ہوم << فحاشی کا کاروبار اور نوجوان نسل - مبین سرور

فحاشی کا کاروبار اور نوجوان نسل - مبین سرور

مبین سرور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اکیسویں صدی میں نت نئے کاروبار متعارف کروائے ہیں۔ انہیں میں سے ایک فحش ویب سائٹس کا بزنس ہے جس کا تمام تر انحصار جسم فروشی کے بزنس پر ہے۔ 2006ء کے اعداد و شمار کے مطابق فحش ویب سائٹس نے پوری دنیا میں 97.6 بلین ڈالر کا بزنس کیا جو کہ Microsoft ،Google اورApple کے مشترکہ منافع سے بھی زیادہ تھا۔ 2006ء میں امریکہ کی Hollywood Film Industry نے 507 فلمیں بنائیں اور 8.8 بلین ڈالر کمائے جبکہ اسی سال فحش ویب سائٹس نے امریکہ میں 13.3 بلین ڈالر کمائے اور یہ ABC CBS اور NBC جو کہ مشہور ترین نیوز چینل ہیں کے مشترکہ منافع سے زیادہ تھا۔ 2007ء میں اس بزنس کا ٪50 امریکہ کما رھا تھا۔ اور آج پوری دنیا میں روزانہ 26 کروڑ ڈالر اس بزنس سے کمائے جا رہے ہیں۔ میرا مقصد یہاں اعداد و شمار کے انبار لگانا نہیں مزید حقائق کے لیے آپ Family Safe Media اور National Sexual Violence Resource Center کی ویب سائٹس دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب، افیون، چرس، مختلف قسم کی میڈیکل پراڈکٹس اور ہوٹل ریسٹورنٹس کے کاروبار کا انحصار بھی انھی پر ہے۔
ان دونوں بزنس کا تمام تر انحصار نوجوان نسل پر ہے اور ساتھ میں اس کو معاشرے میں ایک خاص قسم کا ماحول درکار ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں ٹینشن، ہیجانی کیفیت، فحاشی، لڑائی جھگڑے اور خاندانی نظامِ زندگی کی توڑ پھوڑ ہو، وہاں یہ دونوں کاروبار خوب پروان چڑھتے ہیں۔ پاکستان تقریبا ٪60 کے قریب نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے۔ بھارت کو اس کاروبار کا مرکز بنانے کے بعد اب ان کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ کلچرل شوز، میوزک کنسرٹز، یومِ بہاراں، لیٹ میرج کو فیشن بنا کے پیش کرنا اور ساتھ میں حقوقِ نسواں کی پھکّی اسی لیے تیار کی جا رہی ہے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس پھکّی کو مزید مسالے دار اور چٹخارے دار بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی قانونا جرم ہے اور اب اس قانون کو مزید سیکولر لبرل نواز بنانے کے لیے عمر کی حد کو بیسں سال اور ساتھ میں چھ ماہ قید اور پچاس ہزار روپیہ جرمانہ کیا جا رہا ہے، نئے قانون کے تحت پوری برات بھی جیل جائے گی۔ سیکولر لبرل طبقہ کے من پسند ممالک یورپ امریکہ میں ایک چودہ سال کی لڑکی کو جسم فروشی کا قانونی طور پر مکمل حق حاصل ہے مگر یہاں اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کرنے پر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ روس سے لڑنا تو جہاد ہے مگر امریکہ سے لڑنا دہشت گردی یعنی امریکہ میں چودہ سال کی لڑکی جسم فروشی کرے تو ٹھیک مگرپاکستان میں اٹھارہ سال کی عمر میں نکاح عورت کے حقوق پر قبضہ ہے۔ واہ رے سیکولر لبرل تیری سوچ۔
جس طرح کے حالات ہیں، بعید نہیں کہ پاکستان میں شادی کو مزید مشکل بنانے کے لیے چند سال میں کم سے کم سیلری (Minimum Salary for Marriage) کا قانون بھی پیش کر دیا جائے۔ حقوقِ نسواں کی آڑ میں فحاشی اور جسم فروشی کو فروغ دینا ایسے ہی ہے جیسے شراب کی بوتل پر شہد کا لیبل لگا کر فروخت کیا جائے۔
مسئلہ صرف اور صرف یہ ہے کہ یہ طبقہ عورت کی نیلامی کرنا اور گائے بھینس کی طرح منڈی لگا کر پیسہ کمانا چاہتا ہے اور بروقت شادی اس راستے میں رکاوٹ ہے۔ Convenant Eyes کی ریسرچ کے مطابق شادی شُدہ لوگ (Happily Married People) اس طرف ٪61 کم مائل ہوتے ہیں اور نبی پاکﷺ کی حدیث مبارکہ بھی ہے کہ جس نے نکاح کیا اُس نے اپنا نصف ایمان محفوظ کر لیا (مفہوم)۔
(جاری ہے)

Comments

Click here to post a comment