نبیوں کا حج، آسانیاں اور حجر اسود کا ازدحام! (خطبہ حرم مکی)

خطیب کا تعارف

متواضع، منکسر المزاج دھیمی مگر خوبصورت آوازوالے ’’ماہربن حمد معیقل المعیقلی‘‘ جنوری 1969ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مکہ مکرمہ سے اور 1425ھ کو ام القریٰ یونیورسٹی مکہ المکرمہ سے ماسٹرز اور1432ھ بمطابق 2012ء کو تفسیر میں پی ایچ ڈی کی۔ ام القریٰ یونیورسٹی کی شرعیہ لا فیکلٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ علمی لیاقت و صلاحیت کے ساتھ ساتھ  خدادا د آواز اور منفرد لہجے کی بدولت 1426-27ھ میں مسجد نبوی میں نماز تراویح کے امام منتخب ہوئے۔ 1428ھ کو حرم مکی میں نماز تراویح  کی امامت کا شرف ملااوراسی سال مستقل حرم مکی کے امام ہوگئے۔ دنیا کے معروف قراء میں شمار  ہوتے  ہیں۔

آپ ام القریٰ یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور پھر شعبہ قراءات کے ہیڈ متعین ہوگئے۔ بعد ازاں انہیں دعوہ فیکلٹی کے ڈپٹی  ڈین مقرر کر دیا گیا۔

آپ کو 2005ء میں امام وخطیب حرم مکی مقرر کیا گیا اورچنانچہ تب سے  آپ وہاں امامت اور خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔یوں حرم کے ائمہ میں آپ سب سے آخری اور سب سے نئے ہیں۔

پہلا خطبہ:

الحمد للہ! تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں دین اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم پر بیت اللہ کا حج فرض کیا۔ اسی نے حج کو جنت میں داخلے اور گناہوں کے مٹنے کا سبب بنایا۔ میں اللہ پاک کی حمد بجا لاتا ہوں، اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی سے معافی مانگتا ہوں۔ میں ساری بھلائی اسی کی طرف منسوب کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ، آپ ﷺ کی آل پر، آپ ﷺ کے صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے پیروکاروں پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ خوفِ خدا ہی بہترین ہتھیار، عمدہ ترین اثاثہ اور قیامت کے لیے بہترین سرمایہ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’سفرِ حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے چنانچہ اے ہوش مندو! میر ی نا فرمانی سے پرہیز کرو‘‘ (بقرۃ: 197)

اے بیت اللہ کے حاجیو!

مبارک ہو! کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر بلانے کے لیے تمہیں چنا ہے۔ تم دینِ اسلام کا عظیم ترین فریضہ ادا کرنے کے لیے تلبیہ پڑھتے ہوئے دنیا کے ہر کونے سے بیت اللہ میں آ پہنچے ہو۔ حج یا عمرہ کے لیے اس بابرکت مقام کی طرف آنے سے درجے بلند ہوتے ہیں اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک عمرے سے لے کر دوسرے عمرے تک کے گناہ عمرے کی برکت سے معاف ہو جاتے ہیں اور حج مبرور کی جزا تو جنت کے سوا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔‘‘ (بخاری)

اللہ کے بندو! دیکھو! یہ ہے مکہ اور اس کی ہیبت۔ یہ ہے کعبہ اور اس کا جمال۔ یہ ہیں زمزم، حطیم، حجر اسود اور مقام ابراہیم۔ یہ ہیں صفا، مروہ، مزدلفہ، منیٰ اور عرفات۔

کتنے نبیوں اور رسولوں نے اس گھر کا حج کیا اور مقاماتِ مقدسہ میں نفل عبادتیں کیں، وہ تلبیہ پڑھتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے رہے۔

یہ ہیں اللہ کے رسول! جو حجۃ الوداع کے موقع پر ان کشادہ مقامات سے گزر رہے ہیں۔ گویا کہ یہاں کے پہاڑ، کھائیاں، بلندیاں اور وادیاں انہیں اپنی خبریں سنا رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ ان کے پاس سے کو ن کون گزر چکا ہے۔

سیدنا ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وادی الارزق سے گزرے تو آپﷺ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون سی وادی ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے کہا: یہ وادی الازرق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ موسیٰ میرے سامنے پہاڑ سے اتر رہے ہیں اور بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔ ‘‘ پھر آپ ﷺ ایک پہاڑی راستے سے گزرے تو فرمایا: ’’یہ کون سا راستہ ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے کہا: یہ ہرشا نامی راستہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے یوں لگ رہا ہے کہ یونس اون کا جبہ پہنے ہوئے اپنے سرخ گھنگریالے اونٹ پر یہاں سے گزر رہے ہیں، جس کی مہار کھجور کے درخت کا تنا ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔‘‘ (مسلم)

جب آپ ﷺ وادی عسفان سے گزرے تو بتایا کہ حضرت ہود اور حضرت صالح حج کے لیے جاتے ہوئے یہاں سے تلبیہ پڑھتے ہوئے گزرے تھے۔ (مسند احمد)

حجت الوداع کے موقع پر جب لوگ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مناسک حج کو اچھی طرح سمجھ لو۔ تمہیں آج حضرت ابراہیم کی میراث کا حصہ ملا ہے۔‘‘ (ابو داؤد)

اس طرح نبی ﷺ نے انبیاء کے قافلے کا ذکر فرمایا تاکہ لوگ ان کے راستے پر چلیں اور ان کا طریقہ اپنائیں۔ قرآن کریم نے بھی اسی کیطرف اشارہ فرمایا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

’’لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو‘‘ (بقرۃ: 125)

یعنی امام الانبیاء اور موحدین کے سردار کی پیروی کرو۔ فرمایا:

’’اے محمدؐ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم بھی چلو‘‘ (انعام: 90)۔

حجت الوداع کے موقع پر جمعے کے دن عرفات کے میدان میں حضرت جبریل یہ آیات لے کر نازل ہوئے:

’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے‘‘ (مائدۃ: 3)

عید کے دن رسول اللہ ﷺ لوگوں سے فرما رہے تھے:

’’مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔ شاید میں اس حج کے بعد دوسرا حج نہ کرسکوں!‘‘ (مسلم)

اللہ کے بندو! یہ ایک عظیم فریضہ ہے جو پاکیزہ گھر میں ادا کیا جاتا ہے، جس کے قافلے میں اللہ کے نبی اور رسول شریک ہوئے۔ اس میں حضرت ابراہیم، حضرت صالح، حضرت ہود، حضرت موسیٰ، حضرت یونس، حضرت محمد ﷺ اور دیگر انبیا شریک ہوئے۔

ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا: ’’مسجد خیف میں ستر نبیوں نے نماز ادا کی ‘‘ (طبرانی)

حضرت عیسیٰ ابن مریم بھی زمانے کے آخر میں اسی مسجد میں نماز ادا کریں گے۔

سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اس رب کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! عیسیٰ ابن مریم فج روحاء سے حج یا عمرے کے لیے احرام باندھیں گے یا دونوں کا احرام یہیں سے باندھیں گے۔‘‘ (مسلم)

تو انبیا کا دین ایک ہے اور سب ایک ہی رب کی عبادت کے داعی ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انبیا باپ شریک بھائی ہیں جن کی مائیں الگ الگ ہیں۔ ان سب کا دین ایک ہی ہے۔‘‘

یعنی ان سب کا عقیدہ ایک ہے، تاہم سب کی شریعتیں مختلف ہیں۔

اےمؤمنو!

حج کا عظیم ترین مقصد توحیدِ باری تعالیٰ ہے، کیونکہ اس گھر کی بنیاد بھی توحید ہی ہے اور یہ بھی توحید ہی کے لیے بنایا گیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ "میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو‘‘ (حج: 26)

اللہ کے بندو! توحید ہی دین کی اساس ہے۔

سیدنا جابر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو اس حال میں اللہ سے ملے کہ وہ کسی کو اس کے ساتھ شریک مانتا ہو تو وہ آگ میں جائے گا‘‘ (مسلم)

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں‘‘ (مائدۃ: 72)

توحید ہی سے گناہ مٹتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے:

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اس حال میں ملے کہ تو نے زمین کے برابر گناہ کیے ہوں مگر تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں تجھے تیرے گناہوں کے برابر مغفرت دے کر تجھے معاف کر دوں۔ ‘‘ (ترمذی)

اے امت اسلامیہ!

جس طرح اللہ تعالیٰ نے عبادت میں اخلاص کا حکم دیا ہے اسی طرح بندوں کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کی عزت کا خیال کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے اور ان پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا: ’’اے عمر! تم طاقتور انسان ہو۔ حجر اسود کے پاس دھکم پیل نہ کرنا تاکہ ضعیفوں کو اذیت نہ پہنچے۔ اگر جگہ ملے تو بوسہ دے لو وگرنہ اس کے سامنے ہو کر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر کہہ لو‘‘ (مسند احمد)

نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے کہ وہ رش کے مواقع پر اپنے بھائیوں کو تکلیف نہ دیں بلکہ نرمی، رحمدلی، آسانی اور تواضع اپنائیں۔

اے مؤمنو! ہمیں یہ بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ نرمی اور سکینت کے بغیر ہماری عبادت مکمل ہو ہی نہیں سکتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نرمی کی وجہ سے وہ اجر عطا فرماتا ہے جو سختی پر نہیں عطا فرماتا۔

سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’اے عائشہ! اللہ تعالیٰ بہت نرم دل ہے۔ وہ نرمی پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی پر وہ اجر دیتا ہے جو اس کے سوا کسی دوسری چیز پر نہیں دیتا۔‘‘ (مسلم)

امام نووی ﷫ فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نرمی کا ثواب دوسری چیزوں کے ثواب سے زیادہ ہے۔

نبی ﷺ نے ایک ہی لفظ میں نرمی اور رحمت کی شاندار مثال قائم فرما دی۔

حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے یہاں قربانی کی اور سارا منیٰ قربانی کی جگہ ہے۔ تم اپنے اپنے خیموں میں قربانی کر لو۔ میں نے یہاں قیام کیا ہے اور عرفات کا سارا میدان قیام کی جگہ ہے۔ میں نے یہاں قیام کیا اور سارا مزدلفہ قیام کی جگہ ہے۔‘‘ (مسلم)

بڑی عید کے موقع جب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ میں نے فلاں کام فلاں کام سے پہلے یا بعد میں کر لیا ہے تو آپ ﷺ نے اس دن ایسے تمام سوالوں کا یہی جواب دیا کہ:

’’کر لو! کوئی حرج نہیں!‘‘

ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے یاد نہ رہا! میں نے قربانی سے پہلے ہی بال منڈوا لیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پہلے ذبح کر لو! کوئی حرج نہیں!‘‘ دوسرا آیا اور کہنے لگا! مجھے معلوم نہ ہو سکا! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی قربانی کر لی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کنکریاں پہلے مار لو! کوئی حرج نہیں!‘‘ اس دن آپ ﷺ سے ترتیب میں آگے پیچھے کرنے کے حوالے سے جو بھی پوچھا گیا، آپ ﷺ نے یہی فرمایا: ’’کر لو کوئی حرج نہیں‘‘ (بخاری)

رسول اللہ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور بہترین کردار کی ایک شاندار مثال یہ ہے کہ جب انہوں نے سعی شروع کی تو اعلان کر دیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں ہیں۔ اس بات کا سننا تھا کہ سب لوگ مسجد میں امنڈ آئے، یہاں تک کہ عورتیں بھی گھروں سے نکل کر اکٹھی ہو گئیں تاکہ وہ سب آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کا دیدار کر سکیں۔ جب آپ ﷺ کے پاس رش ہو گیا تو آپ ﷺ نے نرمی اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کو ہاتھ تک نہ لگایا بلکہ اپنی سواری منگوا کر اس پر سوار ہو گئے تاکہ لوگوں کو دیدار میں دقت پیش نہ آئے اور پھر لوگوں کی آسانی کے باعث خود باقی سعی سواری ہی پر کر لی۔ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان!

دینی اخوت، ایمانی تعلق اور بھائی چارہ تو حج میں بڑے بہترین انداز میں نظر آتا ہے۔ دیکھیے کہ کس طرح سارے حاجی بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، عرفات کے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور پھر مزدلفہ میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ سب کا ایک ہی معبود ہے، ایک ہی وقت وہ ایک ہی عبادت کر رہے ہیں، ایک ہی طرح کا لباس پہنے ہوئے ہیں اور سب کا قبلہ بھی ایک ہی ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر دن کی تمام گھڑیاں تو نبی پاک ﷺ نے مکمل عاجزی اور انکساری کے ساتھ ذکر اور دعا میں گزاریں۔ پھر جب غروب آفتاب کا وقت ہوا اور عرفات کے میدان سے نکلنے لگے تو آپ ﷺ نے اسامہ بن زید کو بلوایا تاکہ انہیں اپنے ساتھ اپنی سواری پر بٹھا لیں۔ لوگوں نے حضرت اسامہ کو آوازیں دیں کہ نبی ﷺ انہیں بلا رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے سمجھا کہ اسامہ بن زید عرب کے سرداروں میں سے ہیں، تاہم ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے سیاہ رنگ، چپٹی ناک اور گھنگریالے بالوں والا نوجوان رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی پر سوار ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہ نوجوان سارے صحابہ میں سے آپ ﷺ کا ہم سوار ہونے کا شرف لے گیا تھا۔

یوں لگتا ہے کہ ایسا کر کے رسول اللہ ﷺ نے انسانوں میں تمام قسم کے فرق توڑ رہے تھے، یا اپنے قدموں تلے جاہلیت کے نعرے روند رہے تھے اور عملی طریقے سے اعلان کر رہے تھے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے‘‘ (حجرات: 13)

حج کے عظیم ترین مقاصد میں سے ایک مقصد اللہ کا ذکر بھی ہے۔ بلک ہر نیکی کا مقصد اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی ہے اور جو شخص جتنا زیادہ ذکر کرے گا اتنا ہی اسے زیادہ اجر ملے گا۔

ابن قیّم ﷫ فرماتے ہیں:

’’ہر نیکی میں افضل ترین لوگ وہ ہیں جو نیکی میں سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ روزہ داروں میں بہترین روزے دار وہ ہیں جو زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں، صدقہ کرنے والوں میں بہترین صدقہ کرنے والے وہ ہیں سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں اور افضل ترین حاجی وہ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں۔‘‘

چنانچہ حاجی احرام باندھنے سے لے کر طواف وداع تک ذکر ہی میں رہتا ہے۔

سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’طواف، سعی اور کنکریاں مارنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی ہے‘‘ (ابوداؤد)

اللہ کے بندو! یہ ہے حج! چند دن اور چند راتیں جن کی ابتدا اللہ کے ذکر سے ہوتی ہے اور جو اللہ کے ذکر ہی پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اس دوران گروہی نعروں اور سیاسی اختلافات کی کوئی جگہ نہیں۔ حج تو اخلاص، توحید اور اللہ کے ذکر کا نام ہے۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اُس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے) اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے، جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دیدے ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی‘‘ (بقرۃ: 200-202)

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے! آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ معاف فرمانے اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

الحمد للہ! اللہ کے احسانات پر، الحمد للہ! اللہ کی توفیق اور کرم نوازی پر ہر طرح کا شکر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ بے شمار دودود وسلام، اللہ کی طرف بلانے والے رسول ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر۔

بعد ازاں! اے مؤمنو!

شریعت اسلامیہ کے مقاصد میں ایک عظیم ترین مقصد انسانوں کے لیے آسانی کرنا ہے۔ خاص طور پر عبادتوں میں آسانی پیدا کرنا اور یہی آپ ﷺ کی رسالت کا مقصد بھی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘ (اعراف: 157)

چنانچہ حج کی ادائیگی کو آسان بنانا اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنا بھی شریعت کا عظیم مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلاد حرمین، سعودی عرب کو اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا شرف بخشا ہے۔ یہ حکومت حجاج کرام اور مسجد نبوی میں آنے والوں کی آسانی کے لیے ہر چھوٹی اور بڑی کوشش کر رہی ہے۔

جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا زاد بھائیوں کو دیکھا کہ وہ زمزم کے کنوے سے حاجیوں کو پانی پلا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنا کام جاری رکھو! تم بڑا نیک کام کر رہے ہو۔ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ خدمت کے اس کام کو آپ سے چھین لیں گے تو میں خود آ کر اپنے کندھے پر رسی رکھ کر کنوے سے پانی نکالتا۔‘‘ (بخاری)

کوئی شک نہیں کہ حجاج کرام کی خدمت، ان کے امن وامان کی دیکھ بھال، ان کے مفاد کی حفاظت اور ان بابرکت دنوں اور مبارک شہروں میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا عظیم ترین عبادت ہے۔

نیکی کے کام میں تو صرف نیکی کی راہ دکھانے والے کو بھی نیکی کرنے والے جتنا اجر مل جاتا ہے تو بھلا اس میں مدد کرانے اور اس کے اسباب فراہم کرنے والے کو کتنا اجر ملے گا؟

اللہ تعالیٰ اس ملک کے حکمرانوں، حجاج بیت اللہ کی خدمت کرنے والوں، محافظ جوانوں اور سرحدوں کے محافظوں کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ تمہارے لیے ہماری خالص دعائیں کہ اللہ آپ کے اعمال میں برکت عطا فرمائے، آگے پیچھے سے آپ کی حفاظت فرمائے۔ اللہ آپ نبی اکرم ﷺ اس فرمان میں شامل فرمائے:

’’دو آنکھوں کو کبھی جہنم کی آگ نہ چھوئے گی۔ ایک وہ رات جو اللہ کے ڈر سے رو پڑی اور دوسری اللہ کی راہ میں رات بھر نگرانی کرنے والی۔‘‘ (ترمذی)

مہمانان خدا کی آسانی کے لیے پہرہ داری کرنے والی ہر آنکھ مبارک باد کے لائق ہے۔ امن وامان کی حفاظت کے لیے اور دشمنوں کے حملے روکنے لیے کے لیے جاگی رہنے والی ہر آنکھ مبارک باد کی مستحق ہے۔ بھلائیاں اور کامیابیاں آپ کو مبارک ہوں اور فضیلتیں اور نیکیاں تمہیں مبارک ہوں۔

خطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی ﷾

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

نظر ثانی: حافظ یوسف سراج

بشکریہ، پیغام ٹی وی

Comments

محمد عاطف الیاس

محمد عاطف الیاس

عاطف الیاس مغل نے ام القریٰ یونیورسٹی، سعودی عرب سے گریجویشن جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ اسلامی فکر وتہذیب میں ایم فل یو ایم ٹی، لاہور سے جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے لسانیات میں بھی ایم فل کیا۔ سعودی عرب میں پڑھنے اور بیس برس گزارنے کے باعث عربی زبان وادب اہل زبان کی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے بطور ریسرچ سکالر اور مترجم وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں