وہ اک پری تھی ہمارے درمیاں - ثمینہ رشید

بچپن میں شہزادی، شہزادے اور پریوں کی کہانیاں پڑھنے کے بعد ایک بہت پسندیدہ کردار "نیک دل پری" کا ہوا کرتا تھا۔ جو مشکل میں گرفتار لوگوں کے کام آیا کرتی تھی۔ میرے وطن کی خوش قسمتی کہ اس کی سر زمین پہ روتھ فاؤ بھی انسانوں کے روپ میں ایک پری بن کر اتری تھیں۔ جذام کے مرض کا مبتلا، معاشرے کی بے حسی کا شکار دھتکارے ہوئے لوگوں کے لیے۔ وہ امید کی ایک کرن تھیں، ایک روشنی کا استعارہ، جو ایسے مریضوں کے لئے زندگی کا ایک پیغام لے کر آئی تھیں۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ نے 1960ء میں ہندوستان براستہ پاکستان جانے کے ارادے سے اس سرزمین پہ قدم رکھا، لیکن جلد ہی آپ کو اپنا ارادہ بدلنا پڑا۔ جب سسٹر برنس وارگس آپ کو میکلوڈ روڈ پہ واقع جذام کے مرض سے متاثرہ افراد کی ایک بستی میں لے کر گئیں۔ پاکستان میں اس وقت جذام کا مرض کافی زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ عام لوگوں کی اس مرض سے آگہی نہ ہونے کے سبب معاشرے میں ایسے افراد کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا تھا۔ اکثر افراد لاعلمی کے سبب اس کو خدا کا بھیجا ہوا عذاب تصور کرتے تھے۔ مریض کا علاج کرانے کے بجائے ایسے لوگوں کو آبادی سے کچھ دور رکھا جاتا تھا، تاکہ دوسرے لوگ اس مرض یا عذاب سے بچ سکیں۔ اس جہالت نے جذام کے مریضوں کو زندہ درگور کر رکھا تھا۔ اکثر جگہوں پر اس مرض سے متاثرہ لوگوں کے لیے آبادی سے دور بستیاں بنادی گئی تھیں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ پر جذام کے مریضوں کی اس بےبسی نے اس قدر گہرا اثر ڈالا کہ انہوں نے پاکستان میں رہ کر ان مریضوں کے علاج کا بیڑہ اٹھایا۔

یہ ان کا جذبہ ہی تھا کہ انیس سو تریسٹھ میں "میری ایڈیلیڈ لیپریسی سینٹر (MALC)" کا قیام عمل میں آیا، جہاں نہ صرف جذام کے مریضوں کا مفت علاج کیا گیا بلکہ ان کی بحالی اور مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کی فیملی کی کونسلنگ کا انتظام کیا گیا، تاکہ جذام جیسےمرض کو قابلِ نفرت سمجھنے والوں کو اس سلسلے میں آگہی دی جائے، تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ یہ مرض قابل علاج ہے۔ یہی نہیں علاج کے بعد مریضوں کو بھی نارمل معمولاتِ زندگی ادا کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔

اور پھر یہ سفر یہاں رکا نہیں۔ کراچی سے ہی نہیں ملک بھر سے بلکہ افغانستان سے بھی ان کے پاس جذام کے مریض علاج کے لیے MALC آئے اور شفایاب ہوئے۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے ملک بھر کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا اور ایسے مریضوں کا بھی علاج کیا جنہیں گھر سے دور ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کرکے رکھا جاتا تھا، جب تک کہ وہ زندگی کی قید سے آزاد نہ ہوجاتے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اس مشن کے دوران بہت تکلیفیں بھی اُٹھائیں، بہت سے ایسے علاقے جہاں طبی سہولتیں سرے سے موجود نہ تھیں، اور عورتوں کا طبی معائنہ کرنا بھی ایک مشکل جہاد سے کم نہ تھا۔ آپ نے جذام کے مریضوں تک رسائی حاصل کی اور انہیں نئی زندگی کی نوید دی۔

یہ ان کا عزم ہی تھا کہ 1996 میں، عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو، ایشیا کے ان اولین ملکوں میں سے ایک قرار دیا جہاں جذام پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا تھا۔ یہی نہیں آپ کے ہاسپٹل میں جذام کے علاوہ ٹی بی کے مرض کا مفت علاج بھی کیا جاتا ہے۔ ایم آیل سی اے کی زیر نگرانی ملک بھر میں جذام کے ستر سے زائد ریلیف سینٹر کام کر رہے ہیں۔

شاید یہ سب لکھنا بہت آسان لگتا ہے لیکن بتیس سال کے عرصے میں وہ بھی سرکاری سطح پہ مدد کے بغیر یہ کام کر دکھانا کسی کارنامے سے کم نہیں۔ اس سفر میں بہت سی مشکلیں آئیں، کبھی فنڈنگ کی کمی آڑے آتی تو ڈاکٹر روتھ فاؤ اپنی ذاتی چیزیں فروخت کرنے سے گریز نہ کرتیں۔ روتھ فاؤ کا سفر تقریبا ستاون سال پہ مشتمل ہے لیکن جب بھی ان سے کوئی سوال کرتا کہ اگر وقت کا پہیہ پیچھے لے جایا جائے تو ایسا کون سا کام ہے جو وہ کرنا چاہیں گی اور ڈاکٹر روتھ فاؤ ہمیشہ ایک ہی جواب دیا کرتی تھیں کہ وہ چند سال اور پہلے پاکستان آنا چاہیں گی تاکہ کچھ اور زندگیوں کو بچاسکیں اور ان کی زندگی میں بہتری لا سکیں۔

دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کی شاہد روتھ فاؤ نے مغربی جرمنی سے اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی۔ فزیشن بننے کے بعد انہوں نے ایک راہبہ کے طور پہ "ڈاٹرز آف دی ہارٹ آف میری" میں شمولیت اختیار کی۔ اور اپنی زندگی کے ستاون برس پاکستان میں جذام کے مرض کے خلاف جہاد کرتے گزار دی۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی عالمی اور قومی اعزازت سے نوازا گیا جس میں جرمن حکومت کی جانب سے دیا جانے والا "آرڈر آف میرٹ" "Romon Magsaysay Award"، ہلال امتیاز، ہلالِ پاکستان، ستارہ قائداعظم اور نشانِ قائد اعظم شامل ہیں۔

لیکن ان کی انسانیت کے لیے خدمات ان ایوارڈز سے بالاتر تھیں۔ اپنی زندگی کے ستاون قیمتی سال پاکستان کی نذر کرنے والی روتھ فاؤ آج ہم میں نہیں۔ آج پاکستان میں جذام کے ہزاروں مریضوں کا علاج کرنے والی مسیحا ہم سے دور جاچکی ہیں۔ پاکستانی قوم کے لیے ان کا جانا ایک قومی المیے سے کم نہیں۔

میری خوش نصیبی کے مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ سفید بالوں اور غیرملکی نقش و نگار کی حامل ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان کے روایتی لباس میں ملبوس رہا کرتی تھیں۔ ٹھہر ٹھہر کر نرم لہجے میں بات کرنے والی ڈاکٹر روتھ فاؤ کا دل انسانیت کے درد سے مالامال تھا اور آپ کی آنکھوں سے چھلکتا عزم گواہ تھا کہ آپ نے مشکلوں سے ہار ماننا نہیں سیکھا۔

میں نے کہانیوں والی پریاں تو کبھی نہیں دیکھیں لیکن زندگی میں ایک نیک دل پری ضرور دیکھی تھی۔ جسے لوگ ڈاکٹر روتھ فاؤ کے نام سے جانتے ہیں۔
اور آج جب ڈاکٹر روتھ فاؤ ہم میں نہیں رہیں تو مجھے ایسا ہی لگتا ہے جیسے وہ ایک نیک دل پری تھیں جو اب ہمیں چھوڑ کر پریوں کے دیس واپس چلی گئی ہیں۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں