ہوم << اقبال کا تصورِ خودی – عبیدالرحمن
600x314

اقبال کا تصورِ خودی – عبیدالرحمن

خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

صاحب صدر و معزز سامعین !‏
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آج مجھے جس موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے ٬ وہ ہے :‏ ” اقبال کا تصورِ خودی ”

سامعین محترم !‏ خودی کا تصور ٬ اقبال کے پیغام کا وہ مرکزی نقطہ ہے ٬ جس کے گرد اقبال کا سارا پیغام گھومتا ہے ۔‏ اقبال کی تمام شاعری ٬ ساری کتابیں اسی ایک نقطہ کی تشریح کرتی نظر آتی ہیں ۔‏ اگر کوئی ہم سے کہے ٬ اقبال کے نظریے کو ٬ اقبال کے فلسفے کو ٬ اقبال کی سوچ کو ایک لفظ میں بیان کریں ؛‏ تو وہ ایک لفظ ” خودی ” ہوگا ۔‏ اگر کوئی پوچھے ٬ اقبال کیا چاہتے تھے ٬ تو جواب ہوگا ٬ اقبال ہماری خودی کو بیدار کرنا چاہتے تھے ۔‏ اگر کوئی سوال کرے ٬ اقبال کا انتہائی مقصد کیا تھا ٬ تو جواب ہوگا ٬ اقبال کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنی خودی کی اتنی تربیت کریں ٬ اسے اس قدر ترقی دیں ٬ اس قدر بلند کریں کہ ہماری رضا خدا کی رضا بن جائے ۔‏

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

حاضرین مکرّم !‏ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خودی کہتے کسے ہیں ؟‏ خودی کا مفہوم کیا ہے ؟‏ خودی کی تشریح کیا ہے ؟‏
تو سنیے !‏
خودی نام ہے ٬ خود آگاہی کا ۔‏ خودی نام ہے ٬ خود شناسی کا ۔‏ خودی نام ہے ٬ اپنی پہچان کا ٬ خدا کے عرفان کا ۔‏ خودی حیات بھی ہے ٬ راز حیات بھی ہے ٬ تحفظ حیات بھی ہے ٬ ترقی حیات بھی ہے ۔‏ خودی ایمان ہے ۔‏ خودی عشق ہے ۔‏ خودی ذوقِ تسخیر ہے ۔‏ خودی ذوقِ طلب ہے ۔‏ خودی یقین کی گہرائی ہے ۔‏ خودی سرچشمہِ جدّت و ندرت ہے ۔‏

خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے بیداریِ کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے

سامعین محترم !‏ خودی کی مزید وضاحت میں یوں کرتا ہوں ٬ کہ خودی کیا نہیں ہے ۔‏ خودی ٬ تن آسانی نہیں ۔‏ خودی ٬ بے ایمانی نہیں ۔‏ خودی ٬ جمود و بے حسی نہیں ۔‏ خودی ٬ جہالت و بے علمی نہیں ۔‏ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ٬ خودی نہیں ۔‏ لکیر کا فقیر بننا ٬ خودی نہیں ۔‏ دوسروں کا دست نگر ہونا ٬ خودی نہیں ۔‏ اپنی صلاحیتوں سے غفلت ٬ خودی نہیں ۔‏
بے فیضی ٬ بے طلبی ٬ بے ذوقی ٬ بے سوزی ٬ بے کیفی ؛‏ الغرض بے علمی ٬ بے عملی اور بے یقینی کی کوئی بھی قسم خودی نہیں اور اس کی ہر ضد خودی ہے ۔‏

خودی کی جلوتوں میں مصطفائی
خودی کی خلوتوں میں کبریائی
زمین و آسمان و کرسی و عرش
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment