حال ہی میں سدرن کیلیفورنیا (Southern California) کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، جن میں ایف بی آئی (FBI) اور مقامی شیرف ڈیپارٹمنٹس شامل ہیں، نے ایک انتہائی لرزہ خیز پریس بریفنگ دی۔ انہوں نے والدین سے کوئی روایتی اپیل نہیں کی، بلکہ باقاعدہ دہائی دی کہ:
“خدارا! اپنے بچوں کے ہاتھوں سے موبائل چھین لیں اور انہیں سوشل میڈیا سے فوراً ہٹا لیں۔”
اس ہنگامی انتباہ کی وجہ وہ خوفناک اور سفاک آن لائن نیٹ ورک تھا جسے “764 Ideology” کہا جاتا ہے۔ یہ 764 نظریہ کیا ہے؟
یہ کوئی سیاسی یا مذہبی نظریہ نہیں، بلکہ ڈارک ویب اور آن لائن گیمنگ ایپس (جیسے Roblox، Discord اور Telegram) کی کوکھ سے جنم لینے والا ایک شیطانی کلٹ (Cult) ہے۔ اس نیٹ ورک کے شکاری (Predators) 8 سے 17 سال کے بچوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان سے دوستی کر کے انہیں نفسیاتی طور پر بلیک میل کرتے ہیں اور پھر ان سے انتہائی ہولناک کام کرواتے ہیں جس میں خود کو نقصان پہنچانا (Self-harm)، جانوروں پر وحشیانہ تشدد کرنا، اور چائلڈ پورنوگرافی بنانا شامل ہے۔ جیفیری ایپسٹین 764 اور اس جیسے بہت سے گروہ حقیقی وجود رکھتے ہیں اور بہت سے باقائدہ شیطان کی پوجا بھی کرتے ہیں اور شیاطین کو انسانی بچوں کے خون کا نذرانہ بھی پیش کرتے ہیں . اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف ایک “ڈیجیٹل” یا امریکی مسئلہ ہے، تو ذرا آنکھیں کھول کر دنیا اور خود اپنے ملک، پاکستان کے حالات دیکھیں۔
بچوں کے لرزہ خیز قتل اور سفاکیت کی نئی لہر
پوری دنیا اور بالخصوص پاکستان میں حال ہی میں جس تسلسل کے ساتھ معصوم بچوں کے ساتھ درندگی اور ان کے وحشیانہ قتل کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، وہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ کبھی کسی معصوم کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملتی ہے تو کبھی کسی بچے کو زیادتی کے بعد بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ یہ اسی درندہ صفت مائنڈ سیٹ کا عملی نتیجہ ہے جو ان آن لائن تاریک کمروں میں پروان چڑھ رہا ہے۔ جب نسلوں کو اسکرین پر تشدد، خون ریزی اور استحصال کا عادی بنا کر ان کی نفسیات کو سن (Desensitize) کر دیا جائے گا، تو معاشرے میں ایسے ہی نفسیاتی درندے (Psychopaths) پیدا ہوں گے جن کے لیے کسی معصوم کی جان لینا کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔ آن لائن دنیا کا یہ زہر اب ہمارے گلی کوچوں میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ جس مغرب نے آزادی اور “پرائیویسی” کے نام پر خاندانی نظام کا جنازہ نکالا، آج وہ خود اپنے ہی بنائے ہوئے اس عفریت (Monster) کے سامنے گھٹنے ٹیک کر چیخ رہا ہے کہ “بچوں کو اسکرین سے بچاؤ!”
کمال کی منافقت ہے کہ جب مذہب خاندانی حدود اور اخلاقیات کی بات کرے تو یہی لبرل ازم کے ٹھیکیدار اسے “بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہیں، اور آج جب ایک سفاک آن لائن کلٹ ان کی نسلوں کو بلیک میل کر کے ان سے جانوروں جیسا سلوک کروا رہا ہے، تو ریاست خود ہاتھ جوڑ رہی ہے۔ اور ہم؟ ہم جو اندھے مقلد بن کر مغرب کی ہر غلاظت کو “جدیدیت” سمجھ کر اپنے گھروں میں سجا رہے ہیں، ہم نے بچوں کی تربیت کرنے کے بجائے اسمارٹ فون کو ایک “ڈیجیٹل چوسنی” (Digital Pacifier) بنا کر ان کے منہ میں دے دیا ہے تاکہ وہ ہمیں تنگ نہ کریں۔ ہمیں لگتا ہے کہ بچہ کمرے میں بیٹھا کارٹون یا گیمز کھیل رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ڈارک ویب کے بھیڑیوں کے نرغے میں ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اسمارٹ فون کو اسٹیٹس سمبل سمجھنے کے بجائے، اسے بچوں کے ہاتھ میں دیا گیا ایک “ڈیجیٹل ٹائم بم” سمجھا جائے۔ جنہیں ہم محض “بچے” سمجھتے ہیں، اسکرین کی اس تاریک دنیا میں وہ بلیک میلرز کی کرنسی (Currency) بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے کہ درندگی کی یہ لہر ہمارے اپنے گھر کا دروازہ توڑے، ہمیں اسکرین سے بڑی دیواریں خود کھڑی کرنی ہوں گی۔اور اس شیطان کے پجاری فرقہ کے بارے میں اپنے معاشرے میں شعور بھی پیدا کریں اور قانون بنانے اور نافذکرنے والوں کو بھی اس پر متحرک کریں.



تبصرہ لکھیے