اللہ تعالیٰ نے ہم پر بے شمار اور ان گنت احسانات کیے ہیں اور ہمیں لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے۔ وقت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی ایک ایک گھڑی، ہر سیکنڈ اور منٹ اتنا قیمتی ہے کہ ساری دنیا بھی اس کی قیمت ادا نہیں کرسکتی، لیکن آج ہم وقت کی کوئی قدر نہیں کرتے کہ یونہی فضول باتوں میں اور لغو کاموں میں ضائع کردیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے تمہارے کھانے کو پھل پیدا کیے۔ اور اس نے تمہارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے سمندر میں رواں ہوں۔ اور دریاؤں کو بھی تمہارے لیے مسخر کیا۔“ (سورۂ ابراہیم: 32)
پھر فرمایا: ”اور اس نے تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کیا جو لگاتار چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام پر لگا دیا۔ اور جو کچھ بھی تم نے اللہ سے مانگا، اس نے تمہیں وہ سب کچھ عطا کیا، اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو کبھی ان کا حساب نہیں رکھ سکو گے۔ بے شک انسان تو ہے ہی بے انصاف اور ناشکرا۔“ (ابراہیم: 33-34)
ان آیات میں غور کریں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی متعدد نعمتوں میں سے ایک نعمت خاص طور پر ذکر فرمائی اور وہ ہے دن اور رات کو انسانوں کے لیے مسخر کرنا، اور دن اور رات ہی درحقیقت ”وقت“ ہیں۔ انسان کی زندگی دن اور رات پر مشتمل اسی ”وقت“ کا نام ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ”وقت“ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، جس کی ہم میں سے بہت سے لوگ قدر نہیں کرتے اور اسے فضول کاموں میں ضائع کردیتے ہیں۔
جبکہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات پر مشتمل ”وقت“ کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے قسم کھاتے ہوئے فرمایا: ”رات کی قسم جب وہ چھا جائے اور دن کی قسم جب وہ روشن ہو جائے۔“ (اللیل: 1-2)
اسی طرح دن کی بعض خاص ساعات کی قسم کھا کر بھی اس کی اہمیت کو واضح فرمایا۔ چنانچہ فجر کے وقت کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا: ”فجر کی قسم۔“ اور چاشت کے وقت کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا: ”چاشت کے وقت کی قسم!“ اور عصر کے وقت کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا: ”عصر کے وقت کی قسم!“ یا اس کا معنی ”زمانے کی قسم“ بھی کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ زمانہ (یعنی وقت) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود انتہائی عظیم الشان ہے، تو وہ قسم بھی عظیم الشان چیز ہی کی کھاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی ”وقت“ کی قدر کرنی چاہیے اور اس کے ضیاع سے بچنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے، تاکہ تم (رات کو) آرام کرسکو اور (دن کو) اس کا فضل (رزق) تلاش کرسکو۔ اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔“ (القصص)
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔“ (جامع ترمذی)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن میں بہت سارے لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ اور وہ ہیں صحت اور فراغت۔“ (صحیح البخاری: 6412)
جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”جو لوگ کسی ایسی مجلس میں بیٹھتے ہیں کہ اس میں نہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے نبی ﷺ پر درود شریف بھیجتے ہیں تو وہ مجلس ان کے لیے قیامت کے روز نقص اور حسرت و ندامت کا باعث بنے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو انہیں معاف کردے گا اور اگر چاہے گا تو ان کی گرفت کرے گا۔“ (مسند احمد: 10282۔ وصححہ الأرنووط والألبانی)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔“ ”اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے۔“ ”اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے۔“ ”اپنی تونگری کو اپنی غربت سے پہلے۔“ ”اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے۔“ ”اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔“ (اخرجہ الحاکم وصححہ الألبانی فی صحیح الترغیب والترہیب: 3355)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن پانچ چیزوں کے بارے میں سوالات سے پہلے کسی بندے کے قدم اپنے رب کے پاس سے ہل نہیں سکیں گے۔“ ”عمر کے بارے میں کہ اس نے اسے کس چیز میں گزارا؟“ ”جوانی کے بارے میں کہ اس نے اسے کس چیز میں گنوایا؟“ ”مال کے بارے میں (دو سوال) کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں پر خرچ کیا؟“ ”اور علم کے بارے میں کہ اس نے اس پر کتنا عمل کیا؟“ (جامع الترمذی: 2416۔ وصححہ الألبانی)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زندگی میں اس دن پر سب سے زیادہ افسوس کرتا ہوں جس میں سورج طلوع ہوا، لیکن میں اس دن زیادہ عمل نہ کرسکا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہوں گی، اور بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جن کی عمر ستر سے زیادہ ہو۔“ (ترمذی اور ابن ماجہ)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے نامزد کیا تھا تو انہیں کچھ باتوں کی وصیت کی تھی، ان میں سے ایک یہ تھی: ”عمر! یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک عمل دن کے وقت ہوتا ہے جسے وہ رات کے وقت قبول نہیں کرتا۔ اور ایک عمل رات کے وقت ہوتا ہے جسے وہ دن کے وقت قبول نہیں کرتا۔“ (معرفۃ الصحابۃ: 106)
اِس سلسلے میں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ رسول اکرم ﷺ عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کو ناپسند کرتے تھے۔ (صحیح البخاری: 547)
جبکہ ہم میں سے بہت سارے لوگ عشاء کے بعد آدھی رات تک بالکل ہی فضول کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ اور یہ یقینا اِس حدیث کے سراسر خلاف ہے۔ اور بعض لوگ ٹی وی کے سامنے گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور اپنے پسندیدہ پروگرام، یا مختلف میچز دیکھ کر فارغ اوقات کو ضائع کردیتے ہیں۔ اور اِس دوران موسیقی کا سماع، غیر محرم عورتوں کو دیکھنا اور اِس جیسے دیگر گناہوں میں مشغول رہ کر قیمتی اوقات کو برباد کردیتے ہیں۔
چنانچہ کئی لوگ اپنی پسندیدہ گیمز میں مشغول رہتے ہیں۔ اور کئی لوگ سوشل میڈیا پر مشغول رہتے ہیں۔ چنانچہ فیس بک پر اپنا سٹیٹس (status) اپ ڈیٹ (update) کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ مختلف پوسٹس کو دیکھنا اور انہیں لائک (like) کرنا یا ان پر تبصرہ کرنا، یا تبصروں پر تبصرے کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں، چاہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فرائض یا بندوں کے حقوق ضائع بھی ہوجائیں تو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔
اب تک ہم اپنی زندگی کا بڑا حصہ ضائع کرچکے ہیں، اس لیے باقی ماندہ وقت کو قیمتی سمجھیں اور اسے فضول کاموں میں ضائع نہ کریں۔
اگر آپ اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اپنے اوقات کو منظم کریں، فائدہ مند کاموں کو اختیار کریں، اپنے لیے کوئی مقصد طے کریں، اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں، بیکار دوستوں سے تعلق توڑ لیں، اور ہمیشہ یہ سوچیں کہ اس دنیا میں مسافر کی طرح آئے ہیں، واپس جانا ہے۔ جب زندگی ختم ہوگی تو قبر اور برزخ کا وقت بہت طویل ہوگا، اور پھر اللہ کے سامنے حساب دینا ہوگا۔ وہاں ہر قدم کا سوال ہوگا کہ زندگی اور جوانی کیسے گزاری؟
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو وقت کے ضیاع سے محفوظ رکھے۔ ہمیں قیمتی فارغ اوقات سے بھرپور طور مستفید ہونے اور ذخیرۂ آخرت بننے والے اعمال انجام دینے کی توفیق دے۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے