علم کی معرفت، ضرورت و اہمیت، کشف المحجوب کے آئینے میں - محمد ریاض علیمی

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمہ کا اصل نام علی ہے اور آپ کی کنیت ابو الحسن ہے۔ آپ نے کشف المحجوب میں اپنا نام اس طرح رقم فرمایا: علی بن عثمان بن علی الجلابی الغزنوی ثم الہجویری۔ آپ حسنی سید ہیں۔ آپ ۴۰۰ ہجری بمطابق ۱۰۰۹ء میں غزنی شہر سے متصل ایک بستی ہجویر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بزرگوار کا اسم گرامی سید عثمان جلابی ہجویری ہے۔آپ کے والد گرامی بڑے عابد و زاہد اور نیک بزرگ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بھی بڑی عابدہ، زاہدہ اور خدا رسیدہ خاتون تھیں۔ آپ کو بچپن ہی سے حصول علم کا شوق بے چین رکھتا تھا او ر آپ نے اپنے زمانہ کے جلیل القدر علماء کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے اکتساب فیض کیا۔ آپ نے صرف اپنے علاقہ سے ہی تحصیل علم پر اکتفا نہیں کیا بلکہ شام، عراق، بغداد، مدائن، فارس، کوہستان، آذر بائیجان، طبرستان اور خراسان سمیت متعدد بلاد اسلامی کے مشہور علماء و فضلاء سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ میں نے فقط خراسان میں تین سو مشائخ کی خدمت میں حاضر دی۔ تحصیل علم کے بعد آپ نے مرشد کامل کی تلاش میں بڑے طویل سفر کیے یہاں تک کہ آپ کی رسائی شیخ کامل یعنی شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلی رحمۃ اللہ علیہ تک ہوئی جو تفسیر، حدیث اور تصوف تینوں کے عالم تھے اور تصوف میں آپ حضرت جنید کے مذہب پر تھے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ سال ہا سال مرشد کامل کی خدمت میں شب و روز مصروف رہے۔ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمہ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے مقلد تھے اور ان سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے مرشد کے حکم سے ۱۰۳۹ء میں لاہور پہنچے اور لاہور ہی میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ نے متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں جن میں سب سے زیادہ مشہور ’’ کشف المحجوب ‘‘ ہے۔

اس کتاب میں آپ علیہ الرحمہ نے جہاں مسلمانوں کی ہدایت او راصلاح کے لیے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو مو ضوع سخن بنایا ہے، وہیں آپ نے اس کتاب میں علم کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیاہے۔ آپ فرماتے ہیں:جاننا چاہیے کہ علم کا میدان بہت وسیع ہے اور عمر مختصر ہے۔ اس لیے تمام علوم کا حاصل کرنا فرض نہیں ہے۔ مثلاً علم نجوم، علم طب، علم حساب اور عجائبات عالم کا علم وغیرہ صرف اتنا حاصل کرنا ضروری ہے جتنا شریعت سے متعلق ہو۔ مثلاً علم نجوم اتنا حاصل کرنا کہ رات کے وقت اوقات کا تعین ہوسکے۔ علم طب اس قدر کہ صحت کی حفاظت ہوسکے اور حساب کا علم اتنا کہ جتنا علم فرائض کے لیے ضروری ہو یا مدت عدت کا تعین کرنے میں معاون ہو۔ مختصر یہ کہ علم وہی فرض ہے جس پر عمل ہوسکے۔ اللہ رب العزت نے ان لوگوں کی برائی بیان فرمائی ہے جو بے نفع علم کے لیے سرگرداں ہوں۔ ارشاد فرمایا: اور سیکھتے ہیں وہ چیز جو ان کو نقصان پہنچائے اور نفع نہ دے۔ (سورۃالبقرۃ ۱۰۲)۔ اسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ یہی دعا مانگی :’’ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے‘‘۔ یعنی علم وہی حاصل کرنا چاہیے جس سے نفع حاصل کیا جاسکے۔ ایک قول کے مطابق نفع سے مراد اس پر عمل ہے۔ آپ فرماتے ہیں : پس تھوڑے علم پر زیادہ عمل ہوسکتا ہے اور علم کو ہمیشہ عمل کے دوش دبدوش ہونا چاہیے۔ اس سے معلوم ہواکہ علم پر عمل ضروری ہے۔ یہاں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمہ نے دو گرو ہ بیان کیے ہیں۔ ایک وہ جو علم کو فضیلت دیتے ہیں اور دوسرے وہ جو عمل کو فضیلت دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ فرماتے ہیں: میں نے عوام کا ایک گروہ ایسا دیکھا ہے جو علم کو عمل پر فضیلت دیتا ہے اور دوسرا گروہ ایسا ہے جو عمل کو علم پر ترجیح دیتا ہے۔ یہ دونوں عقیدے باطل ہیں۔ کیونکہ عمل وہی صحیح ہوتا ہے جو علم کی روشنی میں حاصل ہو ایسے ہی عمل سے بندہ ثواب کا حق دار ہوتا ہے۔ جیسے کہ نماز اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک نماز قائم کرنے والے کو ارکانِ طہارت کا علم، پانی کی پہچان، قبلہ کی واقفیت، نیت نماز کی کیفیت اور ارکان کا علم نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمل کے لیے علم کی ضرورت ہے۔ اگر محض جہالت کی بناء پر عمل کیا جائے گا تو وہ غلطیوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح علم کی ضرور ت کے بعد آپ سالکین کی توجہ اس طرف دلاتے ہیں کہ علم کے حصول کا مقصد دنیا میں نام ونمود حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ آپ فرماتے ہیں: جو علم سے دنیا کی عزت اور مرتبہ چاہتا ہے عالم نہیں ہوتا کیونکہ دنیوی جاہ مرتبہ جہالت کے متعلقات سے ہے اور علم کے لیے یہ بدترین مقام ہے کہ اگر علم نہ ہو تو انسان پر لطائف خداوندی کا کوئی راز ظاہر نہیں ہوتا او ر جب علم موجود ہو تو آدمی ہر مقام کے مشاہدے اور مرتبے حاصل کرسکتا ہے۔ آگے حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمہ شیخ المشائخ یحییٰ بن معاذ رازی علیہ الر حمہ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ تین قسم کے لوگوں سے پرہیز کرو۔ غافل علماء سے، قراء مداہین یعنی خوشامدی قاریوں سے اور جاہل صوفیوں سے۔ غافل علماء وہ ہوتے ہیں جو دنیا کو اپنا قبلہ دل بنالیتے ہیں اور شریعت سے آسان راہ تلاش کرکے بادشاہوں اور ظالموں کی پرستش شروع کردیتے ہیں، ان کے دروازوں کی خاک چھانتے ہیں، لوگوں کی امارت کو اپنی سجدہ گاہ بناتے ہیں، اپنی عقل و دانش کے تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اساتذہ اور بزرگان دین پر لاف زنی کرتے ہیں۔ قراء مداہین یعنی خوشامد قاری وہ لوگ ہوتے ہیں کہ اگر کوئی کام ان کی ہوس کے مطابق ہوتو وہ اس کی تعریف کے پل باندھ دیتے ہیں اور اگر مخالف ہو تو اس کی مذمت شروع کردیتے ہیں۔ چاہے وہ حق وصداقت پر مبنی ہو۔ وہ لوگ اپنی کارگزاری کا جاہ و حشمت کی صورت میں صلہ چاہتے ہیں اور برے کاموں پر بھی لوگوں کی تعریف کرتے ہیں۔ جاہل صوفی وہ ہوتا ہے جو پیر و مرشد کی صحبت سے محروم ہوتا ہے اور اس نے کسی بزرگ سے کسب ادب نہیں کیا ہوتا۔ وہ اپنی حماقت کی وجہ سے سب کو اپنے جیسا خیال کرتا ہے۔ اور اس طرح حق و باطل کی تمیزکا دروازہ اس کے لیے بند ہوجاتا ہے۔

