ہوم << سیف سٹی اتھارٹی سے چالان سٹی اتھارٹی تک – سلمان احمد قریشی
600x314

سیف سٹی اتھارٹی سے چالان سٹی اتھارٹی تک – سلمان احمد قریشی

شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، جرائم کی روک تھام، ٹریفک کی روانی بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی تصور کے تحت سیف سٹی منصوبے متعارف کرائے گئے تاکہ شہروں کو محفوظ بنایا جا سکے اور شہریوں کو ایک ایسا ماحول میسر آئے جہاں وہ بلاخوف و خطر سفر کرسکیں۔

مگر جب تحفظ کے نام پر قائم نظام کا نمایاں ترین تجربہ شہریوں کے لیے بھاری ٹریفک چالان، مالی دباؤ اور روزمرہ مشکلات بننے لگے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا ہم واقعی سیف سٹی کی طرف بڑھ رہے ہیں یا شہریوں کے ذہنوں میں یہ تصور جنم لے رہا ہے کہ سیف سٹی اب چالان سٹی بن چکا ہے؟
سیف سٹی اتھارٹی کا بنیادی تصور جدید نگرانی، کیمروں، کنٹرول رومز، جرائم کی روک تھام، مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی، ہنگامی حالات میں فوری ردعمل اور ٹریفک مینجمنٹ کو ایک مربوط نظام میں لانا ہے۔ کیمروں کی مدد سے جرائم کی تفتیش، گاڑیوں کی شناخت، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور حادثات کی صورت میں متعلقہ اداروں کی معاونت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔پنجاب میں سیف سٹی منصوبوں کا دائرہ لاہور سے آگے بڑھاتے ہوئے دیگر شہروں تک وسیع کیا گیا۔ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر اوکاڑہ سمیت 18 شہروں میں منصوبے کے نفاذ کا ذکر موجود ہے۔ پنجاب ٹریفک پولیس کی شائع کردہ جرمانوں کی فہرست میں موٹر سائیکل پر ہیلمٹ کے بغیر سفر اور ون وے کی خلاف ورزی، دونوں پر 2,000 روپے جرمانہ درج ہے۔

تاہم ان منصوبوں کی کامیابی صرف کیمروں کی تنصیب یا چالان جاری کرنے کی تعداد سے نہیں ناپی جا سکتی۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ جرائم میں کتنی کمی آئی، حادثات کتنے کم ہوئے، ٹریفک کتنی بہتر ہوئی اور شہریوں کو تحفظ اور سہولت کتنی میسر آئی۔جدید نگرانی اور ٹریفک مینجمنٹ کے اقدامات سے توقعات وابستہ ہیں۔اس لئے متعلقہ حکام ہر شہر میں منصوبے کی تکمیل، فعال کیمروں، فراہم کردہ سہولیات اور حاصل شدہ نتائج کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ منصوبے پر خرچ ہونے والے وسائل سے شہریوں کو کیا فائدہ پہنچا۔ٹریفک قوانین کی پابندی کسی رعایت کی محتاج نہیں۔ ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانا سر کی سنگین چوٹوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ ون وے کی خلاف ورزی سامنے سے آنے والی ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کی جان خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ سرخ بتی عبور کرنا، تیز رفتاری، غلط پارکنگ اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال بھی حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ان خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر خلاف ورزی کے تدارک کا بہترین طریقہ صرف بھاری جرمانہ ہے؟

کیا حکومت کی ذمہ داری محض شہری کو قانون توڑنے پر سزا دینا ہے یا اسے قانون کی پابندی کے قابل بنانا اور اس کی رہنمائی کرنا بھی حکومتی ذمہ داری ہے؟ایک عام شہری کی ماہانہ آمدن محدود ہوسکتی ہے۔ کسی محنت کش، دیہاڑی دار، دکاندار یا نجی ملازم کے لیے بھاری چالان گھریلو بجٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے لیکن جرمانوں کی پالیسی بناتے وقت خلاف ورزی کی نوعیت، اس سے پیدا ہونے والا خطرہ، سزا کے تناسب اور شہریوں کی معاشی حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ قانون کی عمل داری کا مقصد اصلاح، تحفظ اور نظم و ضبط ہے، محض مالی بوجھ بڑھانا نہیں۔ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے دو ہزار روپے جرمانے کی پالیسی اپنی جگہ لیکن ایک قابلِ غور تجویز یہ بھی ہے کہ حکومت جرمانے کے ساتھ اصلاح کا راستہ بھی کھولے۔ مثال کے طور پر ابتدائی مرحلے میں ہیلمٹ نہ پہننے والے شہری کو آگاہی، مناسب قیمت پر معیاری ہیلمٹ کی فراہمی اور رعایتی سہولت دی جائے۔ کم آمدن والے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کی خریداری آسان بنائی جائے اور بار بار خلاف ورزی پر قانونی جرمانے کا نفاذ یقینی ہو۔یہ تجویز موجودہ قانون کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ پالیسی میں بہتری کے لیے زیرِ غور آنی چاہیے۔

ہیلمٹ کسی شہری کو محض چالان سے بچانے کے لیے نہیں بلکہ اس کی زندگی بچانے کے لیے ضروری ہے۔ اگر حکومت شہریوں کو قانون کی پابندی کی ترغیب دینا چاہتی ہے تو حفاظتی سامان کی دستیابی بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔اسی طرح ون وے کی خلاف ورزی پر کارروائی ضرور ہونی چاہیے کیونکہ یہ براہِ راست دوسروں کی جان خطرے میں ڈالتی ہے۔ البتہ جہاں سڑکوں کی ناقص منصوبہ بندی، واضح سائن بورڈز کی کمی، غیر ضروری یوٹرن یا پارکنگ کے مسائل شہریوں کو مشکلات میں مبتلا کرتے ہوں، وہاں انتظامیہ کو اپنی ذمہ داری بھی پوری کرنی چاہیے۔ صرف چالان کرکے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شہریوں کی تمام مشکلات حل ہوگئیں۔اندرونِ شہر موٹر سائیکلوں کی آمدورفت پر پابندی یا غیر معمولی سختیوں کے حوالے سے شہریوں کے خدشات کو بھی سنجیدگی سے سننے کی ضرورت ہے۔ موٹر سائیکل متوسط اور کم آمدن والے طبقے کی بنیادی سواری ہے۔ دکاندار، ملازم، مزدور، طلبہ اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد اسی ذریعے سے اپنے روزمرہ فرائض انجام دیتے ہیں۔

اگر کسی مخصوص بازار، سڑک یا علاقے میں ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہے تو انتظامیہ متبادل راستے، مخصوص اوقات، پارکنگ زون، پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے اور منظم ٹریفک پلان متعارف کرا سکتی ہے۔ لیکن کسی پابندی کے نفاذ سے پہلے اس کے اسباب، حدود، متبادل انتظامات اور مدت کے بارے میں شہریوں کو واضح طور پر آگاہ کرنا ضروری ہے۔ہیلمٹ پہننا بظاہر آسان ہے لیکن موٹر سائیکل سوار جب کسی دکان، دفتر، عدالت یا سرکاری ادارے میں داخل ہوتا ہے تو اس کے لیے ہیلمٹ رکھنے کی مناسب جگہ بھی ہونی چاہیے۔ بڑے تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر اور پارکنگ ایریاز میں محفوظ ہیلمٹ اسٹینڈ یا لاکر کی سہولت فراہم کرنا ایک چھوٹا مگر مفید قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ قانون شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کرے، اسے غیر ضروری الجھنوں میں مبتلا نہ کرے۔سیف سٹی کا اصل امتحان یہ ہے کہ جدید کیمروں اور خودکار نظام کے ساتھ شہریوں کو عملی سہولیات بھی میسر ہوں۔ سڑکوں پر واضح ٹریفک اشارے، درست لین مارکنگ، فعال سگنلز، مناسب پارکنگ، پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے، خراب سڑکوں کی مرمت اور ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی مہمات اس نظام کا لازمی حصہ ہونی چاہییں۔چالان جاری کرنے کے نظام میں شفافیت بھی ناگزیر ہے۔

شہری کو خلاف ورزی کی واضح تصویر، مقام، تاریخ، وقت اور متعلقہ قانون کی تفصیل فراہم کی جائے۔ اگر کیمرے یا نظام کی غلطی سے چالان جاری ہو تو اس کی تصحیح کے لیے آسان اور مؤثر طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔ شکایت درج کرانے اور اس کا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے شہری کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ جرمانوں کی وصولی کے اعدادوشمار کے ساتھ یہ بھی بتائے کہ ٹریفک حادثات میں کتنی کمی ہوئی، کتنے شہریوں کو آگاہی دی گئی اور کن مقامات پر ٹریفک کے مسائل حل کیے گئے۔ کامیابی کا پیمانہ صرف خزانے میں جمع ہونے والی رقم نہیں، بلکہ محفوظ سفر اور شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔ایک مثالی معاشرے میں شہری سرخ بتی پر اس لیے نہیں رکتا کہ کیمرہ موجود ہے بلکہ اس لیے کہ اسے دوسروں کی جان کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ ہیلمٹ اس لیے پہنتا ہے کہ اسے اپنی زندگی عزیز ہے۔ وہ ون وے کی خلاف ورزی سے اس لیے گریز کرتا ہے کہ اس کے چند لمحے کسی دوسرے خاندان کی زندگی بھر کی محرومی کا سبب نہ بن جائیں۔یہ شعور صرف جرمانوں سے پیدا نہیں ہوتا۔

اس کے لیے گھروں، تعلیمی اداروں، میڈیا، ٹریفک پولیس اور حکومت سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو کم عمری سے ٹریفک قوانین کی تعلیم دی جائے، والدین خود مثال قائم کریں اور انتظامیہ شہریوں کے ساتھ احترام اور سہولت کا رویہ اپنائے۔سیف سٹی اتھارٹی کا مقصد شہریوں کو محفوظ بنانا ہے، انہیں مالی مشکلات میں دھکیلنا نہیں۔ حکومت کو قانون کی عمل داری اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ جرمانہ خلاف ورزی روکنے کا ذریعہ ہونا چاہیے، حکمرانی کی کامیابی کا واحد معیار نہیں۔اگر جدید ٹیکنالوجی جرائم کی روک تھام، حادثات میں کمی، ٹریفک کی بہتری اور شہریوں کی حفاظت میں نمایاں کردار ادا کرے تو عوام خود اس نظام کی حمایت کریں گے۔ لیکن اگر شہریوں کو اس کا سب سے نمایاں پہلو صرف چالان اور بھاری جرمانے دکھائی دے تو تحفظ کا بنیادی مقصد پس منظر میں چلا جائے گا۔ضرورت ایسے سیف سٹی نظام کی ہے جس میں کیمرہ خلاف ورزی کی نشاندہی کرے، قانون منصفانہ کارروائی یقینی بنائے اور حکومت شہریوں کو سہولت فراہم کرے۔ منزل چالان سٹی نہیں، ایک محفوظ، منظم اور ذمہ دار شہری معاشرہ ہونا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment