شہروں میں انسانیت منہ چھپائے پھرتی ہے۔ یہاں مسکراہٹ ہونٹوں سے زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔ یہاں رہنے کے لیے، جینے کے لیے تاوان ادا کرنا پڑتا ہے، اور تاوان لینے والے بھی تاوان ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ یہاں آتش پرست رہتے ہیں، مگر سارے فیصلے ہوا کرتی ہے۔ جس طرح دھوپ کا نوحہ لکھنے کے لیے رات کا قلم اور پیاس کی روشنائی درکار ہوتی ہے، اسی طرح شہر کا ذکر کرنے کے لیے شور اور زر کی زبان درکار ہوتی ہے۔
شہروں میں زندگی ایک خوشنما اذیت کی طرح گزرتی ہے۔ یہاں ہر شخص جوئے میں لگی رقم کی طرح حیران و پریشان اور شرمسار رہتا ہے۔ یہاں ایک پیشانی کے لیے ہزاروں خدا آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ یہاں آوازیں سماعتوں کو ڈھونڈتی پھرتی ہیں۔ یہاں لوگ چار دیواری اور مکانوں کو ہی گھر سمجھتے ہیں۔ یہاں لوگ رات کو بستر پر لٹا کر خود ٹہلتے رہتے ہیں۔ یہاں سب انا والے ہوتے ہیں۔ تعلق اور محبت میں دونوں یا ایک کی انا کا خون شامل ہوتا ہے، اس لیے یہاں دوست نہیں، کلائنٹ ہوتے ہیں۔ یہاں لوگ صرف ضرورت کے تحت ہی آپس میں ملتے ہیں، اسی لیے رابطوں کا فقدان رہتا ہے۔رابطوں کا فقدان موت کی علامت ہے۔ گورکن کی زبان میں مردہ وہ ہے جس کی قبر پر کوئی نہیں آتا۔
اس حقیقت سے لوگ آشنا نہیں کہ رشتے، تعلق بہرحال مال و زر اور سکوں سے بہتر ہوتے ہیں، جو رابطے کے بغیر ختم ہو جاتے ہیں۔ شہروں میں مادہ پرستی کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں سب سے بڑی حقیقت مایا ہے۔ یہاں کوئی کسی کو محسوس نہیں کرتا۔ اگر رشتوں کو محسوس کرنا آ گیا تو رب مل جاتا ہے۔ اللہ کا جسمانی وجود نہیں، اس لیے صرف اللہ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔یہاں سب کے سروں پر معیشت سوار ہے۔ یہاں کے سقراط بھی گھر چلانے کے لیے جاہلوں کی نوکریاں کرتے ہیں۔ یہاں کوئی لاجواب ہو کر نہیں روتا، اس لیے سارے رشتے رسوا ہو جاتے ہیں۔ یہاں کوئی شے بھی بلا جواز نہیں، ہر جواز معیشت کے ساتھ منسلک ہے۔
’’یہاں سکون کی تلاش ایسے ہی ہے جیسے آذر سرشت شہر میں بندگی تلاش کرنا ہے۔ شہروں میں بے منزل سفر کا راج ہے۔ جس سفر کی کوئی منزل نہ ہو، وہ دائروں کا سفر ہوتا ہے، اور دائروں کا سفر صرف تھکا دینے کے لیے ہوتا ہے۔‘‘



تبصرہ لکھیے