اہلسنت والجماعت میں دھڑے بندی کی کہانی - محمد بلال خان

2012 سے اہلسنت والجماعت کے اندر گروپنگ کا آغاز ہوا، جب ملک اسحاق اور ان کے دست راست غلام رسول شاہ نے جماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں پر اعتراضات کیے، اس وقت تک اندرون خانہ ایک اہلسنت والجماعت (حقیقی) یعنی ملک اسحاق گروپ اور دوسرا اہلسنت والجماعت لدھیانوی گروپ بن چکا تھا، جس میں مولانا احمد لدھیانوی، مولانا اورنگزیب فاروقی اور خادم حسین ڈھلوں وغیرہ شامل تھے. اس اختلاف میں شدت اس وقت آئی جب لاہور میں لدھیانوی گروپ کے مولانا شمس الرحمٰن معاویہ کو قتل کیا گیا. مولانا شمس الرحمٰن معاویہ کے قتل پر خادم ڈھلوں گروپ نے اس کی ذمہ داری ملک اسحاق کے دست راست غلام رسول شاہ پر ڈالی. انہی دنوں ملتان کا معروف متعصب ذاکر ناصر عباس ملتانی بھی مارا گیا. ناصر ملتانی کے قتل کا ذمہ دار اہل تشیع نے ملک اسحاق کو ٹھہرایا، مگر حقائق جب معلوم ہوئے تو ان دونوں قتلوں میں مائنڈ سیٹ ایک ہی تھا. جن ملزمان سے لیپ ٹاپ اور اسلحہ وغیرہ برآمد ہوا، انھی نے دونوں جانب قتل کا ٹاسک مکمل کیا، مگر یہاں ٹوسٹ تب آیا، جب کچھ نامعلوم گرفتار ملزمان کو سامنے پیش کر کے ان سے اقرار کروایا گیا کہ انھیں شمس الرحمٰن معاویہ کے قتل کا ٹاسک ملک اسحاق گروپ نے دیا تھا. اس بیان کے بعد غلام رسول شاہ نے اپنے آپ کو کئی مقامات پر اس قتل سے بری ہونے کے لیے ہر طرح کی تحقیقات کے لیے پیش کرتے ہوئے حلف اٹھانے کا اعلان کیا کہ ان پر یہ الزام ڈھلوں گروپ سے اختلاف کی بنیاد پر ڈالا گیا ہے، جبکہ حقائق کا اس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، جبکہ ملک اسحاق گروپ کا الزامی جواب یہ تھا کہ اس قتل میں ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں خود ملوث ہیں، کیونکہ جس وقت مولانا شمس الرحمٰن معاویہ کا قتل ہوا، اس وقت ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کا ایک گن مین ان کی پچھلی سیٹ پر موجود تھا. بہرکیف شمس الرحمٰن معاویہ قتل کیس میں کئی طرح کی پیچیدگیاں ہیں، جس کے حقائق تاحال منظر عام پر نہیں آسکتے۔

کچھ ہی عرصے بعد اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی اور مجلس عاملہ جس میں ڈھلوں گروپ کی اکثریت غالب تھی، نے ملک اسحاق اور غلام رسول شاہ کی بنیادی رکنیت ختم کرکے انھیں جماعت سے لاتعلق قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں تنظیم دو حصوں میں بٹ گئی، اور پنجاب بالخصوص جنوبی پنجاب تو مکمل طور پر لدھیانوی گروپ کے کنٹرول سے نکل گیا۔ ملک اسحاق اور غلام رسول شاہ نے اپنے کچھ مخلصین و معتمدین کے ساتھ مل کر اہلسنت والجماعت (حقیقی) کی بنیاد رکھی۔ جماعت کے دو گروپ بنے ہی تھے کہ اسی دوران ملک اسحاق کو دوبارہ سے پابندِ سلاسل کر دیا گیا، اور ساتھ ہی غلام رسول شاہ کو بھی حراست میں لیا گیا۔ دوسری بار حراست میں لیے جانے پر دو رائے سامنے آتی ہیں، اولین رائے یہ کہ ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں اور مولانا احمد لدھیانوی چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے قریبی سمجھے جاتے تھے، تو ان کی خواہش پر ہی ملک اسحاق گروپ کو الگ کیا گیا، اور بعد میں انھیں پابند سلاسل کیا گیا، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ الیکشن 2013ء میں مولانا لدھیانوی کے گروپ کی طرح ملک اسحاق گروپ بھی سیاست میں آنے کے لیے تیار تھا۔ رحیم یار خان اور بہالپور سے ملک اسحاق اور ان کے بیٹے سمیت غلام رسول شاہ کو میدان میں لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس سے حکومتِ پنجاب، اسٹیبلشمنٹ اور خود لدھیانوی گروپ کو خدشہ تھا کہ ملک اسحاق کا سیاست میں آنا ان کی قیادت کو ٹیک اوور کرنے کے مترادف ہے، اسی لیے ان کو الیکشن سے قبل گرفتار کر لیا گیا اور وہ انتخابات میں شامل نہ ہوسکے۔ جیل سے ملک اسحاق نے اپنے گروپ کے رسالے بنام "نفاذِ خلافتِ راشدہ" میں قسط وار ایک مضمون تحریر کیا، جس میں اختلافات کی وجوہات لکھی گئیں۔ اس تحریر میں ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں پر سنگین اخلاقی اور مالی کرپشن کے الزمات لگائے گئے۔ ملک اسحاق کے لکھے گئے اس مضمون کے مطابق انہوں نے مولانا احمد لدھیانوی کو ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کے متعلق ویڈیو ثبوت بھی فراہم کیے، مگر مولانا لدھیانوی اس معاملے میں بے بس اور لاچار دکھائی دیے۔

یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا، 2013ء کے عام انتخابات ہوئے، مولانا احمد لدھیانوی گروپ کو کسی بھی سیٹ پر کامیابی حاصل نہ ہوسکی، مگر ملک اسحاق اور ہمنوا جیل میں ہی رہے۔ اسی دوران 16 دسمبر 2014ء کو اے پی ایس کا بھیانک اور دلخراش سانحہ ہوا، جس کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا۔ جولائی 2015ء میں ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مظفرگڑھ کے علاقے میں ملک اسحاق، غلام رسول شاہ، اور ملک اسحاق کے دو جوان بیٹوں سمیت 16 افراد مارے گئے. اس واقعے سے اہلسنت والجماعت پر سکتہ طاری ہو گیا، اس قتل کے خلاف عاصمہ جہانگیر بول اٹھی، مگر لدھیانوی گروپ نے مذمت تک نہ کی، بلکہ اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ انھی دنوں اورنگزیب فاروقی بھی جیل میں تھے، جبکہ باہر موجود خادم حسین ڈھلوں اور مولانا احمد لدھیانوی سمیت پورا گروپ مصلحتاً، حالات کے خوف سے یا نہ جانے کن پراسرار وجوہات کی بنیاد پر خاموش رہا، مگر ایک طویل خاموشی رکھی گئی، یہاں سے جماعت کا مرکزی ڈھانچہ ہل گیا، اور ایک سال تک مولانا احمد لدھیانوی اور ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں منظرعام سے ہٹے رہے، کیونکہ ملک اسحاق اور ساتھیوں کے قتل کے بعد تنظیمی کارکنان اور ذمہ داران لدھیانوی گروپ سے سخت نالاں تھے، اسی لیے احمد لدھیانوی صاحب زیادہ عوامی مقامات پر آنے سے محتاط رہے، جبکہ خادم ڈھلوں تقریباً ایک سال تک روپوش رہے۔

تیسرا راؤنڈ اورنگزیب فاروقی کی لگ بھگ نو ماہ کی اسیری کے بعد رہائی کے بعد شروع ہوا۔ علامہ فاروقی کی گرفتاری سے کچھ عرصہ قبل مولانا لدھیانوی نے انھیں جماعت کا مرکزی صدر بنا دیا۔ علامہ فاروقی کی رہائی سے چند ہفتے قبل سندھ سے ہی مولانا معاویہ اعظم لاپتہ ہوئے، معاویہ اعظم کی طویل گمشدگی کے دوران بھی ہزاراہا چہ مگوئیاں ہوتی رہیں۔ مولانا اعظم طارق کے بیٹے معاویہ اعظم اور مولانا حق نواز جھنگوی کے بیٹے مولانا مسرور نواز جھنگوی ملک اسحاق کے قتل کے بعد تنظیمی سرگرمیوں سے بالکل کٹ کر رہ گئے۔ 2015ء میں مولانا معاویہ اعظم کو پھانسی کی سزا پانے والے جھنگ کے ایک کارکن احمد علی عرف شیش ناگ کا جنازہ پڑھانے پر لدھیانوی گروپ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور غیر اعلانیہ طریقے سے معاویہ اعظم کی سرگرمیوں اور جماعت سے ان کے اثر و رسوخ کو ختم کر دیا گیا۔ اس دوران معاویہ اعظم اپنے والد کے نام سے منسوب الاعظم ویلفیئر ٹرسٹ کے سماجی کام اور ایک تعلیمی پروجیکٹ پر کام کرتے رہے۔ فروری 2016ء میں انھیں سندھ میں ایک تقریب میں شمولیت کے بعد جماعت کے ہی ذمہ دار کےگھر سے اغواء کیا گیا، اور اٹھارہ ماہ کی طویل گمشدگی کے بعد ڈیڑھ مہینے قبل رہا کیا گیا۔

معاویہ اعظم کی رہائی سے چند ماہ قبل اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں صحافیوں کو بریفنگ کے دروان مجھے مولانا احمد لدھیانوی اور ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں سے سوالات کرنے کا موقع ملا۔ مولانا لدھیانوی نے سیاست کو ہی زیادہ فوکس کیا، جبکہ معاویہ اعظم کے حوالے سے سوال پر ان کی مکمل خاموشی تھی۔ تقریب کے اختتام پر مجھے ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں ایک جانب لے کر گئے اور کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ اس پر میں نے ان سے کچھ ذاتی نوعیت کے سوالات بھی کیے، مگر انھوں نے لیت و لعل سے کام لیا اور کوشش کی کہ موضوع بدل جائے۔ اس بریفنگ کے کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کا معاملہ دوبارہ زیربحث آیا، اور اب کی بار خادم ڈھلوں کے معاملے میں جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ مرکزی صدر مولانا اورنگزیب فاروقی اور خیبرپختونخواہ کے صدر علامہ عطاء دیشانی کے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کی وجہ سے جماعت میں پڑنے والی پھوٹ اور کارکنان کی بیزاری سے شدید تشویش میں تھے، اور اپنے اندرونی فورمز پر کھل کر اس کا اظہار کرتے رہے۔ مولانا اورنگزیب فاروقی نے خادم ڈھلوں کی موجودگی میں کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے کراچی میں مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی، اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آتے جاتے رہے۔ اورنگزیب فاروقی کی جانب سے خادم حسین ٖڈھلوں کی مخالفت پر ڈھلوں گروپ سے وابستہ سندھ کے ذمہ دار پریل شاہ بخاری نے دھمکی دی کہ اگر ڈھلوں کو نکالا گیا تو پورے سندھ کے صوبے میں کام روک دیا جائے گا، یعنی پریل شاہ نے اورنگزیب فاروقی پر پریشر ڈالنے کی کوشش کی، پریل شاہ چونکہ ڈھلوں گروپ سے وابستہ ہے، اسی لیے اورنگزیب فاروقی کو مرکزی صدر بنانے پر سب سے زیادہ اعتراض کیا، اور سندھ بھر میں اورنگزیب فاروقی کے جلسوں پر پابندی عائد کروا دی۔

اختلافات کو منظر عام پر آنے سے بچانے کے لیے مرکزی سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے ایک کمیشن تشکیل دیا، اس میں مرکزی صدر مولانا اورنگزیب فاروقی، اہلسنت والجماعت کے قانونی مشیر بشیر عکاشہ اور آزاد کشمیر کے ذمہ دار عبدالوحید جلالی شامل تھے۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ مولانا لدھیانوی کو پیش کی، رپورٹ مرتب کرنے والے بشیر عکاشہ نے لکھا کہ خادم حسین ڈھلوں کے حوالے سے اخلاقی الزامات کے ویڈیو ثبوت دیکھنے کے بعد ان پر لگے الزامات کی تصدیق ہوتی ہے۔ مولانا لدھیانوی نے اس رپورٹ کی روشنی میں ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کو مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے معزول کرتے ہوئے جماعت سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا، مگر ڈھلوں گروپ سے ہی تعلق رکھنے والے اسلام آباد کے ذمہ دار حاجی غلام مصطفیٰ بلوچ نے مداخلت کی اور انھیں جماعت سے نکالنے کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھانے کا عندیہ دیا، جس کی وجہ سے مولانا لدھیانوی شش و پنج میں رہ گئے۔ اس تمام معاملے میں ان کا کردار نہ تین نہ تیرہ والی صورتحال سے دو چار ہے۔

مجھے جماعت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خود یہ بات بتائی کہ ڈھلوں کے خلاف جو بھی بات کرتا ہے، اسے اٹھوا دیا جاتا ہے، بعض تو گھروں سے اٹھتے ہیں، اور بعض کو زندگی سے بھی اٹھا دیا جاتا ہے۔ اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر خادم ڈھلوں وہ کون سی مجبوری ہے کہ اسے ڈیڑھ عشرے تک اس جماعت کا سیکرٹری جنرل رکھا گیا، پوری جماعت ایک شخص کی وجہ سے برباد ہوتی رہی اور علامہ لدھیانوی صاحب نہ جانے کس مجبوری کے تحت اس گروپ کے آگے بے بس ہیں۔ باقی جماعتی ذمہ داران جو مرکزی عہدوں پر ہیں، کاش کہ میرے مراسم نہ ہوتے تو نام بتا سکتا کہ وہ خادم ڈھلوں کے نام سے ہی منہ موڑ لیتے ہیں۔ ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کو اس کمیشن کے فیصلے کے بعد دوبارہ منظر عام پر لانے کے لیے ڈھلوں گروپ نے معاویہ اعظم کی رہائی کا فائدہ اٹھایا۔ معاویہ اعظم کے رہا ہوتے ہی انھیں یہ باور کرایا گیا کہ ان کی رہائی میں خادم حسین ڈھلوں کا بہت زیادہ کردار ہے، اور پھر معاویہ سے ڈھلوں کے حق میں بیان دلوا کر نالاں کارکنان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی گئی، اور دوبارہ ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کو "مرکزی سیکرٹری جنرل" لکھا جانے لگا۔ اس مہم میں اسلام آباد میں مقیم ڈاکٹر خادم ڈھلوں کے کچھ چہیتے ہیں، جو کسی مجبوری یا پھر عادت کے تحت دوبارہ انہیں سر پر بٹھانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ بہرحال کچھ معاملات بہت زیادہ سنگین ہیں، اس لیے اگر یہ معاملات اندرون خانہ حل نہیں ہوتے تو اس کا عدالتی حل ہونا چاہیے، تاکہ مزید لوگ ان اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھیں۔

اہلسنت والجماعت کی موجودہ صورتحال دیکھ کر الیکشن 2018ء میں ان کی آپسی چپقلش کا منظرنامہ چشمِ تصور میں دیکھ رہا ہوں۔ جھنگ میں مسرور نواز جھنگوی اپنا مضبوط سیاسی نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ معاویہ اعظم بھی سیاسی لحاظ سے اپنے والد کے طرز عمل کو مقدم جانتے ہیں۔ معاویہ اعظم کو ایبٹ آباد سے الیکشن لڑنے کا احمقانہ مشورہ دینے والے میرے خیال میں جھنگ سے مولانا لدھیانوی کے لیے میدان صاف کرنے کےلیے کوشاں ہیں، اس لیے ایک مخلص ہمدرد کے طور پر جماعت کی قیادت اور فیصلہ ساز "قوتوں" سے گزارش ہے کہ اگر آپ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ آپ نے روش بدلنی ہے، جوکہ آپ عملی طور پر بدل چکے ہیں، اب آپ سیاست کرنا چاہ رہے ہیں تو وہ اصولوں کے تحت کیجیے۔ اس حوالے سے جھنگ کےلیے سب سے موزوں امیدوار معاویہ اعظم اور مسرور نواز جھنگوی ہیں، جبکہ لدھیانوی صاحب کو اب سیاست کی بساط لپیٹ دینی چاہیے، یا اگر عمر بھر کا روگ ہی ایم این اے بننا ہے تو اپنے آبائی علاقے کمالیہ پر فوکس کرنا چاہیے، بصورت دیگر جماعتی اختلافات سیاسی اختلافات میں بدل جائیں گے، اور سیاست کے سینے میں پھر دل نہیں ہوتا۔ بہت سے باتیں لکھنے سے گریز کر رہا ہوں، اجمالی صورتحال لکھ دی ہے، تاکہ قارئین کو معاملات سمجھنے میں آسانی ہو۔

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں