ہوم << جب تہذیب مر جاتی ہے اور انسان زندہ رہتا ہے – نعیم اللہ باجوہ
600x314

جب تہذیب مر جاتی ہے اور انسان زندہ رہتا ہے – نعیم اللہ باجوہ

کبھی کبھی زندگی کے شور سے دور کسی ایسی خاموشی میں بیٹھنے کو جی چاہتا ہے جہاں آدمی اپنے وجود کی آہٹ سن سکے۔ جہاں کوئی دوسروں کے عیب گننے والا نہ ہو، کوئی اپنی نیکیوں کی نمائش میں مصروف نہ ہو اور کوئی اپنے اختیار کو حق کا نام دے کر کمزوروں کی زندگی تنگ نہ کر رہا ہو۔ وہاں اگر کوئی آواز سنائی دے تو وہ کسی بانسری کی ہو، جس کی اداس لے میں ان خوابوں کا نوحہ شامل ہو جو ابھی آنکھوں تک پہنچے بھی نہ تھے کہ توڑ دیے گئے۔

مجھے ہمیشہ یہ خیال پریشان کرتا ہے کہ انسان نے اپنی تہذیب کو بلند کرنے کے لیے عمارتیں تو آسمان تک اٹھا دیں مگر اپنے کردار کو زمین سے بلند نہ کر سکا۔ اس نے ستاروں تک پہنچنے کے راستے تلاش کر لیے مگر اپنے اندر اترنے کا حوصلہ پیدا نہ کیا۔ اس نے کائنات کے سربستہ راز کھولنے میں اپنی ذہانت صرف کر دی مگر اپنے تعصب، اپنی خودغرضی اور اپنی سنگ دلی کے سامنے آج بھی بے بس کھڑا ہے۔ ہم نے زمانے بدل دیے، لباس بدل لیے، زبانوں کو شائستہ بنا لیا اور وحشت کے لیے مہذب نام بھی ایجاد کر لیے مگر انسان کے اندر بیٹھا ہوا درندہ آج بھی موقع ملتے ہی اپنی اصل پہچان ظاہر کر دیتا ہے۔تہذیب کی اصل پہچان اس کی عمارتیں، اس کے بازار، اس کی جامعات یا اس کے ایوان نہیں ہوتے۔ تہذیب کا امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی طاقت ور کے سامنے ایک کمزور انسان اپنے حق کے لیے کھڑا ہو۔ جب ایک بھوکا بچہ کسی آسودہ حال شخص کے دروازے پر دستک دے۔

جب کسی عورت کی فریاد کے مقابلے میں خاندان کی نام نہاد عزت آ کھڑی ہو۔ جب کسی بیٹی کی پیدائش کو خوش خبری کے بجائے محرومی سمجھا جائے اور کسی ماں کے وجود میں پلتی ہوئی زندگی کو اس لیے ختم کر دیا جائے کہ وہ مطلوبہ جنس کی نہیں۔ اس لمحے معلوم ہوتا ہے کہ ہم واقعی مہذب ہو چکے ہیں یا محض اپنی بربریت کو خوب صورت الفاظ کا لباس پہنانا سیکھ گئے ہیں۔عرب کے قدیم دورِ جاہلیت کو تاریخ کا ایک باب سمجھ کر بند کر دینا آسان ہے مگر جہالت کسی خاص زمانے، خطے یا لباس کی پابند نہیں ہوتی۔ وہ وہاں دوبارہ جنم لے لیتی ہے جہاں انسان کی قدر اس کی پیدائش سے پہلے طے کر دی جائے، جہاں بیٹی کے وجود کو بوجھ سمجھا جائے اور جہاں ایک معصوم زندگی کو کسی دوسرے کی خواہش کے ترازو میں تول کر اس کا حقِ حیات چھین لیا جائے۔ زمانہ بدل جانے سے جاہلیت ختم نہیں ہوتی؛ اس کے مظاہر بدل جاتے ہیں۔ کبھی وہ تلوار لے کر سامنے آتی ہے اور کبھی محبت، غیرت، روایت یا مصلحت کا نقاب پہن کر انسانی ضمیر کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔

اور پھر ہم خود کو مہذب کہتے ہیں!
کیسا عجیب تضاد ہے کہ جس مخلوق کو اشرف ہونے کا دعویٰ ہے، وہ کبھی اپنے ہی جیسے انسان کی بھوک سے بے نیاز رہتی ہے اور کبھی اپنے ہی گھر میں جنم لینے والی زندگی سے خوف زدہ ہو جاتی ہے۔ ہم دوسروں کے لیے دعائیں مانگتے ہیں مگر ان کے دکھ بانٹنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم عدل کے حق میں تقریریں کرتے ہیں مگر جب انصاف ہمارے اپنے مفاد سے ٹکراتا ہے تو ہمارے اصولوں کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ ہم رحم کی عظمت بیان کرتے ہیں مگر کسی مجبور کی مدد کرتے ہوئے اس کی بے بسی کو اپنی برتری کا اشتہار بنا لیتے ہیں۔ یوں ہماری نیکی بھی کبھی کبھی اس شخص کے لیے ایک نیا زخم بن جاتی ہے جس کے زخم بھرنے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں۔اصل المیہ برائی کا موجود ہونا نہیں بلکہ اس کا معمول بن جانا ہے۔ جب ظلم پر حیرت ختم ہو جائے، بے حسی پر احتجاج غیر ضروری محسوس ہونے لگے اور کسی معصوم کی موت چند لمحوں کی گفتگو کے بعد ہماری روزمرہ مصروفیات میں گم ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرے کے ضمیر پر خاموشی کی ایک موٹی تہہ جم چکی ہے۔

ایسی خاموشی جس میں چیخیں سنائی تو دیتی ہیں مگر کسی کے قدم نہیں اٹھتے۔ آنکھیں منظر دیکھتی ہیں مگر دل اس کی گواہی قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ انسان خبر سے واقف ہوتا ہے مگر حقیقت سے لاتعلق رہتا ہے۔ یہی لاتعلقی انسان کی اخلاقی موت کا پہلا اعلان ہے۔موت ہمیشہ جسم سے روح کے نکل جانے کا نام نہیں۔ کبھی انسان سانس لیتا رہتا ہے مگر اس کے اندر سے احساس رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ سلامت رہتے ہیں مگر کسی گرتے ہوئے کو تھامنے کی خواہش مر جاتی ہے۔ اس کی زبان چلتی رہتی ہے مگر سچ کہنے کی جرأت دم توڑ دیتی ہے۔ اس کی آنکھیں کھلی رہتی ہیں مگر دوسروں کے دکھ ان تک پہنچنے کا راستہ کھو دیتے ہیں۔ پھر وہ زندہ لوگوں کے درمیان ایک ایسی لاش بن کر چلتا ہے جسے اپنے جنازے کا بھی احساس نہیں ہوتا۔مگر اس سے زیادہ خوف ناک موت وہ ہے جس میں انسان اپنی بے حسی کو خوبی سمجھنے لگتا ہے۔ اسے کسی کی آہ پریشان نہیں کرتی، کسی کی محرومی اس کے سکون میں خلل نہیں ڈالتی اور کسی کی بربادی اسے اپنے کردار پر نظرثانی کے لیے آمادہ نہیں کرتی۔

وہ سمجھتا ہے کہ اس نے دنیا کو سمجھ لیا ہے، حالاں کہ حقیقت میں اس نے اپنے ضمیر کی آواز سننا چھوڑ دی ہوتی ہے۔ جس روز آدمی اپنے اندر اٹھنے والے سوالوں سے نجات پا لیتا ہے، اسی روز اس کے اخلاقی زوال کو سب سے محفوظ پناہ گاہ مل جاتی ہے۔میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ انسان کو دوسروں کی اصلاح کا شوق اتنا زیادہ کیوں ہوتا ہے۔ ہم دوسروں کی غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے غیر معمولی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کے کردار کے پوشیدہ گوشوں تک پہنچ جاتے ہیں اور ان کی کمزوریوں کے لیے ایسے دلائل تراشتے ہیں جیسے ہمارے اپنے باطن میں کوئی تاریکی موجود ہی نہ ہو۔ ہمیں دوسروں کی آنکھ کا ذرّہ صاف دکھائی دیتا ہے مگر اپنے رویّے کا پہاڑ نظر نہیں آتا۔ شاید اس لیے کہ دوسروں کی خامیاں گنوانے سے ہمیں اپنے بارے میں ایک خوش گوار غلط فہمی میسر آ جاتی ہے۔ ہم خود کو بہتر ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے کو کمتر دکھانے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی انسان کو گرا دینے سے ہمارا قد بلند نہیں ہوتا۔عاجزی بھی ایک عجیب امتحان ہے۔ انسان جب اپنی عاجزی پر فخر کرنے لگے تو اسے اپنے باطن کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے انکسار کو اپنی بڑائی کا نیا عنوان بنا لیا ہو؟
کہیں وہ دوسروں کو معاف کرنے کے بہانے ان پر اپنا اخلاقی اختیار تو قائم نہیں کر رہا؟ کہیں اس کی خیرات کسی بھوکے کی ضرورت پوری کرنے سے زیادہ اس کی اپنی نیکی کی تصدیق تو نہیں بن گئی؟
اور کہیں اس کی مذہبی یا اخلاقی گفتگو اسے اس بنیادی حقیقت سے تو غافل نہیں کر رہی کہ انسان کی عظمت کا فیصلہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس کے اختیار سے کمزور انسان کو کتنا تحفظ ملتا ہے؟

شاید اسی لیے آگہی ہمیشہ راحت نہیں دیتی۔ بعض حقیقتیں معلوم ہو جانے کے بعد انسان پہلے جیسا نہیں رہ سکتا۔ وہ چاہے تو دوسروں کو دھوکہ دے سکتا ہے، اپنے الفاظ سے حقیقت کو ڈھانپ سکتا ہے اور اپنی ذات کے لیے بے شمار عذر تراش سکتا ہے مگر اس کے اندر کہیں ایک ایسی نگاہ زندہ رہتی ہے جو ہر پردے کے پار دیکھ لیتی ہے۔ یہ نگاہ اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ اسے بار بار یاد دلاتی ہے کہ تم نے کیا کہا تھا اور کیا کیا، تم نے کس کے لیے آواز اٹھائی اور کس کے سامنے خاموش رہے، تم نے کس کے زخم پر مرہم رکھا اور کس کے زخم کو اپنی دلیل بنا لیا۔یہ اندرونی گواہ کبھی کبھی انسان کے لیے دنیا کی ہر عدالت سے زیادہ سخت ثابت ہوتا ہے۔لیکن اس آگہی کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔ جس شخص کو اپنی غلطی کا احساس ہو سکتا ہے، اس کے لیے واپسی کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ اصل تباہی خطا میں نہیں بلکہ خطا کو اپنی شناخت بنا لینے میں ہے۔ انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، وہ کمزور پڑ سکتا ہے، اپنے مفاد کے آگے جھک سکتا ہے مگر جب وہ اپنی کمزوری کو پہچان کر اس کے خلاف کھڑا ہو جائے تو اسی لمحے اس کی اخلاقی زندگی کا نیا باب کھلتا ہے۔

