مصلحت اور منصوص احکام کی معطلی - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

علت اور حکمت پر بحث میں ہمارے اکثر متجددین نے جو طریق استدلال اپنایا ہے اس کی انتہا میں بالعموم مزعومہ مصالح اور حکمتوں کی بنیاد پر منصوص احکام کی معطلی اور منسوخی کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ مقاصدی فکر کے ایک علم بردار فرماتے ہیں:
”اور جو کچھ عمر فاروق بن الخطاب نے کیا اس میں ہمارے لیے اس امر کے متعلق واضح مثال موجود ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دقیانوسی دین نہیں ہے اور جامد نہیں ہے، اور یہ کہ وہ مقاصد کا دین ہے، نہ کہ مفہوم سے عاری الفاظ کے خالی خولی ڈھانچوں کا۔ پس مقصد ہی کے گرد حکم گھومتا ہے اور مقصد کے تغیر کے ساتھ حکم بھی متغیر ہوتا ہے اور جس طرف مقصد کا رخ ہوتا ہے اسی طرف حکم کا بھی رخ ہوتا ہے۔ چنانچہ حکم مقصد کی اتباع کرتا ہے اور مقصد حکم کی اتباع نہیں کرتا۔ یہ اس ہمیشہ رہنے والی رسالت کے اسرار میں سے ہے۔ اور ہمیں دیکھنا چاہیے کہ دوسرے خلیفہ راشد نے کیا کیا جب انھوں نے قرآن اور سنت کے ایک قطعی الثبوت حکم کو اس بنا پر لغو کیا کہ اس کے اسباب متغیر ہوگئے تھے جس کی وجہ سے اس کے باقی رہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ چنانچہ عمر بن الخطاب نے مصارف زکاۃ میں ایک مصرف، یعنی مؤلفۃ القلوب کا حصہ، لغو کردیا اور فرمایا کہ اسلام کو ایسی قوت اور ثبات حاصل ہوگئی ہے کہ اسے کسی کی تالیف قلب کی حاجت باقی نہیں رہی۔ پس۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ انھوں نے قرآن کریم کے ایک ثابت حکم کو، جس کی دلالت قطعی طور پر ایسی واضح تھی کہ اس میں تاویل کی گنجائش نہیں تھی، لغو کردیا۔“

زکاۃ کے مصارف میں مؤلفۃ القلوب کی وقتی طور پر معطلی کے حکم سے استدلال بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ استدلال تبھی صحیح ہوتا اگر پہلے یہ ثابت کیا جاتا کہ قرآن و سنت کے ”قطعی الثبوت“ اور ”قطعی الدلالۃ“ احکام کے مطابق یہ لازم تھا کہ زکاۃ کے تمام مصارف میں زکاۃ کی رقم خرچ کی جائے۔ کیا مصارف زکاۃ کی آیت میں حکم یہ دیا گیا ہے کہ زکاۃ کی رقم لازماً ان آٹھ مصارف میں تقسیم کی جائے، یا یہ حکم دیا گیا ہے کہ زکاۃ کی رقم ان آٹھ مصارف کے سوا کہیں اور خرچ نہ کی جائے؟ اگر کسی موقع پر فقرا و مساکین دستیاب نہ ہوں، ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہو، اور زکاۃ کی رقم دیگر مصارف میں خرچ کی جائے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ اب ہم نے بقیہ دو مصارف بھی ختم کردیے؟ یا اگر زکاۃ کی تقسیم کے مرکزی نظام کے درہم برہم ہوجانے کے بعد عام طور پر مسلمان خود زکاۃ کا حساب کرکے فقرا ومساکین میں تقسیم کرتے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ مسلمانوں نے بقیہ چھے مصارف لغو کردیے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ دعوی کہ انھوں نے قرآن و سنت کے ایک ثابت حکم کو لغو کردیا بہت بڑی جسارت ہے۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا!

مصلحت کا مفہوم
کسی مزعومہ مصلحت یا مقصد کی بنا پر منصوص حکم کی معطلی کا دعوی بھی ناقابل فہم ہے کیونکہ مقاصد اور مصالح کا استنباط تو ان منصوص احکام ہی سے کیا گیا ہے۔ اگر مقاصد اور مصالح کی بنا پر منصوص احکام میں pick and choose کا سلسلہ شروع کیا جائے تو گویا ذاتی استنباط اور رائے کی بنیاد پر منصوص احکام میں اخذ و رد کیا جائے گا۔ پس اس طریق کار میں شارع کے حکم کے بجائے اصل متبع کی حیثیت ذاتی رائے کو حاصل ہوجاتی ہے۔ ہمارے متجددین مصلحت کے اصول کا بہت ہی کثرت سے ذکر کرتے ہیں لیکن شاید انھیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ مصلحت مغربی اصول قانون کے تصور Utility کا مترادف نہیں ہے، نہ ہی اس کا مفہوم جلب المنفعۃ و دفع المضرۃ (فائدے کا حصول اور نقصان کا دور کرنا ) ہے۔ یہ مصلحت کا صرف لغوی مطلب ہے۔ مصلحت کا اصطلاحی مفہوم جس کی رو سے یہ ایک مسلمہ اصول بن جاتا ہے امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی کے نزدیک یہ ہے:
أما المصلحۃ فھی عبارۃ فی الأصل عن جلب منفعۃ أو دفع مضرۃ، و لسنا نعنی بہ ذلک، فان جلب المنفعۃ و دفع المضرۃ مقاصد الخلق، و صلاح الخلق فی تحصیل مقاصدھم، لکنا نعنی بالمصلحۃ (المحافظۃ علی مقصود الشرع)۔
(جہاں تک مصلحت کا تعلق ہے تو وہ اصل لغت میں عبارت ہے منفعت کے حصول یا نقصان کے دور کرنے سے۔ لیکن ہماری مراد اس سے یہ نہیں ہے، کیونکہ منفعت حاصل کرنا اور نقصان دور کرنا تو لوگوں کے مقاصد ہیں، اور لوگوں کی بہتری ان کے اپنے مقاصد کے حصول میں ہوتی ہے۔ بلکہ مصلحت سے ہماری مراد ”شریعت کے مقصود کی حفاظت“ ہے۔)

یہ بھی پڑھیں:   علم کی اہمیت - محمد ہشام

امام غزالی کو مصلحت کے قاعدے کا اولین اور بہترین شارح سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ وہ مصلحت کو ”الأصول الموھومۃ“ (غیر یقینی اصول) میں ذکر کرتے ہیں؟ اس کی وجہ خود امام غزالی کے الفاظ میں یہ ہے:
ھذا من الأصول الموھومۃ، اذ من ظن أنہ أصل خامس فقد أخطأ، لأنا رددنا المصلحۃ الی حفظ مقاصد الشرع، و مقاصد الشرع تعرف بالکتاب و السنۃ و الاجماع۔ فکل مصلحۃ لا ترجع الی حفظ مقصود فھم من الکتاب و السنۃ و الاجماع، و کانت من المصالح الغریبۃ التی لا تلائم مع تصرفات الشرع، فھی باطلۃ مطرحۃ، و من صار الیھا فقد شرع، کما أن من استحسن فقد شرع۔
(یہ غیر یقینی اصولوں میں ہے، پس جس نے یہ گمان کیا کہ یہ کوئی چوتھا ماخذ ہے تو اس نے غلطی کی، کیونکہ ہم نے مصلحت کو شریعت کے مقصود کی حفاظت کی طرف لوٹادیا، اور شریعت کے مقاصد کی پہچان کتاب، سنت اور اجماع سے ہوتی ہے۔ پس ہر وہ مصلحت جو ایسے مقصود کی طرف راجع نہ ہو جو کتاب، سنت اور اجماع سے جانا گیا ہو، اور جو ان مصالح غریبہ میں ہو جن کی شریعت کے تصرفات کے ساتھ مناسبت نہیں ہوتی، وہ مصلحت باطل اور مردود ہے۔ اور جو کوئی ایسی مصلحت کی طرف گیا تو اس نے شریعت سازی کی، جیسے کسی نے ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر حکم بنایا تواس نے شریعت سازی کی۔ )

مصلحت کی اقسام
شریعت کے ساتھ ملائمت اور مطابقت کے لحاظ سے امام غزالی نے مصلحت کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:
(1) ”مصلحۃ معتبرۃ“ یعنی وہ مصلحت جس کا شریعت نے نوع یا جنس کے لحاظ سے اعتبار کیا ہے۔ اول الذکر کو ”قیاس“ اور ثانی الذکر کو ”مصلحۃ مرسلۃ“ کہتے ہیں۔
(2) ”مصلحۃ ملغاۃ“ یعنی وہ مصلحت جس کو شریعت نے مسترد کردیا ہے۔
(3) ”مصلحۃ غریبۃ“ یعنی وہ مصلحت جس کے اعتبار یا رد کے لئے شریعت میں کوئی نص معین نہ ہو۔

جہاں تک مقاصد شریعت کا تعلق ہے، امام غزالی اور امام شاطبی دونوں نے ذکر کیا ہے کہ یہ قوت و اہمیت کے لحاظ سے تین درجوں میں تقسیم ہیں: یعنی ضرورات، حاجات اور تحسینات، یا بہ الفاظ دیگر بنیادی مقاصد، ثانوی مقاصد اور تیسرے درجے کے مقاصد۔ ان میں ضرورات یعنی شریعت کے اولین مقاصد پانچ ہیں: حفظ دین، حفظ نفس، حفظ عقل، حفظ نسل اور حفظ مال۔ اور ان میں قوت و ضعف کے لحاظ سے ترتیب بھی یہی ہے جو ذکر کی گئی۔ یعنی دین سب پر مقدم ہے، پھر نفس، پھر عقل، پھر نسل اور پھر مال۔ ان مقاصد کی حفاظت، جیسا کہ غزالی کہتے ہیں، ہر قانونی نظام میں کی جاتی ہے۔مغربی اصول قانون کی اصطلاح میں انہیں ”عدل کے مقاصد“ (Aims of Justice) کہا جاتا ہے۔( Edgar Bodenheimer, Jurisprudence: The Philosophy and Methodology of Law, (Cambridge University Press, 1974), 196.) تاہم اختلاف ترجیحات کے تعین میں ہے کہ کونسی قدر (Value) زیادہ اہم ہے؟ جب دو اقدار کے درمیان تصادم ہوگا تو کس قدر کو ترجیح دی جائے گی؟( مثال کے طور پر مغربی ممالک اظہار رائے کی آزادی کے حق کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ توہینِ رسالت بھی ان کے نزدیک جائز ہوجاتی ہے جبکہ اسلامی قانون کی رو سے توہین رسالت ایک قابل سزا جرم ہے۔)

مصلحتِ مرسلہ اور مصلحتِ غریبہ کے لیے شرائط
امام غزالی فرماتے ہیں کہ مصلحت مرسلہ کی بنیاد پر نیا اصول یا قانون بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تین شرائط پوری ہوں:
(1) یہ اصول کسی نص سے متصادم نہ ہو، نہ یہ کسی نص کے مفہوم میں تغیر پیدا کرے۔
(2) یہ اصول پہلے سے موجود اصول و قواعد، غزالی کے الفاظ میں ”تصرفات الشرع“، سے متصادم نہ ہو۔
(3) یہ اصول ”غریب“، یعنی قانونی نظام کے لئے اجنبی اور انوکھا، نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان کیوں پس رہے ہیں؟ - حمزہ علی ریحان

اگر یہ غریب ہو تو پھر اس کی قبولیت کے لئے مزید تین شرائط ہیں جن میں ایک بھی پوری نہ ہو تو اسے مسترد کردیا جائے گا۔
(1) یہ کہ اس اصول کا تعلق ضرورات کے ساتھ ہو۔ یعنی اس کے ذریعے دین، نفس، عقل، نسل یا مال کی حفاظت مقصود ہو۔
(2) یہ کہ یہ قطعی ہو۔یعنی اس کے نتائج کے متعلق ہمیں پورا یقین ہو کہ اس کے ذریعے مذکورہ مقصد کی حفاظت ہوگی۔
(3) یہ کہ یہ کلی ہو۔ یعنی یہ امت کے کسی ایک فرد یا افراد کے مجموعہ کے لئے نہ ہو بلکہ پوری امت کے لئے ہو۔

ان شرائط کی مثالیں
ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے ایک گروہ، خواہ وہ کتنا ہی بڑا گروہ ہو، کی مصلحت کو پوری امت کی مصلحت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اس لیے خواہ یہ امکان ہو کہ ایسی صورت میں مسلمانوں کے اس گروہ پر کفار غالب آجائیں گے تب بھی ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ ڈھال بنائے گئے مسلمانوں کا قتل عمد کریں۔ اسی وجہ سے امام غزالی آگے کئی مثالیں ذکر کرتے ہیں جن کے متعلق وہ صراحتاً کہتے ہیں کہ ان صورتوں میں شرعی حکم کی معطلی جائز نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ان شرائط میں کوئی شرط مفقود ہوتی ہے:
و لیس فی معناھا: ما لو تترس الکفار فی قلعۃ بمسلم، اذ لا یحل رمی الترس، اذ لا ضرورۃ، فینا غنیۃ عن القلعۃ، فنعدل عنھا، اذ لم نقطع بظفرنا بھا لأنھا لیست قطعیۃ، بل ظنیۃ۔ و لیس فی معناھا: جماعۃ فی سفینۃ لو طرحوا واحداً منھم لنجوا، و الا غرقوا بجملتھم، لأنھا لیست کلیۃ، اذ یحصل بھا ھلاک عدد محصور، و لیس ذلک کاستئصال کافۃ المسلمین، و لأنہ لیس یتعین واحد للاغراق الا أن یتعین بالقرعۃ، و لا أصل لھا۔ و کذلک جماعۃ فی مخمصۃ، لو أکلوا واحداً بالقرعۃ لنجوا، فلا رخصۃ فیہ لأن المصلحۃ لیست کلیۃ۔
(ایسی مصلحت کی مثال یہ نہیں ہے کہ اگر کسی قلعے میں کفار نے کسی مسلمان کو ڈھال بنا لیا ہو، کیونکہ ایسی صورت میں اس ڈھال بنائے گئے مسلمان کو نشانہ بنانا ناجائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حملہ ناگزیر نہیں ہے۔ ہم اس قلعے پر قبضہ کرنے سے بے نیاز ہیں۔ پس ہم اس قلعے پر حملہ کرنے سے باز رہیں گے کیونکہ ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ہم اسے فتح ہی کرلیں گے۔ پس یہ مصلحت قطعی نہیں بلکہ ظنی ہے۔ اسی طرح اس کی مثال یہ بھی نہیں کہ اگر کسی ڈوبتی کشتی میں کئی لوگ سوار ہوں اور اگر وہ کسی ایک کو دریا میں پھینک دیں تو باقی بچ جائیں گے، اور اگر کسی کو نہیں پھینکیں گے تو سارے ہی ڈوب جائیں گے۔ اس مصلحت کے غیر معتبر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ کلی نہیں ہے کیونکہ اس طرح چند لوگ ہی غرق ہوں گے جسے تمام مسلمانوں کا صفایا ہونے کے مترادف نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ کسی ایک کو دریا میں پھینکنے کے لیے منتخب کرنے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ قرعہ ڈالیں جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی گروہ بھوک سے مجبور ہوجائے اور وہ چاہیں کہ ان میں کسی ایک کو قتل کرکے اس کا گوشت کھائیں ورنہ سارے ہی مر جائیں گے تو اس کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے کہ یہ مصلحت کلی نہیں ہے (ان چند لوگوں کے مرنے سے پوری امت کا خاتمہ نہیں ہوگا۔)

مصلحت کے اولین اور بہترین شارح نے کس خوبی سے واضح کیا ہے کہ مزعومہ مصلحت کی بنیاد پر شرعی احکام کی معطلی باطل ہے ۔ فجزاہ اللہ عنا و عن المسلمین خیر الجزاء!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں