ہوم << معاشرتی زندگی کا حسن اور ذمہ داریاں – فخرالزمان سرحدی
600x314

معاشرتی زندگی کا حسن اور ذمہ داریاں – فخرالزمان سرحدی

معاشرہ افراد کے باہمی میل جول، اتفاق و اتحاد، محبت و اخوت اور باہمی تعاون سے خوب صورت بنتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ہر فرد کا کردار مسلمہ اہمیت رکھتا ہے۔ افراد کے مثبت رویے، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور احساسِ ذمہ داری ہی ایک مثالی معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
بقولِ شاعر:

؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

اسلامی تعلیمات کے آئینے میں معاشرتی زندگی کا حسن اور اس سے وابستہ ذمہ داریاں ایک ایسا جامع موضوع ہے جس پر جتنا لکھا جائے اور مقررین جس قدر اظہارِ خیال کریں، اس کی اہمیت و افادیت کم نہیں ہوتی۔ فرد اور معاشرے کا باہمی تعلق اس قدر گہرا ہے کہ ایک فرد کا کردار نہ صرف اس کی اپنی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی مزاج پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس، ان کی ادائیگی اور دوسروں کے حقوق کا احترام عصرِ حاضر کا اہم ترین تقاضا ہے۔معاشرتی زندگی کا اصل حسن انسانیت سے محبت، ضرورت مندوں کی مدد اور کمزور طبقات کی دل جوئی میں پوشیدہ ہے۔ یتیموں کی کفالت، غربا و مساکین کو کھانا کھلانا، محتاجوں کی خبر گیری اور بے سہارا افراد کی مدد ایسے اعمال ہیں جو انسان کے کردار کو عظمت عطا کرتے ہیں۔ یہ محض نیکی کے کام نہیں بلکہ ایک مہذب اور فلاحی معاشرے کی بنیادی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اقدار کو فروغ دیا جائے اور معاشرے کے ہر فرد میں احساسِ ہمدردی اور خدمتِ خلق کا جذبہ بیدار کیا جائے۔

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سرورِ کائنات، فخرِ موجودات، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ انسانیت سے محبت، رحمت، عفو و درگزر اور خدمتِ خلق کا کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ کمزوروں، محتاجوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان کی عظمت اس کے مال و دولت یا ظاہری مرتبے سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور دوسروں کے لیے نفع بخش ہونے سے پہچانی جاتی ہے۔خواجہ الطاف حسین حالی کی شہرۂ آفاق تصنیف مسدسِ حالی کا مطالعہ کیا جائے تو سیرتِ نبوی ﷺ کے اخلاقی اور اصلاحی پہلوؤں کی دل نشیں جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ شاعرِ مشرق کے الفاظ میں بھی فرد اور ملت کے باہمی تعلق کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، جب کہ حالیؔ نے رسولِ اکرم ﷺ کی رحمت و شفقت کو ان خوب صورت الفاظ میں بیان کیا ہے:

؎ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ محبت و الفت، ایثار و قربانی اور حسنِ معاشرت کا ایسا آئینہ ہے جس میں انسانیت کے لیے رہنمائی کے بے شمار روشن پہلو موجود ہیں۔ اسوۂ حسنہ ﷺ کی روشنی میں ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوار سکتے ہیں۔ اگر ہمارے رویوں میں نرمی، گفتگو میں شائستگی، معاملات میں دیانت داری اور کردار میں اخلاص پیدا ہو جائے تو معاشرتی زندگی کا حسن کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔انسانیت کی قدر و قیمت امن، بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام سے اجاگر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دہشت گردی، انتہا پسندی، تعصب اور نفرت ایسے ناسور ہیں جو معاشرے کے امن و سکون کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ان رویوں سے انسانی وقار مجروح ہوتا ہے، محبت کے رشتے کمزور پڑتے ہیں اور احترام و برداشت کی اقدار کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایک پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، دوسروں کے حقوق کا احترام کیا جائے اور باہمی تنازعات کو دانش مندی اور افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

معاشرتی زندگی اس وقت خوش گوار بنتی ہے جب امن کے پھولوں کی مہک چار سو پھیلتی ہے، خوشیوں کی رعنائیاں عام ہوتی ہیں اور ہر شخص خود کو معاشرے کا ایک قابلِ احترام حصہ محسوس کرتا ہے۔ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا، مصیبت کے وقت کسی کا سہارا بننا اور خوشی کے موقع پر اپنائیت کا اظہار کرنا انسانی رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ ہمدردی اور محبت کے یہی جذبات زندگی کی اداسیوں میں امید کے چراغ روشن کرتے ہیں۔یتیموں کی خبر گیری، مجبور اور بے بس لوگوں کی مدد، مساوات، رواداری اور ایثار جیسے اوصاف معاشرتی زندگی کو حسین و جمیل بناتے ہیں۔ جب معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں تو محرومیوں میں کمی آتی ہے اور باہمی اعتماد کو فروغ ملتا ہے۔ اسی طرح نفرتوں کے خاتمے، معافی و درگزر اور حسنِ اخلاق کے فروغ سے زندگی کے پیرہن میں دل کشی پیدا ہوتی ہے۔

معاشرتی سکون کے لیے ایمان کی پختگی، کردار کی مضبوطی اور ارادوں کی استقامت بھی ضروری ہے۔ مسلمان جب ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مشکلات میں شریک ہوتے ہیں اور باہمی حقوق کی ادائیگی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں تو اخوت و محبت کی ایک خوب صورت فضا جنم لیتی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو افراد کو ایک مضبوط قوم میں تبدیل کرتا ہے۔تعلیم و تربیت بھی معاشرتی اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ علم کے چراغ روشن ہوں تو جہالت، تعصب اور تنگ نظری کے اندھیرے چھٹنے لگتے ہیں۔ درس گاہیں جب علم کے ساتھ اخلاق، برداشت، دیانت داری، خدمتِ خلق اور ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرتی ہیں تو ایسے افراد تیار ہوتے ہیں جو معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیم کو محض حصولِ روزگار کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے کردار سازی اور انسان سازی کا وسیلہ بھی بنایا جائے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ خود غرضی، مفاد پرستی اور دوسروں کے حقوق سے بے اعتنائی معاشرتی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ جب ہر شخص صرف اپنے مفاد کو مقدم رکھے اور اجتماعی بھلائی سے لاتعلق ہو جائے تو معاشرے میں بے اعتمادی اور محرومی جنم لیتی ہے۔ اس کے برعکس جب افراد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے دیانت داری سے فرائض انجام دیتے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں تو خوش حالی، اعتماد اور باہمی تعاون کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔محتاجوں اور مجبوروں کی کفالت، بزرگوں کا احترام، بچوں سے شفقت، خواتین کے حقوق کا تحفظ، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور عام شہریوں کے حقوق کی پاس داری ایک صحت مند معاشرے کی نمایاں علامات ہیں۔ معاشرتی ذمہ داریاں صرف حکومت یا کسی مخصوص ادارے تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کی ادائیگی میں ہر فرد کو اپنا حصہ ڈالنا ہوتا ہے۔ گھر، محلے، تعلیمی ادارے اور دیگر سماجی حلقے اسی وقت اصلاح و ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں جب ان میں احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی بھلائی کا جذبہ موجود ہو۔

الغرض، معاشرتی زندگی کا حسن محبت، اخوت، امن، مساوات، رواداری اور خدمتِ خلق سے عبارت ہے۔ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں، نفرتوں کے بجائے محبت کو فروغ دیں اور ضرورت مندوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ جب ہر فرد اپنے حصے کا چراغ روشن کرے گا تو معاشرے سے مایوسیوں کے اندھیرے چھٹنے لگیں گے، سکون و اطمینان کے پھول کھل اٹھیں گے اور ایک نئے عہد کا آغاز ہوگا۔

آئیے!
عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں حسنِ اخلاق، خدمتِ انسانیت اور احساسِ ذمہ داری کو اپنا شعار بنائیں گے، تاکہ ہمارا معاشرہ امن، محبت، بھائی چارے اور خوش حالی کا حقیقی گہوارہ بن سکے۔