ہوم << عصر حاضر میں علماء کا کردار - فرخ سعید

عصر حاضر میں علماء کا کردار - فرخ سعید

فرخ نبوت و رسالت کا سلسلہ جو حضرت آدم علیہ سلام سے شروع ہوا ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر ختم ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی و رسول ہیں اور آپ کے بعد کوئی نیا نبی یا رسول کسی بھی شکل میں تا قیامت تک نہیں آئیگا۔ دین کی تکمیل کردی گئی پر اشاعت دین کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور اسکی بھاری ذمہ داری علماء کرام کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ چنانچہ علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا۔
آج اگر ہم اپنے ارد گرد اور معاشرے کے منفی رجحان پر نظر ڈالیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کے عوام اور علماء کے درمیان فاصلے اور دوریاں دکھائی دیتی ہیں۔ علماء کو وراثت کی کرسی پر بٹھانے کا ایک مقصد غالبا یہ تھا کہ وہ معاشرہ میں ایسی ہم آہنگی پیدا کریں کہ لوگ دینی و دنیاوی دونوں مسائل کے حل کیلئے علماء سے رجوع کریں اور علماء شریع حدود میں رہتے ہوئے انکی رہنمائی کریں۔ پر افسوس عصر حاظر میں مقتدی اور عالم دونوں کے درمیان فاصلے کی ایسی لکیر ہے کہ سوائے چند افراد کے نہ تو مقتدی عالم سے رجوع کرتے دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی عالم مقتدیوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
میرے خیال سے اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ علماء حق نے اپنا قردار صرف ممبر رسول پر تقاریر کرنے تک محدود کر لیا ہے۔ علماء نے دین و دنیا کے معاملات کہ اندر ایسی تفریق کھینچ دی ہے کہ عام مسلمان تذبب کا شکار ہوکر نہ تو پوری طرح دینی نظر آتے ہیں نہ دنیاوی۔ حالانکہ دینی و دنیاوی امور اور معمولات ایک دوسرے سے الگ نہیں جیسا کہ سمجھا گیا ہے۔ اس سے بڑھ کر علماء کے آپس کے مسلکی اختلافاتوں نے عام مسلمانوں کو بھی تفریق میں ڈال دیا ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور اسکی سوچ و عقیدہ کا احترام کرنا گویا جرم بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
عصر حاظر کے بڑھتے مثائل، دہشتگردی، انتحا پسندی اور جہالت اپنے عروج کو چھو رہی ہے جو معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔ ہر شخص دینی تعلیمات کی تشریح اپنے مقاصد، اپنے مفاد میں کرتا دکھائی دے رہا ہے اور نقصان صرف اور صرف امت کا ہو رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ علماء اصلاح معاشرہ میں اپنا وہ کردار ادا کریں جس کیلئے انکو وراثت کا عظیم مقام عطا کیا گیا ہے۔
دین کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دنیاوی امور کی تعلیمات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ٹیکنالوجی کا یہ دور تقاضا کرتا ہے کہ علماء سب سے پہلے خد جدید علوم سے روشناس ہوں اور پھر جدید وسائل کو بروئیکار لاکر اسلامی تعلیمات اور احکامات کو دنیا بھر میں پھیلائیں جس طرح طاغوتی قوتیں اپنا منفی و گمراہ کن پیغام پھیلا رہی ہیں، نہ کے اپنی محنت صرف ان چند لوگوں تک محدود کرلیں جو خد چل کر علماء سے رجوع کرتے ہیں۔
علماء کو اپنا کھویا ہوا وقار اور اعتبار حاصل کرنے کی محنت کرنی ہے تاکہ لوگ اپنے ہر طرح کے مسائل بیان کرنے میں ہچکٹاہٹ محسوس نہ کریں۔ سیاست، سائنس، دیگر جدید علوم، اسکری محارت، کھیل اور دیگر شوبہ جات میں علماء کو اپنا قردار ادا کرنے کی اشد ظرورت ہے نہ کہ انکے خلاف فتوے دیکر روائتی خطبوں تک محدود ہونے کی جو دوریوں اور فاصلوں کا بائث بن رہے ہیں۔
عصر حاظر کا تقاضا ہے کہ انبیاء کے وارثین امت مسلمہ کی رہنمائی کریں، آپس کے اختلافات کو پس پشت ڈال دیں، ممبر رسول سے محبت و اخوت کا درس دیں اور فرقہ واریت کی نہ ختم ہونے والی آگ کو مزید ہوا نہ دیں۔ اپنے مسلک پر بے شک قائم رہیں پر دوسرے کے مسلک کا احترام کریں اسی میں قوم کی بقا بھی ہے اور امت کا بھلا بھی۔

Comments

Click here to post a comment