جنت صرف عبادت سے ممکن نہیں! امام کعبہ فرماتے ہیں۔

امام کعبہ فضیلۃ الشیخ اسامہ خیاط کا تعارف

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اسامہ بن عبد اللہ بن عبد الغنی خیاط۔ حرم مکی کے پڑوس میں واقع جبل الکعبہ کے نام سے معروف  آبادی میں آپ  12 فروری 1956ء کو معروف علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والدِ گرامی  جید عالم، امام کعبہ اور علماء کی اعلیٰ سطحی  کمیٹی کے ممبر تھے۔ ابتدائی علوم اورحفظِ قرآن ِکریم  کی ایک سند اپنے والد گرامی سے اور دوسری معروف قاری محمود عبد الرحمٰن الیحیٰ سے حاصل کی۔ حدیث کی کتابوں کی تعلیم کی بھی  کئی اعلیٰ اسناد حاصل کیں۔پرائمری، مڈل اور سیکنڈری سطح کی تعلیم  مکہ مکرمہ ہی میں حاصل کی۔  ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ سےعلوم اسلامیہ میں بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں  حاصل  کیں۔  جہاں پڑھا تھا وہیں  پڑھانے کا بھی موقع ملا۔ شریعہ ڈیپارٹمنٹ اورپھر الدعوہ فیکلٹی میں استاد رہے اور مسلسل تین ادوار کے لیے کتاب وسنت ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بھی رہے۔اولاًمسجد حرام میں احادیث کی کتابوں کے معلم متعین ہوئے، سعودی مجلس شوریٰ کے ممبر بھی رہے، اس دوران مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں امامت وخطابت جاری  رہی۔ 1997ء میں مسجد حرام کے امام وخطیب مقرر ہوگئے۔ ازاں بعد رابطہ عالم اسلامی کے بنیادی ارکان میں بھی آپ کو لے لیا گیا ۔ حدیث، تفسیر، فقہ اور عقیدے کے موضوعات پر لکھی متعددکتابوں کے مصنف ہیں۔

پہلا خطبہ:

حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے کہ وہی ہدایت  کے طالبوں کو ہدایت دینے والا ہے، اس پر بھروسہ کرنے والوں کے لیے کافی ہے۔ میں اللہ پاک کی خوشی اور رضا کی امید میں اس کی ثنا بیان کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ افضل الانبیاء ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے چنا ہے۔ اے اللہ! رحمتیں اور سلامتی نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ  پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر اور اس درود کے وسیلے سے ہمارے نفسوں کو پاک کر دے اور زندگی خوشگوار بنا دے۔

بعدازاں!

اللہ کے بندو! خوفِ خدا کرو  اور پیشی کےدن کی شدت سے بھی ڈرو اور وہ ہر جان کو اس کے اعمال کی جزا اور سزا دے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا۔‘‘ (زلزال: 7۔8)

اے مسلمانو!

لوگ اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے بہت سے راستے اپناتے ہیں اور ہر اس راستے پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی سمجھ کے مطابق بھلی اور خوشگوار زندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اہل ایمان بھی کچھ کم نہیں۔ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلی زندگی کے اسباب میسر ہو تے ہیں۔ وہ اپنی دینی بصیرت اور دلی استقامت کی بدولت بڑے مرتبوں پر فائز ہو جاتے ہیں اور اس جزا کے حقدار ٹھہرتے ہیں، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ فرمایا:

’’جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔‘‘ (فصلت: 30)

اسی طرح فرمایا:

’’یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔‘‘ (احقاف: 13-14)

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو دین پر استقامت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

’’پس اے محمدﷺ! تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔‘‘ (ہود: 112)

اسی طرح فرمایا:

’’اور (اے نبیﷺ! کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے۔‘‘ (جن: 16)

جب سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے  کہا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے دین اسلام کے متعلق ایسی جامع بات بتا دیجیے کہ جس کے متعلق مجھے  پھر کسی دوسرے سے پوچھنا  نہ پڑے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کہو: میں نے ایمان لایا اور  پھر اس پر استقامت اختیار کرو۔‘‘ (مسلم: 41)

اللہ کے بندو! استقامت کے بارے میں اہل علم فرماتے ہیں: ڈگمگائے بغیر صراط مستقیم پر قائم رہنے کا نام  استقامت ہے۔ یعنی تمام ظاہری اور باطنی عبادتیں کرنا اور تمام حرام چیزوں سے رکنا  استقامت ہے۔

حقیقی استقامت یہ ہے کہ انسان کا دل توحید پر قائم ہو جائے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ  نے قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر بھی یہی کی تھی کہ

’’جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے ۔‘‘ (فصلت: 30) حضرت ابو بکر ﷜ نے فرمایا: یعنی آدمی دوسرے ادیان کی طرف نہ مڑے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر جم گئے۔

اگر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی توحید، خشیت، تعظیم، عزت، دعا، محبت، بھروسے اور   رجوع پر جم جائے اور  اسی کے سامنے سر نگوں ہو جائے اور بندہ دل سے  ہم آہنگ ہو  جائے تو پھر جسم کے تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم ہو جاتے ہیں۔ وہ فرض ادا کرنے لگتے ہیں، حرام چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور نفل عبادتوں کے ذریعے بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہنے لگتے ہیں، کیونکہ دل جسم کے اعضاء کا بادشاہ ہے، اگر وہ سدھر جائے تو سب اعضاء سدھر جاتے ہیں۔

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ آگاہ رہو! جسم میں ایسا ٹکڑا ہے کہ اگر وہ سدھر جائے تو سارا جسم سدھر جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ یاد رکھو! وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘

اللہ کے بندو! دل کے بعد سب سے زیادہ لائق  توجہ انسانی عضو زبان ہے۔ زبان دل کا حال بیان کرنے کا ذریعہ ہے، دل میں چھپی چیزوں سے پردہ ہٹانے کا وسیلہ ہے اور دل کی کیفیت کی طرف اشارہ کرنے والا آلہ ہے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ جب تک انسان  کا دل درست نہ ہو جائے اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا اور اس وقت تک دل درست نہیں ہو سکتا جب تک  کہ اس کی زبان درست نہ ہو جائے ۔‘‘

تاہم انسان کی جبلی کمزوری اس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر حال میں دین پر قائم نہیں رہ سکتا، چنانچہ کسی نہ کسی موقع پر انسان کچھ نہ کچھ استقامت سے ہٹ ہی جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مطلوب طریقے کے مطابق عبادت نہیں کر پاتا۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی چیز سکھائی ہے جو اس کی عبادت کی کمی دور کرتی اور اس کے ایسے خلا پر کرتی ہے۔ وہ چیز استغفار ہے، وہ استغفار کہ جس کے ساتھ سچی توبہ جڑی ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے انسان نیکی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اے نبیﷺ! اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں البتہ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے۔‘‘ (فصلت: 6)

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’استقامت اختیار کرو۔ اور  تم مکمل طور استقامت نہیں اپنا سکتے، لیکن یہ جان لو کہ تمہارا بہترین کام نماز ہے اور وضو کی محافظت مؤمن ہی کیا کرتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ: 277)

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی رہنمائی فرمائی کہ اگر مکمل استقامت نہ اپنا سکو تو استقامت کے قریب قریب رہنے یا استقامت اپنانے کی کوشش جاری رکھو۔ فرمایا:

’’دین اسلام پر پوری طرح گامزن  رہنے کی کوشش کرو، یا پھر حتی الامکان قریب قریب رہنے کی کوشش کرو، کیونکہ کوئی بھی اپنے عمل سے جنت نہیں جا سکے گا۔ ‘‘  صحابہ کرام نے عرض کی اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی اپنے عمل سے جنت میں نہیں جا سکیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ میں بھی نہیں! ہاں! مگر   یہ کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت  کی بدولت ۔‘‘ (بخاری: 6467) ایک روایت میں ہے: ’’ہاں! مگر  سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل وکرم سے داخل کر دے ۔‘‘ (مسلم: 2818)

دین پر قائم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام اقوال، افعال اور مقاصد میں دین پر قائم رہا جائے۔

قریب قریب رہنے کا مطلب یہ ہے کہ  اگر استقامت پر بعینہ قائم نہ رہ سکو تو اس سے قریب تر رہو۔ کیونکہ اگر ارادہ بھر پور استقامت کا ہو اور اس میں کچھ کمی  بھی رہ جائے تو ارادے وکوشش کی وجہ سے انسان صراط مستقیم سے بہت دور نہیں ہوتا۔

حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تم میرے تمام احکام پر کامل طور پر عمل نہ کر سکو گے لیکن ان کے قریب قریب رہنے کی کوشش کرو اور خوش ہو جاؤ۔‘‘ (ابو داؤد: 1069)

اہل علم فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے دین کی تمام چیزوں کا احاطہ فرما دیا ہے۔ استقامت اپنانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم مکمل طور پر استقامت نہیں اپنا سکو گے ، اس لیے اس سے قریب تر رہنے کی تلقین فرمائی۔ حسب طاقت عبادت کرنے کا حکم دیا۔ یہ بھی بتا دیا کہ قریب قریب رہنا یا استقامت پر قائم رہنا قیامت کے دن کام نہ آئے گا، تاکہ کوئی اپنے اعمال پر  ہی بھروسہ نہ کر بیٹھے، کیونکہ کامیابی تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عفو ودرگزر  پر منحصر ہے۔

اللہ کے بندو! خوف خدا کرو اور استقامت کی راہ اپناؤ۔ یہ بہترین سرمایہ اور خوشگوار زندگی کا راستہ ہے۔ کامیابی اسی کے لیے ہے جو احکام الٰہیہ پر جم گیا اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پا اور جنت کما گیا۔

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اپنی کتاب اور سنت رسول ﷺ سے نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ یقینًا وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

بعدازاں!

استقامت کے لیے معین و مدد گار ثابت ہونے والے اعمال میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انسان ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیوں پیدا فرمایا ہے؟  اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اور صرف عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’میں نے جنوں اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا اور زبردست‘‘ (ذاریات: 56-58)۔

اللہ کے بندو! اگر یہ بات ذہن نشین کر لی جائے تو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم، احترام اور  محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی بدولت انسان کا دل صاف ہو جاتا ہے اور وہ عبادت، دعا اور نیکی کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اسی کی بدولت وہ گناہ، نافرمانی اور خواہشات کی اتباع سے پاک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وہ شبہے والی چیزوں سے بھی دور ہو جاتا ہے تاکہ حرام سے مکمل طور پر بجا جا سکے۔

اگر اپنی تخلیق کا مقصد ذہن سے اوجھل ہو جائے تو دل سخت اور اعضاء استقامت کی راہ پر چلنے قاصر ہو جاتے ہیں۔ پھر انسان گناہوں کے جوہڑوں اور غلطیوں کی تاریکی میں گھر جاتا ہے اور آخرت میں ناکامی اور نامرادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرمائے!

استقامت کے حوالے سے ایک اور ضروری چیز بھی مد نظر رہنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ انسان دو عظیم قاعدوں پر عمل کرے۔ یعنی عبادت میں سنت پر اکتفا کرے اور سنت رسول پر قائم رہے۔

ابن قیم علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: شیطان انسان کا دل جانچتا ہے، اگر وہ اس میں بدعت کی طرف جھکاؤ محسوس کرے یا سنت کی پابندی میں کوتاہی محسوس کرے تو وہ اسے بدعت کی طرف لیجاتا ہے اور اگر وہ اسے سنت پر قائم پائے تو پھر اس سلسلے میں خود کو بے بس پاتا کہ انسان کو کس طرح گمراہ کرے؟ پھر وہ نفس پر ظلم وزیادتی کا حکم دیتا ہے اور عبادت میں حد سے گزرنے کو کہتا ہے۔ کہتا ہے: یہ خیر اور بھلائی ہے اور اگر خیر میں اضافہ کر دیا جائے تو بھی خیر میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ تم پیچھے رہنے والوں کی طرح مت ہونا اور نہ سونے والوں کے ساتھ سونا۔ وہ اسے یہ کچھ کہتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بندے کو  اعتدال کی راہ سے ہٹا دیتا ہے ،اس طرح وہ اسے گمراہ کر دیتا ہے۔ شیطان کے نرغے میں آیا پہلا  آدمی بدعت کی طرف نکل جاتا ہے  جبکہ دوسرا حد سے گزر جاتا ہے۔ (مدارج السالکین: 2/108)

خوارج کا یہی حال ہے کہ جن کی نماز کے سامنے مسلمان اپنی نماز کو ہلکا  سمجھتے ہیں اور ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے حقیر جانتے ہیں۔ ان کی تلاوت کے سامنے اپنی تلاوت کو بھی کم سمجھتے ہیں، لیکن وہ سنت سے بدعت کی طرف جانے والے ہوں گے۔ وہ کوئی کمی اور کوتاہی برتنے والے ہوں گے اور ان میں سے کوئی سنت سے بھی آگے بڑھ جاتا ہو گا۔

خطیب:  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اسامہ عبد اللہ خیاط حفظہ اللہ

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

نظر ثانی: حافظ یوسف سراج

Comments

محمد عاطف الیاس

محمد عاطف الیاس

عاطف الیاس مغل نے ام القریٰ یونیورسٹی، سعودی عرب سے گریجویشن جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ اسلامی فکر وتہذیب میں ایم فل یو ایم ٹی، لاہور سے جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے لسانیات میں بھی ایم فل کیا۔ سعودی عرب میں پڑھنے اور بیس برس گزارنے کے باعث عربی زبان وادب اہل زبان کی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے بطور ریسرچ سکالر اور مترجم وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں