لندن میں بیٹھے پاکستان کے دشمن - محمد عتیق الرحمٰن

کراچی پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی قریب وبعید میں سازشوں کے نتیجے میں یہاں ہونے والی قتل وغارت نے شہر کو اور یوں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاتھا۔ سیاست کے نام پر ہونے والی دہشت گردی نے کراچی کا حسن ماند کردیاتھا۔ آئے روز ہڑتالیں، مظاہرے، بوری بند لاشیں، ٹارگٹ کلنگ،لسانیت وفرقہ واریت کو بڑھاوادینے کی کوشش اور اپنے مفادات کے لیے مہاجر کارڈ کا استعمال، وہ سازشیں تھیں جن کی وجہ سے جہاں پاکستان کو قیمتی جانوں کا نقصان اٹھا ناپڑا وہیں معاشی مسائل بھی کا سامنا بھی ہوا، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے والے بھی خوش ہوئے۔ سیاسی جماعتوں کے دفاتر اشتہاریوں کی پناہ گاہ تھے اور عوام کراچی چھوڑ کر اپنے کاروبار اور گھر بار دوسرے شہروں کو منتقل کر رہے تھے۔ ٹارگٹ کلرز اپنی محفوظ آرام گاہوں میں چین و آرام کی نیند لیتے جبکہ کراچی والے ساری رات آنکھوں میں کاٹتے۔

پھر مارچ 2015ء میں کراچی کے علاقے عزیزآباد میں واقع نائن زیرو پر تاریخی چھاپے نے اس فضاء کو ختم کرنے میں کلیدی کردار اداکیا۔ فیصل موٹا، عبید کے ٹواور نادرشاہ جیسے کردار حراست میں لیے گئے اور پھر 'سیاسی کم اور دہشت گردزیادہ' تنظیم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ خود کو بچانے کی خاطر مختلف سیاسی ونگ بننے لگے۔

لیکن لندن میں بیٹھا مہاجرین کا غداراور غدارِپاکستان آج بھی بھارتی سازشوں میں شریک ہے۔ گزشتہ ماہ الطاف حسین نے لندن میں امریکی کانگریس کے رکن ڈینا رورابارکر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں غداروطن نے ڈینارورابارکرکو ’’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘‘کے بارے میں آگاہ کیا۔ یادرہے کہ ڈینا رورابارکر پاکستان دشمنی میں بھارت سے بھی دوہاتھ آگے نظرآتے ہیں۔ یہ ملاقات 4گھنٹے تک جاری رہی جس میں ایک اور پاکستان دشمن بلوچ راہنماخان آف قلات بھی شامل تھا۔ ان 4 گھنٹوں میں جب تینوں دشمن مل بیٹھے ہوں گے تو پاکستان کے خلاف کوئی نیا محاذ کھولنے کی لازمی کوشش کی ہوگی جوآنے والے دنوں میں سامنے آسکتا ہے۔ الطاف حسین کی متحدہ قومی موومنٹ اب ایم کیوایم لندن کے نام سے جانی جاتی ہے اور اُس کے ڈانڈے براہ راست ملک دشمن قوتوں سے ملتے ہیں۔ ان کی کانفرنسوں میں لگنے والے ملک دشمن نعروں سے بھی یہ چیز عیاں ہوتی ہے۔ لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف کھل کر اپنے خبث باطن کا اظہارکرتے ہیں اور بھارت سے مددمانگنے کی باتیں بھی آن ریکارڈ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کا کچرا اور عوام کی بے بسی - ڈاکٹر راحت جبین

ہماری خارجہ پالیسی اور کمزوری سفارت کاری ہی ہے کہ لندن میں بیٹھے دہشت گرد ہمارے لیے مسائل کھڑے کر رہے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کو اپنی لڑائیوں سے فرصت نہیں کہ اس جانب بھی توجہ دیں۔ یہ ہماری کمزور خارجہ پالیسی ہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قربانیوں کے باوجود ہم ہی سے "ڈو مور" کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کلبھوشن جادھو جیسا دہشت گرد پکڑنے کے باوجود ہم ہی دہشت گرد قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر بھرپور توجہ دینا ہوگی تاکہ دشمن کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دے سکیں ورنہ لندن میں بیٹھے پاکستان دشمن کراچی کے ذریعے پاکستان میں ایک نیا محاذ کھول سکتے ہیں۔