چیزیں آنی جانی ہیں - حنا نرجس

بریک کی گھنٹی بجی. داؤد سر طارق کی ہدایت کے مطابق سٹاف روم سے ریاضی کی کاپیاں لے کر واپس کمرہ جماعت میں داخل ہوا تو رشید کینٹین پر جانے کے لیے کمرہ جماعت سے نکل رہا تھا. ایک لمحے کے لیے دونوں کی نگاہیں ملیں. داؤد کی نظروں میں سرد مہری، بیگانگی اور لاتعلقی تھی جبکہ رشید کی نگاہوں میں شرمندگی، معذرت اور معاف کیے جانے کی خاموش درخواست تھی. پتہ نہیں ان دونوں کے تعلقات میں آیا خلا کب بھرے گا؟ اور کیسے بھرے گا؟ رشید تو اب اللہ تعالٰی سے ہی اپنا حالِ دل کہتا اور دوست کا دل اپنے حق میں نرم پڑ جانے کی دعا کیا کرتا.

وہ دونوں آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے. رشید کو یوم دفاع پر تقریر کرنا تھی. ابو پندرہ دن کے لیے کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے تھے جس کا مطلب تھا تقریر رشید کو خود ہی لکھنا تھی. اب یہ اتنا آسان بھی نہ تھا کہ وہ کاغذ قلم پکڑتا اور ایک اچھی سی تقریر لکھ ڈالتا. انٹرنیٹ سے مدد لینا چاہی لیکن وہاں موجود مواد سے وہ کچھ زیادہ مطمئن نہ ہو سکا. اچانک ہی اسے خیال آیا کہ بچوں کے رسائل کے پچھلے سال کے ستمبر کے شماروں سے مدد مل سکتی ہے. لیکن ایک مسئلہ پھر بھی باقی تھا. وہ یہ کہ رشید خود تو رسائل خریدتا نہیں تھا، ہاں چھٹیوں میں خالہ کے گھر لاہور جاتا تو مزے مزے کے رسائل پڑھنے کو ملتے. اسی سوچ بچار میں اسے داؤد کا خیال آیا. داؤد سے اس کی دوستی کو اگرچہ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا لیکن وہ اچھے مزاج کا حامل لڑکا پوری جماعت میں مقبول تھا. کلاس مانیٹر ہونے کے ناطے بھی سب ہم جماعتوں سے اس کے تعلقات اچھے تھے. اور ایک بات تو اس کے متعلق سب ہی جانتے تھے. وہ مطالعے کا از حد شیدائی تھا. بہت سے ہفتہ وار اور ماہانہ رسائل باقاعدگی سے خریدتا. اب تو وہ اپنی ایک چھوٹی سی لائبریری بھی بنا چکا تھا. غیر نصابی کتب نے اس کے جنرل نالج میں بہت اضافہ کیا تھا. اساتذہ اس کی تخلیقی لکھائی کی تعریف کیا کرتے.

رشید نے امی کا موبائل فون اٹھایا اور داؤد کا نمبر ڈائل کیا. دوسری گھنٹی پر فون اٹھا لیا گیا.

"السلام و علیکم! میں رشید بات کر رہا ہوں."

"و علیکم السلام! ہاں وہ تو میں تمہارا نمبر دیکھ ہی چکا ہوں. کہو، کیسے فون کیا؟"

"دراصل مجھے یوم دفاع کے حوالے سے ایک تقریر لکھنا ہے. تم مجھے چند دن کے لیے پچھلے سال کے ستمبر کے کچھ رسائل عاریتاً دے سکتے ہو؟ جلد لوٹا دوں گا ان شاء اللّٰہ."

"آں... ہاں... ٹھیک ہے میں کل لے آؤں گا لیکن دھیان رہے کوئی رسالہ پھٹنے یا کھونے نہ پائے. تمہیں تو پتہ ہی ہے میں اپنی لائبریری کے بارے میں کتنا حساس ہوں."

"بے فکر رہو، یار، میں خیال رکھوں گا. پھر میرے کون سا چھوٹے بہن بھائی ہیں جو رسالے پھاڑ دیں گے."

-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-

رشید کی تقریر ختم ہوتے ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھا. داؤد نے دل سے تسلیم کیا کہ رشید نے واقعی ایک عمدہ تقریر لکھی ہے. اس نے رسائل کے مطالعے سے مدد ضرور لی تھی لیکن اس کی تقریر کو بہترین، وطن کی محبت میں گندھے اس کے اپنے الفاظ اور جذبوں کی شدت سے پہنچائے گئے پیغام نے بنایا تھا. رشید نے انفرادی و اجتماعی سطح پر چھوٹے موٹے اختلافات اور غلط فہمیوں کو نظر انداز کر کے اتحاد و اتفاق برقرار رکھنے کا پیغام دیا تھا. وہ کہہ رہا تھا، محبت ہو تو رنجشیں بالآخر مٹ ہی جاتی ہیں لیکن خیال رہے دشمن کو ہم ہمیشہ ایک اکائی، ایک وحدت ہی نظر آئیں."

یومِ دفاع گزرے بھی تین دن گزر چکے تھے. داؤد اپنے رسائل واپس ملنے کا منتظر تھا لیکن خود اپنے منہ سے کہنا بھی نہیں چاہتا تھا. جب پورا ایک ہفتہ بیت گیا تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا.
"رشید، تم نے ابھی تک میرے رسائل واپس نہیں کیے، یار. تقرير ہو چکی، تم نے خوب خوب داد سمیٹ لی، انعام بھی وصول کر لیا، اب کس بات کی دیر ہے بھلا؟"
"ہاں... آں... میں ان شاء اللّٰہ کل..." اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکا اور نظریں جھکا لیں.
"کیا بات ہے رشید چپ کیوں ہو گئے؟"
" وہ... وہ... دراصل میں گذشتہ پانچ دن سے گھر میں تمہارے رسالے تلاش کر رہا ہوں، مل کر ہی نہیں دے رہے."
"نہیں نہیں رشید. مجھے یہ مت بتاؤ کہ میرے رسالے کھو گئے ہیں. نہیں پلیز یہ مت کہو."
"یقین کرو، داؤد، میں اور امی دونوں مل کر تلاش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک نہیں مل سکے." رشید بہت نادم نظر آ رہا تھا.
"تم پھر سے ڈھونڈو، اچھی طرح سے، ہر جگہ، ہر کمرے میں. بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ مل ہی نہیں رہے." داؤد کا لہجہ قدرے جارحانہ تھا.
" ہم نے تمام الماریوں میں، بستروں کے نیچے، میزوں کے پیچھے، ہر ہر جگہ دیکھ لیا ہے مگر..."
"اسی لیے میں اپنی چیزیں کسی کو نہیں دیتا. بھلا کوئی ان کی اتنی پرواہ کر سکتا ہے جتنی میں خود کرتا ہوں؟ تمہیں دوست سمجھ کر دے بیٹھا لیکن تم نے..."
"داؤد میں واقعی بہت شرمندہ ہوں. تم مجھے ان کی قیمت بتاؤ، میں ادا کر دوں گا لیکن پلیز ناراض نہ ہو."
" قیمت؟؟؟ نہیں لینی مجھے قیمت. مجھے اپنے رسالے واپس چاہییں ہر صورت."
"ابو واپس آ جائیں تو میں پہلی فرصت میں مارکیٹ جا کر رسائل خرید لاؤں گا."
"اور تمہیں یقین ہے کہ تم پچھلے سال کے وہ تمام رسائل خرید لاؤ گے؟ نہیں، رشید، بھول ہے یہ تمہاری... اب وہ تمہیں بازار میں کہیں نہیں ملیں گے. یہ کوئی ہر وقت بآسانی دستیاب کتابیں تو ہیں نہیں، جو تم جب چاہو بازار جاؤ اور خرید کر لے آؤ. میں نے ہر ہر ماہ خرید کر جمع کیے تھے اور تم نے..." غصے کی وجہ سے داؤد کی سانس بھی تیز تیز چل رہی تھی.

یہ بھی پڑھیں:   کتابوں کی صحبت میں - محمد عامر خاکوانی

-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-

تین دن مزید گزر گئے. رشید کا نظریں چرانا بتاتا تھا کہ رسائل ابھی تک نہیں مل سکے. ان کی دوستی کے بیچ بھی یہی رسائل حائل ہو گئے تھے.

چند دن اور گزرے. بالآخر رشید نے ہی اس خلیج کو پاٹنا چاہا. لیکن داؤد نے اس کے سلام کا جواب تک نہ دیا. رشید نے پھر بھی منانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا،
"دیکھو داؤد، میری پوزیشن کو سمجھو. میں نے جان بوجھ کر غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا. میں بے انتہا شرمندہ ہوں. تم یوں سرد مہری نہ دکھاؤ. پلیز..."
لیکن داؤد کے تاثرات بے لچک تھے.
"ابو کہہ رہے تھے کہ پرانی کتابوں اور رسالوں کی دکانوں سے پتہ کروں گا. ان رسائل کے دفاتر میں بھی فون کر کے پوچھوں گا. تم پلیز مجھے ان کے فون نمبرز لا دینا." رشید نے بات جاری رکھی.

"نہیں لا رہا میں فون نمبرز. مجھ سے آئندہ بات کرنے کی کوشش نہ کرنا. تمہاری شکل دیکھ کر ہی مجھے غصہ آنے لگتا ہے." داؤد غصے سے کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا.

-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-

" انکل میرا یقین کریں، میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا. میں تو چیزوں کو بہت احتیاط سے رکھنے اور استعمال کرنے والا بچہ ہوں. میں بالکل ٹھیک چلا رہا تھا. بس وہ اچانک ہی دائیں طرف سے ایک تنگ گلی سے ایک دوسری موٹر سائیکل زور سے آ کر ٹکرائی. ہیڈ لائٹ ٹوٹ گئی اور کلچ بھی خراب ہو گیا، بلکہ مجھے تو ٹانگ اور ہاتھ پر اچھا خاصا زخم بھی آیا ہے." وہ روہانسا ہو رہا تھا.
داؤد نے ثانیہ آپی کو اکیڈمی سے لینے جانا تھا. اس کی بائیک نے عین وقت پر سٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا تو ساتھ والے انکل سے درخواست کر بیٹھا. وہ پہلے ہی اپنی بد مزاجی اور آدم بیزاری کی وجہ سے کالونی بھر میں مشہور تھے. داؤد کا خیال تھا، پانچ منٹ کا تو راستہ ہے. یوں گیا اور یوں آیا بس.

یہ بھی پڑھیں:   خاکوانی صاحب کے آج کے کالم " کتابوں کی صحبت میں " پر تبصرہ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

انکل منہ سے کچھ نہیں بولے لیکن ان کی شعلہ بار نگاہیں داؤد کے وجود کے آر پار ہو رہی تھیں.

"انکل پلیز ناراض نہ ہوں. میں اپنی ٹانگ پر پٹی کروا لوں پھر مکینک کے پاس لے جا کر اسے ٹھیک کروا لاتا ہوں."

"بس برخوردار، ایک مہربانی اور کر دو مجھ پر. یہ چابی ادھر دو اور اپنی شکل گم کرو میرے سامنے سے." وہ موٹر سائیکل اندر کرنے کے لیے گیٹ پورا کھولتے ہوئے بولے.

داؤد کو بے حد تاسف ہوا. وہ پٹی کروائے بنا ہی کمرے میں جا کر لیٹ گیا. بازو آنکھوں پر رکھ لیا. دو آنسو نکل کر دائیں بائیں بہہ گئے.
" کون نہیں جانتا کہ میں چیزوں کو کتنی احتیاط سے استعمال کرتا ہوں. لیکن انکل کی نگاہیں... اس سے تو اچھا تھا بول کر، برا بھلا کہہ کر اور ڈانٹ کر ہی اپنا غصہ نکال لیتے... غلطی کس سے نہیں ہو جاتی... درگزر بھی کوئی چیز ہوتی ہے... اب یہ ابو کو بھی بڑھا چڑھا کر بتائیں گے اور مجھے مزید ڈانٹ پڑوائیں گے...."
انہی سب سوچوں کے درمیان ایک چہرے کی شبیہہ ابھری، یونہی لجالت سے بولتا، درخواست کرتا، معذرت طلب کرتا چہرہ...

