ہوم << بدلتا زمانہ اور ہمارے بدلتے اقدار- ماہم جمیل
600x314

بدلتا زمانہ اور ہمارے بدلتے اقدار- ماہم جمیل

تبدیلی ہی وہ واحد چیز ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔ ہر نسل کو یہی لگتا ہے کہ جس دنیا میں وہ بڑی ہوئی تھی، وہ آج کی دنیا سے زیادہ سادہ، زیادہ مہربان اور زیادہ سچی تھی۔ ہمارے دادا دادی یہ کہتے تھے، ہمارے والدین یہ کہتے ہیں، اور ایک دن ہم بھی یہی کہیں گے۔ یہی بدلتے زمانے کی حقیقت ہے، یہ کبھی رکتا نہیں۔

اگر ہم صرف بیس سال پیچھے جا کر دیکھیں تو زندگی بالکل مختلف تھی۔ خط پہنچنے میں دن لگتے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کا انتظار کرتے تھے۔ شام کو پورے خاندان کا ایک ساتھ بیٹھنا کوئی خاص موقع نہیں تھا، بلکہ ایک عام سی بات تھی۔ آج سب کچھ فوری ہو گیا ہے۔ ہم میسج بھیجتے ہیں اور سیکنڈوں میں جواب کی امید رکھتے ہیں۔ ہم بستر سے اٹھے بغیر کھانا منگوا لیتے ہیں۔ ہم ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے بات کر سکتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ساتھ بیٹھے شخص سے بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ٹیکنالوجی نے ہمیں سب سے زیادہ بدلا ہے۔ اس نے ہمیں وہ مواقع دیے ہیں جن کا ہمارے والدین نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ایک چھوٹے شہر کا طالب علم آج دنیا کے بہترین اساتذہ سے سیکھ سکتا ہے۔ ایک چھوٹا سا کاروبار صرف ایک موبائل فون سے پورے ملک کے گاہکوں تک پہنچ سکتا ہے۔ علم اب لائبریریوں میں قید نہیں رہا، وہ ہماری جیب میں ہے۔ یہ بدلتے زمانے کا خوبصورت پہلو ہے۔

لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم زیادہ جڑ گئے ہیں، لیکن زیادہ تنہا بھی ہو گئے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے روز سینکڑوں لوگوں کی زندگی کے بارے میں جانتے ہیں، لیکن اپنے ہی دوستوں کے دلوں کا حال نہیں جانتے۔ ہمارے پاس پہلے سے زیادہ انتخاب ہیں، لیکن ہم پہلے سے زیادہ الجھے ہوئے ہیں۔ صبر، جسے کبھی ایک خوبی سمجھا جاتا تھا، آج وقت کا ضیاع لگتا ہے۔ہماری قدریں بھی بدل رہی ہیں۔ پہلے کامیابی کا مطلب ایک مستحکم نوکری، ایک خوشحال خاندان اور معاشرے میں عزت تھا۔ آج کامیابی کو اکثر فالوورز، لائکس اور پیسوں سے ناپا جاتا ہے۔ بڑے خواب دیکھنا غلط نہیں ہے، لیکن جب ہم اپنے اندر کے سکون سے زیادہ اجنبیوں کی تصدیق کے پیچھے بھاگنے لگیں، تو کچھ اہم چیز کھو جاتی ہے۔بدلتے زمانے نے رشتوں کو بھی بدل دیا ہے۔ پہلے لوگ سمجھوتہ کرتے تھے، معاف کرتے تھے اور ساتھ رہتے تھے۔ آج ہم چھوٹی سی ناراضگی پر بلاک کر دیتے ہیں، اَن فالو کر دیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہم اسے عزتِ نفس کہتے ہیں، اور کبھی کبھی یہ ہوتا بھی ہے، لیکن کئی بار یہ صرف صبر کی کمی ہوتی ہے۔ سچے رشتے کبھی کامل ہونے پر نہیں بنے تھے، وہ سمجھ بوجھ پر بنے تھے۔

تو کیا بدلتا زمانہ اچھا ہے یا برا؟ سچا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں ہے۔ ہر دور اپنی خوبیاں اور اپنی مشکلات لے کر آتا ہے۔ دنیا خراب نہیں ہو رہی، وہ بس مختلف ہو رہی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ تبدیلی کو کیسے روکا جائے، کیونکہ ہم اسے روک نہیں سکتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ خود کو کھوئے بغیر کیسے آگے بڑھیں۔ہمیں ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا سیکھنا ہوگا، بغیر اس کے کہ وہ ہمیں استعمال کرنے لگے۔ ہمیں اپنی جڑوں کو تھامے رکھتے ہوئے نئی بلندیوں تک پہنچنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ دنیا چاہے کتنی ہی جدید ہو جائے، مہربانی، سچائی اور عزت کبھی پرانی نہیں ہوں گی۔آخر میں، بدلتا زمانہ دنیا کے بدلنے کا نام نہیں ہے۔ یہ اس بات کا نام ہے کہ ہم اس بدلی ہوئی دنیا میں کیسے انسان بننا چاہتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment