ہوم << اسلام کا آفاقی پیغام: اختلاف نہیں، اتحاد – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

اسلام کا آفاقی پیغام: اختلاف نہیں، اتحاد – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے:
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تم پر اسلام ہی کی حالت میں موت آنی چاہیے۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو تھام لو، پھوٹ نہ پیدا کرو، اور اپنے اللہ کے اس انعام کو یاد کرو کہ تم آپس میں دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے کرم سے بھائی بھائی بن گئے۔ تم دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے نکالا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تم لوگوں کو احکام بتاتا رہتا ہے، تاکہ تم ہدایت پر قائم رہو۔ (سورۃ آل عمران)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، مفہوم: تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان میل ملاپ کرا دیا کرو۔ (سورۃ الحجرات)

یہ نہایت ہی اہم فریضہ ہے۔ افسوس! اس کی اہمیت اور معاشرے میں رہ کر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہے اور نہ احساس۔حضرت ابودرداءؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں روزہ، صدقہ اور زکوٰۃ سے بھی افضل چیز بتاؤں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہے باہمی خلش کو دور کرنا اور صلح کرنا۔

موجودہ دور میں اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ قرآنِ مقدس اور سنتِ رسول اللہ ﷺ نے ہر مقام پر اس کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ آج پوری دنیا میں اختلاف و انتشار کی وجہ سے جو حالات پیش آ رہے ہیں، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ہمارے آپسی عدمِ اتفاق کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمانوں کو ظلم و تعدی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان تو ضرور ہیں، لیکن عمل سے ہماری زندگی خالی ہے اور تعلیمِ قرآن و سنتِ نبوی ﷺ سے ہم بہت دُور ہیں۔ ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق باقی نہیں رہا، ہم مسلکی و جزوی اختلافات میں منقسم ہو گئے۔ آج ہم سیاسی و مذہبی انتشار و خلفشار کی وجہ سے دلوں میں نفرت رکھتے ہیں اور یہ نفرت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، بلکہ بڑھتی جا رہی ہے۔

اس دور میں سیاسی انتہا پسندی و فرقہ واریت نے ہمیں اندر سے کھوکھلا اور کمزور بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے دنیا میں ہماری وقعت نہیں رہی۔ پہلی وجہ یہ کہ ہم نے اتحاد و اتفاق کا دامن چھوڑا، پھر ہم ادب و احترام کا رشتہ ہی بھول گئے، جس کی وجہ سے تنزلی ہمارا مقدر ٹھہری، جبکہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے۔دینِ اسلام میں اختلافِ رائے جہاں ممدوح ہے، وہیں لسانیت اور علاقائیت کی بنیاد پر اختلاف کو ناپسند کیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف مت کرو کہ تم کمزور ہو جاؤ، اور تمہاری ہوا نکل جائے، اور صبر کرو، بے شک! اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔مسلمانوں کو اللہ نے بہترین امت بنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپس میں نیکی اور تقویٰ کا درس دیتے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو روکنے والے ہیں۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا یہ اہم فریضہ اس وقت سرانجام ہو سکتا ہے جب ہم آپس میں پیار و اتفاق سے رہیں گے۔

دینِ اسلام کی ہمہ گیری کا تقاضا یہی ہے کہ امتِ مسلمہ ایک وحدت کی حیثیت سے آپس میں مل کر اتفاق و اتحاد سے رہے۔ اس ضمن میں تمام اہلِ اسلام کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیکیوں کی تلقین کریں، برائیوں سے بچیں اور ایک دوسرے کو برائی سے روکیں۔ یہ سب کچھ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب ایک خدا، ایک رسول ﷺ اور ایک کتابِ حق کے ماننے والے آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہیں۔ہمیں تو اللہ خود اپنی مقدس کتابِ ہدایت میں یہ حکم دے رہا ہے! تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ (آل عمران)

اسلام ایسا دین نہیں جسے زبردستی لوگوں پر مسلط کیا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے زور زبردستی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اللہ نے اسلام کو زور زبردستی پھیلانے سے منع فرمایا ہے۔ یہ تو امن اور سلامتی کا پیارا مذہب ہے۔ اسلام کی مرضی اور منشا تو یہ ہے کہ مسلمان آپس میں اس پیار و محبت کے ساتھ، اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہیں کہ غیر مذہب بھی ان کے اخلاق کو دیکھ کر اسلام کی دولت سے سرفراز ہو جائیں۔اتحادِ امت پر زور دیتے ہوئے خود اللہ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (سورۃ الحجرات)

جب تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان کا نفع بھی ایک ہے اور نقصان بھی ایک ہے۔ ان کی طاقت ان کا اتحاد ہے۔ انہیں دنیا کی دوسری قوموں پر اس لیے بھی برتری حاصل ہوگی کہ مسلمان اتحاد و اتفاق کی اس فضا کو قائم رکھتا ہے اور اس کو قائم رکھنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔یہ اتحادِ امت ہی کا اثر تھا کہ کسی زمانے میں مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور کامیاب قوم تھے۔ ان کی حیثیت ایک مضبوط دیوار کی سی تھی، مگر بد نصیبی سے جیسے جیسے لوگ اس مستحکم دیوار سے اینٹیں نکالتے گئے اور اپنے مفادات کے قلعے تعمیر کرتے گئے، ویسے ہی ان کی عزت و وقار کی یہ دیوار کمزور ہو کر ٹوٹنے اور بکھرنے لگی اور گرتی چلی گئی۔ہم نے قرآن اور صاحبِ قرآن کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، اس لیے آج ہم مفلوک الحال اور پریشان ہیں۔ موجودہ حالات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں، وقت کا اہم تقاضا ہے کہ ہم مسلمان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کریں۔

فرقہ واریت کا زہر جو ہماری نئی نسل میں ڈالا گیا ہے، اس کو پیار بڑھا کر ختم کریں۔ اتحاد کے ساتھ امت کو جوڑنے کی آج بہت ہی ضرورت ہے، جبکہ مسلمان مسلمان ہی کو مسلک، عقیدے کے نام پر کافر کہہ رہا ہے۔مدارس، مزاراتِ مقدسہ، امام بارگاہوں اور مسلمانوں کے وہ مقامات جہاں اللہ و رسول ﷺ کی یاد کی جائے، انہیں بم دھماکوں، خودکش حملوں سے گرایا جا رہا ہے۔ نہ مارنے والوں کو معلوم ہے کہ ہم کسی جرم کی سزا بے گناہ مسلمانوں کو دے رہے ہیں اور نہ مرنے والوں کو علم ہے کہ ان کو کیوں بے گناہ مارا گیا۔ہر طرف افراتفری ہے، جبکہ ہمارا مذہب تو ہمیں پیار محبت کا درس دے رہا ہے۔ ہمیں اتفاق و اتحاد سے رہنے کا بتا رہا ہے۔ اسلام تو دوسروں کے ساتھ ایثار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام نے تو ہمدردی کا سبق سکھایا ہے۔ اسلام تو اپنے ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر قربان ہونے کا درس دیتا ہے۔

موجودہ دور میں اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ قرآنِ مقدس اور سنتِ رسول اللہ ﷺ نے جابجا اس کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ آج پوری دنیا میں اختلاف و انتشار کی وجہ سے جو حالات پیش آ رہے ہیں، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق باقی نہیں رہا، ہم مسلکی و جزوی اختلافات میں منقسم ہو چکے ہیں۔آج ہم سیاسی و مذہبی انتشار و خلفشار کی وجہ سے دلوں میں نفرت رکھتے ہیں اور یہ نفرت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ سیاسی انتہا پسندی و فرقہ واریت نے ہمیں اندر سے کھوکھلا اور کمزور بنا دیا ہے۔ پہلے ہم نے اتحاد و اتفاق کا دامن چھوڑا، پھر ہم ادب و احترام کا رشتہ ہی بھول گئے، جس کی وجہ سے تنزلی ہمارا مقدر ٹھہری، جبکہ مذہبِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے۔حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ جو عصبیت پر مرا، وہ جہالت پر مرا، اور جو عصبیت کا علم بردار ہو، وہ ہم میں سے نہیں، اور جو عصبیت پر جنگ کرے، وہ ہم میں سے نہیں، اور جس کی موت عصبیت پر ہو، وہ بھی ہم میں سے نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپ مومنوں کو آپس میں رحم کرنے، محبت رکھنے اور مہربانی کرنے میں ایسا پائیں گے جیسا کہ ایک بدن ہو۔ جب اس کے کسی عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورے جسم کے سارے اعضاء بے خوابی، بے تابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور آپس میں اخوت و محبت و ہمدردی اور ملکی و ملی اور سماجی و سیاسی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امتِ واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہمیں دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سربلندی و سرخروئی سے اس دنیا میں جئیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی ہمیں عطا ہو۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment