ایم کیو ایم کی سیاست میں’ مظلومیت‘ کا عنصر - ابوانصار علی

کراچی کیا کسی بھی رخ سے مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کرتا ہے؟ یہ سوال ایم کیوایم کی جانب سے سوشل میڈیا پر بڑے زور و شروع سے اٹھایا جارہا ہے. آپ اسے مظلومیت کا ایک نیا منظرنامہ تخلیق کرنے کی کوشش کہہ سکتے ہیں. ہم یہ کیوں کہہ رہے ہیں؟اس کی بنیادی وجہ تو ایم کیوایم بننے سے لے کر 22اگست 2016ء کو کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیوایم بانی کی وہ تقریر ہے، جس نے شہر کی سیاست کو بدل دیا، جس کے نتائج مثبت نکلتے ہیں یا منفی، شہر کا سیاسی منظر ایک دو ماہ میں مزید واضح ہوجائےگا۔\r\n\r\nآج ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ایم کیو ایم کا جنم سیاسی و معاشرتی ناہمواریوں کے کوکھ سے ہوا تھا، ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی مان لینی چاہیے کہ وہ ناہمواریاں اتنی شدید نہیں تھیں جتنا انہیں بنا کر پیش کیا گیا، اور اگر کوئی یہ دلیل دے کہ مسائل تو شدید تر تھے، تو پھر یہ سوال خود بخود سر اٹھا لیتا ہے کہ ایم کیوایم نے کئی بار کی حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی قربت کے باوجود ان مسائل کو جوں کا توں کیوں رہنے دیا؟ اور اپنی تاسیس کے 38 برس بعد بھی شہر اور شہریوں کے مسائل جو ں کے توں کیوں ہیں؟\r\n\r\nاس کی وجہ واقعاتی اور تجزیاتی طور پر خود ایم کیو ایم ہی ہے. دراصل اس نے تمام مسائل کے حل کی طرف توجہ ہی نہیں دی. فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے میئرشپ کے ادوار اختیارات سے مزین تھے، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد 27 دسمبر 2002ء سے 9 نومبر2016ء تک اپنے فرائض انجام دیتے اور ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے، وہ بانی ایم کیو ایم کی آنکھ کا تارا تھے (لیکن چند اقدامات نے ان کے قدم بھی باندھ دیے تو ان سے 2 برس قبل اعلان لاتعلقی کردیا گیا)۔\r\n\r\nاس وقت پرویز مشرف وفاق اور صوبے میں ارباب غلام رحیم اور بعدازاں آصف زرداری کی حکومت تھی اور اسے عروج کا دور خود کارکنان ایم کیو ایم بھی کہتے ہیں. پارٹی کے کئی وفاقی اور صوبائی وزراء وہ تمام مسائل بآسانی حل کراسکتے تھے، اگر وہ ان کی ترجیح میں ہوتے تو، لیکن یہ چشم فلک نے دیکھا کہ ایم کیو ایم کا پورا زور کارکنان کے لیے نوکریوں کا حصول، مخالف سیاسی و مذہبی جماعتوں سے رسہ کشی اور حکومتوں کو بلیک میل کر کے اپنی قیادت کے لیے فوائد کا حصول رہا۔\r\n\r\nایم کیو ایم جس پر پہلے بوری بند لاش، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے بڑے جرائم کے الزامات عائد کیے جاتے تھے، کیس کی فائلیں تیار ہوتی تھیں مگر پھر این آر او ٹائپ کی چیز آتی اور سب کچھ صاف یعنی سب کچھ معاف ہوجاتا، لیکن بعد ازاں موٹی رقم کے لیے فیکٹری کے مزدوروں تک کو آگ لگانے اور شہر کی زمینوں کی چائنا کٹنگ کے الزامات بھی زبان زد عام ہوئے، جو آج بھی زیر سماعت ہیں۔\r\n\r\nاگر ہم خاص طور پر 2010ء سے 2013ء تک کے اخبارات کو کھنگالیں تو یہ بات شاید پوشیدہ نہ رہے کہ شہر میں ہر روز اوسطاً 7 لاشیں گر رہی تھیں، 10 میں سے 4 شہری اپنے موبائل فون یا نقدی سے محروم ہوجاتے تھے جبکہ جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان قتل و غارت گری بھی عروج پر تھی، ان تمام ہی معاملوں کا الزام ایوان اقتدار میں موجود ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی یا پھرغیر ریاستی عناصر میں طالبان پر لگایا جاتا تھا، ایسے میں شہر کے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے آپریشن کا مطالبہ کیا جاتا تھا، بلکہ ایم کیو ایم تو فوجی آپریشن کا مطالبہ کرتی تھی، لیکن نوازشریف کی حکومت نے رینجرز کو اختیارات دیے اور پھر کارروائیاں شروع ہوئیں، تو ان سب نے جو آپریشن کا مطالبہ کر رہے تھے، خاص طور پر ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور اے این پی، وہ اس کی درستی اور صحت سےانکاری ہوگئیں۔ لیکن شہر میں گرنے والی لاشوں کی تعداد میں بتدریج کمی آئی، اسٹریٹ کرائم کم سے کم ہوتے گئے اور تاجر، طالب علم اور شہریوں کی سانسیں بحال ہوئیں۔\r\n\r\nآپریشن کے دوران جہاں پیپلزپارٹی اور اے این پی سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ عناصر گرفتار ہوئے وہیں ایم کیو ایم کے لوگوں کی گرفتاریاں بھی ہوئیں، کئی کارکنان کی گرفتاری اور لاپتہ ہونے کے سلسلے نے ایم کیو ایم کی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا، اس دوران ہی بانی ایم کیو ایم نے اپنی متعدد تقرریوں میں متنازعہ باتیں کیں، جن میں کارکنوں کی اسلحہ کی تربیت اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے معاونت کی اپیلیں بھی شامل ہیں، اور پھر ہر بار اس پر ریاست پاکستان سے غیر مشروط معافی بھی مانگ لی، جب یہ سلسلہ دراز ہونے لگا تو عدالتی فیصلے کے بعد ان کی تقاریر نشر اور شائع کرنے پر پابندی عائد کردی گئی، زمینی حقیقت یہ تھی کہ ایم کیو ایم کا کارکن اگر قائد کی تقریر کومبنی برحقائق قرار دیتا تو معافی مانگنے پر اس کےلیے معافی کا دفاع مشکل ہوجاتا اور بلآخر کارکنان اور قائد میں فاصلہ بڑھتا رہا۔\r\n\r\nساتھ ہی مارچ 2016ء میں وطن لوٹنے والے سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے ڈاکٹر عمران فاروق اور لندن کے منی لانڈرنگ کیس کے تناظر میں ایم کیو ایم بانی پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے معاونت کے الزامات عائد کیے، پارٹی قائد کی متنازعہ تقاریر، الزامات، لندن میں گرفتاری اور مقدمات اور پھر جرائم میں سزا پانے والے کئی کارکنوں سے اظہار لاتعلقی کے اعلانات نے کارکنان کو اور برگشتہ کردیا۔\r\n\r\nیہی وجوہات تھیں کہ جب ایم کیو ایم کراچی پریس کلب کے باہر کارکنان کی بازیابی کے لیے دھرنا دیے بیٹھی تھی تو کارکنوں کی بڑی تعداد اس سے لاتعلق رہی، چند ماہ پہلے تک ایم کیوایم اپنے کارکنوں کے بل پر بہت بڑے عوامی اجتماعات کرتی آئی تھی، پارٹی کی مرکزی قیادت کا وفاق اور صوبائی حکومت سے مذاکراتی عمل جاری تھا اور کئی لوگوں کے مطابق معاملات تقریباً طے پاگئے تھے کہ بانی ایم کیو ایم نے پا کستان مخالف نعرے لگادیے، کارکنوں نے میڈیا ہاؤسز پر حملے کیے، اس دوران ایک شخص جان کی بازی بھی ہار گیا، پھر کیا تھا، رینجرز حرکت میں آئی، اور ایم کیو ایم کی پاکستان میں موجود قیادت نے اپنے قائد اور ان کے بیانات سے اعلان لاتعلقی کردیا۔\r\n\r\nبعد ازاں شہر کی سیاست نے نیا رخ اختیار کرلیا، وہ کیا تھا؟ یوم شہداء پر جو کچھ ہوا، وہ کیا تھا؟ اور پھر کراچی میں ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں کو یہ کیوں محسوس ہوا کہ ہمارے ساتھ تو وہ سلوک کیا جا رہا ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کرتی ہے؟ اس میں موجود جوہری فرق پر بات کی جانی چاہیے تو ہم آئندہ اس پر ہی بات کریں گے۔