ہماری عدالتوں کی جانب سے مسلم عائلی قوانین کی نت نئی تعبیرات کا سلسلہ جاری ہے اور خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا اختتام کہاں ہوگا؟ آزادی سے قبل انگریز جج مسلمانوں کے عائلی مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت مسلمانوں کے فقہی مذہب کی پابندی کرتے تھے اور یہ سلسلہ آزادی کے بعد بھی کچھ عرصے تک جاری رہا، لیکن پھر 1967ء میں سپریم کورٹ نے ’خورشید بی بی بنام بابو محمد امین‘ مقدمے میں قرار دیا کہ جج کسی فقہی مذہب کے پابند نہیں ہیں اور وہ ’اجتہاد‘ بھی کر سکتے ہیں۔
تازہ ترین ’اجتہاد‘ لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کیا ہے جنھوں نے ’مسماۃازکیٰ عارفین بنام حافظ عمر یاسین‘ مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے رخصتی سے قبل عدالتی خلع کی صورت میں بھی خاتون کو پورے مہر کی مستحق قرار دیا۔ اس ’اجتہاد‘ پر بات کریں گے، لیکن پہلے مسئلے کی جڑ کی یاد دہانی ضروری ہے۔ مسئلے کی جڑ ’عدالتی خلع‘ کے تصور میں پائی جاتی ہے۔ یہ تصور اسلامی قانون کے لیے اجنبی ہے اور اس کی پیوند کاری نے ایسے نئے مسائل کو جنم دیا جن کا حل آج تک ہماری عدالتیں تلاش نہیں کرسکیں۔ مثلاً خلع کی صورت میں عورت کو اپنی ’آزادی‘ کا ’فدیہ‘ دینا ہوتا ہے (سورہ البقرہ، آیت 229)۔
عدالتوں نے عام طور پر یہ فرض کرلیا کہ یہ ’فدیہ‘ اسے ’مہر‘ کی واپسی کی صورت میں دینا ہوگا۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ جب شوہر ’طلاق‘ کی کوئی ’قیمت‘ ادا نہیں کرتا، تو بیوی کیوں ’خلع‘ کی ’قیمت‘ ادا کرے، جبکہ عدالتوں نے خلع کو اسی طرح ’بیوی کا حق‘ تسلیم کیا ہے، جیسا کہ طلاق کو ’شوہر کا حق‘ مانا جاتا ہے؟ پھر بسا اوقات عورت اپنے شوہر کے کسی فعل کی بنا پر تنسیخِ نکاح کے لیے آئی ہوتی ہے لیکن الٹا اسے شوہر کو مہر بھی واپس کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، تو یہ اس کے ساتھ انصاف ہوا یا ظلم؟ اسی طرح بعض اوقات شوہر نے مہر ادا ہی نہیں کیا ہوتا، تو بیوی اسے واپس کیا کرے، یا شوہر کہتا ہے کہ وہ ادا کرچکا ہے اور بیوی انکاری ہوتی ہے، تو پھر کیا کیاجائے؟ اب اگر ان سوالات کے جواب تک بیوی کی ’آزادی‘ کو مؤخر کیا جائے، تو ’عدالتی خلع‘گھڑنے کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا، اور اگر ’عدالتی خلع‘ کا فیصلہ کرکے عورت کی آزادی کا فیصلہ کرلیاجائے، تو پھر اس کے بعد مہر کے جھگڑے کا کیا جائے؟
جنرل مشرف کے دور میں مقنّنہ کو بھی ’اجتہاد‘ کو شوق چرایا، تو اس نے آگے بڑھ کر عائلی عدالتوں کے طریقِ کار سے متعلق قانون ’فیملی کورٹس ایکٹ‘ کی دفعہ 10 میں ترمیم کرکے یہ قرار دیا کہ بیوی کی جانب سے تنسیخِ نکاح کا دعوی اور شوہر کی جانب سے جوابِ دعوی آنے کے بعد پہلی سماعت میں ’اگر مصالحت ناکام ہوجائے‘، تو عدالت پر لازم ہوگا کہ وہ ’فی الفور‘ نکاح فسخ کردے۔ کمال یہ تھا کہ اس دفعہ میں آگے پیچھے مصالحت کا ذکر ہی نہیں تھا اور پہلی بار اس کا ذکر آیا، تو ناکامی ہی کی صورت میں آیا! مہر کا جھگڑا فسخ کے بعد بھی جاری رہتا ہے، چنانچہ پنجاب کے قانون میں مزید ترامیم کرکے قرار دیا گیا کہ عدالت بیوی کو یہ حکم بھی دے سکتی ہے کہ وہ ’’مہر مؤجل کے نصف تک یا مسلّمہ مہر معجل کے چوتھائی تک‘‘ شوہر کو واپس کردے۔ دوسرے صوبوں کے قانون میں اس دفعہ کا متن مختلف ہے۔ (یہ بھی غنیمت ہے کہ عائلی قوانین ’صوبائی امور‘ میں شامل ہیں ورنہ پارلیمان ہی ’اجتہاد‘کرکے ملک بھر کے لیے قانون کا حلیہ بگاڑ دیتی!)
مسئلے کی جڑ، یعنی ’عدالتی خلع‘ کو تو وفاقی شرعی عدالت درست قرار دے چکی ہے، لیکن اس نے مہر کے متعلق پنجاب کے اس قانون کو ’عمران انور خان بنام حکومتِ پنجاب‘ مقدمے میں اسلامی احکام سے متصادم قرار دیا۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں اپیل دائر کی گئی، اور یہ فیصلہ محض اپیل دائر ہونے ہی کی بنا پر معطل ہوگیا۔اس وجہ سے مذکورہ قانون پنجاب میں اب بھی نافذ العمل ہے۔ اس لیے اگر جسٹس وقاص رؤف نے اس فیصلے کا حوالہ دے چکنے کے بعد اس پر عمل درآمد سے معذوری ظاہر کی، تو یہ عذر درست تھا۔ اسی طرح انھوں نے سپریم کورٹ کے ایک تازہ فیصلے پر بھی انحصار کیا۔ ’مسماۃ رافعہ یعقوب بنام سلیمان ایوب‘ مقدمے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالتی خلع کی صورت میں نصف یا چوتھائی مہر کی واپسی کے متعلق فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 10 کا متن چونکہ صریح اور واضح ہے، اس لیے خلع کی صورت میں ’’مذہبی اصولوں کی توضیح غیر ضروری تھی۔‘‘
حیرت ہے کہ یہ الفاظ لکھتے ہوئے سپریم کورٹ کی فاضل جج جسٹس مسرت ہلالی اور ان کے ساتھ اتفاق کرنے والے فاضل ججوں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس صلاح الدین پنہور کی نظر آئین کی دفعہ 227 اور ’قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء ‘ کی دفعہ پر نہیں پڑی جن میں تمام عدالتوں پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ قوانین کی ایسی تعبیر اختیار کریں جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔’راجا عامر رضا بنام وفاقِ پاکستان‘ مقدمے میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بنچ نے صراحت کی ہے کہ آئین کی بھی ایسی تعبیر اختیار کرنا لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ چنانچہ قطعِ نظر اس سے کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہے یا مؤثر ، ان آئینی و قانونی دفعات اور لازمی نظیر کی موجودگی میں مذکورہ قانون، اور تمام قوانین، کی اسلامی تعبیر اختیار کرنا تمام ججوں پر لازم ہے۔’اسلامی احکام سے تصادم‘ کا فیصلہ تو صرف وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ کا کام ہے، لیکن ’اسلامی احکام سے ہم آہنگ تعبیر‘ ہر عدالت کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔
یہ معاملہ بھی تصادم کا نہیں، بلکہ تعبیرِ قانون کا تھا۔ ہر قانون کی کم از کم دو تعبیرات ہمیشہ ممکن ہوتی ہیں۔ جہاں کسی قانون کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا واضح ہے کہ اس کی دوسری تعبیر ممکن ہی نہیں ہے، یہ کہنا بھی بذاتِ خود تعبیر ہی کی ایک صورت ہوتی ہے اور بعض مفروضوں پر مبنی ہوتی ہے۔ ’مسماۃ ازکیٰ عارفین‘ مقدمے میں تو یہ اصول یاد رکھنا زیادہ ضروری تھا کیونکہ ازدواجی تعلق قائم ہونے سے قبل طلاق کی صورت میں تو قرآن کی نص صریح (سورۃالبقرۃ، آیت 237) موجود ہے کہ عورت کا قانونی حق نصفِ مہر ہے، نہ کہ پورا مہر۔ اسی طرح کا معاملہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے ’عنبرین اکرم بنام اسد اللہ خان‘ میں خاتون کے لیے عدت کا نفقہ واجب کرتے وقت کیا تھا جب وہ یہ بھول گئے تھے کہ رخصتی سے قبل طلاق کی صورت میں تو قرآن کی نص صریح (سورۃالاحزاب، آیت 49) کے مطابق عدت ہوتی ہی نہیں ہے، تو پھر عدت کا نفقہ کہاں سے آگیا!
سو سوالوں کا ایک سوال یہ ہے کہ خواتین کے لیے نت نئے حقوق تخلیق کرنے کے جوش میں ہمارے فاضل جج ایسا ’اجتہاد‘ کیوں کرتے ہیں جو صریح قرآنی آیات کے خلاف ہو؟



تبصرہ لکھیے