ایمان کا عہد اور اس کی پاسداری
ایمان محض زبان سے چند کلمات ادا کرنے یا اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک ایسا عہد ہے جس کی پاسداری زندگی بھر ضروری ہے۔ اس عہد کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے عقیدے، عبادات، معاملات، اخلاق اور اجتماعی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے تابع کر دے۔ ایمان کی حقیقت اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب انسان اپنے کردار سے اس کی سچائی ثابت کرے۔
مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ محمد سلیم محمد علی نے 16 اکتوبر 2026ء کے خطبۂ جمعہ میں مسلمانوں کو اسی عہد کی تجدید اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی دعوت دی۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے عہد پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق اس حکم کا تعلق نبی کریمؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کے عہد سے بھی ہے۔ نبی کریمؐ نے صحابہ کرام سے جو عہد لیا، اس میں شرک، چوری اور بدکاری سے اجتناب سمیت متعدد بنیادی احکام شامل تھے۔ آپؐ نے عہد کی پاسداری کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کی بشارت دی۔ گویا اسلام قبول کرنا محض ایک شناخت اختیار کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند ہونا ہے۔یہ ذمہ داری ہر عاقل اور بالغ مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، بہترین ساخت عطا فرمائی اور زندگی گزارنے کے لیے ہدایات دیں۔ اب بندے کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے احکام بجا لائے، ممنوعات سے بچے اور حلال و حرام کی پابندی کرے۔ ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام نے بھی اپنی اولاد کو اسی دین پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی تھی۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ خود بھی اس عہد کی حفاظت کرے اور اپنے اہل خانہ کو بھی اس کی تلقین کرتا رہے۔
ایمان کے عہد کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے فیصلوں میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کو بالادستی حاصل ہو۔ یہ ذمہ داری صرف حکمرانوں کی نہیں، بلکہ افراد، خاندانوں اور پورے معاشرے کی ہے۔ خطیب نے سوال اٹھایا کہ ہمارے حکومتی اداروں، گھروں، مجلسوں اور معاشرتی معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کو کس قدر اہمیت حاصل ہے؟ کیا ہم اپنے اختلافات اور تنازعات کا فیصلہ دینی اصولوں کے مطابق کرتے ہیں یا اپنی خواہشات، رسم و رواج اور ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں؟ قرآن کریم نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ راستے کی پیروی کی جائے اور جاہلوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلا جائے۔اس حقیقت کو سمجھانے کے لیے انہوں نے مکان کی خرید و فروخت کی مثال دی۔ جب کوئی شخص رہائشی مکان خریدتا ہے تو فروخت کنندہ اس کی متعین خصوصیات اور ملکیت کی منتقلی کا پابند ہوتا ہے، جبکہ خریدار پوری قیمت ادا کرنے کا عہد کرتا ہے۔ دنیاوی معاملات میں بھی معاہدوں کی اس قدر اہمیت ہے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان کے عہد کی اہمیت کتنی زیادہ ہوگی! اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے جنت اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔
اس کامیابی کے حصول کے لیے اسلام، ایمان، احسان، پرہیزگاری اور یقین کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ قرآن کریم نے عہد کی پاسداری کرنے والوں کو ایسی جنتوں کی بشارت دی ہے جہاں ان کے نیک اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے اور فرشتے انہیں سلامتی کی مبارک باد دیں گے۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا ایمان ہماری زندگی میں کس حد تک نظر آتا ہے؟ خطیب محترم نے ایک عوامی کہاوت پیش کی کہ تیراک کی مہارت کا فیصلہ پانی میں اترنے کے بعد ہوتا ہے۔ اسی طرح ایمان کے دعوے کی سچائی بھی عمل سے ثابت ہوتی ہے۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمارا دل صاف ہے۔ ایمان زبان کے اقرار کے ساتھ دل کے یقین اور اعضا کے عمل کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ نبی کریمؐ نے ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں بیان فرمائیں۔ ان میں سب سے بلند کلمۂ توحید اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے۔ ہر شخص کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ اس نے ایمان کی کتنی شاخوں کو اپنی زندگی میں جگہ دی ہے۔
کیا ہمارے دل مسجدوں سے وابستہ ہیں یا تفریح اور غفلت کے مراکز سے؟ کیا ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت غالب ہے یا مال و دولت کی خواہش؟ کتنی مرتبہ ہم نے اللہ کے خوف سے گناہ چھوڑا؟ کتنی بار اپنی کوتاہیوں پر ندامت محسوس کی؟ کتنی مرتبہ اللہ کی یاد سے ہماری آنکھیں نم ہوئیں؟ قرآن کریم سچے اہل ایمان کی یہ صفت بیان کرتا ہے کہ اللہ کا ذکر سن کر ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، اس کی آیات سے ان کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا کرتے ہیں۔ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریمؐ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جو نیک اعمال کرتے ہوئے بھی خوف زدہ رہتے ہیں۔ آپؐ نے واضح فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز ، روزہ اور صدقے کا بھی اہتمام کرتے ہیں، لیکن پھر بھی عدمِ قبولیت سے ڈرتے ہیں۔ اس کے برعکس آج بعض لوگ عبادات بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی سود خوری، حقوق غصب، بے حیائی اور دیگر گناہوں میں بھی مبتلا رہتے ہیں۔ بعض لوگ دنیاوی فائدے کے لیے دینی اصولوں سے دست بردار ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض ظلم، خون ریزی اور باہمی دشمنی سے بھی نہیں بچتے۔ یہ طرزِ عمل ایمان کے دعویٰ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ایمان کی حفاظت کے لیے نفاق اور دکھاوے سے بچنا بھی ضروری ہے۔ خطیب نے ایمان کو خالص سونے سے تشبیہ دی، جس کی اصل قدر اس کی پاکیزگی میں ہوتی ہے، نہ کہ محض ظاہری چمک میں۔ صحابہ کرام اپنے ایمان کے بارے میں اس قدر محتاط تھے کہ عبداللہ بن ابی ملیکہ کے مطابق انہوں نے تیس صحابہ کو دیکھا جو اپنے بارے میں نفاق کا اندیشہ رکھتے تھے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ مومن اپنے بارے میں نفاق سے ڈرتا ہے، جبکہ منافق خود کو اس خطرے سے محفوظ سمجھتا ہے۔ اس لیے دوسروں کے ایمان پر فیصلے صادر کرنے کے بجائے اپنے باطن کی اصلاح زیادہ ضروری ہے۔ایمان کا عہد حسن اخلاق اور معاشرتی ذمہ داریوں کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بے حیا اور بدزبان نہیں ہوتا۔ اہل ایمان کو ایک دوسرے کی تکلیف محسوس کرنی چاہیے۔ اسی طرح نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا بھی ایمانی ذمہ داری ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ برائی سے روکنے کے بجائے خود اس میں شریک ہوتے ہیں، پھر اسے سوشل میڈیا پر فخر اور شہرت کے لیے پھیلاتے ہیں۔ یہ رویہ ایمان کی روح کے منافی ہے۔
آج مسلمانوں کو سخت آزمائشوں کا سامنا ہے۔ باہمی انتشار، اخلاقی زوال، دنیاوی مفادات سے غیر معمولی وابستگی اور دینی تعلیمات سے دوری نے امت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہماری وفاداری اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ ہو، نہ کہ مال، منصب اور دنیاوی مفادات کے ساتھ۔ خطیب محترم نے ایمان کو لباس سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح انسان میلے اور بوسیدہ کپڑوں میں لوگوں کے سامنے جانا پسند نہیں کرتا، اسی طرح اسے اپنے رب کے حضور خواہشات اور شبہات سے آلودہ دل لے جانے پر بھی فکر مند ہونا چاہیے۔ نبی کریمؐ نے ایمان کی مٹھاس کے تین اسباب بیان فرمائے: ہر چیز سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنا، کسی سے صرف اللہ کی خاطر محبت کرنا اور آگ میں ڈالے جانے کی طرح کفر کی طرف لوٹنے کو ناپسند کرنا۔خطبے کے دوسرے حصے میں ایک سنگین معاشرتی خرابی کی طرف توجہ دلائی۔ بعض لوگ جہالت یا غفلت میں دین، اللہ تعالیٰ، رسول اللہؐ اور مقدس شعائر کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے کلمات ایمان کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔
اسی طرح دین کے مسلمہ احکام کا انکار، شعائرِ اسلام کا مذاق اڑانا اور اہل علم کی بے حرمتی کرنا بھی ایمانی ذمہ داریوں کے خلاف ہے۔ مسلمان کو اپنی زبان، عقیدے اور عمل کی حفاظت کرنی چاہیے۔تاہم آزمائشوں اور مشکلات کے باوجود مایوسی اختیار کرنا درست نہیں۔ ایمان اللہ تعالیٰ سے حسن ظن، اس کی رحمت پر بھروسے اور اچھے اعمال کا تقاضا کرتا ہے۔ خطیب محترم نے ایمان کی تجدید کو مصائب اور مشکلات سے نجات کا راستہ قرار دیا۔ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے اور اس کی محبت میں حد سے بڑھ جانا انسان کو آخرت کی جواب دہی سے غافل کر دیتا ہے۔ اصل کامیابی دنیا کو مقصدِ زندگی بنانے کے بجائے اسے آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنانے میں ہے۔مسجد اقصیٰ کے خطیب نے اختتام پر اللہ تعالیٰ سے دلوں کو نفاق اور ریاکاری سے پاک کرنے، مسلمانوں کو دین پر ثابت قدم رکھنے اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی دعا کی۔ انہوں نے یہ بھی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں بار بار حاضری کی توفیق عطا فرمائے۔ اس دعا میں ایمان، عبادت اور مسجد اقصیٰ سے وابستگی کا گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔
ایمان کا عہد زندگی کے کسی ایک گوشے تک محدود نہیں۔ یہ بندے سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے دل کو نفاق اور ریاکاری سے، زبان کو بدکلامی سے، معاملات کو ظلم و ناانصافی سے اور اپنے اعمال کو نافرمانی سے پاک رکھے۔ مسجد اقصیٰ سے بلند ہونے والا یہ پیغام ہر مسلمان کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے دعوے کو کردار کی سچائی سے ثابت کرے۔ ایمان کی اصل قدر اس کے دعوے میں نہیں، بلکہ زندگی بھر اس عہد کی وفاداری میں ہے۔



تبصرہ لکھیے