داؤد ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا.
" رشید نے بھی جان بوجھ کر تو گم نہیں کیے تھے نا میرے رسالے. کچھ چیزیں انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں. اف! میرا رویہ کتنا سخت، کتنا بے لچک رہا...."

اب وہ پھر سے لیٹ گیا تھا. کچھ آنسو مزید بہے تھے لیکن اب کے وجہ مختلف تھی. میں کل ہی اس سے سوری کر لوں گا. ٹھیک ہے چیزیں اہم ہوتی ہے ہیں لیکن اچھے رویوں اور مضبوط تعلقات سے زیادہ نہیں. ہمیں تو اتفاق سے رہنا ہے. دشمن کو ہماری صفوں میں موجود کمزوری اور نفاق کا علم ہو گیا تو اس کے لیے اپنے ناپاک مقاصد کا حصول مزید آسان ہو جائے گا."

امی کمرے میں داخل ہوئی تھیں. یقیناً ثانیہ آپی داؤد کے منع کرنے کے باوجود انہیں مطلع کر چکی تھیں. یہ بھی شکر تھا کہ ثانیہ آپی کو کوئی چوٹ نہیں آئی تھی. امی نے اسے ٹیٹنس کا انجکشن لگوانے اور پٹی کروانے کی تاکید کے ساتھ قریبی کلینک بھیجا.

-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-

اگلے دن اتوار تھا. ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اس نے مکمل آرام کیا اور اس سے اگلے دن وہ اسمبلی سے بھی پہلے کتابوں کا ایک خوبصورت بنڈل لیے رشید کے ساتھ بیٹھا تھا.
"میرے دوست یہ تحفہ قبول کرو. میں غلطی پر تھا. پلیز مجھے معاف کر دو. کچھ معاملات میں انسان واقعی بے بس ہوتا ہے. میں نے سیکھ لیا ہے کہ چیزیں اہم ضرور ہیں لیکن اچھے دوستوں اور اچھے اخلاق سے زیادہ نہیں."
رشید اپنی دعاؤں کی قبولیت پر حیران اور خوش تھا. بالآخر رسائل والے واقعے کے تین ماہ بعد اسے اپنا دوست واپس مل گیا تھا.

-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-

اور یہ محض پانچ دن بعد کا واقعہ تھا. فاطمہ آپی ہاسٹل سے واپس آئیں. وہ اپنا سامان بیگ سے نکال رہی تھیں. ایک پیکٹ نکال کر رشید کو تھمایا،
"رشید، یہ شاید تمہارے رسالے ہیں. جو تم کسی دوست سے تقریر لکھنے کے لیے لائے تھے. پتہ نہیں کیسے میری کتابوں کے ساتھ ہی پیک ہو کر ہاسٹل پہنچ گئے. میری روم میٹ مزے لے لے کر پڑھتی رہی." آخری بات بتاتے ہوئے وہ ہنسنے لگیں.

رسالے آپی کے ہاتھ سے لیتے ہوئے خوشی کے مارے رشید کچھ بول ہی نہ سکا. اللہ کتنا مہربان ہے. دوست بھی واپس مل گیا اور رسائل بھی. وہ ابھی سے تصور ہی تصور میں داؤد کو خوش ہوتے دیکھ رہا تھا. صد شکر کہ اس کی لائبریری کا ریکارڈ اور ترتیب خراب ہونے سے بچ گئی تھی. یہ یقیناً اللّٰہ تعالٰی کی جانب سے اس کے لیے دل بڑا کر کے معاف کر دینے کا انعام تھا.

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.