ہوم << عمرہ پر جانے سے پہلے آزمائش؟ – افشاں نوید
600x314

عمرہ پر جانے سے پہلے آزمائش؟ – افشاں نوید

یہ جو تصویر آپ دیکھ رہے ہیں یہ کسی اتوار بازار کا منظر نہیں ۔یہ عمرہ کے خواہشمند زائرین ہیں جو آج کراچی کے شدید ترین گرم موسم میں بنا کسی شیلٹر کے گھنٹوں دھوپ میں ویکسینیشن کے لیے اپنی باریوں کے انتظار میں کھڑے رہے۔ کرسیاں تھیں نہ پانی کا انتظام۔ طرفہ تماشہ یہ کہ ساتھ میں معصوم بچے ضعیف افراد ۔ان کے لیے کوئی اے سی کمرہ نہ سہی بیٹھنے کی جگہ ہی ہوتی۔ پھر کراچی جیسے شہر میں جو ایک ویکسینیشن سینٹر بنایا گیا وہ ایئرپورٹ بلڈنگ کی ڈسپنسری میں تھا خستہ حال۔

ہر زبان پر شکوہ تھا ایک مقدس مقام پہ جانے والے ان حکمرانوں کے لیے جو کلمات ادا کر رہے تھے وہ بیان کرتے ہوئے بھی دل دکھتا ہے۔ایک بات ہر ایک کی گفتگو میں عیاں تھی کہ ہمیں سزا دی گئی ہے اور حکمرانوں کا کام عوام سے مال بٹورنا اور ان کو مشکلات میں دھکیلنا ہے۔ سوچئے عمرہ کا سفر انسان کے لیے خوشی، شکر اور روحانی تیاری کا سفر ہوتا ہے۔ آخری لمحات میں آدمی اپنے گھر کو سمیٹتا، سامان درست کرتا،رشتے داروں سے ملتا،دل کو اللہ کے گھر کی حاضری کے لیے تیار کرتا ہے لیکن یہ مناظر جیسے گھمسان کارن پڑا ہو۔ عمرہ زائرین کے لیے نئے ویکسینیشن اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ نظام کے تحت لوگوں کو پہلے ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا ہے۔ مگر کسی کی ایپ دو گھنٹے میں فنکشنل ہو رہی ہے، کسی کی تین گھنٹے میں۔

میرے سامنے جو خاتون بیٹھی تھیں ان کی کل فلائٹ ہے۔ وہ دو گھنٹے سے بیٹھی ہیں کہ ایپ فنکشنل ہونے میں ابھی مزید وقت درکار ہے۔کل صبح کی فلائٹ اور آج کا قیمتی وقت ایک ایپ کے انتظار میں گزر رہا ہے۔اس کے بعد کارڈ بنے گا، ویکسینیشن ہوگی، ڈیٹا کمپیوٹر میں جائے گا، نادرا کے نظام سے تصدیق ہوگی اور پھر سرٹیفکیٹ کا مرحلہ آئے گا۔یہ صرف ایک کام نہیں، کئی مراحل کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔ تنگ کمرے اس سے تنگ راہداریاں۔لوگ دھکے کھا کر شدید حبس،گھٹن ،گرمی میں ایک سے دوسرے کمرے میں داخل ہوریے ہیں۔ باہر قطاروں میں کھڑے لوگوں کی آوازیں اتنی بلند ہوجاتیں کہ ہاتھا پائی کی نوبت آتے آتے رہ جاتی۔ایک بپھرے ہوئے آدمی کو کئی لوگ سمجھا رہے تھے وہ کہ رہا تھا اس کو اپنی فلائٹ منسوخ کرانا پڑے گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ نظام ہزاروں عمرہ زائرین کے لیے بنایا گیا تھا تو اس کی capacity پہلے کیوں نہیں آزمائی گئی؟

اگر ایک ایپ ڈاؤن لوڈ ہونے میں دو تین گھنٹے لگ رہے ہیں تو مسئلہ صرف عوام کا صبر نہیں، نظام کا بھی ہے۔
کیا server capacity بڑھانے کی ضرورت نہیں تھی؟کیا رجسٹریشن فیس کو پہلے ٹیسٹ نہیں کیا جا سکتا تھا؟
رش کا اندازہ پہلے سے نہیں تھا؟
کیا کراچی جیسے شہر میں ایک ہی مرکز اس بوجھ کو اٹھا سکتا ہے؟
لوگوں کو یہ سب کچھ اپنی فلائٹ سے صرف چند دن یا چند گھنٹے پہلے کیوں معلوم ہو رہا ہے؟جس کی فلائٹ کل ہے، اسے آج گھنٹوں قطار میں کھڑا کر کے ہم اس سے کس قسم کی روحانی تیاری کی توقع کر رہے ہیں؟

ساڑھے چار ہزار روپے فی مسافر رقم وصول کی جا رہی ہے تو عوام کا حق ہے کہ انہیں بتایا جائے:یہ رقم کس مد میں ہے؟
ویکسین کی قیمت کتنی ہے؟
ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کے charges کتنے ہیں؟
کون سا ادارہ یہ رقم وصول کر رہا ہے؟

یہ سوال شفافیت کا مطالبہ ہے۔
حکومت اگر کہتی ہے کہ یہ نیا نظام عوام کی سہولت، صحت اور بین الاقوامی سفری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہے تو عوام کو بھی سوال کرنے کا پورا حق ہے ۔ ٹیکنالوجی عوام کو آسانی دینے کے لیے ہوتی ہے۔اگر ٹیکنالوجی ہی عوام کو گھنٹوں خوار کر دے تو پھر ہمیں ٹیکنالوجی نہیں، اس کے استعمال پر سوال کرنا چاہیے۔عمرہ کے مسافروں کی تکلیف کو محض “چند گھنٹوں کی پریشانی” کہہ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔یہ لوگ سیر و تفریح پر نہیں جا رہے۔یہ اللہ کے گھر کے مہمان بن کر جا رہے ہیں۔ان کے لیے ایسا نظام بنانا چاہیے تھا جو نظام ہو نہ کہ اذیت کا بہانہ۔ حکومت سے صرف اتنا سوال ہے کہ جب مسافروں کی تعداد معلوم تھی تو مراکز کیوں نہیں بڑھائے گئے؟

جب ڈیجیٹل نظام بنانا تھا تو server capacity کیوں نہیں بڑھائی گئی؟
جب فیس ساڑھے چار ہزار روپے ہے تو اس کی مکمل تفصیل عوام کو کیوں نہیں بتائی جا رہی؟
اور سب سے بڑھ کر یہ نظام آخری وقت میں کیوں نافذ کیا گیا؟

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

افشاں نوید

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment