میں دشمن ہوں - ریاض علی خٹک

میں دشمن ہوں. مجھے اپنی پہچان چھپانی ہے. اپنی یہ پہچان چھپا کر مجھے اپنے اہداف حاصل کرنے ہیں. دشمنی کی اس نفرت نے مجھے محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے، کی عالمگیر سچائی سکھائی ہے. مجھے چانکیہ کی یاد دلائی ہے. میری یہ جنگ میدانوں پر بھی ہے، تجارت و ثقافت میں بھی ہے. نظریات و آبادیوں میں بھی ہے. میں وہ دُشمن ہوں جو ہر محاذ پر لڑ رہا ہوں.

میں دشمن ہوں. اس مملکت کا جو اپنی مذہبی شناخت پر الگ ہوئی، ستر سال قبل یہ طبلِ جنگ بج گیا، میں وہ ہوں جس نے تقسیم ہوتے ہی کمر کس لی اس آشیانے کو برباد کرنے پر، اسے واپس غلام کرنے پر، میں وہ ہوں جس نے مہاجرین کے تاراج قافلے بھیجے، جس نے تقسیم میں تمھارا حق روکا، تمھارا مال روکا، تمھارا اسباب روکا. اس خالی خزانے کے ساتھ لاکھوں بےاسباب انسان بھیجے، لیکن تم یہ وار سہہ گئے.

میں وہ دُشمن ہوں جس نے تمھاری تیزی سے ہوتی ترقی پر تمھیں 1965ء میں تباہ کرنا چاہا، میں وہ ہوں جس نے چونڈہ سے برکی تک، کشمیر سے بی آر بی تک میدان سجایا، افسوس تم برداشت کر گئے. ہاں میں میں نے ہمت نہ ہاری اور 1971ء میں تمھیں دو لخت کردیا، تمھیں تقسیم کردیا، سبز ہلالی پرچم ایک بازو پر غروب کر دیا.

میں وہ دشمن ہوں جو ایک بار مایوس ہوا، میں ناکام ہوا، اس تقسیم کے بعد میں سمجھا کہ میں جیت گیا، لیکن تم نے قوت جمع کرلی، افواج نے از سر نو تنظیم کرلی. اس تنظیم کو ہلاکت خیز ہتھیاروں سے قوت دے دی. میں نے میدان بدل لیا. تمھیں تنہا کرنے کے لیے بساط بچھائی، تمھیں تقسیم کرنے کے لیے جال بچھائے، تمھیں رسوا کرنے کا ساماں کیا. میری زبان بھی تمھارے خلاف چلی، میرا مال بھی تمھیں بےساماں کرنے کے لیے استعمال ہوا. میں جنگ کو تمھاری گلیوں میں لے گیا. اُن گلیوں میں جہاں تمھارے ہتھیار کند ہو جائیں. تمھاری چلائی گولی کا ہدف بھی تمھارا سینہ ہو.

یہ بھی پڑھیں:   آزادی کی قیمت - ایم سرورصدیقی

میں تو دشمن ہوں، یہ جنگ میں نے لڑنی ہے. میں اپنی ثقافت سے تمھاری ثقافت مٹا دوں گا، میں اپنے قلم سے تمھاری تاریخ جھٹلا دوں گا. میں ہر وہ نام بدل ڈالوں گا جس سے میری گلیوں میں تمھاری پہچان ہو. میں اس کلمے کی شناخت میں نقب لگاؤں گا، جس آواز پر تم مجھ سے جدا ہوئے. میں کھیلوں کے تمھارے میدان ویران کردوں گا، تمھارے مدرسوں کو مقتل بنا دوں گا.

ہاں میں وہ دشمن ہوں، کہ اس دشمنی کے بعد بھی تمھارے گھر سے میری دوستی کی آوازیں سنائی دیں گی، میری ثقافت کے نغمے گونج رہے ہوں گے، میری تجارت کے فوائد تم سے منوائے جائیں گے، تمھاری گلیوں سے میرے ہمنوا نکلیں گے، امن کی آشا میں تعبیر میری ہوگی، تکمیل میری ہوگی، مٹ تم جاؤ گے.
ہاں! میں دشمن ہوں. ایسا دشمن کے جسے تم دشمن بھی بولو گے تو تمھیں جھٹلانے کے لیے تمھاری ہی صفوں سے میرے وکیل نکلیں گے.

ہاں میرا خوف بھی یہی ہے کہ میری پہچان نہ ہو. اس پہچان پر میرا دشمن یک زبان نہ ہو. ہر میدان میں، ہر فورم پر، مجھے دشمن کہلوانے والے کی تضحیک ہو. میرا یہ مشن بغل میں چھری منہ پر رام رام ہو.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.