ذاتی صفحہ اگست 87 (2) - شکیل عادل زادہ

ایک فرد کے اندھیرے اجالے، نہایت ذاتی نوعیت کے یہ معاملات و مسائل کنارے کر دیجیے، تو بھی اس تاخیر و التوا کے غیر ذاتی اسباب کی روداد کچھ کم عبرت گیر نہیں۔ اتنے غیاب کے باوجود سب رنگ کے لیے یہ لپک، یہ تپاک رقیبانِ روشن رخ کو بہت گراں گزرتا ہے۔ اس بار انہوں نے حوصلے خوب آزمائے۔ حکام بالا نشیں کو یہ یقین دلانے میں چار مہینے صرف ہو گئے کہ سب رنگ ایک اصیل پرچہ ہے، کاغذ کی بھیک کے لیے یہ سوالی اسی وقت صدا زن ہوتا ہے جب لفظ لفظ جمع کر کے سب رنگ بن جانے کی تعبیر پوری ہوا چاہتی ہے، کیا عجب ایک ایسا رسالہ جو محض کسی وضع اعتبار یا رسمِ جنوں کے لیے پردہ کیے رہتا ہو اور حکام عالی مقام اس صدق نیت کے معترف بھی ہوں اور کاغذات گردش کرتے رہیں، ایک دروازے سے دوسرے دروازے اور ایک جناب سے دوسری جناب تک۔ بہرنوع یہ کرم گستری بھی اپنی جگہ کہ یہ روش تو اب کھیل کا حصہ بن گئی ہے، سب رنگ کا معاملہ اس سے بھی آگے ہے، سب رنگ اگر کوئی نقش گر رسالہ ہے تو یہی تو ایک آفت ہے۔ سب رنگ سے پہلے اردو میں سب رنگ جیسی کوئی مثال نہیں، یہ کم تر و برتر کا نہیں، طرز و وضع کا معاملہ ہے۔ یہ کہانی کا کام ہے جو ادب کی سب سے مطلوب اور محبوب صنف ہے، سب سے ارزاں اور سب سے گراں بھی۔

کہتے ہیں کہ شاہ کے دربار میں روز ایک لطیفہ سناتے سناتے ایک تخلیق کار خون تھوکنے لگا تھا۔ شہد کی مکھی اور یونانی آثار پر تحقیقی تحریروں اور کہانی کے حصول میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔ کہانیاں بہت سی ملتی ہیں مگر کہانی نہیں ملتی، کہانی ہر کوئی سنا سکتا ہے مگر ہر کوئی کہانی سن نہیں سکتا۔ کسی ناقد نے کہا ہے، کہانیاں کم و بیش سب پرانی ہوتی ہیں، اسلوب، زاویے، آہنگ اور پیرایوں کی تازگی انہیں نیا کر دیتی ہے۔ یہ خون چکاں خاموں، فگار انگلیوں کا فن ہے۔ زرنگاری، مصوری اور مینا کاری کا فن۔ مخدومی ڈاکٹر سلیم الزماں ایک دفعہ فرما رہے تھے کہ میاں! تخلیق کےمرحلے ہڈیوں کے گودے میں طے ہوتے ہیں۔ سنا ہے کہ ٹی وی اور ریڈیو والوں کے پاس کہانیوں کا ایک انبار ہے مگر جو کہانی آپ دیکھ رہے ہیں اور جو کہانی آپ پڑھ رہے ہیں، وہ آپ کےسامنے ہے۔ سب رنگ نےکہانی سنانے کی اپنی جیسی ایک کوشش کی ہے۔ سب رنگ نے اس عاجزانہ کوشش میں قلب و نگاہ کتنے اور کیسے آسودہ کیے ہیں، یہ بھی آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ کا یہ تپاک اور گداز ہی اپنا زادِسفر، اپنا صلہ ہے۔ سب رنگ سر نہاں ہے۔

سب رنگ کو ادارہ بنانے میں بس ایک ارادے کی فصل ہے، پھر کہانیاں ہی کہانیاں، کھٹا کھٹ، فٹا فٹ، ریڈی میڈ کہانیاں۔ مجھے شبہ ہے کہ پھر بےقرار گوگو کا شیشہ ٹوٹ جائے گا اور نسرین و نسترن، نرگس و نیلوفر پر تو قیامت گزر جائے گی، پھر پھولوں کی سوغات کون بھیجے گا اور شاعر حسن کے نام سلام کیسے لکھے گا، میں تو بہت ویران ہو جاؤں گا۔

اب یہ شہ سوار صبا رفتار قلم ہے کہ رک ہی نہیں رہا، بہرحال یار ابھی زندہ ہے، پہلے سے دعوی زنی مناسب نہیں لیکن کوئی شکل اچھی نظر آ رہی ہے۔ بازی گر کے آخر میں بھی میں کچھ احوال بیان کیا ہے۔ بازی گر کی اب تک کی قسطیں کتابی صورت میں چھپ رہی ہیں، پہلی جلد شاید ہفتے عشرے میں آ جائے۔ 52،53 شخصیات کے بعد تصوف کا مضمون اس بار شامل نہیں ہے، اس کی وجہ جامع تذکروں کی کم یابی ہے۔ کسی نسبتاً کم زور اور تشنہ تحریر سے بہتر تھا کہ کچھ نہ شایع کیا جائے۔ جب بھی کسی شخصیت پر مبسوط مضمون تیار ہوا، آپ کی نذر، اور خاطر جمع رکھیے، میں اپنے خاتمے سے پہلے امبر بیل کی تکمیل ضرور کروں گا۔ اتنا مان تو آسماں نشیں اپنے خاک بسر کا رکھے گا۔ اتنی طویل شب کے بعد سب رنگ کی آمد اس امر کا ثبوت ہے کہ بےتیشہ نے کوہ کنی ترک نہیں کی ہے۔

مدت کی طوالت سے قارئین کی توقعات بڑھ جاتی ہیں لیکن کہانی تو اسی صبح سے شروع ہوتی ہے جس رات کو ختم ہوئی تھی، سو اسے اسی صبح سے شروع کیجیے۔ انعام راجا آخر تک لکیروں کا تماشا کرتا رہا اور میں اب تک جاں آفریں لفظوں کے تعاقب میں ہوں مگر نہ لفظ کچھ، نہ لکیریں کچھ، اصل تو سارا لفظوں اور لکیروں کے عقب میں ہے، وہ ہے بجلی، تلاطم اور شور۔ وہی سارا کچھ اس قلم تماشے، خیال کدے کا جادو ہے۔ اس سے زیادہ جادو مجھے بھی نہیں آتا۔

پہلی قسط یہاں ملاحظہ کیجیے

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.