آخری عشرہ میں رسول اللہ ﷺ کے معمولات- سمیع اللہ شابندری ندوی

آخری عشرہ کی فضیلت
رمضان المبارک کا مہینہ دراصل اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کی بہار اور انوارِ رحمت کی موسلادھار بارش اور گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے آزادی حاصل کرنے کا مہینہ ہے ، اس ماہ مبارک میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب دوسرے دنوں کے ستر فرض کی طرح ہوتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اس مہینہ کے تینوں عشروں کی خصوصی فضیلت بیان فرمائی ہے، ارشادِ نبوی ﷺ ہے: وھو شھر أولہ رحمۃ وأوسطہ مغفرۃ وآخرہ عتق من النار، یعنی اس مہینہ کا ابتدائی حصہ باعثِ رحمت اور دوسرا حصہ باعثِ مغفرت اور آخری حصہ نارِ جہنم سے آزادی کا سبب ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ ۳/ ۱۹۱ و بیہقی ۷/۲۱۶)

جس طرح دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے اسی طرح اللہ تعالی کے نزدیک تمام مہینوں میں سب سے افضل مہینہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے بالخصوص اس کے یہ آخری دس دن اور دس راتیں رمضان کے بقیہ دنوں اور راتوں سے بھی افضل ہیں اسی عشرہ میں قرآن مجید جیسی مقدس کتاب نازل ہوئی اور اکثر و بیشتر لیلۃ القدر بھی انھیں میں ہوتی ہے، غرض یہ کہ یہ پورا عشرہ اپنے انوار و برکات کے لحاظ سے سال کے بقیہ تمام دنوں میں ممتاز ہے، اللہ تعالی کا دریائے رحمت ان دنوں میں جوش مارتا ہے اور لطف و کرم کی گھٹائیں عالم کو گھیر لیتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اس عشرہ کو خصوصی اہمیت دیتے اور بعض وہ اعمال ادا فرماتے جنھیں اس مبارک مہینہ کے دوسرے عشرہ میں نہیں کرتے تھے جیسے شب بیداری کرنا اور گھر والوں کو جگا نا وغیرہ۔
ذیل میں ہم آخری عشرہ میں رسول اللہ ﷺ کے چند معمولات کا ذکر کرتے ہیں:

*۱۔ آخری عشرہ میں عبادت وغیرہ کا خصوصی اہتمام:*
رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ کا معمول باقی دنوں کے مقابلہ میں مختلف ہوتا تھا بالخصوص آخری عشرہ میں عبادت ، ذکر و تلاوت ، صدقہ و خیرات کا اہتمام اور زیادہ کرتے تھے اور اس عشرہ میں ایسی محنت و مشقت کرتے جو دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے ، حدیث پاک میں آتا ہےکان رسول اللہ ﷺ یجتہد فی العشر الاواخر مالایجتہد فی غیرہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت میں وہ مجاہدہ کرتے اور وہ مشقت اٹھاتے جو دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے (صحیح مسلم کتاب الصوم عن عائشۃ)

*۲۔ شب بیداری اور تقریباً پوری رات کا قیام:*
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں : إذا دخل العشر شدّ مئزرہ وأحیی لیلہ وأیقظ أہلہ145145 جب رمضان کا عشرہ اخیر شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کمر کس لیتے اور شب بیداری کرتے (یعنی پوری رات عبادت اور ذکر و دعا و تلاوت میں مشغول رہتے) اور اپنے گھر والو ں کو جگاتے تھے (صحیح بخاری ۱/۱۹۱۴، مسلم ۲/۲۷۴)ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ آخری عشرہ میں عبادت میں وہ مجاہدہ کرتے اور مشقت سے کام لیتے جو دوسرے عشروں میں نہ کرتے (صحیح مسلم ۱۱۷۵)اس سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان کے باقی دو عشروں میں آپﷺ رات کا قیام بھی فرماتے اور آرام بھی فرماتے لیکن جب یہ عشرہ شروع ہوجاتا تو رات میں بالکل نہ سوتے جیسا کہ حضرت عائشہؓ سے مروی بعض حدیثوں میں اس کا ذکر ہے۔ (دیکھئے مسند احمد ۶/۱۴۶)

*۳۔اہل و عیال کو بیدار رکھتے:*
آپﷺ کا معمول تھا کہ آخری عشرہ میں جہاں آپ اپنے طور پر عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے اور ذکر و تلاوت کا ہتمام فرماتے ، وہیں اپنے اہل و عیال کو بھی اس مقصد کے لیے بیدار رکھتے جیسا کہ حضرت عائشہؓ کی مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا، اسی طرح حضرت علیؓ کی روایت سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اہل و عیال کو بیدار رکھتے (سنن الترمذی ، کتاب الصوم، ج ۷۹۵) بلکہ بعض روایات میں ہے کہ ہر چھوٹا بڑا جو نماز اور بیداری کی طاقت رکھتا اسے آپ شب بیداری کا حکم دیتے۔ (دیکھئے طبرانی کبیر/ المجمع ۳/۱۷۴)

*۴۔ اپنی کمر کس لیتے:*
حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: إذا دخل العشر شدّ مئزرہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کمر کس لیتے (صحیح بخاری ۱/۱۹۱۴، مسلم ۲/۲۷۴)شدّ مئزرہ کمر کس لیتے؛ اس عبارت کا دو مفہوم علماء نے بیان کیا ہے : ایک معنی یہ کہ آپ اپنی بیویوں سے دور رہتے اور ان کے ساتھ شب باشی نہ فرماتے ، دوسرا مطلب کمر کس لینے کا یہ لیا گیا ہے کہ آپﷺ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر و دعا اور توبہ و استغفار میں پورے انہماک سے لگے رہتے ، یہی معنی زیادہ قر یب معلوم ہوتے ہیں ، کیوں کہ آپﷺ اس عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے اور حالتِ اعتکاف میں ویسے بھی بندہ اپنی بیوی کے قریب نہیں جاسکتا اس لیے اس کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی، چنانچہ ایک روایت میں آیا ہے حضرت عائشہ خود فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ آخری عشرہ میں عبادت میں لگن سے کام لیتے تھے جو دوسرے عشروں میں نہیں کرتے تھے (مسلم کتاب الصوم، ۱۱۷۵)

*۵۔ اعتکاف کی پابندی:*
رسول اللہ ﷺ ہر سال اہتمام سے رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے بلکہ ایک سال کسی وجہ سے رہ گیا تو اگلے سال آپ نے دو عشروں کا اعتکاف فرمایا، صحیحین کی روایت ہے ، حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی عمر کے آخری دور تک رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے (صحیح بخاری ۲۰۲۹، مسلم ۱۱۵۳) اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے اس آخری اور اس کے قبل کے یعنی درمیانی عشرہ کا بھی اعتکاف کیا۔ (بخاری شریف ۲۰۴۴)

*۶۔ لیلۃ القدر کی تلاش:*
اللہ کے نبی ﷺ لیلۃ ا لقدر کی تلاش میں خصوصاً عشرہ اخیرہ میں رات رات بھر جاگا کرتے تھے اور اس کے حصول کے لیے اپنے گھر والوں اور متعلقین کو بھی جگاتے تھے جیسا کہ صحیحین کی روایت سے اس کا ثبوت ملتا ہے ، ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہؓ خود بیان فرماتی ہیں کہ مجھے یہ علم نہیں کہ نبی پاک ﷺ نے کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید پڑھا ہو یا پھر صبح تک قیام کرتے رہے ہوں اور رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور مہینہ کے مکمل روزے رکھے ہوں (سنن نسائی ۶۳۱۷)اسی طرح سرور کائنات ﷺ اسی رات کی طلب و جستجو میں آخری عشرہ کا پابندی سے اعتکاف بھی فرماتے تھے جو آپ کے نو سالہ رمضان میں معمول سا بن گیا تھا چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی امت کو بھی اس آخری عشرہ میں اس کے تلاش کرنے کا حکم دیا اور اس میں شب بیداری کی طرف توجہ و ہمت دلائی ، آپ ﷺ نے فرمایا: تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان۔ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو (صحیح بخاری ۱/۱۹۰۷)اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی پھر میرے گھر والوں میں سے کسی نے مجھے جگا دیا تو میں اس کوبھول گیا ، تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ (مسلم ۲/۲۸۵)

اللہ تعالٰی ہمیں اس ماہ مبارک کی صحیح قدر دانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خصوصا اسکے آخری عشرہ میں ذیادہ سے ذیادہ اعمال صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین