میرا تعلق اس معاشرے سے ہے - در صدف ایمان

کیا ہوا ہے؟ ایسے کیوں بیٹھے ہو؟ شکل و صورت سے خوش شکل و تہذیب یافتہ نظر آنے والا وہ نوجوان اپنی بائیک کے ساتھ فٹ پاتھ پر کچھ اتنی سنجیدگی کے ساتھ بیٹھا تھا کہ میں پوچھے بنا نہ رہ سکا. میرے سوال کے جواب میں اس نے خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا کہ اس طرح بیٹھنے کے علاوہ میرے پاس کچھ اور کرنے کو بھی تو نہیں ہے نا. انداز تو خود کلامی کا تھا پر میں نے اپنا جواب ہی سمجھا.
کیوں ایسا کیا ہوگیا؟ تمہارے ساتھ. میرا فطری تجسس
کیا نہیں ہوا؟. سب کچھ تو ہوگیا، سب کچھ ہورہا ہے، قوم لٹ رہی ہے، خوشی خوشی، جانتے بوجھتے
افففف.... ایک تو آج کل کہ یہ فلسفی نوجوان میں نے کوفت سے سوچا.
اچھا مثلاً کیسے؟؟؟ میں سگریٹ سلگائی تھی اب ختم ہونے تک اس کا فلسفہ سننے میں مجھے کوئی عار نہیں تھا.
اس سڑک پر دیکھو 7 کے قریب اسکول ہیں، سب کے سب اعلی تعلیم کے پروردہ، ہزاروں کے حساب سے فیس لینے والے، مگر نصاب میں وہ، وہ سب کچھ پڑھا رہے ہیں جو قرآن کی تفسیر میں بھی ہماری بیٹیوں کو نہیں پڑھایا جاتا.

اور ہاں
وہ اس پارک کی طرف دیکھو اور ان میں موجود اسکول کالج کی لڑکیوں کو، سب لڑکیاں سہمے سہمے انداز میں اپنے اپنے چہرے چھپائے ہوئے ہیں، شرم و حیا سے نہیں ڈر سے کہ کوئی جاننے والا ان کے محبوب کہ ساتھ انھیں نہ دیکھ لے. ہاں مگر سنگھار کے سولہ ہتھیار سے لیس ہیں، اپنے گھر والوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر آئی ہیں، ٹوٹے اعتبار کے قالین پر، بھروسے کو، قتل کرکے انجان بھروسے کو پکڑ کر چل کر آئی ہیں.

اور وہ تو دیکھو
سامنے پٹرول پمپ والے کو، صرف نظر بچنے کی دیر ہے اور دو روپے میں اس کا ایمان سیل ہے.
اس طرف بھی دیکھو
سڑک کے اس پار، وہ لڑکوں کا گروہ، ان کی خوبی کہہ لو یا خامی، بےروزگار، پان گٹکا، اور آتی جاتی لڑکیوں پر سبحان اللہ، ماشاءاللہ کہتے ہوئے مسلمان ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم ؛ معیاری تعلیم، انسان کی بنیادی ضرورت - اسماء طارق

اچھا تو تمہارا تعلق شعبہ تعلیم سے ہے یا کسی این جی او سے؟
مجھے اس کی فلسفیانہ گفتگو سے تو ایسا ہی لگا اس لیے اپنا استفسار واجب لگا.
میری بات سن کر وہ استہزائیہ مسکرایا، مجھے کچھ سبکی کا احساس تو ہوا مگر خاموش ہی رہا یا خاموش رہنے میں عافیت سمجھی.
نہیں میرا تعلق شعبہ تعلیم سے نہیں ہے، نہ ہی کسی این جی او سے ہے، میرا تعلق تو پاکستان سے ہے، میرا تعلق تو اسلام سے ہے، اس پاکستان سے جس کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں ہر پاکستانی کا کم و زیادہ ہاتھ شامل ہے. اور میرا تعلق اس اسلام سے ہے جس میں جانور کے، غیر مسلم، ماں بہن بیٹی بھائی، معاشرے سب کے حقوق ہیں.

اس کی یہ بات سن کر اس کا حلیہ دیکھنے پر مجبور ہوگیا. کہیں سے بھی ملوائیت، یا ملائیت تو نظر نہیں آئی. البتہ کرب بےپناہ نظر آیا. میں دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوگیا.
میرا اس اسلام سے تعلق ہے جس نے ہر علم، ہر حق، ہر شعور، ہر آگاہی، ہر حل تو دیا لیکن آج ہم مسلمانوں نے ہی اسلام کو گالی بنادیا، اسلام کو ظالم بنادیا، اسلام کو متنازعہ بنادیا.

یہ شاید پاگل ہے بلاوجہ وقت ضائع کر رہا ہوں اس کے ساتھ. اس کی باتوں سے قائل ہونے کے باوجود بھی مجھے وہ پاگل ہی لگا.
میرا تعلق اس اسلام سے ہے جس میں بالغ ہوتے ہی نکاح کرنے کا حکم ہے لیکن افسوس میرا تعلق اب صرف اور صرف ایک ایسے معاشرے سے ہے،
جہاں ڈیٹنگ پوائنٹ جتنے چاہے آباد ہوجائیں، بھائی کی شادی بہن کی شادی کے ساتھ ہی ہوگی، پھر رشتہ طے ہونے میں دو سال لگیں 4 سال یا اس سے زیادہ. اور جہاں بڑی بہن کا رشتہ نہ ہو تو چھوٹی کا بھی نہیں کیا جائے گا، پھر چاہے وہ کسی ہوٹل میں جاکر زنا جیسے قبیح گناہ میں مبتلا ہوجائے، کوئی فرق نہیں پڑتا.

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم ؛ معیاری تعلیم، انسان کی بنیادی ضرورت - اسماء طارق

میرا تعلق اس معاشرے سے ہے
جہاں ذات پات کے چکر میں بیٹیوں کی عمر نکالی جاتی ہے، پھر قصور وار خاندان ہوتا ہے.
جہاں بیمار بیوی شوہر کے حقوق پورے نہ کرسکتی ہو تو شوہر گھر میں وفادار رہنے کا بھرپور ڈرامہ کرتا رہے اور باہر کسی دوست کا خالی فلیٹ ڈھونڈتا پھرتا ہے، گھر آباد بھی رہتا ہے اور خوشحال بھی، اور ساتھ میں حرام کام بھی.
جہاں تعلیمی اداروں میں ہزاروں کی فیس بھر کر اپنی قوم کی بہن بیٹی کو ناچنا سکھاؤ، دوپٹہ اترواؤ.

میرا تعلق اس معاشرے سے ہے
جہاں بیوی کے حقوق دینے پر زن مرید کا لقب ملتا ہے
اور ماں باپ کے حقوق ادا کرنے پر ظالم شوہر کا
جہاں حق کی بات کرنا خود کا قتل کروانا ہے،

میرا تعلق اس معاشرے سے ہے
جہاں اگر بہن کا رشتہ نہیں ہو رہا تو بھائی کو بھی اس کے ساتھ ساتھ سالوں اس کے طے ہونے والے رشتے کا انتظار کرنا ہے،

میرا تعلق اس معاشرے سے جہاں دولت ہی اب شرافت کی ضمانت ہے.
جہاں طوائف کبھی بھی کسی بھی مہینے میں پارسائی کا سرٹیفکیٹ لے کر کسی پارسا کو طوائف بنا سکتی ہے، اور ہمیں بخوبی اسلام سکھا سکتی ہے
جہاں جس شخص کی ہمیں پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک، قدم قدم پر ضرورت پڑتی ہے اسے حقارت سے دیکھتے ہیں،
جہاں لاکھوں شکوے شکایت، اختلاف کے بعد بھی ہم اندھی تقلید و عقیدت میں ہیں.

اور سنو
میرا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جس میں صرف اور صرف اسلام، قسمت اور سسٹم کی ہی غلطی ہے، ہم لوگوں کی بالکل نہیں، بالکل بھی نہیں ہے.

اس کی حرف حرف سچ بات سن کر زبان ساکت تھی، سگریٹ ختم ہوگئی تھی، اور کمپنی کچھ زیادہ اچھی نہیں رہی، اس لیے ہاتھ جھاڑ تے ہوئے یہ سوچ کر اپنے راستے چل پڑا
نفسیاتی ہے بے چارہ زیادہ سوچتا ہے. پاگل کہیں کا

Comments

در صدف ایمان

در صدف ایمان

در صدف ایمان الایمان اسلامک اکیڈمی کراچی کی ڈائریکٹر ہیں۔ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.