ہوم << جماعت اسلامی کا اجتماع عام اور ناقدین - ارشد زمان

جماعت اسلامی کا اجتماع عام اور ناقدین - ارشد زمان

ارشد زمان جماعت اسلامی نے اجتماع کے لیے بھرپور، منظم اور وسیع پیمانے پر تیاریوں کا آغاز کیا تو بہت ساروں کی بےچینیاں بڑھنا شروع ہوئیں اور دلوں میں پڑنے والے تعصبات نے سر اٹھانا شروع کیا. اجتماع کا باقاعدہ آغاز ہوا اور میڈیا کے متعصبانہ صرف نظر کے باوجود کچھ نہ کچھ اطلاعات آنا شروع ہوئیں اور مرد و خواتین کا تاریخی، مثالی، منظم، باوقار اور متاثر کن اجتماع کو یار دوستوں نے ایک لمحے کےلیے دیکھا تو دلوں میں مدتوں سے پڑی نفرتوں نے مچلنا شروع کر دیا اور خیرخواہی کے ایک دو رسمی بول بولنے کے بجائے دل کی بڑھاس نکالنے میں جت گئے۔
ہمارے قوم پرست محترم تو مسلسل یہ تاثر قائم کرانے میں ہلکان ہوتے رہے کہ یہ دینی نہیں بلکہ ایک عام روایتی جلسہ ہے اور یہ اسلام کی کوئی خدمت نہیں۔
کئی انصافی دوست بھی بےقرار رہے اور یہاں تک فرمایا کہ خواتین منافقت کے نقاب پہنے ہوئی ہیں۔
ایک جیالے کی جلن کچھ زیادہ بڑھی تو کہا کہ یہ چوروں کا جلسہ ہے۔
کئی لیگیوں کی بے چینی بھی چھپ نہ سکی اور طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر اجتماع میں واقعی اتنی بڑی تعداد موجود ہے تو ووٹ کیوں نہیں ملتا؟
محبین اسلام و علماء بھی مضطرب ہوتے پائے گئے اور طعنوں کے تیر برساتے رہے کہ ایک جانب اسلامی پاکستان کے وعدے اور دوسری جانب ایک ایجنٹ کے ساتھ ملاپ؟
کئی ایسے بیچارے جو صبح، دوپہر، اور شام کو وابستگیاں اور سوچ تبدیل کرتے رہتے ہیں، انھیں بھی جلن کیوجہ سے چیخنا پڑا اور شکوہ کرتے پائے گئےکہ اردگان، طارق جمیل اور آفریدی کیوں نہ آ سکے؟
ہم سوچ میں پڑ گئے کہ یہ تو دل کے پھپھولے تھے جو پھوڑے جاتے رہے مگر اگر واقعی یہاں کچھ خرابی نظر آتی اور کچھ ہاتھ آتا تو آسمان کیسے سر پر اٹھایا جاتا؟
اگر اس اجتماع میں
تھپکی دینے کے لیے کوئی ہندوستانی وفد تشریف لاتا؟
عین اجتماع کے دوران کوئی کلدیپ نیئر انکشاف فرماتا کہ اس جماعت کے قائد نے پاکستان کے ٹکڑے کرنے میں بروقت تعاون نہ کرنے پر ہندوستان سے شکوہ کیا تھا، تو کیسی قیامت ہوتی؟
کوئی پختون خاتون مردوں والی ہیئر کٹنگ لیے سٹیج پہ کھڑے ہوکر جذبات بھڑکاتی؟
اگر ایک لمحے کے لیے بھی کوئی مخلوط ماحول ملتا؟
ڈھول کی تھاپ پر سب ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مدہوش ہوتے؟
حوا کی بیٹیوں کو یوں سرعام نچوایا جاتا اور تھرکنے، لہکتے، مچلتے اور ٹھمکتے جسم دیکھنے کو ملتے؟؟
کسی ایسے قائد کو تقریر کرتے پکڑا جاتا کہ جو متاثرین کو ملنے والے ہار تک چوری کرکے بیوی کے گلے کا زینت بنا دیتا؟
وہ کوئی تاریخی چور، ڈاکو، لٹیرا اور قاتل جو ملک سے فرار ہو کر باہر مستیوں اور عیاشیوں میں مصروف ہو، یہاں جذبوں کو ابھارتے دیکھا جاتا؟
کوئی پانامہ لیکس کے بے شرمی والے ہار کو گلے میں سجا کر ارشاد فرماتے سنا جاتا؟
کوئی اسلام کے محافظ اور جذبات کو انگیخت کرانے والے شاطر سیاستدان سے سوال کرتا دیکھا جاتا کہ
جناب، آخر یہ نظریات اور اصول کس بلا کا نام ہے؟
کسی بھی حکومت کا دم چھلا بننا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟
جو شراب کے نشے میں بکواسیات اور خرافات بکتے رہتے۔
ایسا سوچ کر تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ پتہ نہیں، کیا حشر کیا جاتا؟
دوستو!
یہ ظرف، بڑاپن اور شائستگی بھی کسی چیز کا نام ہے۔
ایک دینی سیاسی جماعت نے اپنے ہی وسائل اور رضاکاروں کے بل بوتے پر اتنا خوبصورت شہر بسایا جہاں لاکھوں مرد، خواتین، بچے، بوڑھے اور معزز جمع ہوئے اور بغیر کسی ہڑبونگ، دھکم پیل، شر، فساد اور ناخوشگوار واقعے کے بہت ہی سنجیدگی، حیاء، عزت اور وقار کے ساتھ دو دن گزار دیے اور دن کے پانچوں وقت بیک وقت لاکھوں جبینیں اپنے رب کے سامنے جھکی رہیں، جہاں ایمان کی تازگی، نفس کی پاکیزگی، رب کی کبریائی، ملک وملت کی سربلندی، قوم کی یکجہتی اور امت کی سرفرازی کے تذکرے ہوتے رہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ خیر خواہی کے کوئی دو بول بولے جاتے؟