خود احتسابی خود کو ذلیل کرنے کا نام نہیں؛ یہ اپنے اندر اس انسان کو دوبارہ تلاش کرنے کا عمل ہے جسے ہم نے اپنی خواہشات، مفادات اور خوف کے ملبے میں کہیں دفن کر دیا ہوتا ہے۔دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حالات کے قیدی ہوتے ہوئے بھی اپنے ضمیر کو آزاد رکھتے ہیں۔ ان کے پاس اختیار نہیں ہوتا مگر سچائی ہوتی ہے۔ ان کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں مگر ان کی نگاہ جھکتی نہیں۔ وہ شکست کھا سکتے ہیں مگر اپنے اندر کی روشنی کو کسی قیمت پر فروخت نہیں کرتے۔ اس کے برعکس کچھ لوگ تمام اختیارات کے مالک ہوتے ہوئے بھی اپنے خوف، لالچ اور خودغرضی کے غلام ہوتے ہیں۔ ان کے دروازوں پر پہرے ہوتے ہیں مگر ان کے کردار میں کوئی حرمت نہیں ہوتی۔ اس فرق کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ ہر سزا یافتہ شخص لازماً بدکردار نہیں ہوتا اور ہر صاحبِ اختیار شخص لازماً معتبر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات معاشرہ اپنے بہترین انسانوں کو ان کی سچائی کی قیمت وصول کرتا ہے اور اپنے بدترین کرداروں کو ان کی مصلحتوں کا انعام دیتا ہے۔

مظلوم کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لینا بھی ظلم کی ایک صورت ہے۔ ہر شخص کے پاس احتجاج کے وسائل نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ اپنی روزی بچانے کے لیے خاموش رہتے ہیں، کچھ اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر زبان بند رکھتے ہیں اور کچھ اس لیے نہیں بولتے کہ انہوں نے بارہا بول کر دیکھ لیا ہوتا ہے کہ ان کی آواز سننے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ ان کی خاموشی کو کمزوری سمجھنے والے یہ نہیں جانتے کہ بعض اوقات انسان کی سب سے بڑی جدوجہد اپنی ٹوٹتی ہوئی زندگی کو خاموشی سے سنبھالنا ہوتی ہے۔ ہر شخص کے پاس انقلاب برپا کرنے کی طاقت نہیں ہوتی؛ بعض کے لیے روزانہ زندہ رہنا ہی ایک ایسی جنگ ہے جس کی شدت کا اندازہ باہر کھڑے لوگ نہیں لگا سکتے۔اور پھر بھی ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنے حالات کیوں نہیں بدلے!

کاش ہم کبھی یہ بھی پوچھ سکیں کہ ہم نے ان کے حالات بدلنے کے لیے کیا کیا تھا۔ ہم نے ان کے راستے میں حائل دیواریں کتنی گرائیں، ان کے حصے کا حق کتنی بار واپس دلایا اور ان کی آواز کو اپنی آواز بنانے کے لیے کتنا نقصان برداشت کیا۔ کسی کی محرومی پر تبصرہ کرنا آسان ہے مگر اس محرومی کے اسباب کو اپنی سہولت کے خلاف جا کر بدلنا مشکل۔ اسی مشکل مقام پر کردار کا اصل وزن معلوم ہوتا ہے۔ انسان کی اخلاقی حیثیت اس سے نہیں ناپی جا سکتی کہ وہ ظلم کے بارے میں کتنی خوب صورت باتیں کرتا ہے بلکہ اس سے ناپی جاتی ہے کہ ظلم اس کے سامنے ہو تو اس کا رویہ کیا ہوتا ہے۔زندگی بھی کیسی بے رحم استاد ہے۔ یہ ہمیں اکثر وہاں لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہمارے پاس اپنے دکھ کے سوا کچھ نہیں بچتا مگر پھر بھی ہم سے دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کی توقع کی جاتی ہے۔ شاید یہی انسان ہونے کی سب سے کڑی شرط ہے کہ اپنی تکلیف کے باوجود کسی دوسرے کی تکلیف کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ اپنا زخم ہمیں حساس بنا سکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ بنا ہی دے۔ کچھ لوگ اپنے دکھ سے دوسروں کے دکھ کی زبان سیکھتے ہیں اور کچھ اسی دکھ کو دوسروں کو زخمی کرنے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ فرق حالات کا نہیں، ان حالات سے جنم لینے والے شعور کا ہوتا ہے۔

جو شخص خود محرومی سے گزرا ہو اور پھر کسی محروم کے لیے آسانی پیدا کرے، اس نے اپنے دکھ کو روشنی میں تبدیل کر لیا۔ لیکن جو اپنی محرومی کو دوسروں کی محرومی کا جواز بنا لے، وہ اپنے زخم کو ایک نئی ناانصافی کی بنیاد بنا دیتا ہے۔ زندگی کے زخم انسان کو لازماً عظیم نہیں بناتے؛ عظمت اس فیصلے میں پوشیدہ ہوتی ہے جو انسان زخم کھانے کے بعد کرتا ہے۔اور شاید اسی مقام پر بانسری کی اداس لے زندگی کا سب سے گہرا مفہوم بیان کرتی ہے۔ وہ اس لیے نہیں روتی کہ اس کے پاس خوشی کا کوئی امکان نہیں، بلکہ اس لیے کہ اس کے اندر درد کو آواز دینے کی صلاحیت ابھی باقی ہے۔ جس طرح ایک خالی بانس کے اندر سے ہوا گزرے تو سُر جنم لیتا ہے، اسی طرح انسان کے اندر سے جب دکھ، محبت اور شعور گزرتے ہیں تو کبھی کوئی ایسا لفظ پیدا ہوتا ہے جو بہت سے خاموش دلوں کی ترجمانی کرنے لگتا ہے۔ مگر بانسری کا کمال صرف غم کو آواز دینا نہیں؛ اس کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اندر سے گزرنے والی ہوا کو نفرت نہیں بننے دیتی۔

ہمیں بھی شاید یہی سیکھنا ہے۔اپنے دکھ کو دوسروں کے لیے سزا نہ بنائیں۔ اپنی محرومی کو کسی کمزور پر اختیار جتانے کا بہانہ نہ بنائیں۔ اپنی نیکی کو کسی کی خودداری کی قیمت پر فروخت نہ کریں۔ اپنے علم کو دوسروں کی تحقیر کا وسیلہ نہ بنائیں اور اپنی سچائی کے دعوے کو اپنے احتساب سے فرار کا راستہ نہ بننے دیں۔ اگر ہمارے پاس کسی کا دکھ ختم کرنے کی طاقت نہیں تو کم از کم اسے اس کے دکھ پر شرمندہ نہ کریں۔ اگر ہم کسی بھوکے کو کھانا نہیں دے سکتے تو اس کی بھوک کو اس کے کردار کی خامی قرار نہ دیں۔ اگر ہم کسی مظلوم کو انصاف نہیں دلا سکتے تو کم از کم اس کے زخموں پر اپنے فیصلوں کا نمک نہ چھڑکیں۔دنیا شاید کبھی مکمل طور پر منصف نہیں ہو گی۔ طاقت کے مراکز بدلتے رہیں گے، مفادات اپنے لیے نئے جواز تراشتے رہیں گے اور انسان اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو کمتر دکھانے کے طریقے ایجاد کرتا رہے گا۔ مگر اس سب کے درمیان ایک امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے: کوئی شخص اپنے حصے کے اختیار کو امانت سمجھ لے، کوئی صاحبِ علم اپنے علم کو غرور کے بجائے خدمت بنا لے، کوئی آسودہ حال انسان کسی ضرورت مند کی خودداری محفوظ رکھتے ہوئے اس کی مدد کر دے اور کوئی شخص اس وقت بھی سچ کا ساتھ نہ چھوڑے جب اس کی قیمت اسے تنہا کر سکتی ہو۔

دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے انقلاب درکار نہیں ہوتے۔ کبھی ایک انسان کا اپنے رویّے سے دست بردار ہو جانا بھی کسی دوسرے کی زندگی میں ایک نئے عہد کا آغاز بن جاتا ہے۔ کبھی کسی کی بات پوری توجہ سے سن لینا، کسی کی غلطی پر اسے رسوا کرنے کے بجائے سنبھلنے کا موقع دینا، کسی بیٹی کی پیدائش پر اس کے وجود کو رحمت سمجھنا اور کسی کمزور کے حق میں اپنے مفاد کے خلاف کھڑے ہو جانا، تہذیب کی تعمیر میں ایک پوری عمارت کے برابر ہو سکتا ہے۔آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہم دنیا کے سامنے کتنے اچھے دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ہونے سے کسی دوسرے انسان کی زندگی میں کیا فرق پڑتا ہے۔
کیا ہماری موجودگی کسی کے خوف کو کم کرتی ہے یا اس میں اضافہ؟
کیا ہمارے الفاظ کسی زخمی دل کو سہارا دیتے ہیں یا اسے اپنی تکلیف پر شرمندہ کرتے ہیں؟
کیا ہمارے اختیار سے کسی کمزور کو تحفظ ملتا ہے یا وہ مزید بے بس ہو جاتا ہے؟
اور جب ہم تنہا ہوتے ہیں تو کیا ہم اپنے کردار کے سامنے نگاہ اٹھا سکتے ہیں؟

اگر ان سوالوں کے جواب ہمارے پاس نہیں تو ہمیں دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش ہو جانا چاہیے۔ شاید اسی خاموشی میں ہمیں اپنی آواز کا اصل مفہوم سنائی دے جائے۔کیونکہ انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ دنیا اسے غلط سمجھے، اس کے ساتھ ناانصافی کرے یا اس کے حصے کی خوشیاں چھین لے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ان سب کے درمیان رہتے ہوئے خود بھی ویسا ہی ہو جائے جیسا ظلم کرنے والوں کو سمجھتا تھا۔ وہ دوسروں کے زخم دیکھ کر بے حس ہو جائے، اپنے مفاد کے لیے حق کو بھلا دے اور پھر اپنے ضمیر کی خاموشی کو اپنی بے گناہی کا ثبوت سمجھنے لگے۔زندگی کی اصل شکست وہ نہیں جب انسان دنیا سے ہار جائے؛ اصل شکست وہ ہے جب دنیا سے لڑتے لڑتے اس کے اندر کا انسان بھی دنیا جیسا ہو جائے۔

اور اگر کبھی کسی شام ہمیں اپنی ہی خاموشی سے خوف آنے لگے، اگر کسی معصوم کی آنکھوں میں اپنا احتساب دکھائی دینے لگے اور اگر کسی بے آواز فریاد پر ہمارا دل بے چین ہو جائے تو اسے اپنی کمزوری نہ سمجھیں۔ ممکن ہے ہمارے اندر کا انسان ابھی زندہ ہو۔ ممکن ہے ضمیر نے ابھی مکمل ہتھیار نہ ڈالے ہوں۔ ممکن ہے اس ویرانے میں کہیں زندگی کی کوئی ننھی سی لے باقی ہو۔ اس لے کو بجھنے نہ دیجیے۔ کیونکہ جب لفظ اپنے ضمیر سے جدا ہو جائیں تو وہ محض آوازیں رہ جاتے ہیں، جب نیکی احساس سے خالی ہو جائے تو وہ محض نمائش بن جاتی ہے اور جب انسان دوسرے انسان کے درد سے بے نیاز ہو جائے تو اس کی ساری تہذیب کے باوجود اس کے اندر ایک ویرانہ آباد ہو جاتا ہے۔ اس ویرانے میں بانسری تو بج سکتی ہے، مگر اس کی دھن سننے کے لیے دل کا زندہ ہونا ضروری ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment