بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب، فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر
معزز حاضرینِ گرامی!
اللہ رب العزت نے ایک مسلمان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں۔انسان کے ایمان لانے اور اسلام قبول کرنے کے بعد، پاکیزگی حاصل کرنے کے بعد، جو سب سے اہم عملی فریضہ سامنے آتا ہے، وہ نماز ہے۔نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتی ہے، اسی لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔نبی کریم ﷺ نے نماز کے بارے میں انتہائی سخت تنبیہ فرمائی ہے:
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑ دینا ہے۔”(صحیح مسلم)
یہ حدیث نماز کی عظمت اور اسے چھوڑنے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ
ترجمہ:”ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز ہے، پس جس نے اسے چھوڑ دیا، اس نے کفر کیا۔”(جامع الترمذی، سنن النسائی)
لہٰذا ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ انتہائی خطرناک بات ہے کہ وہ جان بوجھ کر نماز کو چھوڑنے کا معمول بنا لے۔فقہاء نے تارکِ نماز کے حکم کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس لیے کسی مخصوص شخص پر کفر کا حکم لگانے کے بجائے ہر مسلمان کو اپنے لیے اس وعید سے سختی سے ڈرنا چاہیے۔اگر کسی انسان کو واقعی کوئی شرعی عذر لاحق ہو تو شریعت نے اس کے لیے بھی آسانیاں رکھی ہیں۔بیماری ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، کھڑے ہونے کی استطاعت نہ ہو تو اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرے۔ سفر، خوف اور دوسری مخصوص حالتوں کے لیے بھی شریعت نے احکام بیان فرمائے ہیں۔ لیکن محض سستی، غفلت اور دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے نماز چھوڑ دینا کسی مسلمان کے لیے معمول نہیں بننا چاہیے۔آج ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم دنیا کے کاموں کے لیے کتنی فکر کرتے ہیں، لیکن نماز کے معاملے میں ہماری فکر کتنی ہے؟
خاص طور پر مردوں کے لیے مسجد میں باجماعت نماز کی بڑی اہمیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جماعت کے ساتھ نماز کی بہت ترغیب دی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
ترجمہ:”باجماعت نماز اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔”(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
جب ایک نماز کا اجر اتنا زیادہ ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نمازوں کو صرف ادا کرنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ وقت کی پابندی، باجماعت ادائیگی اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کریں۔نبی کریم ﷺ نے جماعت کی اہمیت یہاں تک بیان فرمائی کہ اگر دو آدمی بھی ہوں تو وہ جماعت قائم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں جماعت کے اس عظیم اجر سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ہم دنیا کے معاملات میں بہت سمجھ دار ہیں۔ جہاں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نفع زیادہ ملے گا، ہم وہاں سرمایہ لگانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ جہاں ہمیں زیادہ فائدہ نظر آتا ہے، وہاں ہم وقت بھی دیتے ہیں، محنت بھی کرتے ہیں اور اپنی توانائی بھی صرف کرتے ہیں۔
لیکن ذرا سوچیں!
دنیا کا فائدہ چند سال کا ہے، جبکہ نماز کا اجر آخرت کے لیے ہے۔دنیا کی سرمایہ کاری ختم ہو سکتی ہے، لیکن اللہ کی راہ میں کیا ہوا عمل آخرت میں باقی رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں نماز کو بھی اپنی زندگی کی سب سے بڑی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ہم جتنے شوق، اخلاص اور پابندی کے ساتھ نماز ادا کریں گے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر محفوظ ہوتا جائے گا۔صرف خود نماز پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی ترغیب دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا
ترجمہ:”اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔”(سورۃ طٰہٰ: 132)
اگر گھر میں نماز کا ماحول بن جائے، والدین نماز کے پابند ہوں اور بچے نماز کی طرف متوجہ ہوں تو پورا گھر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مستحق بنتا ہے۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف دنیاوی تعلیم کی فکر نہ دیں، بلکہ ان کے اندر نماز کی محبت بھی پیدا کریں۔انہیں نماز کا حکم بھی دیں، محبت سے سمجھائیں اور اپنے عمل کے ذریعے ان کے لیے نمونہ بنیں۔بعض لوگ نماز کے وقت کو معمولی سمجھتے ہیں۔ کام میں مصروف ہیں تو نماز مؤخر کر دی، بازار میں ہیں تو نماز مؤخر کر دی، موبائل میں مصروف ہیں تو نماز مؤخر کر دی۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر کوئی ہمیں دنیا کا بہت بڑا فائدہ دینے والا موقع دے اور کہے کہ ابھی چند منٹ کے لیے یہ کام کر لو، تو ہم فوراً وقت نکال لیتے ہیں۔پھر اللہ رب العزت کے بلانے پر ہم وقت کیوں نہیں نکالتے؟
نماز دراصل بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزانہ بار بار اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے کا موقع ہے۔ہمیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری زبان پر کلمہ ہو، ہمارا نام مسلمانوں میں ہو، لیکن ہماری عملی زندگی نماز سے خالی ہو جائے۔کل قیامت کے دن انسان کے پاس دنیا کی دولت، عہدہ، کاروبار اور شہرت نہیں ہوگی؛ وہاں اصل سرمایہ ایمان اور اعمالِ صالحہ ہوں گے۔اس لیے آج ہی اپنے دل میں فیصلہ کریں:نماز نہیں چھوڑنی۔نماز میں سستی نہیں کرنی۔نماز کو وقت پر ادا کرنا ہے۔اور جہاں ممکن ہو، مسجد میں باجماعت نماز کا اہتمام کرنا ہے۔ہم اپنے بچوں، اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور معاشرے کے دوسرے لوگوں کو بھی محبت اور حکمت کے ساتھ نماز کی دعوت دیں۔
اللہ رب العزت ہمیں اپنی نمازوں کی قدر کرنے، انہیں وقت پر ادا کرنے، باجماعت نماز کا اہتمام کرنے، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی نماز کا پابند بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔یا اللہ! ہمیں غفلت اور سستی سے محفوظ فرما۔یا اللہ! ہماری نمازوں کو قبول فرما۔یا اللہ! ہماری اولاد اور ہمارے گھرانوں کو نماز کا پابند بنا۔یا اللہ! ہمیں زندگی بھر نماز قائم کرنے والا بنا اور قیامت کے دن نماز کی برکت سے اپنی رحمت کا مستحق فرما۔
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے