سرمایہ دارانہ نظام بھوک کے خوف سے سہما ہوا دجالی نظام ہے۔ یہ استحصالی نظام تابوت نگر سے آیا ہے اور اس کے اندر عذابِ قبر رہتا ہے۔ اس نظام کے پجاری بیچارے سہمے ہوئے لوگ ہیں۔ سہمے ہوئے، خوف زدہ لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ بھوک کا خوف انہیں ظالم بنا دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں بولنے پر پابندی ہے، سوچنے پر پابندی ہے، شاہراہِ شعور ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ اور اوپر سے ہم اس جلادی فطرت کا کیا کریں، جسے لفظوں کو پھانسی دینے کی علت پڑ گئی ہے؟ جو قوم اپنے الفاظ کے قتل کے جرم کا ارتکاب کرتی ہے، ایک اَن دیکھا، نامعلوم پھانسی گھاٹ اس کا مقدر ٹھہرتا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام اس دور کا طاغوت ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کثرت کا نظام ہے۔ اس نظام میں تعلیم بھی مہذب ڈاکو پیدا کرتی ہے۔ کثرت میں سیری کی ضمانت نہیں، البتہ اس کا حساب ضرور دینا پڑے گا۔ برکت میں حاجت پوری ہونے اور سیری کی ضمانت ہے۔
یاد رکھو! کسی بھی قوم کی نفسیاتی صحت کا دارومدار شاعر یا ادیب کی سچائی اور سماجی انصاف سے وابستگی پر ہے۔ سچائی وہ ٹانک ہے جس سے قومیں اور معاشرے صحت مند اور توانا رہتے ہیں، اور روحانیت کا تو پاس ورڈ ہی سچائی ہے۔جھوٹ اور زود رنجی سفاکیت کو جنم دیتی ہے، اور سفاکیت کے اس دور میں مسخ شدہ چہروں والی لاشوں کی شناخت کا کرب تو سہنا ہی پڑتا ہے۔یہ سرمایہ دارانہ نظام بچھو کی طرح ہوتا ہے۔ کہتے ہیں، بچھو جب ماں کے پیٹ میں کچھ بڑا ہوتا ہے تو اندر سے پیٹ کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے اور سوراخ کرکے باہر آ جاتا ہے.



تبصرہ لکھیے