نفس کو نماز کی طرف کیسے راغب کریں ؟ – حرم فارس

“اور نماز قائم کرو ” کا حکم اس وقت فکر و مصروفیات و نا سمجھی کی کیفیت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے کچھ دنوں سے چند دوستوں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ انکی نمازیں ان سے کھونے لگی ہیں کوشش کرتے ہیں اٹھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں پر بے روح لگتی ہیں بے دلی سے سلام پھیرتے ہیں اور جائمناز سے ایسے بھاگ کر اٹھتے ہیں گویا جبراً کھڑے تھے اور پھر کچھ دنوں بعد پانچ سے ایک دو ہوتے ہوتے سب چھوٹنے لگتی ہیں۔ ذہنی سکون نہیں ہے۔

نماز کا چھوٹ جانا ذہنی سکون کی تباہی و بربادی کی بنیاد ہے گناہوں کو دعوت ہے کہ یا تو نماز برائی چھڑوا دیتی ہے یا پھر برائی نماز چھڑوا دیتی ہے

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے کھو جانے پہ فوت ہونے کا لفظ استعمال کرتے تھے کہ انکی نماز ان سے فوت ہو گئ ہے اور شدت خوف سے کپکپی طاری ہو جایا کرتی تھی۔ ہمارے اندر جوابدہی کے اس خوف کی کمی ہی ہمیں بار بار نماز سے دور لے جاتی ہے یعنی فلاح سے دور ہو جاتے ہیں۔

نماز کے لیے یکسوئی نہ ہونا بیزاری اور سکون کی کمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نفس کسی برائی/گناہ میں ملوث ہے یا دوسری صورت میں اللہ سے تعلق اس قدر مضبوط ہونے لگا تھا کہ اسے کمزور کرنے کے لیے شیطان پوری طاقت سے حملہ آور ہوا ہے انسان خطا کا پتلہ ہے لہذا اس وار سے کسی کا بھی زخمی ہو جانا ممکن ہے۔

قرآن مجید میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ “اے ایمان والو! نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو” لیکن جب نماز ہی کوتاہی کا شکار ہو جائے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

نفس کو نماز کی جانب راغب کرنے کے حوالے سے چند طریقے اختیار کریں تو ممکن ہے کہ اس کوتاہی سے بچ سکیں۔

یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء کا عموما مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پڑھائی کے دباؤ میں ہوتے ہیں اور اپنے ہر مسئلے کو پڑھائی کے باعث ملنے والے بوجھ سے متصل سمجھتے ہیں ذہنی و بدنی تھکن نماز پڑھنے سے روکتی ہے۔ در اصل یہ خیال بھی شیطان کا ایک مضبوط وار ہے پڑھائی کے باوجود ہمارے تمام کام اپنے وقت پہ پورے ہو رہے ہوتے ہیں صرف نماز کے معاملے میں سستی اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان ہمیں تھکن کے بہانے سے فلاح سے روکنے لگتا ہے فجر کی نماز شیطان کے خلاف پہلا ہتھیار ہے اگر اس میں کامیابی ہو جاتی ہے تو دن کا آغاذ فلاح سے ہوتا ہے اور پھر نماز برائی سے روکتی ہے اسکے لیے رات کو وقت پہ سونا لازم ہے اگر کسی وجہ سے نماز قضا ہو بھی جاتی ہے تو اسے چھوڑیں مت بلکہ اگلی نماز سے پہلے ادا کر لیں۔

ظہر کی نماز تعلیمی اداروں میں وقت ملنے پہ باآسانی ادا ہو سکتی ہے کہ عموماً فراغت کا وقت ایک بجے ہوتا ہے اور نماز کا وقت قریب ہوتا ہے اگر وہیں پر یا گھر آنے کے فورا بعد نماز ادا کر لی جائے تو نا صرف تھکن دور ہو جاتی ہے بلکہ ذہن سکون کی کیفیت میں آ جاتا ہے۔

نماز ادا کرنے کے لیے نماز کا اولین وقت ذہن میں رکھیں اور تمام کام چھوڑ کر وضو کر کے فورا سے نماز ادا کرنے کھڑے ہوجائیں تو صرف تکبیر کی دیر ہوتی ہے پھر شیطان کا وار ہلکا ہو جاتا ہے نماز میں تاخیر کرنا مزید سست کرنے کی وجہ ہے۔

گھروں میں نماز کے لیے کوشش کریں کہ گھر کے افراد اکھٹے ایک جگہ نماز ادا کر لیں بڑے مرد حضرات مسجد جائیں تو چھوٹوں کو ساتھ لے جائیں مائیں نماز پڑھنے لگیں تو بچیوں کو ساتھ کھڑا کر لیں اگر جماعت کروا لیں تو نماز قائم کرنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے یہ طریقہ نہایت کارگر رہا ہے۔

ایک دوسرے کو نماز کے وقت یاد دہانی کروائیں بلکہ اٹھا کر نماز پڑھوائیں یہ چیز خود بھی نماز پڑھنے میں دلچسپی پیدا کرتی پے اور دوسرا شخص بھی توجہ سے اٹھتا ہے جس طرح آذان نماز کی یاددہانی کرواتی ہے فلاح کی جانب بلاتی یے اسی طرح ایک دوسرے کو فلاح کی طرف بلانے سے اچھائی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

اگر نماز کے وقت سستی پیدا ہو رہی ہے تو خود کو یاد دلائیں کہ سورہ ماعون میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں “ہلاکت ہو ایسے نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں میں کوتاہی برتتے ہیں ”

نماز عصر کا وقت اہم وقت ہوتا ہے اس وقت بہت سے لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا اس میں دیر ہونے کا امکان بہت ہوتا ہے۔

اس صورت میں خود کو یاد دلائیں کہ اس وقت فرشتے تبدیل ہوتے ہیں جو سارا دن کی رپورٹ اللہ کے پاس لے کر جاتے ہیں اور اگر اس وقت ہم غفلت برتیں گے تو ہمارا نام عصر کے وقت جانے والے فرشتے غافلوں میں لکھیں گے اللہ رب العزت نے عصر کی نماز سے متعلق خاص ہدایت فرمائی ہے “اپنی درمیانی نماز کی حفاظت کرو ”

مغرب کی نماز کا وقت تھوڑا ہوتا ہے اور نماز بھی مختصر ہوتی ہے لہٰذا اس کے لیے وضو کر کے پہلے سے تیار رہیں اور فوراً ادا کر لیں۔

عشاء کی نماز اس وقت سے پہلے ادا کر لیں جب آپ پہ نیند کا غلبہ طاری ہونے لگے ہاتھ میں موبائل پکڑے پکڑے ہم سو جاتے ہیں اور نماز رہ جاتی ہے نماز وقت پہ ادا کر لینے سے آپ وقت پہ سو جائیں گے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کے بعد زیادہ بات چیت سے منع فرمایا ہے اور ہم عموماً رات گئے تک چیٹ میں مصروف رہتے ہیں۔

اپنی ذات کو یاددہانی کروانا اور دوسروں کو بھی کروانا کسی بھی عمل کے محرک بنتا ہے اپنے سوشل میڈیا کے دوستوں کو موبائل پہ میسج کے ذریعے نماز کی تاکید کر کے نماز کے لیے اٹھ جائیں یہ چیز موبائل کو بھی ثواب کا ذریعہ بنا دے گی اور دل میں اچھائی کا احساس مزید تقویت پائے گا ۔

نماز قائم رکھنے کے لیے دعا نماز ہی میں موجود ہے تشہد کے آخر میں پڑھی جانے والی دعا کثرت سے مانگا کریں:

رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ () رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ()

“اے میرے پروردگار!مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے رب!دعا قبول کر پروردگار!مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کردینا جب حساب قائم ہوگا” (سورہ ابراھیم : 40-41)۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam