جنگل میں اُس روز عجیب سی خاموشی تھی۔ درختوں کے پتے ہوا کے ساتھ سرگوشیاں تو کر رہے تھے، مگر پرندوں کی چہچہاہٹ میں وہ بے فکری باقی نہیں رہی تھی جو کبھی جنگل کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ ندی کا پانی بھی جیسے کسی انجانے خوف کے زیرِ اثر دھیرے دھیرے بہہ رہا تھا۔ گھاس پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے، لیکن ان موتیوں کے پیچھے چھپی آنکھوں میں ایک ایسا اضطراب تھا جسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا جو خوف کی فضا میں سانس لینے پر مجبور ہو۔
جنگل کا بادشاہ شیر کئی برسوں سے تخت پر بیٹھا تھا۔ ابتدا میں اُس نے اعلان کیا تھا کہ جنگل کے تمام باشندے اُس کی رعایا ہیں اور اُن کی جان، مال اور آزادی کی حفاظت اُس کی ذمہ داری ہے۔ اُس نے ایک بڑے برگد کے نیچے دربار سجایا، اپنی گردن پر سنہری پٹّی باندھی اور گرج دار آواز میں کہا تھا:
’’میرے عزیزو! اَب اس جنگل میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ طاقت ور کم زور کا محافظ ہوگا، اور کم زور اپنے آپ کو تنہا نہیں سمجھے گا۔‘‘
تمام جانوروں چرندوں، پرندوں، حشرات الارض اور درندوں نے خوشی سے تالیاں بجائی تھیں۔ بندروں نے درختوں سے چھلانگیں لگائیں، طوطوں نے نعرے لگائے اور ہرنوں نے اپنی گردنیں اٹھا کر مستقبل کے خواب دیکھے۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ جس مُنہ سے انصاف کے پُھول جَھڑ رہے ہیں، اُسی کے دانت ایک رُوز اُن کی آزادی کے لیے زنجیر بن جائیں گے۔
وقت گزرا تو وعدوں کی خوشبو مدھم ہونے لگی۔ شیر کے دربار میں لومڑی وزیرِاعظم بن گئی، لگڑبگھا احتساب کا نگران مقرر ہوا اور بھیڑیوں کو امن و امان کی ذِمہ داری سونپ دی گئی۔ اب جنگل کے راستوں پر چلنے کے لیے اجازت نامہ درکار تھا۔ پانی کے چشموں پر شاہی محافظ کھڑے رہتے اور پھل دار درختوں کی پیداوار کا بڑا حصہ محل میں پہنچایا جانے لگا۔
جس نے سوال کیا، اُس کے نام کے ساتھ شرپسند کا لفظ لگا دیا گیا۔ جس نے احتجاج کیا، اُسے جنگل کا دشمن قرار دے دیا گیا۔ اور جو خاموش رہا، اُس کی خاموشی کو بادشاہ کی حمایت سمجھ لیا گیا۔جنگل کے کنارے ایک پرانا کچھوا رہتا تھا۔ جانور اُسے احترام سے کچھوا باباٸے نصیحت کہتے تھے۔ اُس کی عمر طویل تھی، چال دھیمی تھی اور حافظے میں کئی موسموں کی کہانیاں محفوظ تھیں۔ اُس نے جنگل کو خوش حالی سے بدحالی اور آزادی سے غلامی کی طرف جاتے دیکھا تھا۔
ایک شام جب چند جانور اُس کے گِرد جمع ہوئے تو اُس نے اپنی مدھم مگر گہری آواز میں کہا:
’’بچو! ظلم ہمیشہ تلوار لے کر نہیں آتا۔ کبھی وہ وعدوں کی چادر اوڑھتا ہے، کبھی قانون کی کتاب ہاتھ میں پکڑتا ہے اور کبھی تمہاری حفاظت کے نام پر تمہارے گِرد دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ پھر ایک روز تمہیں معلوم ہوتا ہے کہ تم محفوظ نہیں، محصور ہو۔‘‘
نوجوان ہرن نے بے چینی سے پوچھا: ’’باباٸے نصیحت! اگر بادشاہ ہی قانون بنائے، بادشاہ ہی فیصلہ کرے اور بادشاہ ہی سزا دے تو پھر انصاف کہاں سے ملے گا؟‘‘
باباٸے نصیحت نے اپنی نیم بند آنکھیں کھولیں۔
’’بیٹا! جس ترازو کے دونوں پلڑے ایک ہی ہاتھ میں ہوں، وہاں انصاف نہیں، مرضی تولی جاتی ہے۔ قانون اگر کم زور کو دبانے اور طاقت ور کو بچانے کے کام آئے تو وہ قانون نہیں رہتا، ظلم کا لباس بن جاتا ہے۔‘‘
ہرن کچھ دیر خاموش رہا۔ اُس کی آنکھوں میں سوال تھے اور دل میں ایک ایسی چنگاری جسے ابھی ہوا نہیں ملی تھی۔
اسی مجلس میں ایک خرگوش بیٹھا تھا جس کا نام لاپروا تھا، اُس کا خیال تھا کہ دنیا میں کسی مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ جب تک اُس کے اپنے بل میں پانی نہیں آتا، اُسے دوسروں کے بل ڈوبنے کی فکر نہ تھی۔ جب تک اُس کی خوراک محفوظ تھی، اُسے بھوک سے بلکتے جانوروں کی آوازیں شور محسوس ہوتی تھیں۔وہ ہنس کر بولا:
’’بابائے نصیحت! آپ بھی ہر بات میں کوئی نہ کوئی خطرہ نکال لیتے ہیں۔ بادشاہ ہے تو کچھ اختیار بھی رکھے گا۔ دو چار پھل زیادہ لے لیے تو کون سا آسمان گر پڑا؟ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔ جو ہوگا، دیکھا جائے گا۔‘‘
باباٸے نصیحت نے اُس کی طرف دیکھا۔
’’لاپروا! گھر میں آگ لگے تو تم اپنی چٹائی لپیٹ کر سو نہیں سکتے۔ آج کسی دوسرے کے بل کا راستہ بند ہوا ہے، کل تمہاری باری بھی آ سکتی ہے۔ ظلم کی بھوک ایک لقمے سے ختم نہیں ہوتی۔‘‘
لاپروا نے قہقہہ لگایا۔ ’’بس بابائے نصیحت! آپ کی باتیں بھی جنگل کی راتوں جیسی لمبی ہیں۔ معاف کیجیے، جانور کو اتنا بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ نیند ہی اُڑ جائے!‘‘
سب ہنس دیے، مگر باباٸے نصیحت نہیں ہنسا۔ اُسے معلوم تھا کہ بعض اوقات قہقہے خوف کو چھپانے کے لیے لگائے جاتے ہیں اور بعض اوقات غفلت کو عقل کا نام دینے کے لیے۔
مجلس میں ایک بوڑھا گدھا بھی موجود تھا جسے نکتہ چینی کی عادت کے باعث نکتہ چیں کہا جاتا تھا۔ وہ ہر بات میں نقص نکالتا، ہر تجویز پر اعتراض کرتا اور ہر مخلص کوشش میں کوئی نہ کوئی خامی تلاش کر لیتا تھا۔
اُس نے اپنی لمبی گردن ہلائی اور کہا: ’’ارے بھئی! بادشاہ بُرا ہے تو دوسرا کون سا دودھ کا دھلا ہوا ہوگا؟ سب ایک جیسے ہیں۔ تم آواز اٹھاؤ گے تو کیا بدل جائے گا؟ الٹا مصیبت اپنے سر لو گے۔ میں نے تو اپنی زندگی میں یہی دیکھا ہے کہ جو زیادہ بولتا ہے، وہی زیادہ پِٹتا ہے۔‘‘
ہرن نے کہا: ’’تو کیا ہم ساری زندگی سر جھکائے رہیں؟‘‘
نکتہ چیں نے بے نیازی سے جواب دیا: ’’سر جھکانے میں بھی حکمت ہوتی ہے، ساتھیو! کم از کم گردن تو سلامت رہتی ہے۔‘‘
درخت پر بیٹھا ایک کوّا کائیں کائیں کرنے لگا۔ یوں محسوس ہوا جیسے جنگل بھی اس دلیل پر احتجاج کر رہا ہو۔
اگلی صبح جنگل میں ایک نیا فرمان جاری ہوا۔ اعلان کیا گیا کہ پانی کے بڑے چشمے، پھل دار درخت اور سرسبز چراگاہیں اب شاہی ملکیت ہیں۔ ہر جانور اپنی ضرورت کے مطابق خوراک اور پانی حاصل کرنے کے لیے محصول ادا کرے گا۔ جو محصول ادا نہ کر سکے، اُسے جنگل کے مغربی حصے میں منتقل ہونا ہوگا۔
اس فرمان سے سب سے زیادہ متاثر خرگوش ہوا۔ اُس کی ماں بیمار تھی اور چھوٹے بہن بھائی کئی دن سے پوری خوراک نہیں کھا سکے تھے۔ خرگوش صبح سویرے پانی لینے گیا تو شاہی محافظ نے اُس کا برتن چھین لیا۔
’’محصول کہاں ہے؟‘‘ محافظ نے غرّاتے ہوئے پوچھا۔
خرگوش نے لجاجت سے کہا: ’’جناب! میرے پاس کچھ نہیں۔ ماں بیمار ہے، بہن بھائی بھوکے ہیں۔ صرف ایک برتن پانی دے دیجیے۔‘‘
محافظ نے برتن زمین پر دے مارا۔
’’بادشاہ کا حکم ہے۔ یہاں رحم نہیں، قانون چلتا ہے!‘‘
خرگوش نے ٹوٹے ہوئے برتن کو دیکھا۔ اُس کے اندر پانی کی چند بوندیں مٹی میں جذب ہو رہی تھیں۔ اُس نے پہلی بار محسوس کیا کہ پیاس صرف حلق میں نہیں لگتی، کبھی عزت اور آزادی بھی پیاسی ہو جاتی ہے۔
وہ روتا ہوا ہرن کے پاس پہنچا۔ ہرن نے اُس کی بات سنی تو اُس کے اندر سویا ہوا اضطراب جاگ اٹھا۔
’’اگر پانی بھی خریدنا پڑے اور اپنی پیاس بجھانے کے لیے بھی اجازت لینی پڑے تو پھر ہم زندہ کس لیے ہیں؟‘‘ اُس نے کہا۔
خرگوش نے سر جھکا لیا۔
’’مجھے اپنی جان کا خوف نہیں، ہرن! ڈر یہ ہے کہ میرے بعد میری ماں اور بہن بھائیوں کا کیا ہوگا؟ ظالم صرف جسم کو نہیں ڈراتا، وہ اُن رشتوں کو بھی ہتھیار بنا لیتا ہے جن سے ہمیں محبت ہوتی ہے۔‘‘
ہرن نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’تم اکیلے نہیں ہو۔‘‘
یہ الفاظ خرگوش کے لیے پانی کے پہلے گھونٹ کی طرح تھے۔ اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید اُس کی بے بسی کا کوئی اختتام بھی ہو سکتا ہے۔
اسی رات ہرن نے دانا بندر سے ملاقات کی۔ بندر درختوں پر رہتا تھا اور دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ پھل توڑنے میں ماہر تھا، مگر اُس کی اصل خوبی یہ تھی کہ وہ ہر مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھتا تھا۔ہرن نے اُسے ساری صورتِ حال بتائی۔
بندر نے کہا: ’’ہماری سب سے بڑی کم زوری یہ نہیں کہ شیر طاقت ور ہے۔ اصل کم زوری یہ ہے کہ ہم بکھرے ہوئے ہیں۔ ہر جانور اپنے نقصان کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھتا ہے۔ ہرن کو لگتا ہے کہ خرگوش کی بھوک سے اُس کا کیا تعلق؟ بندر سوچتا ہے کہ پانی کی پابندی پرندوں کا مسئلہ ہے، اور پرندے سمجھتے ہیں کہ چراگاہوں پر قبضے سے اُنہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ بادشاہ اسی تقسیم سے فائدہ اٹھاتا ہے۔‘‘
ہرن نے پوچھا: ’’تو پھر کیا کیا جائے؟‘‘
بندر نے ایک سوکھے پتے کو اٹھا کر ہوا میں چھوڑ دیا۔ ’’اکیلا پتّا ہوا کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، لیکن یہی پتّے جب زمین پر تہہ در تہہ جمع ہوتے ہیں تو مٹی کو زرخیز بنا دیتے ہیں۔ ہمیں پہلے ایک دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا ہوگا۔ پھر اپنے حقوق کے لیے ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جو جنگل کو مزید تباہ نہ کرے۔‘‘
’’اور اگر بادشاہ ہماری بات سننے سے انکار کر دے؟‘‘
’’تو ہماری آواز اُس کے دروازے سے آگے جانی چاہیے۔ ہمیں تمام جانوروں کو اکٹھا کرنا ہوگا، حقائق جمع کرنے ہوں گے، شاہی فرمان کی ناانصافی واضح کرنا ہوگی اور ایسے مطالبات پیش کرنے ہوں گے جنہیں جھٹلانا آسان نہ ہو۔ شور سے زیادہ طاقت ور دلیل ہوتی ہے، بشرطیکہ دلیل دینے والے متحد ہوں۔‘‘
یہ گفتگو قریب ہی ایک جھاڑی میں چھپا ہوا لومڑی کا جاسوس سن رہا تھا۔ اگلی صبح بادشاہ کے دربار میں خبر پہنچ گئی کہ ہرن، بندر اور خرگوش جنگل کے جانوروں کو بغاوت پر اُکسا رہے ہیں۔
شیر نے اپنے پنجے تخت پر مارے۔
’’انہیں گرفتار کرو! جو میرے حکم پر سوال اٹھائے، وہ امن کا دشمن ہے۔‘‘
وزیر لومڑی نے سر جھکا کر کہا:
’’جناب! رعایا کو آزادی زیادہ مل جائے تو وہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھنے لگتی ہے۔ بہتر ہے کہ انہیں خوف میں رکھا جائے۔‘‘
لگڑبھگے نے دانت نکالے۔
’’اور جو جانور ہمارے ساتھ ہیں، انہیں انعام دیا جائے۔ یوں باقی سب خود ہی خاموش ہو جائیں گے۔‘‘
شیر ہنسا۔ اُس کی ہنسی میں فتح کا غرور تھا، مگر اُسے معلوم نہ تھا کہ محل کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آنے والی آواز ہمیشہ سچ نہیں ہوتی۔
چند روز بعد ہرن کو دربار میں طلب کیا گیا۔ اُس کے سامنے شیر بیٹھا تھا۔ دونوں طرف بھیڑیوں پر مشتمل محافظ کھڑے تھے۔
شیر نے گرج کر کہا:”سنا ہے تم میرے فیصلوں پر اعتراض کرتے ہو؟‘‘
ہرن نے گردن جھکانے کے بجائے نگاہ اٹھائی۔
’’بادشاہ سلامت! اعتراض آپ کی ذات پر نہیں، اُن فیصلوں پر ہے جن سے جنگل کے باشندے بھوکے اور پیاسے ہو رہے ہیں۔‘‘
’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں اس جنگل کا مالک ہوں؟‘‘
’’آپ اس جنگل کے حاکم ہو سکتے ہیں، مالک نہیں۔ جنگل آپ سے پہلے بھی تھا اور آپ کے بعد بھی رہے گا۔ اس کے چشمے، درخت اور چراگاہیں سب کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ کسی ایک کی ملکیت قرار دے دینے سے دوسروں کی ضرورت ختم نہیں ہو جاتی۔‘‘
دربار میں سناٹا چھا گیا۔
شیر کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
’’تم ایک معمولی ہرن ہو کر مجھے قانون سکھاؤ گے؟‘‘
ہرن نے جواب دیا: ’’قانون کسی کی گردن دیکھ کر اپنا مطلب نہیں بدلتا۔ اگر ایسا ہو تو وہ قانون نہیں، طاقت ور کی خواہش ہے۔‘‘
شیر نے محافظوں کو اشارہ کیا۔ ہرن کو دربار سے باہر نکال دیا گیا اور اعلان ہوا کہ آئندہ جو جانور اُس کے ساتھ دکھائی دے گا، اُس کی خوراک بند کر دی جائے گی۔
محل کے باہر بے لاپروا کھڑا تھا۔ اُس نے ہرن کو دیکھا تو آہستہ سے بولا: ’’میں نے پہلے ہی کہا تھا نا! یہ سب کرنے سے کیا ملا؟ اب تمہاری جان بھی خطرے میں ہے اور ہم سب کی مشکلات بھی بڑھیں گی۔‘‘
ہرن نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا:
’’لاپروا! اگر کسی بیمار کے گھر سے دوا چھین لی جائے تو کیا تم یہ کہہ کر خاموش رہو گے کہ شکایت کرنے سے مصیبت بڑھ سکتی ہے؟‘‘
لاپروا نے ادھر اُدھر دیکھا۔
’’دیکھو، میری اپنی بھی ذمہ داریاں ہیں۔ میں اپنے بچوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔‘‘
’’اپنے بچوں کو بچانے کے لیے دوسروں کے بچوں کو بھوک کے حوالے کر دینا کیسی حفاظت ہے؟ آج تم خاموش رہو گے تو کل تمہارے بچے بھی کسی اور کی خاموشی کے سہارے رہ جائیں گے۔‘‘
لاپروا کے ہونٹ ہلے، مگر کوئی جواب نہ نکلا۔ وہ خرگوش تھا؛ تیز دوڑ سکتا تھا، مگر اپنے خوف سے آگے نہیں نکل پا رہا تھا۔
ادھر نکتہ چیں نے اپنی پرانی عادت کے مطابق ایک نئی دلیل تلاش کر لی۔
’’میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ ہرن نادان ہے۔ بادشاہ کے سامنے بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر وہ اتنا ہی بہادر ہے تو اکیلا ہی سب کو آزاد کرا دے! ہم کیوں اپنی گردن پھنسائیں؟‘‘
یہ بات سن کر بندر نے اُسے روکا۔
’’نکتہ چیں! تنقید کرنا آسان ہے، مگر جب تمہارے پاس کسی مسئلے کا حل نہیں تو دوسروں کی ہر کوشش کو ناکام قرار دینا دانش مندی نہیں۔‘‘
نکتہ چیں نے طنزاً کہا: ’’تو تم ہی کوئی پہاڑ اٹھا لو!‘‘
بندر مسکرایا۔ ’’پہاڑ ایک جانور نہیں اٹھا سکتا، مگر سب مل کر اُس کے راستے سے پتھر ہٹا سکتے ہیں۔ تمہیں انقلاب نہیں لانا تو کم از کم راستے میں کانٹے بھی مت بچھاؤ۔‘‘
نکتہ چیں نے منہ پھیر لیا۔ اُس کے پاس اعتراضات کا ذخیرہ تھا، مگر کسی کے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے ایک لفظ بھی نہ تھا۔
کچھ ہی دن گزرے تھے کہ جنگل پر خشک سالی نے حملہ کر دیا۔ ندی سکڑنے لگی، چھوٹے تالاب مٹی میں بدل گئے اور درختوں کے پتے جھڑنے لگے۔ پانی کے بڑے چشمے میں اب بھی کچھ پانی باقی تھا، مگر شاہی محافظوں نے اُس کے گِرد اونچی باڑ لگا رکھی تھی۔
شیر نے حکم دیا کہ پہلے محل اور شاہی لشکر کے لیے پانی محفوظ کیا جائے۔ باقی جانوروں کو روزانہ مقررہ مقدار میں پانی ملے گا، بشرطیکہ وہ محصول ادا کریں۔
ایک روز خرگوش کی ماں کی حالت پھر بگڑ گئی۔ خرگوش برتن لے کر چشمے پر پہنچا، لیکن محافظوں نے اُسے دھکیل دیا۔ وہ زمین پر گرا تو اُس کے برتن میں موجود آخری قطرہ بھی مٹی میں جذب ہو گیا۔
اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔
’’کیا اس جنگل میں میرے لیے ایک پیالہ پانی بھی نہیں؟‘‘ وہ چیخا۔
اُس کی آواز سن کر آس پاس موجود جانور جمع ہو گئے۔ کسی نے پہلی بار اپنے خالی برتن کو دیکھا، کسی نے اپنے پیاسے بچے کو، اور کسی نے اپنی بوڑھی ماں کو جو سایہ تلاش کرتے کرتے نڈھال ہو چکی تھی۔
ہرن آگے بڑھا۔
’’یہ صرف خرگوش کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہم سب کی زندگی کا سوال ہے۔ اگر آج ہم نے ایک دوسرے کا ہاتھ نہ تھاما تو کل ہماری باری بھی یہی ہوگی۔‘‘
ایک بوڑھی ہرنی نے کہا: ’’میں اپنے بچے کو پانی کے بغیر مرتے نہیں دیکھ سکتی۔‘‘
ایک بندر بولا: ’’ہم نے بہت انتظار کر لیا۔‘‘
ایک پرندے نے پکارا: ’’چشمہ قدرت کا ہے، کسی کی جاگیر نہیں!‘‘
دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کے مختلف حصوں سے جانور جمع ہونے لگے۔ کسی کے ہاتھ میں لکڑی تھی، کسی کے پاس خالی برتن اور کسی کے پاس صرف ایک بلند آواز۔ مگر اس روز ان کے درمیان ایک نئی چیز مشترک تھی: احساس کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
بندر ایک چٹان پر چڑھ گیا اور بولا:
’’ہم کسی کا خون نہیں بہانا چاہتے۔ ہم محل پر حملہ نہیں کریں گے، درخت نہیں جلائیں گے اور کسی بے گناہ کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ہم صرف پانی، خوراک اور انصاف کا حق مانگتے ہیں۔ اگر یہ جنگل ہم سب کا ہے تو اس کے وسائل بھی منصفانہ طور پر سب کی ضرورت پوری کرنے چاہییں۔‘‘
جانوروں نے یک زبان ہو کر مطالبہ کیا کہ چشمہ سب کے لیے کھولا جائے، محصول کا ناجائز نظام ختم کیا جائے اور آئندہ فیصلے تمام باشندوں کی مشاورت سے کیے جائیں۔
شیر کو خبر ملی تو وہ اپنے لشکر سمیت چشمے کی طرف روانہ ہوا۔ اُس نے مجمع دیکھا تو غرّایا:
’’تم سب میرے حکم کے باغی ہو! ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو کچل دیے جاؤ گے۔‘‘
کچھ جانور خوف سے پیچھے ہٹ گئے۔ لاپروا بھی ایک جھاڑی کے پیچھے جا چھپا۔ نکتہ چیں نے فوراً کہنا شروع کر دیا: ’’دیکھا! میں نے پہلے ہی کہا تھا۔ اب سب مارے جائیں گے۔ کوئی نہیں بچے گا!‘‘
مگر اس بار کسی نے اُس کی بات پر توجہ نہ دی۔
ہرن نے آگے بڑھ کر کہا: ’’بادشاہ سلامت! ہم آپ سے جنگ کرنے نہیں آئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جنگل میں کوئی پیاس سے نہ مرے۔ آپ کی طاقت کا احترام تبھی ہوگا جب آپ بھی ہمارے وجود اور حقوق کا احترام کریں گے۔‘‘
شیر نے حکم دیا کہ جانوروں کو منتشر کر دیا جائے۔ بھیڑیے آگے بڑھے، لیکن اُن کے قدم بھی اچانک رُک گئے۔
اُن میں سے ایک بوڑھے بھیڑیے نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ اُس کا خاندان بھی خشک سالی سے متاثر تھا۔ شاہی محل میں پانی کے حوض بھرے تھے، جبکہ اُس کے بچے پیاسے تھے۔ اُس نے دھیرے سے کہا:
’’ہم کب تک دوسروں کے بچوں کو پیاسا رکھنے کے حکم پر عمل کرتے رہیں گے؟ کیا ہماری وفاداری کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو بھی محل کے دروازے پر چھوڑ آئیں؟‘‘
ایک اور بھیڑیا پیچھے ہٹ گیا۔ پھر دوسرا۔ اُن کے اس فیصلے نے شاہی لشکر کی صفوں میں دراڑ ڈال دی۔
شیر نے دھاڑ کر کہا: ’’تم غدار ہو!‘‘
بوڑھے بھیڑیے نے جواب دیا: ’’نہیں، بادشاہ سلامت! ہم آپ کے سپاہی تھے، آپ کے ظلم کے غلام نہیں۔‘‘
یہ سنتے ہی مجمع میں جیسے نئی جان آ گئی۔
اسی دوران بندر اور چند دوسرے جانوروں نے چشمے کی باڑ کے ساتھ ایک پرانی نالی دیکھی جو مٹی اور پتھروں سے بند تھی۔ انہوں نے فوری طور پر اُسے صاف کرنا شروع کیا تاکہ پانی کا کچھ حصہ نیچے کے خشک تالابوں تک پہنچ سکے۔ بندر شاخیں ہٹانے لگے، ہاتھی پتھر سرکانے لگے اور ہرن اپنے کھروں سے مٹی کھرچنے لگے۔ پرندے اوپر سے پانی کی سمت دیکھ کر راستہ بتاتے رہے۔
کسی نے کسی سے نہیں پوچھا کہ وہ کس نسل کا ہے، کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے یا پہلے کس کا حامی رہا ہے۔ سب کے سامنے ایک ہی مقصد تھا: زندگی کو بچانا۔
تھوڑی دیر بعد نالی میں پانی کی پہلی دھار بہی۔ پھر دوسری۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی ایک خشک تالاب میں اترنے لگا۔
خرگوش نے اپنے برتن میں پانی بھرا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اُس نے پہلے اپنی ماں کے لیے پانی محفوظ کیا، پھر ایک پیاسے پرندے کے سامنے برتن رکھ دیا۔
ہرن نے یہ منظر دیکھا تو اُس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اُسے محسوس ہوا کہ آزادی صرف زنجیر توڑنے کا نام نہیں؛ آزادی دوسروں کے لیے بھی پانی کا راستہ کھولنے کا نام ہے۔
چشمے پر جمع جانوروں کی یک جہتی دیکھ کر شیر کے غرور کو پہلی بار حقیقی خطرہ محسوس ہوا۔ اُس کے پاس طاقت تھی، لیکن طاقت کے ساتھ کھڑے رہنے والے ہاتھ پاٶں ایک ایک کر کے الگ ہو رہے تھے۔ اُس نے محسوس کیا کہ خوف کے سہارے قائم ہونے والا اقتدار بظاہر بلند ضرور ہوتا ہے، مگر اُس کی بنیاد ریت پر رکھی ہوتی ہے۔
باباٸے نصیحت بھی وہاں پہنچ گیا۔ اُس نے شیر کی طرف دیکھا اور کہا:
’’بادشاہ سلامت! تخت کی بلندی سے رعایا چھوٹی دکھائی دیتی ہے، مگر یہ بلندی نظر کا دھوکا ہے۔ جس دن تخت کے نیچے سے لوگوں کا اعتماد نکل جائے، اُس دن بادشاہ بھی زمین پر آ گرتا ہے۔‘‘
شیر نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ اُس کے حلق میں اٹک گئے۔
باباٸےنصیحت نے مزید کہا: ’’آپ نے سمجھا تھا کہ خوف سے وفاداری خریدی جا سکتی ہے۔ لیکن خوف صرف خاموشی خریدتا ہے، محبت نہیں۔ آپ نے جانوروں کے راستے بند کیے، تو انہوں نے اپنے لیے نیا راستہ تلاش کر لیا۔ آپ نے اُن کی آواز دبائی، تو اُن کی خاموشی ایک دن اجتماعی آواز بن گئی۔‘‘
لاپروا آہستہ آہستہ جھاڑی سے باہر آیا۔ اُس نے ہرن کے سامنے نظریں جھکا کر کہا: ’’میں ڈرتا رہا کہ کہیں میرا گھر نہ اجڑ جائے۔ اسی ڈر میں یہ بھول گیا کہ جب پورا جنگل اجڑنے لگے تو کسی ایک کا گھر بھی محفوظ نہیں رہتا۔ مجھے معاف کر دو۔‘‘
ہرن نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’لاپروا! غلطی کا اعتراف پہلا قدم ہے۔ اب دوسرا قدم یہ ہے کہ جب کسی کے ساتھ ظلم ہو تو تم اُس کے ساتھ کھڑے ہو۔‘‘
لاپروا نے پہلی بار اپنی بے فکری کے خول سے باہر نکل کر اردگرد دیکھا۔ اُس نے خرگوش کے برتن میں پانی ڈالا اور کہا: ’’آج سے میری دوڑ صرف اپنے بل تک نہیں ہوگی۔‘‘
نکتہ چیں بھی قریب آ کھڑا ہوا۔ اُس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح تنقید کا تاثر تھا، مگر اس بار اُس کی آواز میں کچھ نرمی تھی۔
’’میں نے زندگی بھر دوسروں کی کوششوں میں نقص نکالے۔ شاید اس لیے کہ مجھے خود قدم اٹھانے سے خوف آتا تھا۔ میں سمجھتا رہا کہ ہر کوشش ناکام ہوگی، اس لیے کوشش کرنا ہی بے فائدہ ہے۔‘‘
بندر نے مسکرا کر کہا: ’’ نکتہ چیں! سوال اٹھانا بُرا نہیں، لیکن سوال کا مقصد راستہ تلاش کرنا ہونا چاہیے، راستہ بند کرنا نہیں۔ تنقید اگر اصلاح کے لیے ہو تو روشنی ہے، اور اگر صرف دوسروں کو گرانے کے لیے ہو تو دھواں۔‘‘نکتہ چیں نے پہلی بار کسی کی بات کا جواب دینے کے بجائے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
جنگل میں تبدیلی کا آغاز ہو چکا تھا، مگر جانور جانتے تھے کہ صرف ایک دن کا اجتماع کافی نہیں۔ اگر انہیں دوبارہ ظلم سے بچنا تھا تو ایسے اصول قائم کرنا ضروری تھا جو کسی ایک بادشاہ کی مرضی کے محتاج نہ ہوں۔
چنانچہ برگد کے نیچے ایک بڑی مجلس منعقد ہوئی۔ اس میں ہر نوع کے نمائندے شریک ہوئے۔ فیصلہ ہوا کہ پانی اور خوراک کے وسائل کسی ایک خاندان یا گروہ کی اجارہ داری نہیں ہوں گے۔ جنگل کے معاملات مشاورت سے طے کیے جائیں گے۔ کسی کو محض اختلافِ رائے کی بنا پر سزا نہیں دی جائے گی اور ہر باشندے کو اپنی شکایت پیش کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
یہ بھی طے پایا کہ جو جانور طاقت یا عہدے کا ناجائز استعمال کرے گا، اُس سے جواب طلب کیا جائے گا، خواہ وہ بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔
شیر کو اپنی تمام اختیاراتی پابندیاں ختم کرنا پڑیں گی۔ اُس نے اعلان کیا کہ چشمے اور چراگاہیں سب کی ضروریات کے مطابق استعمال ہوں گی۔ مگر اس بار جانوروں نے صرف اعلان پر بھروسا نہیں کیا؛ انہوں نے ایسے طریقۂ کار بھی قائم کیے جن سے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے۔
باباٸے نصیحت نے مجلس کے اختتام پر کہا: ’’یاد رکھو! انصاف کسی ایک اچھے حاکم کے وعدے پر نہیں، بلکہ ایسے اصولوں پر قائم ہوتا ہے جو بُرے حاکم کو بھی ظلم سے روک سکیں۔ آزادی صرف یہ نہیں کہ آج تمہاری گردن پر کسی کا پنجہ نہ ہو؛ آزادی یہ بھی ہے کہ کل کوئی نیا پنجہ تمہیں دوبارہ غلام نہ بنا سکے۔‘‘
ہرن نے برگد کی بلند شاخوں کی طرف دیکھا۔ ہوا چل رہی تھی اور پتے پہلے کی طرح سرگوشیاں کر رہے تھے، مگر اب اُن کی سرگوشیوں میں خوف نہیں، اُمید کی لَے شامل تھی۔
خرگوش اپنی ماں کے لیے پانی لے کر جا رہا تھا۔ لاپروا اُس کے ساتھ چل رہا تھا اور راستے میں پیاسے جانوروں کو پانی پیش کر رہا تھا۔ نکتہ چیں ایک جگہ رکا، جہاں چند ننھے پودے سوکھ رہے تھے۔ اُس نے اپنے حصے کا پانی اُن کی جڑوں میں ڈالا۔
بندر نے اُسے دیکھ کر کہا: ’’نکتہ چیں! آج تو آپ نے کوئی نقص نہیں نکالا؟‘‘
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ ’’نقص تو بہت ہیں، بندر صاحب! مگر اب سوچتا ہوں کہ پہلے ایک پودا تو بچا لوں، پھر اُس کی نشوونما پر تنقید بھی کر لیں گے۔‘‘
سب ہنس پڑے۔
اس بار ہنسی کسی کے خوف کو چھپانے کے لیے نہیں تھی؛ یہ اُس امید کی ہنسی تھی جو مشترکہ کوشش سے جنم لیتی ہے۔
شام کے سائے پھیلنے لگے۔ شیر اپنے محل کی طرف لوٹ گیا، مگر اب اُس کے پیچھے چلنے والے قدم پہلے جیسے نہ تھے۔ جنگل کے جانوروں نے جان لیا تھا کہ کسی کی طاقت اُس وقت تک ناقابلِ شکست دکھائی دیتی ہے جب تک دوسرے اپنی قوت کو پہچاننے سے انکار کرتے رہیں۔
باباٸےنصیحت برگد کے نیچے بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ ہرن اُس کے پاس آیا اور پوچھا:’’باباٸے نصیحت! کیا اب جنگل ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گیا ہے؟‘‘
باباٸے نصیحت نے ایک طویل سانس لی اور کہا: ’’بیٹا! آزادی کوئی ایسی چیز نہیں جسے ایک مرتبہ حاصل کر کے ہمیشہ کے لیے بے فکر ہو جاؤ۔ اسے ہر روز انصاف، شعور، ذمہ داری اور باہمی احترام سے زندہ رکھنا پڑتا ہے۔ جس دن تم اپنے حقوق بھول جاؤ گے، جس دن کسی دوسرے کے دکھ سے بے نیاز ہو جاؤ گے اور جس دن اپنے فائدے کے لیے ظلم کا ساتھ دینے لگو گے، اسی دن غلامی کسی نئے نام سے واپس آ جائے گی۔‘‘
ہرن نے پوچھا: ’’اور جنگل کا قانون؟‘‘
باباٸےنصیحت کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔
’’جنگل کا قانون وہ نہیں جو طاقت ور اپنی مرضی سے لکھ دے۔ اصل قانون وہ ہے جو کم زور کی جان، طاقت ور کی ذمہ داری اور سب کی آزادی کی حفاظت کرے۔ ورنہ درختوں کے درمیان رہنے والے درندوں اور انسانوں کے شہروں میں تخت نشین ظالموں کے درمیان فرق ہی کیا رہ جائے گا؟‘‘
دُور کہیں ایک پرندہ اپنے گھونسلے کی طرف لوٹ رہا تھا۔ ندی کے پانی میں ڈوبتے سورج کی کرنیں لرز رہی تھیں اور جنگل کے راستوں پر ننھے جانور بے خوف چل رہے تھے۔
اُس شام جنگل نے ایک نیا سبق سیکھا تھا: طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو جھکا سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنے لوگوں کو تحفظ دے سکتی ہے۔ اور آزادی کا اصل مفہوم یہ نہیں کہ ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک بن جائے، بلکہ یہ ہے کہ کوئی کسی دوسرے کی زندگی، عزت اور حق کا مالک نہ بن بیٹھے۔
کیونکہ ظلم کو طاقت ضرور جنم دیتی ہے، مگر اسے زندہ رکھنے کے لیے خاموشی، بے حسی اور مفاد پرستی بھی درکار ہوتی ہے۔ جب خوف زدہ دل ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں، جب تنقید اصلاح کا راستہ دکھائے، جب لاپرواٸی احساسِ ذمہ داری میں بدل جائے اور جب طاقت کے مقابلے میں شعور اور اتحاد کھڑے ہو جائیں تو جنگل میں بھی انسانیت کے پھول کھل سکتے ہیں۔



تبصرہ لکھیے