نفاذِ اسلام میں خواتین کا کردار - اشفاق پرواز

مسلم معاشرے کی تعمیر میں خواتین اور ان کے کردار کی اہمیت یہ ہے کہ دنیا میں معاشرتی اصلاح، اخلاق سدھار یا احیاۓ مذہب کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شمولیت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔خواتین ہمارے معاشرے کا نصف حصہ ہیں اور اگر وہ نفادِ اسلام کے کام میں دلچسپی نہ لیں اور اس میں شریک نہ ہوں، تو مرد خواہ کتنا ہی زور لگائیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ اسلام اور نفاذِ اسلام کی گاڑی اُسی صورت میں رواں دواں ہوسکتی ہے۔ جب اس کے دونوں پہیے ( مرد اور عورت) ٹھیک ٹھیک کام کریں، بلکہ عورتوں کی اہمیت اس اعتبار سے زیادہ ہے کہ وہ اُن افراد کو جنم دیتی اور تعلیم و تربیت دیتی ہیں جن سے مستقبل کا معاشرہ تشکیل پاتاہے۔واقعہ یہ ہے کہ قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کی تاریخ عورتوں کے عروج و زوال سے وابستہ ہے۔ عہدِ نبویؐ میں جب عورتیں اصلاح پذیر ہوئیں تو ان کی آغوش سے ہی وہ نسلِ نو نکلی جس نے چار دانگِ عالم میں اپنی اخلاقی، علمی اور فوجی فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے۔ اگر عہد جاہلیت میں عربوں کا معاشرہ جاہلانہ تھا، تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کے مقام اور اہمیت کو نظر انداز کیا گیا۔

نفاذِ اسلام کے کام میں عورتوں کی شرکت کی اہمیت کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتیں نفادِ اسلام کے لیے کیا کچھ کر سکتی ہیں؟ اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز انفرادی شخصیت ہے۔ نفاذِ اسلام کا عمل اپنی ذات سے شروع ہونا چاہیے۔ ورنہ دوسروں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دنیا میں صرف اُس نصب العین اور تحریک کو فتح نصیب ہوتی ہے، جس کے علمبرداروں کے قول و عمل میں ہم آہنگی ہو اور جس کی اپنی زندگی اپنے نظریے کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو۔ بنیادی چیز ذہن و فکر ہے۔ نفادذِ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارا یقین روزِ آخرت پر ایسا پختہ ہو کہ اس کے اثر سے عملی زندگی تبدیل ہو کر رہ جائے۔ خدا خوفی ہمارے اعمال سے نمایاں ہو۔ احکام شریعت کی پابندی کے ساتھ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام اور نفاذِاسلام کی تحریک کے لیے کس سیرت و کردار کی حامل خواتین مطلوب ہیں۔

آج کے دور کی مسلم خواتین کا جائزہ لیں تو عورتوں کا ایک حلقہ وہ نظر آتا ہے جو علم اور شعور سے بالکل ہی محروم ہے یا بہت ہی کم علم اور کم عقل ہے۔ مگر اُن میں بھی اکثریت اُن عورتوں کی ہے جو گھر داری کے کام کو سلیقے سے انجام دے سکتی ہیں۔ کھانا بھی اچھا پکا لیتی ہیں اور پہننااوڑھنا بھی جانتی ہیں، لیکن اُن کے پاس اسلامی نقطہ نظر سے چند رسومات کے علاوہ کوئی چیز نہیں اُن کی مذہبیت محض اُن کی رسوم پرستی ہے یا تو ہم پرستی، چناچہ یہ عورتیں نفادِ اسلام کے لیے ہرگز کارآمد نہیں ہوسکتیں۔ نفاذِ اسلام تو بڑی بات ہے، بقائے اسلام بھی ان عورتوں کے ذریعے ممکن نہیں۔ ہمارے معاشرے میں چونکہ زیادہ تر عورتیں اسی طرح کی رہی ہیں، اس لیے ہماری نسلیں اسلام سے بیگانہ ہوتی چلی گئیں۔ اگر ہم عورتوں کی اہمیت کو سمجھتے تو انہیں مردوں کی دل بستگی کا ذریعہ بنا کر نہ رکھتے بلکہ زیور تعلیم سے آراستہ کرتے، اسلام کا حقیقی مفہو م سمجھاتے اور بتا تے کہ قدرت نے عورتوں کو انسان سازی کے عظیم کام پر مامور کیا ہے۔ اس منصب کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اسلام کو خود بھی سمجھیں اور اپنی اولاد کو بھی اسے صیح طریقے سے سمجھائیں۔ اس کے بغیر نفاذِ اسلام ممکن ہی نہیں ہے۔ لہذا خواتین کے لیے پہلی ضروری چیز علم، بالخصوص اسلام کا علم ہے کیونکہ علم ہوگا، تو اس کے مطابق عمل بھی ہو سکے گا اور دوسروں کو عمل کی تر غیب دی جاسکتی ہے۔

سچ پوچھیے تو اسلام بنیادی طور پر دین علم ہے۔ ہمارا بنیادی ایمان کتابِ الہٰی پر ہے اور کتاب کو براہِ راست پڑھنا اور سمجھنا ہر مسلمان کی ایمانی ذمہ داری ہے۔ عورتوں میں جس قدر زیادہ خواندگی ہوگی، اتناہی زیادہ قرآن اور اس کے ترجمے کو پڑھنا، احادیث کا مطالعہ کرنا اور اسلامی لٹریچر سے استفادہ کرنا ان کے لیے ممکن ہوگا۔ وہ خواتیں جو نفاذِ اسلام کی تحریک اور اس کے لیے جدوجہد کرنے کی علمبردار ہیں اُن کو اسلام کے ساتھ علم کی بھی مبلغ ہونا چاہیے ، کیو نکہ اسلام اور علم کے درمیان ایک ناقابلِ شکست رشتہ ہے۔ خواتین کے لیے رسمی تعلیم ہی ضروری نہیں بلکہ انہیں حالات حاضرہ سے بھی پوری واقفیت ہونی چاہیے اس واقفیت کے بغیر کوئی بھی سیاسی یا مذہبی جدوجہدنہیں ہوسکتی۔ نفاذِاسلام کے لیے کام کر نے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ مطالعے کی عادت کواپنائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں عورت سیاست بے آواز - نازیہ علی

نفاذِ اسلام کے لیے ایک اور ضروری چیز یہ ہے کہ آپ کا نصب العین مادی آسائشیں،دنیوی لذتیں اور معیار زندگی کی وہ دوڑ نہ ہو جس نے ساری دُنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور جس کا انجام بے چینی اور بے اطمینانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نفاذِ اسلام کی علمبردار خواتین کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ مادّی چیزوں کی محبت ایک ایسا سراب ہے جس کے پیچھے دوڑ دوڑکر انسان بے حال اور بدحال ہونے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ اس دوڑ میں شریک انسان اسلام کا کام ہرگز نہیں کر سکتا۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے وہ کردار چاہیے جو ظاہری زندگی کی جھوٹی چمک دمک کا دیوانہ نہ ہو جو گھروں کی قیمتی آرائش کا تمنائی بننے کے بجائے سادہ زندگی اختیار کرے۔ اُسے جو کچھ ملے وہ اس پر راضی رہے اور قناعت کو اپنا شعار بنالے۔ وہ احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہو۔ خداۓ تعالیٰ نے عورتوں میں یہ خوبی رکھی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو سوکھے ٹکڑے کھا کر اور پھٹا پُرانا کپڑا پہن کر بھی خوش رہ سکتی ہیں لیکن جو عورتیں زیور، کپڑے کو ہی زندگی کا نصب العین بنالیتی ہیں اور خدائی تعلیمات کو چھوڑ کر معیار زندگی کے شیطان کو پوجنے لگتی ہیں، ان کا و جود پورے معاشرے کے لیے خطرناک اور زہریلا ہو جاتا ہے۔ اسلا م کی علمبردار خواتین کو اس خطرے اور اس زہر سے ہو شیار رہنا چاہیے اور جہاں کہیں عورتوں میں یہ برائی نظر آئے، اس کے خلاف جہاد بھی کرنا چاہیے ۔

حضرتِ عیٰسی نے کہا تھا، تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جو انسان محض دولت کمانے کی مشین بن جائے، اس کی انسانیت جاتی رہتی ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارے ہاں کی بیشتر عورتوں کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ روزی کمانے کی فکر سے آزاد ہیں۔وہ زندگی کی معاشی کشمکش اور معاشی جدو جہد کے بُرے پہلوؤں اور ان کے مذموم اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ اس بنا پر عورتوں کی مردوں کے مقابلے میں اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار سے وابستگی زیادہ گہری ہوسکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے ۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ آجکل ہی نہیں بلکہ ہمیشہ سے خواتین کی اکثریت پر اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کے مقابلے میں مادی چیزوں کی محبت غالب رہی۔ یہ اُس محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ عورتیں قیمتی ملبوسات، زیورات اور بناؤ سنگھار کی مہنگی اشیاء کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتی ہیں اور شادی بیاہ میں جہیز کے اسراف کے تماشے اور جھوٹی شان کے مظاہرے بھی اس بات کا نتیجہ ہیں کہ زندگی کا مادّہ پرستانہ نقطہ نظر ہم پرمسلط ہے۔ نفاذِ اسلام میں یہی ہوس جاہِ اور لذتِ مال و منال رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ وہی خواتین نفادِ اسلام کی جدوجہد میں کامیاب ہوسکتی ہیں جو مادّیت سے ماورا ہوں اور ادنیٰ اور حیوانی خواہشات سے بالا تر ہو کر اپنے اندر کی ملکوتیت، انسانیت اور روحانیت کو بیدار و متحرک رکھیں۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ نفاذِاسلام کے لیے صرف باعلم اور با ایمان ہونا کافی نہیں بلکہ سو شل ہونا بھی اہمیت کا حامل ہے۔ سوشل ہونے سے مراد یہ نہیں کہ آپ محفلوں میں چمکنے دمکنے کا شوق وذوق رکھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ارد گرد کے لوگوں سے کٹ کر اپنے گھر یااپنی خیالی دُنیا میں مگن ہوجانا غلط ہے۔ نفاذِ اسلام کے مقصد کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کا دوسروں سے رابطہ زیادہ گہرا رہے۔ آپ اپنے محلے اپنے عزیز و اقارب کے حلقے اور اپنی سہیلیوں سے میل جول رکھتی ہوں۔ اور بنیادی طور پر انسان بیزار نہ ہوں، بلکہ دوسروں سے اخلاص رکھنے والی اور انسانیت سے محبت کر نے والی ہوں۔ اس خصوصیت کے ساتھ آپ کا عوامی رابطہ اور عام میل ملاقاتیں تحریکی اور دعوتی کا موں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن جائیں گی آپ کو اپنا پیغام دوسری خواتین تک پہنچانے کے زیادہ مواقع ملیں گے اور لوگ آپ کی باتوں کا زیادہ اثر لیں گے۔ بشرطیکہ آپ کا دوسروں سے ملنا جلنا اس انداز کا ہو کہ لوگ آپ کی ملنساری، خوش اخلاقی، انسان دوستی اور آپ کی سوجھ بوجھ کے مداح ہوں۔ اگر دوسروں سے میل جول کی بنیاد اپنی بڑائی کے جذبے کی تسکین ہو، آپ دوسروں کو حقیر اور کمتر سمجھیں، دوسروں کے دُکھ سے آپ میں اچھے احساسات اور جذبات پیدا نہ ہوسکیں اور سرد مہری طاری رہے تو آپ کی شخصیت متاثر کُن نہیں ہو سکتی۔ اس سے آپ کے مشن کو بھی نقصان پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں عورت سیاست بے آواز - نازیہ علی

اس بات کو بھی خوب سمجھ لیجیے کہ صیح معنوں میں سوشل ہونے کے لیے انسان دوست اور محبِ ا نسان ہونا ضروری ہے اور جسے انسانوں سے محبت ہو، وہ ان کی خدمت کے لیے بھی آمادہ رہتا ہے۔ اپنی زندگی کا ایک مقصد خدمت ِ خلق بھی بنائیے کیونکہ مخلوق خدا کی خدمت عبادت ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ اپنے حلقے میں وقت نکال کر مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کریں۔ اس کے ساتھ ہی صحتِ عامہ، امراض کے علاج اور تربیت اطفال کے بارے میں آپ کو تمام بنیادی معلومات حاصل کرنی چاہیے جن کے ذریعے آپ کم پڑھی لکھی خواتین کی رہنمائی کر سکیں اور اُنہیں صحیح مشورے دے سکیں اس سے نفاذِ اسلام کے لیے ان کی جدوجہد کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہو جائیں گے۔

نفاذِ اسلام کے لیے اجتماعی جدوجہد بہ الفاظِ دیگر جماعی نظام اور ڈھانچہ ضروری ہے اس سے الگ رہ کر کی جانے والی جدوجہد نہ تو زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہے اور نہ ہی صحیح طریقے پر کی جاسکتی ہے۔ اس لیے نفاذِ اسلام کی علمبردار خواتین کو اجتماعی جدو جہد کے لیے ایک نظام سے وابستہ ہونا چاہیے ، انہیں ایک جماعتی قیادت اور اجتماعی لائحہ عمل کے مطابق کام کرنا چاہیے ۔ یاد رکھیے کہ اپنے آپ میں مگن ہوجانا شیطان کا فریب ہے۔ شیطان کبھی اجتماعیت کو برداشت نہیں کر سکتا بلکہ ہمیشہ اس کی راہ میں حاۓل رہتا ہے۔ انفرادی انا کو جماعتی نظم سے ہم آہنگ کرنا مسلمان کا شیوہ ہے۔ بدقسمتی سے مغرب کی مادہ پرستانہ اقدار نے ہمیں منتشر کر دیا ہے اور فرد کسی ایسے نظم میں بندھنے کے لیے تیار نہیں جو اس کے احساسات کو ناگوار گزرے اور اسے من مانی نہ کرنے دے۔نفاذِ اسلام کے لیے کام کرنے والی خواتین کو نفس و شیطان کی چالوں سے ہو شیار رہنا چاہیے اوریہ بات سب کو یاد کرانی چاہیے کہ نفاذِ اسلام کا تقاضا اجتماعی نظم سے وابستگی اور خصوصیات ہیں جونفاذِ اسلام کا کام کرنے والی خواتین کے لیے لازمی ہیں۔ اگر جموں کشمیر کی بات کریں تو یہاں کسی بھی دینی جماعت کے پاس خواتین کے لیے کوئی الگ منظم شعبہ نہیں ہے۔ الحمدللہ جماعت اسلامی جموں کشمیر کے پاس عرصہ دراز سے خواتین کے لیے ایک الگ اور فعال شعبہ کام کر رہا ہے۔ اگر آپ نفاذ اسلام کی علمبردار ہیں اوردین کی خدمت کرنا چاہتی ہیں تو جماعت اسلامی جموں و کشمیر شعبہ خواتین آپ کے لیے ان شاء اللہ ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس شعبے میں آپ کے سیرت و کردار کو ایک نئی جہت مل پائے گی اور آپ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوجائے گا۔ خداے تعالیٰ ہم سب کو دین کی بھر پور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!