ہوم << نیکی کی راہیں – میر افسر امان،میر
600x314

نیکی کی راہیں – میر افسر امان،میر

ابو توبہ ربیع بن نافع نے بیان کیا،ہمیں معاویہ بن سلام نے زید سے حدیث بیا ن کی کہ انہوں نے ابو سلام کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہ تھے:مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انہوں ے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ مفاصل(جوڑوں)پر پیدا کیا گیا ہے۔تو جس نے تکبیر کہی۔اللہ کی حمد کہی۔اللہ کی وحداینت کا اقرار کیا۔ اللہ کی تسیبح کی۔اللہ سے مغفرت مانگی۔لوگوں کے راستے کوئی پتھرہٹایایہ لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر ہٹایا یالوگوں کے راستے کانٹا یا ہڈی(ہٹائی)۔ نیک کا حکم دیا اور برائی سے روکا۔ان تیس سو ساٹھ جوڑوں کے تعداد کے برابر تو وہ اُس دن اس طرح چلے گا کہ وہ اپنے آپ کودورخ کی آگ دور کر چکا ہو گا.“
2330 مسلم – منظوم حدیث

اللہ و پیارے نبیؐ کا قول افضل ہے
جو اس پر چل پڑا و ہ شخص جنتی ہے

جو تکبیرکہتا وہ اللہ کی طرف بلاتا ہے
اللہ کی طرف بلانا سب سے بہتر ہے

ساری کائنات اللہ کی حمدکرتی ہے
تیراشامل ہونا بھی بہت اچھا ہے

اللہ واحد اس کائنات کا ملک ہے
ساری کائنات گواہی دیتی ہے

چرند پرند اللہ کی تبسیح کرتے ہیں
ہر مسلمان نے اللہ کی تسبح کی ہے

گناہ سے بچ اللہ سے مغفرت مانگ
آخرت میں کامیابی کا یہ زینا ہے

راستوں سے پتھر ہڈی، کانٹا، ہٹانا
اللہ کے پسندیدیدوں کا کام ہے

نیکوں میں ساتھ دو برائیوں سے روکو
یہی اللہ کے نیک بندوں کا کام ہے

جو ان نیک کاموں کو سر انجام دے گا
اُسے دورخ آگ سے دور رہنا ہے

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

میر افسر امان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment