ہوم << تربیت اولاد اور والدین کی نگرانی – عبدالعلام زیدی
600x314

تربیت اولاد اور والدین کی نگرانی – عبدالعلام زیدی

ہر نسل چاہتی ہے کہ اس کی اولاد ان تکلیفوں سے محفوظ رہے جن سے وہ خود گزری ہے۔ ہمارے معاشرے کی گزشتہ نسلوں نے والدین کی سختیوں اور غیر ضروری پابندیوں کا سامنا کیا جو یقینا ان کی محبت کا ہی انداز تھا کہ جس کے پیچھے ان کے اپنے تجربات تھے اور شاید زخم بھی ۔ البتہ آج وہ اگلی نسل خود والدین کی جگہ لے چکی ہے ، وہ اپنے بچوں کو ایک مختلف ماحول دینے کی کوشش کر رہی ہے جس میں زیادہ محبتیں ، زیادہ سہولتیں اور زیادہ آزادیاں پائی جاتی ہیں ۔

یہ تبدیلی اپنی اصل میں اچھی اور مثبت ہے، لیکن اس کا ایک پہلو غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کہیں ہم اپنے بچپن کے زخم بھرتے بھرتے اپنے بچوں کی شخصیت پر نئے زخم تو نہیں لگا رہے؟ کہیں ہماری تربیت کسی رد عمل اور ری ایکشن پر تو نہیں کھڑی ؟!
اپنے ماضی کی سختیوں کے ردِعمل میں کہیں ایسا تو نہیں ہمیں اپنے بچوں کو برائیوں سے روکنا، ان کی خواہشات پر Healthy Boundaries لگانا ، ان کے فیصلوں میں درست بنیاد پر مداخلت کرنا خود ہمیں ہی ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری اولاد کبھی وہ ناراضگی یا محرومی محسوس کرے کہ جس سے ہم خود گزرے تھے۔ اس چکر میں ہم اپنے بچوں کو اپنے علم ، عدل ، فہم اور تجربات سے ہی محروم کرنے کی ایک دوسری انتہاء کو پہنچنے لگے ہیں ۔

یہاں ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھنی چاہیے۔بچے کو محبت کے ساتھ باؤنڈریز بھی چاہییں، انہیں آزادی کے ساتھ کسی ایسے شخص کی رہنمائی کی بھی ضرورت ہے جو ان کے فیصلوں کے نتائج کو ان سے بہتر سمجھتا ہو۔ جس پر وہ اعتماد کر کے آگے بڑھیں ، جس کی روک ٹوک کے پیچھے اسکے ٹراماز نہ ہوں بلکہ دین کا علم ، انسانی صحت مند تجربات اور فہم و فراست ہو ۔ جس کے لہجے میں جہاں نرمی ہو وہیں غلط کو غلط کہنے میں دوٹوک پن بھی ہو ۔ خصوصاً سولہ، سترہ اور اٹھارہ سال کی عمر ایک عجیب مرحلہ ہے۔ اس عمر میں ایک طرف بچہ خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے، اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتا ہے ، ہر پابندی اسے اپنی آزادی میں مداخلت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یہی وہ عمر ہے جب اس کے جذبات، خواہشات اور اقدامات بعض اوقات اس کی بھلائی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ، اس عمر میں خواہشات عقل پر غالب آ جایا کرتی ہیں۔اس لئے بچے کو محض یہ کہہ دینا کہ تم اپنی زندگی کے فیصلے خود کرو، ہمیشہ اس کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔ بظاہر اسے آزادی مل جاتی ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ ایسے فیصلوں کا بوجھ بھی اس کے کندھوں پر آ جاتا ہے جنہیں سنبھالنے کے لیے وہ ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوتا۔

بے لگام آزادی اور والدین کا بچوں کا اندھا اعتماد خود ان کے لیے سکون کے بجائے ڈپریشن، ذہنی دباؤ اور بے یقینی کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ بظاہر اپنی مرضی سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن اندر سے انہیں کسی مضبوط سہارے اور قابلِ اعتماد رہنمائی کی ضرورت اور تلاش ہوتی ہے۔ اس صورت میں رہنمائی نہ کرنے والے ، روک ٹوک نہ کرنے والے والدین بسا اوقات گیم سے باہر ہو جاتے ہیں اور بچہ کسی اور ایسی شخصیت اور پرسنلٹی کا فین اور مرید ہو جاتا ہے کہ جو روک ٹوک کرنے کا کام کرتا ہو ، جس کے لہجے میں یقین اور اعتماد ہو ، جس کی آواز میں کاٹ اور پختگی ہو ۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ ماں باپ کی جگہ لینے والا یہ انسان ان کے لیے کس قدر Unhealthy ثابت ہو سکتا ہے ۔ ٹین ایجر کو صرف یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے، بلکہ اسے کوئی ایسا بھی چاہیے جو نرمی سے اور بسا اوقات سختی سے یہ بتائے کہ اسے کیا نہیں کرنا چاہیے، اور کیوں نہیں کرنا چاہیے۔ یہ روک ٹوک اس کی شخصیت کو کچلنے کے لیے نہیں، اسے زندگی کے لیے تیار کرنے کے لیے ہوتی ہے ۔ ہر وقت کی کیئرنگ ، شونا مونا ، پُچ پُچ ، بچھے رہنا ، حساس رہنا کہ ہائے اسے برا نہ لگ جائے ۔

یہ حرکتیں بچے کے دل کے والدین کی شخصیت کی عزت چھین لیتی ہیں ۔ جو اپنی عزت اولاد کے لیے نچھاور اور قربان کرتا ہے وہ اولاد کی نگاہ میں لیڈر اور ماڈل نہیں رہتا ، یہ ایک بہت تکلیف دہ حقیقت ہے مگر ہے یہی سچ !اسی طرح والدین کا اپنے بچوں سے شیئرنگ کرنے میں بھی باؤنڈریز لگانا نہایت اہم ہے ۔ اپنے بچپن کی تلخیوں اور اپنے بزرگوں کے سخت رویوں کا ذکر بچوں کے سامنے کرنا بچوں کو تباہ کر سکتا ہے ۔ یہ عین ممکن ہے کہ کچھ بچے ان واقعات کو سن کر اپنے والدین کی نارمل نصیحت اور جائز پابندیوں کو بھی اسی ظلم کا تسلسل سمجھنے لگیں ۔ وہ انہیں بلیک میل کر کے ناجائز فائدہ اٹھانے لگیں اور یوں اپنا ہی نقصان کر بیٹھیں ۔یہاں بچوں کو ایک فرق سمجھانا نہایت ضروری ہے:

انہیں یہ جاننا چاہیے کہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو انہیں ہر کام کی آزادی دیں۔ دوست اکثر آپ کی مرضی کے مطابق چلنے پر خوش ہوتے ہیں، لیکن والدین وہ لوگ ہیں جو آپ کی ناراضگی برداشت کرکے بھی آپ کو نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر بات پر ہاں جی ، ہاں جی کرنا بہت آسان ہوتا ہے جس میں نہ دماغ لگتا ہے ، نہ ٹینشن اور کوئی ذمہ داری پڑتی ہے ۔ جبکہ آپکی کچھ خواہشات پر No کہنے کے پیچھے احساس ذمہ داری اور آپکی فکر پائی جاتی ہے جسے آپ بسا اوقات محسوس نہیں کر پاتے ۔جو شخص آپ کے غلط فیصلے پر خاموش رہ سکتا تھا، مگر آپ کی بھلائی کے لیے آپ کی ناراضگی مول لے رہا ہے، اس کی فکر کو معمولی نہ سمجھیے۔ جو انسان آپکے لئے پریشان ہوتا ہے ، دعا کرتا ہے ، برائی سے روکنے کی کوشش کرتا ہے ، آپکو بلند کرنے کے لئے اپنا دل جلاتا ہے ، اپنی زندگی کے انجوائے منٹس روک کر آپ پر فوکس کرتا ہے ، یقین مانیے اس سے بڑھ آپ کا خیر خواہ کون ہو سکتا ہے ، اس کی کچھ باتیں غلط ہو سکتی ہیں لیکن اس کے جذبات اور احساسات کی سچائی پر شک نہیں کیا جا سکتا ۔

آخر میں والدین سے گزارش ہے اپنے بچوں کی تربیت اپنے ماضی کے ردِعمل میں نہ کیجیے۔ نہ بے جا سختی اور بے جا نرمی ۔ اگر آپ کے والدین ضرورت سے زیادہ سخت تھے تو اس کا حل یہ نہیں کہ آپ ہر پابندی ختم کر دیں۔ اگر آپ کی بات نہیں سنی جاتی تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے بچوں کی ہر بات ماننے لگیں۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے کہ بڑوں کی ہی ہر تربیت کو حرف آخر مانا جائے ۔ یہ دونوں غلط انتہائیں ہیں ۔بچے نہ آپ کے ماضی کی قیمت چکانے کی چیز ہیں اور نہ ہی وہ آپکے بزرگوں کے ہر اچھے اور برے اخلاق و روایات کو زندہ رکھنے والی مخلوق ہیں ۔ وہ آپکی ذمہ داری ہیں جن کی بھلائی ہی اصل مقصد ہے ! تربیت کا مقصد بچے کو ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھنا نہیں، بلکہ اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ کل اپنے نفس، خواہشات اور فیصلوں پر خود کنٹرول رکھ سکے۔ اس کے لئے اپنے ٹراماز پر نظر رکھنا اور اپنے خیالات اور فیصلوں کے پیچھے نیت پر کام کرتے رہنا بے حد ضروری ہے ۔

بچوں سے میری گزارش ہے کہ اپنے والدین کی فکر کو اپنی آزادی کا دشمن نہ سمجھیں ۔ زندگی میں ایک وقت آئے گا جب آپ کی من مانی کے نتائج آپ کو خود بھگتنا ہوں گے۔ اس وقت شاید آپ کو احساس ہو کہ آپ کے والدین کا آپ کے دوستوں کے بارے میں پوچھنا، آپ کے وقت کے ضیاع پر پریشان ہونا اور آپ کو غلط کاموں اور گناہوں سے روکنا دراصل کتنی بڑی نعمت تھا۔انسان کو زندگی میں بہت سے لوگ مل جاتے ہیں جو اس کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں، لیکن ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں جو اس کے مستقبل کے لیے اپنی راحت قربان کرتے ہیں۔والدین کی نگرانی کوئی قید نہیں ہے کہ جس سے جلد از جلد آزادی حاصل کی جائے، بلکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر اکثر اس کے چھن جانے کے بعد ہوتی ہے۔ جب روکنے ٹوکنے والا نہیں رہتا تب انسان تڑپتا ہے کہ کاش اس کے کندھوں پر خود کو سنبھالنے کی ذمہ داری نہ ڈلتی ۔۔۔ روکنے ٹوکنے والے یہ لوگ ، پُر یقین لہجے میں بات کرنے والے یہ بڑے ، آگ اور تباہی کی جانے والے کو واپس کھینچنے والے یہ والدین اور بزرگ ۔۔۔ زندگی کے محافظ ہیں ، خدا انہیں سلامت رکھے آمین.

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عبدالعلام زیدی

عبدالعلام زیدی اسلام آباد میں دینی ادارے the REVIVEL کو لیڈ کر رہے ہیں۔ اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس کے بعد سعودی عرب سے دینی تعلیم حاصل کی۔ زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے اسلامیات اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولہور سے ایم اے عربی کیا۔ سرگودھا یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ سید مودودی انسٹی ٹیوٹ لاہور میں تعلیم کے دوران جامعہ ازھر مصر سے آئے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ دارالحدیث محمدیہ درس نظامی کی تکمیل کی۔ دینی تعلیمات اور انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment