مجبوریا ں ہوتی ہیں اور وہ کیا مطالبات ہوتے ہیں جو کسی کٹھن، تشنہ و بے مراد سفر سے گزرنے کے بعد پاکستان جیسے’’ جمہوری، پارلیمانی نظام‘‘ میں بھی لوگوں کو دھرنے اور احتجاج پر مجبور کردیتے ہیں۔ مضمون میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ بعض حلقے کیوں خائف رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ ایسے تو کوئی بھی جتھہ آئے گا لوگوں کی زندگی اجیرن کرے گا اور اپنے مطالبات چاہے وہ کیسے ہی کیوں نہ ہو منوا کر چلا جائے گا۔‘‘ ’’ ریاست جتھوں اور ہجوم کے سا منے یرغمال بنتی رہے گی‘‘۔

زندگی اجیرن کرنے کی بات پر تفصیلی بحث تو بعد میں کی جائے گی۔ فی الحال یہ کہےدیتے ہیں کہ امریکہ کی سول رائٹ مومنٹ کے دوران سفید فام قدامت پسند، اسی طرح پاکستان میں عدلیہ بحالی تحریک میں پوری حکمران پیپلز پارٹی اور دیگر مشرف پسند گروپ، دھرنوں اور احتجاج کو عوام کی تکلیف اور قوم کے وقت کے زیاں کا باعث کہہ رہے تھے۔ لیکن بعد میں جو ہوا، جو حالات و واقعات رونما ہوئے، وہ تحریکی جدجہد اور کوششوں کے باب میں لکھنے والی داستان ہے۔ جناب! مضبوط، پر زور، زبردست عوامی مطالباتی تحاریک تب ہی معرضِ وجود میں آتی ہیں :

۱۔ جب کسی انتہائی اہم اور جلد سر انجام دینے والے کام یا کسی ظلم و نا انصافی کو بند کرنے میں حکومت پس و پیش بلکہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہو۔

ظلم اور نا انصافی کا معاملہ تو یہ ہے کہ یہ ایک حد سے گزر جانے کے بعد تو یہ کسی بھی آدمی اور گروپ مرنے مارنے پر بھی آمادہ کر سکتا ہے۔ انسان کے نفسیا تی معاملات اور ردعمل کی قوت کو تاریخ کے تجربات سے سمجھنا کوئی مریخ کی مخلوق کی بات تو نہیں۔ محض طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بپھری ہوئی عوام کو ہم سب دیکھ چکے ہیں۔ میں خود نرغے میں ایک مرتبہ آچکا ہوں۔ سٹیل مل کے ملازمین، سرکاری ٹیچرز، ینگ ڈاکٹرز اپنے پیشے سے متعلق، قدرے معمولی سطح کے مسائل پر بھی دھرنے، ہڑتال اور سر پھوڑے پھاڑنے پر آجاتے ہیں۔ دو تین سال پہلے بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کے اہل تشیع کے قتل کے واقعات کے بعد کراچی میں جگہ جگہ دھرنے اور سڑک پر ٹائر جلائے جاتے تھے۔ میڈیا میں کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کی وہ ٹریفک جام اور ایمبولینس گاڑیوں کے پھسنے پر لوگوں کی تکلیف اور پریشانیوں کی بات کریں کیونکہ دوسری طرف کا موقف مضبوط اور سانحہ بہت المناک ہوتا تھا۔ ( عوام کی تکلیف سے متعلق نکات کو آ ئندہ باقاعدہ موضوع بنایا جائے گا۔) سو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ براہ راست اور کھلا ظلم تو عوام کو متحرک کرکے اقدامات کرنے پر فوراً مجبور کرتا ہی ہے لیکن بعض اہم کام ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو خاموش قاتل ہوں۔ جن سے عوام سسک سسک کر مرتی ہو۔ جسکے بارے میں شعور اجاگر کرکے عوام کو موبلائز کیا جاسکتا ہو۔ باشعور، بہادر اور اپنی دینی و اخلاقی ذمہ داریوں کو سمجھنے والے لوگ بعض مطالبات کو انتہائی سنجیدہ لیتے ہوئے اسپر احتجاجی تحریک چلاسکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی صدر کے استعفیٰ کا مطالبہ صرف اخلاقی تھا۔ جنوبی کوریا میں اگر کرپشن ہو بھی رہی تھی تو وہاں عوام پر اتنا اثر نہیں پڑ رہا تھا۔ کیونکہ جنوبی کوریا میں جو 16 فیصد خطِ غربت سے نیچے لوگ رہتے ہیں ان کی آمدنی اور حالات بھی ہماری لوئر کلاس سے کہیں بہتر ہے۔ احتساب کا نظام بھی برا نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہاں کی پڑھی لکھی آسودہ حال عوام نے صرف مواخذہ کی کاروائی کو تیز کرنے کے لیے نومبر 2016 سے لیکر جنوری 2017 تک تیرہ بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے۔ جن میں سے بعض کو واقعتاً ملین مارچ کہا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کو چھان پھٹک لیجئیے- رمانہ عمر ریاض

۲۔ جب مطالبہ عوام کی خاموش اکثریت کی اجتماعی سوچ میں رچا بسا ہو۔ روایات یا دین کا بہت اہم رکن و حصہ ہو۔ وہ کام دین اور اخلاق کے حوالے سے بڑے معروفات کی زمرے میں آتا ہو۔

ویسے معروفات اور دین کی بنیا دی اساسات کے معاملے میں اکثریت کا دل، قول یا عمل سے مطالبے کا ہمنوا ہونا اور اسکا ساتھ دینا بھی اہم نہیں رہتا۔ قرآن حکیم میں اکثریت کے بارے آیات موجود ہیں۔ لیکن چلیں بعض زمینی حقائق اور حکمت کے پیش نظر اُس مطالبے اور مسئلے کا عوام کی ایک بڑی تعداد میں دینی، اخلاقی، آئینی، قانونی شعور ہونا چاہیے۔ واضح رہے اجتماعی شعور کی جب بات کی جاتی ہے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ مطالبہ یا مطالبات معاشرے کے ہر طبقے میں (Across the Board) واضح ہو اور اپنی نمائندگی رکھتا ہو۔ معاشی طور پر لوئر، مڈل، ہائر طبقات، اساتذہ، طلبہ، صحافی، دانشور، سرکاری اور فوجی ملازمین، حکومت اور پارلیمنٹ، ملازم پیشہ، کاروباری وغیرہ، سب میں اس مطالبہ کی اہمیت اور ضرورت مبرہن و روشن ہو۔

وہ مطالبہ برس ہا برس سے اخباروں کے مظامین، ٹی وی ٹاک شوز میں زیر بحث آتا رہا ہو جس میں مطالبے کی اہمیت واضح کی جاتی ہو۔ یا پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ تاریخی اور علمی طور پر ہی وہ مطالبہ عوام کی سوچ میں رچا بسا ہو چاہے اسپر کوئی عملی تحریک چلائی گئی ہو یا نہیں۔ معیشت کو، خاص طور پر بینکنگ کو سود سے پاک کرنے کا مطالبہ، یا ملک سے اربوں کھربوں کی کرپشن دور کرنے کا مطالبہ، تھانے اور انصاف کے نظام میں امیر و طاقتور اور کمزور و غریب سے برتاؤ میں بے انتہا فرق کو کم کرنے کے مطالبات اسکی مثالیں ہیں۔

دعوت و تبلیغ، رائے عامہ ہموار کرنا اور شعور بیدار کرنے کے مرحلے کے بارے میں کافی بات ہوتی ہے۔ اور بات یقیناً تدریج کی آجاتی ہے جس پر ہمارے بہت سے دانشور اور قلمکار بہت زور دیتے ہیں اور دینی بھی چاہیے۔ لیکن بعض لوگ کچھ اس طرح صرف اسی مرحلے کو حرف آخر اور دائمی مانتے ہیں کہ تاریخ میں وقو ع پذیر ہونے والے تمام انقلابات، احتجاجی تحاریک، پریشر گروپس اور انکے نتیجے میں جنم لینے والی تبدیلیاں الف لیلیٰ کی داستان لگنے لگتی ہیں اور ان میں حصہ لینے والی راہنما اور عوام کسی اور کائنات کی مخلوق۔

بالکل عوام کی ایک بڑی تعداد پر محنت کرنا ضروری ہے۔ انکو دینی، ایمانی اور فکری دعوت دینا ضروری ہے اور اس میں صبر و استقامت کے نہایت اہم مراحل بھی آتے ہیں۔ لیکن یاد رہے اس مضمون میں جو بات واضح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کے سڑکوں پر آنے کے لیے ریفرنڈم کا انتظار نہیں کرنا پڑتا کہ 51 فیصد نتیجہ آئے گا تو تحریک چلائیں گے۔ احتجاجی مطالباتی تحریک کے لیے بس ایک موزوں تعداد ردکار ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے تیرہ سالوں میں کیا اکثریت کو اپنا ہمنوا بنا لیا تھا؟ کیا مدینے پہنچنے کے بعد اور بدر میں کامیابی سے متاثر ہوکر مکہ کی اکثریت مسلمان اور فرمانبردار ہوگئی تھی؟ اگر ایسا ہوتا تو آپ ﷺ کو آٹھ ہجری میں مکہ کی جانب اپنے فوجی پریشر کے ساتھ سفر نہ کرنا پڑتا۔

ہم یہ جانتے ہی ہیں کہ بعض معاملات جیسے ختمِ نبوتﷺ، ناموس رسالت ﷺ، جیسے حساس معاملات پر تو لوگوں کی غالب اکثریت کے قلوب و اذہان پہلے سے ہی بنے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان میں سے کچھ لوگ ہی احتجاج اور مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں۔ اسی طرح سب کو پتا ہے کہ کرپشن کس طرح سے عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر ڈاکہ ہے اور اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ حال ہی میں کراچی میں لگنے والی آگ ثابت کرتی ہے کہ کراچی جیسے ریونیو دینے والے میگا سٹی میں فائر برگیڈ جیسے بنیادی اور اہم شعبے کی صورتحال کتنی ابتر ہے۔ تو دوسری بنیادی سہولیات اور ملک کے دوسرے شہروں کی کیا بات کی جائے۔ لیکن کتنے لوگ ہیں جو اس پر گورنر، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کریں گے۔ ہاں آگ لگنے کے بعد اس کے متاثرین ضرور کچھ امداد اور داد رسی کے لیے گھیراؤ کریں گے اور باقی لوگ تما شہ دیکھیں گے۔ کیا یہ ہے پاکستان کا مقدر؟ یہاں ایک بڑی تعداد میں موجود ہائر، ہائر مڈل اور مڈل کلاس اپنی زندگی کے چکروں میں، اپنے اور اپنے خاندان کے مسائل میں اتنی غرق ہے کہ اسے اپنی دینی، اخلاقی، سیاسی ذمہ داریوں کا ذرا سا بھی احساس نہیں۔ پاکستان کی آدھی آبادی جس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہے اسک ے لیے صرف فلاحی اداروں کو چندہ دینے سے بات نہیں بنے گی۔ جنوبی کوریا کے لوگوں سے ہی کچھ سبق حاصل کرلیں حالانکہ تعیشات و سہولیات و زندگی کی آسانیوں میں ہم انکا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ پھر بھی انکا سیاسی شعور دیکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو-ُ پروفیسر جمیل چودھری

۳۔ نظام و ریاست کے دوسرے’’ آزاد‘‘ ادارے بھی حکومت کے دباؤ میں ہوں یا اسی کی چاکری میں لگے ہوئے ہوں۔ معروفات کو نافذ کرنے میں بہانے بازی اور مجرمانہ غفلت بلکہ اسکی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہوں۔

اس حوالے سے تجزیہ کاروں، اہل علم و دانش حتیٰ کہ ایک تحریکی کارکن کو بھی اپنی حیثیت میں یہ دیکھنا چاہیے کہ تحریک برپا کرنے سے پہلے کیا رائج سسٹم اور اس میں موجود اداروں کو اچھی طرح آزمایا لیا گیا ہے کہ نہیں۔ یہ تحریک کے قائدین کے لئے نہ صرف اخلاقی طور پر انتہائی ضروری ہے بلکہ اس حوالے سے اہم ہے کہ تحریک میں زور بھی تب ہی پڑتا ہے جب قائدین عوام پر یہ بات ثابت کر دیتے ہیں کہ نظام انکی بات بالکل نہیں سن رہا بلکہ رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ آزاد ادارے، پارلیمنٹ بھی ربر سٹیمپ اور غلام ہیں۔

کتابی بات کہ جائے تو پارلیمانی جمہوری نظام میں آپ پاکستان کو آئینی طور پر دو تہائی اکثریت سے ایک کمیونسٹ ملک بھی بنا سکتے ہیں۔ اسلام کا سرکاری مذہب کا درجہ ختم کرسکتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے پاکستان میں یہ عوام کے مجموعی، ذہنی اور شعوری اساسات اور احساسات میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے ناممکن ہے۔ لیکن بتانے کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ نظام میں حکومت سارے معروف، جائز اور حق پرستانہ امور پر کام کرسکتی ہے۔ دیرینہ مطالبات کی طرف پیشقدمی کرتے ہوئے انہیں پورا کرسکتی ہے، اگر وہ چاہے۔

سب کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں کسی خاص مطالبے کی اپنی تاریخ کیا ہے؟ ۔کیا حکومت پر پارلیمنٹ نے کوئی دباؤ ڈالا؟ ۔ عدلیہ کا دروازہ جب کھٹکھٹایا گیا تو کاروائی کیا ہوئی کیسے ہوئی؟۔ دوسرے اداروں نے مسئلے کو حل کرنے میں کیا کوششیں کیں؟ ۔ کیا ان تمام اقدامات میں اداروں کی نیت و سمت درست معلوم ہوتی تھی؟۔ جیسے سود کے خلاف عدالتی کاروائی میں جب سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر کی جانے والی حکومتی اپیل پر اپنے فیصلے میں بھی سود و ربا کو بینکنگ کے نظام سے ختم کرنے کا فیصلہ دیدیا تو حکومت نے نظر ثانی کی اپیل دا ئر کر کے پہلے سٹے آرڈر لیا۔ بعد میں فوجی آمر نے ریویو پٹیشن کے بنچ میں اکھاڑ پچھاڑ کر کے اور مختلف مسائل کھڑے کرکے اسے توڑ ڈالا۔ اور پھر نہ کسی حکومت نے اور نہ کسی عدلیہ نے اس طویل عدالتی جدو جہد کو جنبش قلم سے ختم کرنے کے ظلم پر توجہ دی۔

۴۔ اور اس کام کے لیے حکومت کو وقت بھی طویل دیدیا گیا ہو۔

یعنی یوں نہیں ہوتا کہا آج مطالبہ کیا گیا ہو اور کل تحریک برآمد ہوجائے۔ جیسے اوپر بتایا گیا کہ بعض مطالبات دھرنے اور احتجاج تک پہنچنے میں طویل سفر طے کرتے ہیں۔ حکومت سے مذکرات، عدالتی پراسس، پارلیمنٹ میں کوششیں کی جاتی ہیں۔ امریکن سول رائٹ موومنٹ اسکی زبر دست مثال ہے۔ مشرف صاحب کی رخصتی کے بعد وکلاء نے بھی اعلانِ مری میں کئے گئے وعدوں کا انتظار کیا۔ لیکن جو ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ بعض معاملات میں چند ہفتوں کی حکومتی غفلت کافی ہوتی ہے، جیسے فیض آباد دھرنے کے ظہور میں آنے سے پہلے، مطالبات کے معاملے میں ہوا۔

۵۔ مطالبہ پورا نہ کرنے کا کوئی واضح، جائز عذر بھی نہ ہو اور نہ مستقبل قریب میں نظام کے ذریعے حل ہونے کے کوئی آثار ہوں۔

مایوسی اور بے چینی اوپر بتائے گئے نکات کی وجہ سے تحریکی کارکنوں میں ویسے ہی بڑ ھ رہی ہوتی ہے اور اس آگ کو مزید ہوا حکمرانوں کی، نظام کے چلانے والوں کی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی دیتی ہے۔ جس سے عوام میں عمومی طور پر اور تحریک پر آمادہ لوگوں میں خاص طور پر سسٹم سے مایوسی اور تحریک کے حوالے سے ان کا انہماک، جوش اور ولولہ بڑھتا ہے۔ نہی عن المنکر کے اس بلند سطح پر آنے کے حوالے سے انکی توجیہات اور دلائل میں مزید اضافہ، مضبوطی اور توانائی آجاتی ہے۔

اگلے مضمون میں احتجاجی تحاریک، دھرنوں کے حوالے سے عوام کی تکالیف اور علماء کرام کی آراء پر نظر ڈالیں گے۔ اور اس میں پائے جانے والےمختلف مباحث پر غور کریں گے۔ (جاری ہے)

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.