جب بندہ کے پاس علم ہوتا ہے تو وہ ہروقت اس پر عمل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ وہ ان امور سے مجتنب رہنے کی کوشش کرتا ہے جو شریعت میں ممنوع ہیں۔ اس طرح اس کے دل میں خوف خدا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پھر اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو یا بروز قیامت ان اعمال کی وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑے۔ حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ حضرت حاتم اصم رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں : ’’میں نے چار چیزوں کا علم حاصل کیا اور تمام دنیا کے علوم سے رہائی پائی۔ ان سے پوچھا گیا کہ کون سی چار چیزوں کا علم؟ آپ نے فرمایا:اول یہ کہ میں نے یہ جانا کہ میرا رزق مقدر ہے اور کم یا زیادہ نہیں ہوسکتا۔ اس طرح میں نے طلب زیادت سے نجات پائی۔دوم یہ کہ میں نے یہ جانا کہ خدا تعالیٰ کا مجھ پر حق ہے اور وہ میرے سوا کوئی ادا نہیں کرسکتا۔ اس طرح میں اس حق کو ادا کرنے میں مشغول ہوگیا۔ سوم یہ کہ میں نے یہ جانا کہ میرا ایک طالب ہے یعنی موت جس سے فرار ممکن نہیں۔ اس طرح میں نے اس کو پہچان لیا۔چہارم یہ کہ میں نے یہ جانا کہ میرا خدا ایک ہے اور وہ میرے حال سے پوری طرح واقف ہے۔ میں اس سے شرمسار رہا اور ناشائستہ افعال سے بچا۔ جب بندہ کو علم ہو کہ خدائے پاک ناظر ہے تو اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہیں ہوتی جس کے باعث روزِ قیامت شرمندہ ہونا پڑے۔‘‘ ابو علی ثقفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: العلم حیاۃ القلب من الجھل ونور العین من الظلمۃ۔ علم دل کی حیات ہے مرگ جہالت سے، اور آنکھ کا نورِ ایمان ہے کفر کی ظلمت و تاریکی سے۔ علم وہ صفت ہے جس سے تمام جہالت ختم ہوجاتی ہے۔ تاریکی روشنی میں بدل جاتی ہے۔ ہر سو نور ہی نور پھیلتا چلا جاتا ہے۔ علم اور عمل بندے کے ظاہر وباطن اور روح کی پاکیزگی میں مدد دیتے ہیں۔ علم سے وصول الی اللہ کی راہیں آسان ہوتی ہیں۔ جن لوگوں کے قلوب و اذہان علم کی دولت سے خالی ہوتے ہیں ان کو معرفت خداوندی حاصل نہیں ہوسکتی۔ حضرت داتا ہجویری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کفار کا دل مردہ ہوتا ہے کیونکہ وہ معرفت خدادندی سے محروم ہیں۔ اہلِ غفلت کا دل بیمار ہوتا ہے کیونکہ وہ باری تعالیٰ کے احکام سے نابلد ہیں۔۔۔۔ المختصر یہ کہ تمہیں علم سیکھنا چاہیے اور اس میں کمال حاصل کرنا چاہیے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی علم کا کمال علم خداوندی کے سامنے جہالت ہے۔ پس اس قدر جان لو کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی بندگی کے علم سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور بندگی و عاجزی بندہ اور خداوند کے درمیان ایک عظیم پردہ ہے۔۔۔۔ جو علم حاصل نہیں کرتا اور اپنی جہالت پر اڑا رہتا ہے جاہل ہوتا ہے اور جو سیکھتا ہے اور اپنے کمال علم میں معنی کا ظہور دیکھتا ہے اور اس کا غرورعلم ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کا علم اس کی عاقبت کے علم میں عاجزی کے سوا کچھ نہیں اور باری تعالیٰ کی جناب میں نام کی کوئی حقیقت نہیں۔ حصول علم کے بعد یہ عجز وانکساری تحصیل علم کا حاصل ہے۔