کرسی اور آیت الکرسی - رعایت اللہ فاروقی

مقدس جے آئی ٹی تحلیل ہو چکی اور اس کے اراکین اپنے اداروں کو لوٹ چکے۔ انہیں تنگ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، ایسا کرنے والے کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ایسے میں کوئی بعید نہیں کہ ہماری سطور سے بھی وہ تنگ ہو جائیں اور ہمیں بھی جوابدہ ہونا پڑ جائے، لیکن ان خیالات کا کیا جائے جو آزادی اظہار کے بینر تلے قلم کی نوک سے سرگوشی کو بےقرار ہیں۔ ہم نے آزادی اظہار والے بھوت کو فی الحال آیت الکرسی دم کرکے بھگا دیا ہے اور اب ہم آزادی اظہار کا رسک تب تک لینے کو تیار نہیں جب تک ہمیں یہ نہ سمجھا دیا جائے کہ ان افسران کے تنگ ہونے سے کیا مراد ہے؟ تنگ ہونے کی حدود و قیود کیا ہیں؟ ان سوالات کے جوابات ہمارے لیے بہت ضروری ہیں کہ پیدا شدہ ابہام کے ہوتے ہمارا دل بہت سے ’’تو‘‘ کے ہاتھوں تھر تھر کانپ رہا ہے، مثلا یہ کہ ان تقدس مآب افسران کو آفس بوائے نے پانی دینے میں تاخیر کردی اور یہ تنگ ہوگئے تو؟ انہیں دیکھ کر کوئی کولیگ مسکرا دیا اور یہ تنگ ہو گئے تو؟ ان کے اداروں کے سربراہان نے انہیں کوئی ٹاسک دیدیا اور یہ تنگ ہوگئے تو؟ دیگر سرکاری افسران کی طرح ان کی معمول کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا مرحلہ آ گیا اور یہ وہ آرڈرز دیکھ کر تنگ ہوگئے تو؟ ان کو اپنی معمول کی خدمات کے دوران اظہار وجوہ کا کوئی نوٹس جاری کردیا گیا اور یہ تنگ ہوگئے تو؟ اللہ نہ کرے کسی ٹریفک وارڈن نے ان کی گاڑی روک لی اور یہ تنگ ہوگئے تو؟ ہم نے ان کی دسویں جلد کو ’’ کتاب مقدس‘‘ قرار دے دیا اور یہ تنگ ہوگئے تو؟ ہم نے پوچھ لیا کہ صرف ساٹھ دن میں 8000 صفحات لکھنے کے باوجود ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں کیوں نہیں؟ اور یہ اس سوال سے تنگ ہو گئے تو؟ کسی مجلس میں ان میں سے کوئی موجود رہا اور ہم نے اپنا تمباکو والا پان منہ میں ڈال لیا جس سے یہ تنگ ہوگئے تو؟ اور کسی نے ہم سے کہہ دیا کہ تمہاری توند تمہاری خوراک سے مطابقت نہیں رکھتی اور ہم نے کہہ دیا کہ جے آئی ٹی بنا لو تو؟ اتنے سارے ڈراؤنے ’’تو‘‘ کے ہوتے ہم جے آئی ٹی سے متعلق اپنے خیالات کے اظہار کو اپنے ہی حق میں سنگین سمجھتے ہیں، سو یہ غلطی تو ہم کسی صورت نہیں کریں گے۔ ہاں ! کچھ اور امور ہیں جن میں ہم اظہار رائے کا علم بلند کر سکتے ہیں سو آئیے ہم لکھ اور آپ پڑھ کر اسے بلند کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   دھیرج خان صاحب دھیرج - راجہ وحید احمد

ایک نجی ٹی وی چینل نے خبر دی ہے کہ کینیڈا میں 16 برس قبل ایک پاکستانی نے کسمپرسی کی حالت میں کسی تہ خانے میں چھوٹی سی کمپنی شروع کی تھی جو آج کینیڈا کی سب سے متمول کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی کے شیئرز اس وقت کھربوں میں ہیں۔ ہر چند کہ نیوز چینل نے اسے کارنامے کے طور پر گنوایا ہے مگر ہم اسے کارنامے کے طور پر تسلیم کرنے کو کسی طور تیار نہیں کیونکہ ہم نے حال ہی میں پاکستانی دانشوروں سے سنا ہے کہ شریف خاندان نے چالیس سال میں جو کاروباری ترقی کی ہے، وہ ممکن ہی نہیں۔ جب شریف خاندان مذکورہ پاکستانی کینیڈین بزنس مین کے مقابلے میں مالی طور پر مسکین سا ہے اور اس کی کمائی ہوئی دولت چالیس سال میں کمانا ممکن نہیں تو مذکورہ پاکستانی کینیڈین صرف سولہ سال میں شریف خاندان سے کئی گنا زیادہ کمائی کیسے کر سکتا ہے؟ مانا کہ وہ پاکستانی کینیڈین بزنس مین خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوگا مگر ہم نے حال ہی میں یہ بھی سیکھا ہے کہ خوش قسمتی جب مالی طور پر جلوہ گر ہو تو اس کے پیچھے ضرور کوئی جرم کار فرما ہوتا ہے۔ مذکورہ کمپنی کا آغاز تو سولہ برس قبل ہوا بھی تہ خانے میں ہے اور کسی بھی ناول کا مطالعہ یہ واضح کر سکتا ہے کہ تہ خانوں کا جرائم میں بڑا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے مگر لگتا ہے کینیڈا میں جج ’’ گارڈ فادر‘‘ جیسے ناولز نہیں پڑھتے، اگر پڑھتے تو مذکورہ پاکستانی کی خوش قسمتی کا ایسا بھرکس نکالتے کہ اس کی آنے والی سات نسلوں میں بھی کوئی خوش قسمت ہونے کی غلطی نہ کرتا۔ ہم تو دعاء ہی کر سکتے ہیں کہ مذکورہ پاکستانی غلطی سے ہی سہی مگر ایک بار پاکستان تشریف لے آئے تاکہ اس کی خوش قسمتی پر انصاف کی مہر لگ سکے اور اسے سکھایا جا سکے کہ صرف سولہ برس میں ارب یا کھرب پتی بننا کتنا سنگین جرم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میاں صاحب کیا معاملہ اتنا سادہ ہے؟ احسن سرفراز

کینیڈین خوش قسمت تو جب آئے گا تب دیکھی جائے گی فی الحال تو ہمیں اپنی اس خوش قسمتی پر ناز سے فرصت نہیں جس نے شریف خاندان کو آٹھ ہزار صفحات تلے دبا دیا ہے اور اب اس خاندان کے پاس بچنے کی کوئی سبیل نہیں مگر ان سازشیوں کا کیا کیا جائے جو ٹی وی چینلز پر آ آ کر کھلم کھلا کہہ رہے ہیں ’’نواز شریف استعفی دے دے، عزت بچ جائے گی ورنہ سزا کا سامنا کرنا ہوگا‘‘ کتنے اخلاص کے ساتھ صرف اور صرف ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک سال سے طوفان برپا کیا گیا تھا، اب جب اس اخلاص کے نتائج بس ظاہر ہوا ہی چاہتے ہیں اور گارڈ فادر کو سزا ہونے والی ہے تو عمران خان اور ان کے ہمنوا اسے سزا سے بچانے والے مشورے دے رہیں۔ یہ تو انڈر ٹرائل ملزم کو فرار کے راستے بتانے والی بات ہوگئی اور یہ تو انصاف کے راستے میں روڑے اٹکانے والا معاملہ ہوا۔ عمران خان اور ان کے ہمنواؤں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونا چاہیے کیونکہ جس ملزم کی عزت و ذلت کا فیصلہ عدالت کے فیصلے سے طے ہونا ہے، اسے یہ سزا سے بچنے کی یقین دہانی کیسے کرا سکتے ہیں ؟ کیا یہ جج ہیں؟ کیا ان کے کہنے سے نواز شریف کی بخشش کے فیصلے ہوں گے؟ کیوں صاحب! انصاف نہیں چاہیے کیا؟ نواز شریف کو کرپشن کی سزا نہیں دلوانی کیا ؟ آپ استعفے کے بدلے ’’اربوں کی کرپشن‘‘ کیوں معاف کرنا چاہتے ہیں؟ خاکم بدہن کہیں ایسا تو نہیں کہ کرپشن کے خلاف آپ کی چیخ و پکار محض ایک ڈرامہ ہے، فی الواقع آپ کو بس وہ کرسی خالی کرانے سے مطلب ہے جو آیت الکرسی کے ورد سے بھی آپ کو نہیں مل رہی؟

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں