مدحت مصطفی ﷺ - محمد سعد چوہدری

انسان اگر لفظوں کو زمزم سے وضو کروائے اور تخیل کو احرام پہنا دے، اور پھر جب سیرِت سرکارﷺ لکھنے بیٹھے تو بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اب بھی الفاظ قلم پر آنے کو تیار نہیں، کہ جیسے موضوع کا ادب یہ الفاظ انسانوں سے بھی زیادہ کرتے ہیں. یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا. اتنا تو میں آشنا ہوں کہ میں ادب سے ناآشنا ہوں. میرے علم میں یہ بھی ہے کہ میرے علم میں کچھ بھی نہیں ہے. مجھے ادراک ہے اس بات کا کہ میں سرکارﷺ کی عظمتوں اور رفعتوں کا ادراک نہیں رکھتا. میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں. میں سمجھتا ہوں کہ میں آپﷺ کی زیستِ طیبہ کا ایک باب بھی نہیں سمجھتا، مگر پھر بھی کچھ میں اس موضوع پر خامہ فرسائی کرنے بیٹھ گیا کیونکہ رب نے کہا ہے \r\n”واما بنعمت ربک فحدث“\r\nاور پھر یہ نعمت تو وہ نعمت ہے جسے بیان کرتے ہوئے زندگی بیت جائے، قلم ٹوٹ جائیں، سیاہی سوکھ جائے، الفاظ روٹھ جائیں مگر اس نعمت کا شکر ادا ہو سکے نہ اس نعمت کا حق ادا ہو سکے.\r\n\r\nایک لمحے کو پیچھے جائیے...\r\n\r\nاپنی برتری کے لیے انسان کو اپنے قدموں میں روندنے والی ”سپارٹن تہذیب“ تاریخ کا بدنما داغ بن کر کھڑی ہے.\r\nانسان کو انسان کا غلام بنا دینے والی ”رومن تہذیب“ جو تمدن کو پاتال کی گہرائی میں پھینک کر اپنے وجود کا خود قتل کر چکی ہے.\r\nمذہب کے لبادے میں ”پاپائیت“، ”الٰہیات“ کے نام پر دھبہ بن چکی ہے.\r\nفارسی تہذیب عفت و عصمت کے پّنوں کو اپنی تہذیب کی کتاب سے نوچ کر پھینک چکی ہے.\r\nعرب مملکتیں عصبیت کے سائے تلے پنپ رہی ہیں.\r\nحجاز کی سرزمین کے مکین جہالت کے ایسے اندھیروں میں ڈوب چکے ہیں کہ شاہِ فارس ان پر فوج کشی کرنا بھی گوارا نہیں کرتا.\r\nظلمتوں کی سیاہی نے پورے عالم کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے.\r\n\r\nایسے وقت میں\r\n\r\nفاران کی چوٹیوں سے ایک ”آفتاب“ پوری آب و تاب سے طلوع ہوتا ہے، جو نفرتوں کو محبتوں میں بدلتا ہے، جو کدورتوں کو الفتوں کے پیرہن پہناتا ہے، جو جانی دشمنوں کو ایک دوسرے کے لیے جانثار بناتا ہے، جو جاہلوں کو عالم بناتا ہے، جو غلاظت میں لتھڑی تہذیبوں کو ”اسلام“ کی چادر اوڑھاتا ہے، جو انسانیت کو ایک نیا وجود دیتا ہے، جو دنیا کا نقشہ بدل دیتا ہے. وہ ”سراجِ منیر“ ہدایت کا ایسا دمکتا ہوا ستارہ ہے جس کی پیروی میں دنیا کے ہر انسان کے لیے کامیابی ہے.\r\n\r\nآنحضرتﷺ کی سیرت کے کس حصے کو بیان کیا جائے اور کس قدر بیان کیا جائے. جس قدر بھی کیا جائے حق ادا ہو ہی نہ سکے اور یہی تو حق ہے کہ حق ادا ہو ہی نہ سکے. آنحضرتﷺ نے انسانی زندگیوں میں جو انقلاب برپا کیا، اس کی مثال نہیں ملتی، تاریخ گواہ ہے کہ ایسی کوئی شخصیت پہلے کبھی آئی اور نہ کبھی آئے گی.\r\nسرکارﷺ کی پیدائش سے لے کر رحلت تک، بچپن سے لے کر بڑھاپے تک، جوانی سے لے کر ادھیڑ عمری تک، امانت سے لے کر تجارت تک، صداقت سے لے کر شجاعت تک، شعبِ ابی طالب کی قید سے لے کر حکومت تک، ہجرت سے لے کر حدیبیہ تک، سفرِ طائف سے کر فتحِ مکہ تک، بدر سے لے کر تبوک تک، یثرب آمد سے لے کر اسلامی فلاحی ریاست کے قیام تک، زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک گوشہ لائقِ تقلید ہے.\r\nآپﷺ کا بچپن ایسا کہ حلیمہ سعدیہ کہتی ہیں کہ دودھ پیتے ہوئے جب اپنا حصہ پی لیتے تو پھر منہ تک نہ لگاتے.\r\nبنو سعد کے لوگ کہتے ہیں کہ ایسا فرمانبردار بچہ ہم نے کبھی نہ دیکھا... \r\nجوانی ایسی کہ کہ شباب کو خود پر بھی فخر محسوس ہونے لگے، لکھا ہے کہ عرب جیسے معاشرے میں بھی کبھی عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا. \r\nصاف گوئی اور صداقت ایسی کہ ابھی اسلام سے محروم حالتِ کفر میں کھڑا ابوسفیان بھی قیصرِ روم کے دربار میں کہہ رہا تھا ”وہ تو ہمیشہ سے ہی سچا ہے، ہم نے اسے اعلانِ نبوت سے پہلے بھی کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا.“ \r\nاسلام لانے کے بعد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے ”اگر جھوٹ کو معیوب نہ سمجھتا ہوتا تو میں اس دن قیصر روم کے دربار میں جھوٹ بول دیتا مگر میں محمدﷺ کی شان میں چاہ کر بھی کوئی کمی نہ کر سکا.“ \r\nعدل ایسا کہ فرمایا ”اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس پر بھی اللہ کی قائم کی ہوئی حد نافذ ہوتی.“\r\nانصاف ایسا کہ حدیبیہ کے معاہدے کے بعد ابو جندل رضی اللہ عنہ کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ معاہدے کے مطابق ایسا ہی ہے۔“\r\nتوکل ایسا کہ 313 کے بےسروسامان گروہ کو 1000 سے فتحیاب کروایا.\r\nرفاقت ایسی کہ اپنے رفیق کی شہادت کی خبر سن کر 1400 صحابہ سے موت کی بیعت لے لی کہ عثمان کا بدلہ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے. \r\nمعاملہ فہمی ایسی کہ حجر اسود کی تنصیب کا مرحلہ آیا تو قریب تھا کہ تلواریں بے نیام ہوتیں، آپﷺ کی معاملہ فہمی نے سب کو راضی کر لیا اور سب کہنے لگے ھذا محمد ھذا الامين قد رضينا بہ\r\nکرامات ایسی کہ انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کر دیں، پتھر ہاتھ میں آ کر کلمہ پڑھنے لگیں۔\r\nرب سے قربتیں ایسی کہ صاحبِ معراج اور صاحبِ ”قاب قوسین“ ٹھہرے، کہا گیا ”ثم دنیٰ فتدلیٰ“ \r\nرب کی خشیت ایسی کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی رات کر ہر نماز میں یہ دعا مانگا کرتے تھے ”اللھم حاسبنی حساباًیّسیرا“ (اے اللہ مجھ سے حساب آسان لینا) لکھا ہے کہ فرمایا کرتے تھے ”اگر میں بھی جنت میں جاؤں گا تو صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت سے.“ \r\nجلال ایسا کہ عمرو ابن العاص فرماتے ہیں، اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ حضورﷺ کی شکل مبارک کیسی تھی تو میں نہیں بتا سکوں گا کیونکہ ہماری نظریں حضور کے چہرے کی تاب نہ لا سکتی تھیں، حضور کی آنکھوں کا جلال آنکھوں سے آنکھیں نہ ملنے دیتا تھا.\r\nرحمدلی ایسی کہ جان سے پیارے چچا کے قاتل کو نم آنکھوں سے معاف کر رہے ہیں۔\r\nشفقت ایسی کہ جس شہر والوں نے مصیبتوں کے پہاڑ توڑ کر شہر بدر ہونے پر مجبور کر دیا، انھی شہر والوں پر فتح نصیب ہوئی تو نام لے لے کر کہہ رہے ہیں ”لا تثریب علیکم الیوم“.\r\nتربیت ایسی کہ آپ کی تربیت میں رہنے والوں نے دنیا میں وہ مقام پیدا کیا جس کی نظیر دنیا آج تک ڈھونڈ رہی ہے.\r\nرحمت ایسی کہ نعلین لہو سے تر ہیں، جسم پتھروں سے لہو لہان ہو چکا ہے، اور فرشتہ آ کر کہتا ہے کہ آپ اجازت دیجیے، میں طائف کی بستی کو پہاڑوں کے بیچ پیس دوں گا تو کہتے ہیں کہ یہ نادان ہیں، مجھے جانتے نہیں، اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو ان کی اولادیں ضرور ایمان لے آئیں گی. وہ کیا لمحہ ہوگا جب دندان مبارک شہید ہوئے، سر پر پتھر پڑنے کی وجہ سے دوعالم کے سردار گڑھے میں گر گئے، جب طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے نبیﷺ آپ اس قوم کے لیے بد دعا کریں کہ جس نے اپنی نبیﷺ کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا تو فرمایا ”میں لعنت کرنے نہیں آیا میں تو رحمت بن کر آیا ہوں.“\r\nمقام ایسا کہ دوست ملے تو صدیق، عمر، عثمان و علی جیسے، ساتھی ملے تو ابن عاص، خالد، عباس اور زبیر جیسے، جانثار ملے تو ابو دجانہ اور خبیب جیسے. لکھا ہے کہ خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی پر چڑھایا جانے لگا تو ان سے کہا گیا کہ اپنے نبی کو گالی دو جان بخش دیں گے، خبیب بولے رب کعبہ کی قسم مجھے یہ گوارا نہیں کہ میری جان بخش دی جائے اور میرے حبیب کو ایک کانٹا بھی چھبھے، سولی پر چڑھ گئے اور اس سولی کو بھی سر اٹھا کر فخر و غرور کا پہناوا پہنا دیا. یہ ابو دجانہ ہیں جو اپنی پیٹھ پر ہر تیر لیتے ہیں اور اپنا چہرہ سرکار کی طرف کیے ہوئے ہیں کہ سرکار کی چہرے پر نظر پڑ رہی ہے اور کمر تیروں سے چھلنی ہو رہی ہے مگر مجال کہ ایک تیر کی بھی اتنی جرات ہوئی ہو جو ابو دجانہ کے ہوتے ہوئے سرکارﷺ کی طرف بڑھے. \r\nعظمتوں بلندیوں کا ایسا مقام دنیا میں کسے ملا ہو گا.\r\nغرض یہ کہ وہ کامل ہیں، اعلیٰ ہیں، ارفع ہیں، آپﷺ کی زندگی کا ایک ایک پہلو اپنے اندر ہر طائفہ انسانی کے لیے رہنمائی رکھتا ہے. زندگی کی کتاب کے جس باب سے بھی انسان کا تعلق ہو، اس لیے مکمل نمونے کی صورت میں آنحضرتﷺ کی سیرت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو سکتا. آپ ﷺ نے انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کے اللہ کی بندگی میں دیا. آپ نے انسانیت کو وہ مقام دیا جس کی تلاش وہ ازل سے کر رہی تھی.\r\nدنیا میں ہر مثبت ذہن خدا کی محبت کا دعویدار یا متلاشی ہے.\r\nمگر خدا یہ کہتا ہے کہ اگر میری محبت کا دعوی کرتے ہو تو میں بھی تم سے محبت کروں گا مگر پیروی میرے حبیب کی کرنی ہوگی، پیمانہ انہیں بنانا ہوگا، محبتوں کا من پسند انداز بھی قابلِ قبول نہیں، حبیب ﷺ کے قدموں پر چل کر آنا ہو گا۔ اعلان کروایا کہ ان سے کہہ دیجیے\r\n”ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“\r\n\r\nحرف آخر\r\nآپ رحمت بن کر آئے اور آپ کی پیروی ہی نجات کا راستہ ہے. آپ کی پیروی ہی اس عروج کا زینہ ہے جس سے قیصر وکسری کے برج الٹ دیے.