بلند ہمت انسان، مضبوط معاشرہ
زندگی کے دن محدود ہیں اور گزرا ہوا وقت لوٹ کر نہیں آتا۔ پھر بھی ہم میں سے کتنے لوگ اہم کام کل پر ٹال دیتے ہیں؟
کبھی سہولت کے انتظار میں، کبھی ناکامی کے خوف سے اور کبھی محض اس لیے کہ آرام ترک کرنا مشکل لگتا ہے۔ حالیہ جمعہ کے روز مسجد الحرام میں امامِ کعبہ ڈاکٹر یاسر بن راشد الدوسری نے اسی غفلت کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے خطبے کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ مسلمان تقویٰ الٰہی اختیار کرے، اپنی ہمت بلند رکھے اور دین و دنیا کے مفید کاموں میں آگے بڑھے۔
خطیب محترم نے یاد دلایا کہ اسلام انسان کو معمولی مقاصد پر قناعت اختیار کرنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ قرآن نیکیوں میں سبقت لے جانے کی دعوت دیتا ہے۔ رسول اللہؐ نے دعا میں بھی بلند ترین منزل طلب کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگو۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ اللہ بلند اور عمدہ کام پسند فرماتا ہے اور گھٹیا کام پسند نہیں فرماتا۔ بلند ہمت انسان کی نظر میں صرف اپنی ذات کا فائدہ نہیں ہوتا؛ وہ اللہ کی رضا چاہتا ہے، اپنے کردار کو بہتر بناتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی نفع بخش بنتا ہے۔ اس کی روشن ترین مثال خود رسول اللہؐ کی زندگی ہے۔ آپؐ نے لوگوں کو توحید کی طرف بلانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی، مشکلات برداشت کیں اور دعوت کا کام جاری رکھا۔ صحابہ کرامؓ نے بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے اپنی جان، مال اور صلاحیتیں دین کی خدمت میں صرف کیں۔ انہوں نے اپنے معاشروں کی ذمہ داریاں نبھائیں اور قرآن و سنت کا پیغام دور دور تک پہنچایا۔ بعد کی نسلوں نے علم، عمل اور استقامت کے ذریعے اس ورثے کو آگے بڑھایا۔ ان سب کی کامیابی کے پیچھے واضح مقصد اور اس کے لیے محنت سے بھر پور پختہ عزم تھا۔
بلند ہمت ہونا محض بڑے خواب دیکھنے کا نام نہیں؛ خواب کو عمل سے جوڑنا پڑتا ہے۔ انسان جب پرسکون راستے ہی کو اپنا معمول بنا لیتا ہے تو اس کی صلاحیتیں آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو شخص اپنے نفس کی کمزوریوں سے لڑتا ہے اور درست راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہدایت کی راہیں کھول دیتا ہے۔ قرآن کریم نے راہِ الہی میں جدوجہد کرنے والوں سے یہی وعدہ فرمایا ہے۔ خطیب محترم نے ابن قیمؒ کے قول کی روشنی میں واضح کیا کہ مومن کی اصل طلب اللہ کی رضا اور اس کا قرب ہونا چاہیے۔ اگر مقصد ہی معمولی ہو تو محنت کا رخ بھی چھوٹے فائدوں تک محدود رہ جاتا ہے۔ ہمت بیدار کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنی بقیہ زندگی کی قدر پہچانیں۔ جوانی، صحت، فراغت اور مالی آسودگی ہمیشہ یکساں نہیں رہتیں۔ نبی کریمؐ نے ان نعمتوں کو ان کے زوال سے پہلے غنیمت جاننے کی نصیحت فرمائی۔ آج جو شخص پڑھ سکتا ہے، کوئی ہنر سیکھ سکتا ہے، اپنے گھر والوں کو وقت دے سکتا ہے یا کسی ضرورت مند کی مدد کر سکتا ہے، اسے یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن بھی انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اسے بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا اور ایک دن اسے اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔
اس لیے بے عملی کو خوب صورت خواہشات کی اوٹ میں نہیں چھپایا جا سکتا۔ ’’ کبھی فرصت ملی تو کر لیں گے‘‘ کہہ دینے سے کام مکمل نہیں ہوتا۔ خطیب محترم نے یہ نبوی نصیحت بھی یاد دلائی کہ عقل مند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، جبکہ بیوقوف وہ ہے جو چلے تو اپنی خواہشات کے پیچھے لیکن پھر بھی اللہ سے امیدیں لگائے۔ جو بات درست اور ضروری ہے، اس کے لیے آج ہی قدم اٹھانا ہوگا۔ فائدہ مند کام اختیار کیے جائیں، اللہ سے مدد مانگی جائے اور سستی سے بچا جائے۔ اچھے اور محنتی لوگوں کی صحبت ہمت بڑھاتی ہے، جبکہ ٹال مٹول انسان کے مقاصد کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔ خطبے کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ بلند ہمت بننے کے لیے دنیا سے کنارہ کشی ضروری نہیں۔ مسلمان آخرت کی فکر کے ساتھ روزگار کمائے، علم حاصل کرے، خاندان کی کفالت کرے اور معاشرے کی ضرورتیں پوری کرے۔ قرآن آخرت کی طلب کے ساتھ دنیا کے جائز حصے کو بھی نہ بھولنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اس توازن کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے پیشے میں دیانت دار ہو، کام میں مہارت پیدا کرے اور کامیابی کی دوڑ میں اپنے اخلاق اور عبادات کو فراموش نہ کرے۔
افراد کی یہی محنت قوموں کی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔ بڑے ادارے، مضبوط معاشرے اور پائیدار کامیابیاں مسلسل کوشش ہی سے وجود میں آتی ہیں۔ امامِ کعبہ نے کہا کہ ترقی کے لیے اپنی دینی و تہذیبی اقدار سے وابستگی اور نئے زمانے کی ضرورتوں کا ادراک، دونوں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وطن سے وفاداری صرف تقریروں اور نعروں میں نہیں بلکہ روزمرہ کے عمل میں دکھائی دینی چاہیے. یہ عمل کیا ہے؟ اپنے کام کو احسن طریقے سے انجام دینا، ذمہ داری نبھانا، قوانین کا احترام کرنا، عوامی وسائل کی حفاظت کرنا اور لوگوں کے درمیان خیر خواہی کو فروغ دینا۔ استاد اپنی تدریس سے، تاجر منصفانہ لین دین سے اور ہر کارکن اپنی ذمہ داری پوری کرکے معاشرے کی خدمت کر سکتا ہے۔ جب لوگ اپنا حصہ دیانت داری سے ادا کرتے ہیں تو ترقی کے ثمرات اجتماعی زندگی تک پہنچتے ہیں۔ اسی وفاداری کا ایک پہلو قومی اتحاد کا تحفظ بھی ہے۔ خطیب محترم نے غلو، انتہا پسندی، گمراہ کن گروہوں، تباہ کن افکار اور افواہوں سے بچنے کی تاکید کی۔ اختلاف یا تشویش کے وقت بلا تحقیق خبر پھیلانا آسان ہوتا ہے، مگر اس سے لوگوں کے درمیان بداعتمادی بڑھتی ہے۔ ذمہ دار شہری اپنے الفاظ اور فیصلوں کے اثرات کو سمجھتا ہے اور معاشرے میں امن و یکجہتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
خطبے کے آخری حصے میں امامِ کعبہ نے سعودی عرب اور یہاں مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی جارحانہ کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وطن کا تحفظ دینی ذمہ داری ہے، وطن اور مقدس مقامات کا دفاع عبادت ہے اور صفوں کا اتحاد امن کی ضمانت ہے۔ ان کے نزدیک ہر شخص اپنے مقام اور استطاعت کے مطابق اس ذمہ داری میں شریک ہو سکتا ہے۔ یوں بلند ہمتی کا سبق فرد کی محنت سے شروع ہو کر معاشرے کی حفاظت اور خدمت تک پہنچتا ہے۔ آخر میں امامِ کعبہ نے ملک اور مسلمانوں کے امن، محافظوں کی سلامتی، بیماروں کی شفا اور ضرورت مندوں کے لیے آسانی کی دعا فرمائی۔ انہوں نے فلسطین کے لوگوں کے لیے امن و اطمینان اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی دعا بھی کی۔ خطبے کا حاصل یہی ہے کہ وقت کی قدر پہچانی جائے، نیت درست رکھی جائے اور مفید کام میں تاخیر نہ کی جائے۔ بلند ہمت انسان اپنی زندگی سنوارتا ہے اور اپنے حصے کی روشنی دوسروں تک بھی پہنچاتا ہے۔



تبصرہ لکھیے