ہوم << اخبارِ جہاں – گزشتہ سے پیوستہ(3)- اُم ماریہ کاظمی
600x314

اخبارِ جہاں – گزشتہ سے پیوستہ(3)- اُم ماریہ کاظمی

“تمہاری انٹرن شپ تھی نہ کوئی تجربہ، کیسے مل گئی جنگ گروپ میں نوکری؟”
” وہاں کون ہے تمہاری جان پہچان کا؟”
“اچھا اخبار جہاں! تمہارے بھائی آرمی میں ہوتے ہیں ناں؟”
“بھائی ہی نہیں، اس کے تو والد بھی شاید ایئر فورس میں رہے ہیں۔”
“ہاں میں نے بھی سنا تھا کہ اخبار جہاں میں خواتین سب ایڈیٹرز کی ضرورت ہے۔ لیکن پھر مجھے پتا چلا کہ بڑی تگڑی سفارشیں لگوائی گئی ہیں تو میں نے اپلائی ہی نہیں کیا۔”

یہ اور اس جیسے بہت سے دیگر جملے سننے کو ملے۔ بولنے والوں میں ہم جماعت، اساتذہ، سب ہی شامل تھے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے دورانِ طالب علمی ہی مجھے بہت سراہا تھا اور انہیں میری صلاحیتوں پر اعتماد تھا ۔ مجھے یاد ہے ماسٹرز سالِ اوّل کی جماعت تھی اور صحافتی تحریر کا یونٹ۔ سر اوجِ کمال نے کریڈ سے خبر بنانا، بائی لائن لکھنا سکھایا اور سب کو ایک ایک کریڈ تھماد ی کہ خبر بنائیں۔جب میں نے خبر بنا کر دکھائی تو سر نے پڑھتے ہی کہا،
” ماشاء اللہ، کس اخبار میں کام کرتی ہیں آپ؟”
میں نے کہا سر کہیں نہیں، تو حیران ہو کر مجھے دیکھا اور پھر خبر کو دوبارہ دیکھ کر بولے،
“بہت عمدہ! مجھے لگ رہا ہے جیسے میں کہیں چھپی ہوئی خبر پڑھ رہا ہوں”۔

اخبار جہاں میں پہلے دن صبح ساڑھے ۹ بجے پہنچ گئی۔ لفٹ کا تیسری منزل پر دروازہ کھلا تو معلوم ہوا شیشہ کا دروازہ بند ہے۔ ابھی اسٹاف نہیں آیا کہ کھولے۔سامنے جلی حروف میں “اخبار جہاں” لکھا تھا۔ میرے لیے یہ خواب جیسا تھا۔چند منٹ بعد میرے ساتھ اپائنٹ ہونے والی کنول بھی آگئی۔قریباً پونے ۱۰ بجے آفس اسٹاف آیا اور دروازہ کھول کر روشنی کردی گئی۔ یہ عاشق بھائی تھے۔ اخبار جہاں کے بہت پرانے خدمت گار، راز دار اور میر جاوید الرحمان کے مزاج شناس۔ مجھےاور کنول کو اسی بڑے کمرے میں بھیجا گیا جہاں گزشتہ روز بٹھایا گیا تھا۔ دعا سلام اور تعارف سے معلوم ہوا کہ کنول نے حال ہی میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہےاور میری طرح وہ بھی تاحال نوکری کے تجربہ سے نہیں گزری۔ لکھنے کا وصف شایداُسے قدرت کی طرف سے ملا ہوگاکیوں کہ اس کے علاوہ اس خوب صورت، دھان پان اور ماڈرن سی لڑکی کے سب ایڈیٹر بننے کی کوئی اور وجہ مجھےسمجھ نہیں آئی۔ قریباً ساڑھے دس بجے ہماری تیسری ساتھی بھی کمرے میں وارد ہوگئی ۔

وہ ایک تجربہ کا ر لکھاری تھی جو غالباً پی آئی اے کے میگزین کے ادارتی سیکشن میں کام کررہی تھی۔اس نے ہم دونوں سے زیادہ بات چیت کرنا مناسب نہیں سمجھا لیکن میں دل ہی دل میں اس کی برتری تسلیم کرچکی تھی۔کچھ دیر بعد عاشق بھائی کے توسط سے چند بین الاقوامی رسالے ورق گردانی کی خاطر کمرے میں بھجوادیئے گئے۔ کنول نے ایک فیشن میگزین اٹھایا تو میں نے ٹائمز میگزین، لیکن ہماری تیسری ساتھی نے کوئی رسالہ نہ اٹھایا اور فون دیکھتی رہی یا دیواریں۔غالباً ایک یا ڈیڑھ گھنٹے بعد ہمیں ساتھ والے کمرے میں بلایا گیا۔ یہ محترم نعیم ابرار سے ہمارا پہلا تعارف تھا۔ نعیم ابرار ، ہفت روزہ اخبارِ جہاں کے ایگزیکٹو ایڈیٹر تھے۔ ایک طویل وقت سے صحافت سے وابستہ تھے اور لوگوں کا کہنا تھا کہ میر جاوید الرحمان صاحب کے ساتھ ایک وقت سے کام کرتے رہے ہیں، جس میں کئی بار آئے، گئے یا نکالے گئے۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ نعیم ابرار ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں میر صاحب کام کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔ جب کہ تیسرے فلور پر ایسے بہت سے لوگ موجود تھے جن کا کام کچھ خاص نہیں تھا، لیکن وہ اس وجہ سے ٹکے ہوئے تھے کہ باس انہیں ذاتی طور پر پسند کرتے تھے۔

کمرے میں داخل ہونے پر تین چیزوں نے اپنے ہونے کا بھرپور احساس دلایا۔ بہت ساری بکھری ہوئی کتابیں، پان کی خوش بو اور نعیم ابرار صاحب کی عقابی نگاہیں۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ان کا برج عقرب ہے، اور برج عقرب کے لوگوں کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی آنکھیں ہوتی ہیں۔تیز اور جانچنے والی۔ہم تینوں ان کے سامنے کرسیوں پر براجمان ہوئے۔ نعیم ابرارصاحب نے اپنا مختصر تعارف کروایا۔ہمیں بتایا کہ آنے والے دنوں میں ہمارا کام اور اس کی اصلاح ان ہی کے ذمہ ہوگی۔ ہمیں کام کے متعلق کچھ تعارف دیا اور پھر اپنے کمرے میں موجود میگزین و کتب کو ہمارے لیے قابلِ رسائی قرار دیا۔اس ملاقات کے بعد تمام وقت کسی میگزین کی روگردانی میں صرف ہوا۔ عاشق بھائی نے کینٹین والے کا ایکسٹینشن بتایا اور وہاں سے کھانا اور چائے چلی۔ شام کے چھے بجے اور یوں پہلا دن تمام ہوا۔

ایسے ہی اگلے کچھ دن بھی تمام ہوئے۔ ایک دن کمرے کا دروازہ کھلا اور اخلاق صاحب نے اندر آئے بغیر دروازہ سے ہی اپنے مخصوص انداز میں پوچھا ،
“آپ کا نام کیا لکھوانا ہے؟ اُم ماریہ؟ یا ۔۔۔ ماریہ کاظمی؟”
میں نے یک دم جواب دیا ،”اُم ماریہ کاظمی”، وہ ایک لمحہ کو رکے اور پھر مسکرا کر دروازہ بند کرکے چلے گئے۔
اگلے ہفتے اخبار جہاں کےشمارہ کے پہلے صفحے پرمیرا نام بطور سینئرسب ایڈیٹر جگہ بنا چکا تھا۔
پھر شاید تین یا چار دن بعدنعیم ابرار صاحب نے ہم سب کو ایک ایک کام دے دیا ۔ مجھے ہیروں کے متعلق ایک فیچر لکھنے کا کہا گیا۔ کنول کو شوبز کا ایک آرٹیکل ترجمہ کرنے کا کہا گیا جب کہ تیسری خاتون کو کیا کہا گیا اور اس نے کیا کیا، اس بارے میں اس نے کسی کو نہ بتایا۔ لیکن اس کی نشست و برخاست اور اضطراب سے یہ ضرور معلوم ہورہا تھا کہ وہ اپنے کام سے مطمئن نہیں ہے۔

اگلے ایک دو دن وہ کچھ ناراض اور بے چین سی رہی۔ کنول نے اس سے کچھ دوستی بنا لی تھی تو ایک بار کمرے میں تھوڑی اونچی آواز میں اپنی ناراضی کا اظہار کرنے لگی۔ شاید اسے کام سے اختلاف تھا۔اور ایک ہفتہ بعد اس نے آنا بند کردیا۔ معلوم ہوا کہ وہ جہاں سے آئی تھی، وہاں استعفیٰ دے کر نہیں آئی تھی اور وہیں واپس چلی گئی ہے۔ کنول ترجمہ پر زور آزمائی کررہی تھی اور میں فیچر پر۔ ہم ددنوں کا یہ پہلا کام تھا اور ہم سے زیادہ محنت نعیم ابرار صاحب کررہے تھے۔ ہر ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد ہم میں سے کوئی ان کے پاس چلا جاتا۔ وہ مسئلہ سنتے، سمجھاتے اور کام کرنا سکھاتے۔معلومات کہاں سے نکالنی ہیں، تصاویر کہاں سے حاصل کرنی ہیں، کمپوز کرنے کے لیے تحریر کو کہاں اور کیسے بھیجنا ہے، تصاویر اسکین کرنے کے لیے کس طرح ٹیگنگ کرنی ہے اور کہاں بھیجنا ہے، سرخی کیسے نکالنی ہے اور کس سے لکھوانی ہے، مٹیریل کا سائز کیسے ناپنا ہے اور کتنے انچ مٹیریل درکار ہوگا، یہ سب انہوں نے بتایا۔

اُس وقت تو اندازہ نہ ہوا لیکن اب ہوتا ہے، کہ کس قدر صبر آزما کام ہوگاکہ نو آموز لوگوں کو ایک ایک بات کا بتایا جائے اور ادارے کا حصہ بنایا جائے۔کنول کے ترجمہ میں ان کی کتنی مدد تھی، مجھے نہیں معلوم، لیکن میرے فیچر میں انہوں نے پورے پورے پیراگراف خود لکھے۔ میں معلومات نکال کر ان کے پاس لے جاتی۔ اور وہ مجھے سمجھاتے سمجھاتے خود لکھتے جاتے۔ یوں فیچر پورا ہوگیا جس میں آدھی تحریر ان کی تھی ، اور بڑا پن بھی ان ہی کا تھا، کیوں کہ نام تو میرا تھا۔ اخبار جہاں میں میرا تیسراہفتہ تھا اور پہلا فیچر شائع ہوگیا۔جس پر جلی حروف میں میرا نام درج تھا ۔

(تیسرا حصہ ختم شُد)

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ام ماریہ کاظمی

ام ماریہ کاظمی صحافت و تدریس سے وابستہ ہیں۔ ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کے بعد ہفت روزہ اخبار جہاں میں بطور سینئر سب ایڈیٹر کام کرنے کے دوران فیچرز اور بچوں کی کہانیاں لکھیں، کئی صفحات کی انچارج رہیں۔ ان کی تحاریر مختلف رسائل اور ویب سائٹس کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ سماجی مسائل، نفسیات اور لوگوں پر اثرانداز ہونے والے مسائل ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔ ان پر بلاگ، فیچر اور تاثراتی تحاریر کے علاوہ افسانہ نگاری بھی کرتی ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment