موجودہ دور کو اگر ٹیکنالوجی اور معلومات کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آج دنیا بھر کے لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس رابطے کو آسان بنانے میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ چند سال پہلے جہاں معلومات حاصل کرنے، دوستوں سے رابطہ رکھنے یا اپنی بات دوسروں تک پہنچانے میں کافی وقت لگتا تھا، آج وہی کام چند لمحوں میں کیا جا سکتا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا کے جہاں بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نے کئی نئے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ سوشل میڈیا نے رابطے کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص سے چند سیکنڈز میں رابطہ ممکن ہے۔ طلبہ تعلیمی مواد حاصل کر سکتے ہیں، مختلف موضوعات پر معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور دنیا بھر میں ہونے والی اہم سرگرمیوں سے باخبر رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح کاروباری افراد اپنی مصنوعات اور خدمات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ آج بہت سے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ لکھنے، فوٹوگرافی، ویڈیو بنانے، تعلیم، کاروبار اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں تک پہنچا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ طلبہ مختلف تعلیمی صفحات، آن لائن لیکچرز اور تحقیقی مواد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات، حادثات یا کسی ہنگامی صورتِ حال میں معلومات تیزی سے لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔سوشل میڈیا نے سماجی مسائل کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے مسائل جو پہلے محدود حلقوں تک رہ جاتے تھے، اب سوشل میڈیا کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح عوام میں شعور پیدا کرنے اور اجتماعی طور پر کسی مسئلے کی طرف توجہ دلانے میں مدد ملتی ہے۔اگر سوشل میڈیا کا استعمال ضرورت سے زیادہ کیا جائے تو یہ انسان کی ذہنی اور سماجی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنا قیمتی وقت مسلسل موبائل اسکرین دیکھنے میں گزار دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پڑھائی، کام اور خاندان کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر خود سے موازنہ کرنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اکثر لوگ اپنی زندگی کے صرف خوبصورت لمحات دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دیکھنے والے کو محسوس ہو سکتا ہے کہ دوسروں کی زندگی اس سے زیادہ بہتر ہے۔ حقیقت میں سوشل میڈیا پر نظر آنے والی زندگی ہمیشہ مکمل حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتی۔اس کے علاوہ جھوٹی خبریں، غیر مصدقہ معلومات اور افواہیں بھی سوشل میڈیا کے ذریعے بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کی جائے۔سوشل میڈیا بذاتِ خود اچھا یا برا نہیں بلکہ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کے لیے مناسب وقت مقرر کریں اور اسے اپنی تعلیم، کام اور حقیقی زندگی کے تعلقات پر حاوی نہ ہونے دیں۔ کسی بھی خبر یا معلومات کو بغیر تصدیق کے شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
والدین اور اساتذہ کو بھی نوجوانوں کی رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ وہ سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہیں۔سوشل میڈیا نے جدید زندگی کو آسان، تیز اور باہم مربوط بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے علم، معلومات اور مواقع تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے، لیکن اس کے غیر محتاط استعمال سے وقت کا ضیاع، ذہنی دباؤ اور سماجی فاصلے جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بلکہ ایک مفید ذریعہ سمجھیں۔ اگر اسے اعتدال، ذمہ داری اور مثبت سوچ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو سوشل میڈیا ہماری ذاتی، تعلیمی اور معاشرتی ترقی میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔



تبصرہ لکھیے