ہوم << تین دن کی تلاش، چند قدم کا فاصلہ – سجاداحمدشاہ کاظمی
600x314

تین دن کی تلاش، چند قدم کا فاصلہ – سجاداحمدشاہ کاظمی

پہاڑ خوبصورت مگر خطرناک ہوتے ہیں۔ ان کے مزاج کے خلاف اٹھایا جانے والا ایک قدم بھی انسان کو موت کی دہلیز تک لے جا سکتا ہے۔ موسٰی مصلٰے سے واپسی کے دوران غیر ملکی سیاح الیگزینڈر ہیرس کی گمشدگی اور بعد ازاں اس کی لاش کی برآمدگی اس حقیقت کی ایک افسوسناک مثال ہے، جسے مقامی، قومی اور عالمی میڈیا کے ذریعے دنیا دیکھ رہی ہے۔

یہ صرف ایک غیر ملکی سیاح کی موت کی کہانی نہیں بلکہ یہ واقعہ ہمارے سیاحتی، انتظامی اور ریسکیو نظام کی تیاری، استعداد اور ترجیحات پر کئی سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
اس پر بات کرنا اہم کیوں ہے؟ اس واقعے نے ہمارے انتظامی ڈھانچے کی کون سی کمزوریاں بے نقاب کیں؟ سرچ آپریشن تین دن تک جاری رہنے کے باوجود لاش کیوں نہ مل سکی؟ اور بالآخر اسے تلاش کرنے والے کون تھے؟

یہ کالم اسی روداد کو آپ کے سامنے رکھنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ مکمل پڑھنے کے بعد امید ہے کہ رائے جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقائق اور انصاف کی بنیاد پر قائم کی جائے گی۔

مقامی ذرائع کے مطابق 28 اگست 2026 کو دو غیر ملکی سیاح، الیگزینڈر ہیرس اور ہیلن، منڈہ گچھہ پہنچے۔ رات مقامی ہوٹل میں قیام کے بعد اگلی صبح دونوں موسٰی مصلٰے کی جانب روانہ ہوئے۔

زیرو پوائنٹ جچھہ سے موسٰی مصلٰے ٹاپ تک تقریباً چھ گھنٹے کی پیدل مسافت بتائی جاتی ہے، تاہم دونوں نوجوان ٹریک رنرز نے یہ فاصلہ نسبتاً کم وقت میں طے کیا۔ تقریباً 13,500 فٹ بلند چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔

یہیں سے کہانی کا خطرناک موڑ شروع ہوتا ہے۔

مقامی معلومات کے مطابق اکھوڑی میدان کے قریب واپسی کے دوران دونوں ایک دوسرے سے آگے نکل گئے۔ ہیلن نسبتاً سیدھے راستے سے زیرو پوائنٹ واپس پہنچنے میں کامیاب رہا، جبکہ الیگزینڈر راستہ بھٹک کر ایک انتہائی دشوار اور خطرناک پہاڑی ڈھلوان، جسے مقامی طور پر ’’پراچہ کا لاڑ‘‘ کہا جاتا ہے، کی طرف چلا گیا۔

مبینہ طور پر راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں وہ پہاڑی ڈھلوان سے گر گیا اور جانبر نہ ہو سکا۔ہیلن کی اطلاع پر پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے الیگزینڈر کی تلاش شروع کی۔ رات بھر سرچ آپریشن جاری رہا، مگر کوئی سراغ نہ نہیں ملا۔ بعد ازاں تقریباً 200 مزید اہلکار، ریسکیو 1122 کے اہلکار، محکمہ جنگلات کے ملازمین اور مقامی رضاکار سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں شامل ہوئے۔تین دن تک مختلف ٹیمیں پہاڑ کے مختلف حصوں میں تلاش کرتی رہیں۔ مقامی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے بھی اس معاملے کو اجاگر کیا اور پولیس و انتظامیہ کی سرگرمیوں کو کوریج دی، لیکن پھر بھی لاپتہ سیاح کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر اتنی بڑی نفری، ریسکیو اہلکار، پولیس، محکمہ جنگلات اور مقامی رضاکار تین دن تک تلاش میں مصروف رہے تو وہ علاقہ کیوں تلاش نہ ہو سکا جہاں بالآخر لاش پڑی تھی؟
یکم ستمبر کو ڈی آئی جی ہزارہ کی جانب سے آئرش سیاح کو تلاش کرنے والے شخص کے لیے نقد انعام اور سرکاری ملازمت کا اعلان کیا گیا۔اگلی صبح ریسکیو اہلکاروں، پولیس جوانوں اور مقامی افراد نے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دے کر دوبارہ پورے علاقے میں تلاش شروع کی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں اس پوری کہانی نے ایک حیران کن رخ اختیار کیا۔محکمہ جنگلات کے فارسٹ گارڈ صفدر شاہ کے ہمراہ تین مقامی نوجوان، ناظم، منیر اور علی اکبر شاہ، پراچہ لاڑ سے ملحقہ ایک ڈھلوانی علاقے میں پہنچے۔وہاں انہیں پانی کی ایک سفری بوتل دکھائی دی۔بوتل دیکھ کر انہیں شبہ ہوا کہ یہ گمشدہ سیاح کی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بوتل کی سمت میں مزید تلاش شروع کی تو چند قدم آگے پہاڑی ڈھلوان پر الیگزینڈر کی لاش موجود تھی۔

یعنی جس شخص کو تین دن تک بڑے سرچ آپریشن کے باوجود تلاش نہیں کیا جا سکا، اسے بالآخر ایک مقامی فارسٹ گارڈ اور تین مقامی نوجوانوں نے تلاش کر لیا۔ لاش برآمد کی گئی، ضروری قانونی کارروائی مکمل ہوئی اور بعد ازاں لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔لاش ملنے کے بعد سب سے اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کریڈٹ کس کو ملے گا۔
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ لاش تین دن تک کیوں نہیں مل سکی؟
کسی بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں صرف افراد کی تعداد کافی نہیں ہوتی۔ پہاڑی علاقوں میں کامیاب تلاش کے لیے جغرافیائی معلومات، ٹریل میپنگ، مقامی جغرافیہ سے واقفیت، خطرناک مقامات کی نشاندہی، سرچ گرڈ، GPS، مواصلاتی نظام اور تربیت یافتہ ٹیموں کا مربوط استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔یہاں چند سوالات انتظامیہ، پولیس، ریسکیو اور متعلقہ اداروں سے پوچھنا ضروری ہیں۔

اگر موسٰی مصلٰے اور اس سے ملحقہ سیاحتی علاقوں کا تفصیلی نقشہ موجود ہے تو کیا اس نقشے میں پہاڑی راستوں، خطرناک ڈھلوانوں، کھائیوں، ممکنہ حادثاتی مقامات اور متبادل راستوں کی نشاندہی موجود ہے؟
اگر ایسا نقشہ موجود ہے تو سرچ آپریشن کے دوران اسے بنیاد بنا کر تلاش کا منظم دائرہ کیوں تشکیل نہیں دیا گیا؟
اور اگر ایسا نقشہ موجود ہی نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم ایسے علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینے کے دعوے کیسے کر سکتے ہیں جہاں کسی ہنگامی صورتحال میں ریاستی اداروں کے پاس بنیادی جغرافیائی معلومات تک مکمل رسائی نہ ہو۔پہاڑوں میں مقامی آدمی کا تجربہ کسی نقشے سے کم اہم نہیں ہوتا۔ مقامی گائیڈز برسوں سے ان پہاڑوں کے راستوں، خطرناک ڈھلوانوں، موسم کے اثرات اور ان مقامات سے واقف ہوتے ہیں جہاں عام آدمی کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔اگر مقامی گائیڈ نے ابتدائی مرحلے ہی میں کسی مخصوص علاقے کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا تھا تو سوال بنتا ہے کہ سرچ آپریشن کے پہلے تین دنوں میں پراچہ لاڑ کی حدود کو مکمل طور پر کیوں نہیں کھنگالا گیا؟

یہ سوال کسی ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے سبق حاصل کرنے کے لیے ہے۔لاش ملنے کے بعد ایک اور منظر نے انتظامی تیاری پر سوال کھڑا کیا۔اتنے دشوار گزار پہاڑی علاقے سے لاش منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ سٹریچر کی عدم دستیابی کی شکایت سامنے آئی۔ بالآخر لکڑیوں کی مدد سے لاش کو باندھ کر انتہائی مشکل ڈھلوان سے نکالا گیا۔یہ منظر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر کسی پہاڑی علاقے میں باقاعدہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران بنیادی ریسکیو سامان ہی دستیاب نہ ہو تو ہنگامی حالات میں ہم کتنے تیار ہیں؟
پہاڑی سیاحت صرف خوبصورت مناظر، سوشل میڈیا پر تشہیر اور سیاحوں کی آمد کا نام نہیں۔اس کے ساتھ Mountain Rescue Infrastructure بھی ضروری ہے۔

اور اب آتے ہیں اس سوال کی طرف جو شاید سب سے زیادہ تلخ ہے۔لاش ملنے کے بعد مختلف اداروں کی جانب سے آپریشن کی کامیابی کا کریڈٹ لینے کی کوششیں فطری طور پر ایک بحث کو جنم دیتی ہیں۔ریاستی اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن میں حصہ لینا ان کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنا یقیناً قابلِ قدر ہے۔پولیس، ریسکیو 1122، محکمہ جنگلات اور دیگر اہلکاروں نے جس مشکل ماحول میں کام کیا، اس کا اعتراف بھی ہونا چاہیے۔لیکن کریڈٹ کی دوڑ میں اصل کردار کو نظر انداز کرنا بھی انصاف نہیں۔اگر حقیقتاً الیگزینڈر کی لاش اس مقام پر فارسٹ گارڈ صفدر شاہ اور مقامی نوجوانوں ناظم، منیر اور علی اکبر شاہ نے تلاش کی، تو ان کے کردار کو محض ’’مقامی مدد‘‘ کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ پہاڑ پر آخری چند قدم اکثر سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔اس واقعے کو صرف پولیس، ریسکیو یا ضلعی انتظامیہ کی ناکامی قرار دینا شاید مکمل تصویر نہ ہو۔

اصل مسئلہ اس سے بڑا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کے سیاحتی پہاڑی علاقوں میں Search and Rescue Protocol کیا ہے؟ کیا ہر اہم ٹریک کا ڈیجیٹل نقشہ موجود ہے؟ کیا خطرناک مقامات کی باقاعدہ مارکنگ کی گئی ہے؟ کیا مقامی گائیڈز کو باقاعدہ ریسکیو نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا ہے؟ کیا ریسکیو ٹیموں کے پاس پہاڑی علاقوں کے لیے خصوصی تربیت اور سامان موجود ہے؟ کیا غیر ملکی سیاحوں کے لیے لازمی رجسٹریشن، روٹ پلان اور ایمرجنسی رابطہ نظام موجود ہے؟
اور سب سے اہم کہ کیا کسی سیاح کے لاپتہ ہونے کے پہلے چند گھنٹے ضائع ہونے سے روکنے کے لیے واضح SOP موجود ہے؟
کیونکہ پہاڑ پر وقت صرف گھڑی کی سوئیاں نہیں گھماتا، بلکہ ہر گزرتا گھنٹہ تلاش کی مشکل بڑھاتا جاتا ہے۔

الیگزینڈر ہیرس اب واپس نہیں آ سکتا۔اس کی موت کو نہ کوئی انعام بدل سکتا ہے، نہ کوئی پریس ریلیز اور نہ ہی کریڈٹ کی کوئی جنگ۔ لیکن اس سانحے سے سیکھا ضرور جا سکتا ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پہاڑوں کو صرف سیاحتی مقام سمجھتے ہیں یا ایک ایسے حساس جغرافیائی خطے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں جہاں معمولی غلطی جان لے سکتی ہے۔اگر ہم واقعی پاکستان کو محفوظ سیاحتی ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں خوبصورت تصاویر اور تشہیری مہمات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ہمیں ہر اہم ٹریل کا نقشہ بنانا ہوگا۔خطرناک مقامات کی نشاندہی کرنا ہوگی۔مقامی گائیڈز کو تربیت دے کر باقاعدہ ریسکیو نیٹ ورک کا حصہ بنانا ہوگا۔پہاڑی ریسکیو کے لیے خصوصی آلات فراہم کرنا ہوں گے۔اور سب سے بڑھ کر، مقامی لوگوں کے تجربے کو ریاستی نظام کا باقاعدہ حصہ بنانا ہوگا۔

کیونکہ اس واقعے نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پہاڑ کو جاننے والا مقامی آدمی بعض اوقات وہ دیکھ لیتا ہے جو بڑے سے بڑا سرچ آپریشن بھی نہیں دیکھ پاتا۔الیگزینڈر ہیرس کی موت شاید ایک حادثہ تھی، لیکن اس کی گمشدگی سے لاش کی برآمدگی تک کا سفر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کرتا ہے کہ آئندہ کسی اور سیاح کے لیے ہمیں کتنی تیاری درکار ہے۔اور شاید یہی اس سانحے کا سب سے بڑا سبق ہے۔کریڈٹ کی جنگ بعد میں بھی لڑی جا سکتی ہے، مگر کسی انسان کی زندگی واپس نہیں آتی۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment