علم وعمل وہ وہ جادۂ راہ ہے، جس پر چل کر تعمیر و ترقی کا سفر طے کیا جا سکتا ہے۔ اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنا کلچر اپنا کر ترقی کرنا، اپنی ترقی ہے، یہی بنیادی نشانِ راہ ہے۔ روپ، عمل اور کردار میں طاقت اور ترقی ہے، بے روپ، منافقت اور دورنگی میں ذِلّت و رسوائی۔ اسدؒ ملتانی مرحوم نے عمدہ شعر کہا تھا:
؎ کی ترقی جو مُسلمان نے فرنگی بن کر
وہ فرنگی کی ترقی ہے، مُسلمان کی نہیں
کبھی کبھی ایک شعر پورے عہد کا جائزہ پیش کر دیتا ہے۔ اسدؒ ملتانی کا یہ شعر بھی انہی اشعار میں شمار ہوتا ہے۔ شاعر نے چند الفاظ میں وہ سوال اُٹھا دیا ہے جس پر بڑے بڑے فلسفی کتابیں لکھتے رہے ہیں: کیا ہر وہ چیز ترقی ہے جسے ترقی یافتہ قومیں اختیار کرچکی ہوں؟ اور کیا کسی قوم کی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ اُس قوم کی اندھی تقلید کرتے ہوئے، اپنی شناخت، اپنی اخلاقی اقدار، اپنی تہذیب و تمدن اور اپنے فکری و نظریاتی تشخص کو بھی دوسروں کے حوالے کر دے؟ ترقی یافتہ قوم کے اچھے عمل کے ساتھ ساتھ اس کے بُرے اعمال اور گندگی بھی اپنے دامن میں سمیٹ لی جائے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ترقی کو بھی ایک درآمدی شے سمجھ لیا ہے۔ پہلے کپڑے باہر سے آتے تھے، پھر مشینیں آئیں، پھر مصنوعات آئیں، پھر زبان آئی، پھر طرزِ زندگی آیا، اور اب تو لگتا ہے کہ خیالات بھی درآمد ہوتے ہیں، صرف ڈبہ کھولنے کی دیر ہے۔ ہم نے مغرب سے بجلی کا پنکھا لیا، بہت خوب کیا؛ موبائل فون لیا، اچھا کیا؛ کمپیوٹر لیا، قابلِ تعریف ہے؛ جدید طب، انجینئرنگ، سائنسی تحقیق اور صنعتی نظم و ضبط سے فائدہ اٹھایا، یہ بھی عین دانش مندی ہے۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہم مشین کے ساتھ مشین کا مزاج، ٹیکنالوجی کے ساتھ تہذیب، علم کے ساتھ نظریہ، اور سہولت کے ساتھ فلسفۂ زندگی بھی بغیر سوچے سمجھے درآمد کر لیتے ہیں۔ بلکہ اپنا لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے مغرب سے گھڑی تو لے لی، مگر وقت کی پابندی نہ لی؛ ٹریفک سگنل لے آئے، مگر قانون کی پابندی نہ لائے؛ یونیورسٹیاں بنا لیں، مگر تحقیق کا ذوق نہ پیدا کیا؛ لائبریریاں بنا لیں، مگر کتاب سے دوستی نہ ہوئی؛ بڑے بڑے دفاتر بنا لیے، مگر دیانت داری کو دروازے کے باہر اتار دیا۔ہماری ترقی کا عجیب نقشہ ہے۔لباس جدید مگر عریاں، گفتار و کردار میں تضاد! زبان انگریزی نہ اپنی، وعدہ خلافی! موبائل جدید، سوچ گھٹیا! دفتر ایئرکنڈیشنڈ، فائلیں بدعنوانی اور رشوت سے گرم! یہ کیسی ترقی ہے؟
ہم نے دنیا سے بہت کچھ سیکھا، مگر دنیا کو یہ سکھانا بھول گئے کہ علم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں، انسان بنانے کا وسیلہ بھی ہے۔
ترقی یا نقالی؟
اصل سوال یہ نہیں کہ مغرب اور دیگر غیر قوموں سے کیا لیا جائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا لیا جائے اور کیوں لیا جائے؟
اگر کوئی قوم سائنسی تحقیق میں آگے بڑھتی ہے، نئی دوا ایجاد کرتی ہے، بیماریوں کا علاج دریافت کرتی ہے، سمندر کی تہہ میں تحقیق کرتی ہے، خلاء کو مسخر کرتی ہے، وقت کی قدر کرتی ہے، صفائی کا اہتمام کرتی ہے، قانون کی پاسداری کرتی ہے، اداروں کو مضبوط بناتی ہے، تو اس سے سیکھنے میں کیا حرج ہے؟
دِینِ اسلام نے تو علم کے دروازے بند نہیں کیے۔ قرآن مجید میں اللّہ تعالٰی نے علم کی قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: ”(کیا اِس شخص کی روش بہتر ہے یا اُس شخص کی) جو مطیعِ فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے اُمید لگاتا ہے؟ اِن سے پُوچھو کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں۔“ (سورۃ الزمر آیت 9)
ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، اشاعت مارچ 1998ء، صفحہ 1159۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے علم کے دروازے بند نہیں کیے، علم و تحقیق میں دن رات ایک کیے، مدرسے، تحقیقی ادارے اور کتب خانے قائم کیے، اپنی تحقیق، مشاہدے اور تجربات کی روشنی میں کتابیں لکھی اور ان کی ترویج و اشاعت کی، نیز دنیا کے مختلف علوم سے استفادہ کیا، ان میں تحقیق کی، اضافہ کیا اور انہیں انسانوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ انسانی ضرورت کے تمام علوم کے حوالے سے کام کیا۔ اس وقت مسلمان ہر شعبے میں عروج پر تھے، جس طرح آج عیسائی چھائے ہوئے ہیں۔مسئلہ علم کا نہیں، علم کے مقصد کا ہے۔ مسئلہ ترقی کا نہیں، ترقی کے تصوّر کا ہے۔ مسئلہ عیسائیوں اور یہودیوں کا نہیں، ان کی اندھی نقالی کا ہے۔ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ایک مسلمان اگر جدید سائنس پڑھتا ہے تو وہ مسلمان ہی رہتے ہوئے سائنس دان بن سکتا ہے۔ اگر وہ انجینئر بنتا ہے تو ایمان نہیں بیچتا۔ اگر وہ ڈاکٹر بنتا ہے تو انسانوں کی خدمت کو عبادت سمجھ سکتا ہے۔ اگر وہ صنعت کار بنتا ہے تو حلال کمائی اور دیانت کو اپنا اصول بنا سکتا ہے۔ اگر وہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں موبائل ہو سکتا ہے، مگر موبائل اس کے ذہن کا مالک نہیں ہونا چاہیے۔آلہ انسان کے ہاتھ میں رہے تو نعمت ہے، انسان آلے کے ہاتھ میں چلا جائے تو مصیبت ہے۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
؎ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت!
احساسِ مرؤت کو کچل دیتے ہیں آلات!
کُلیاتِ اقبال اردو از علامہ محمد اقبالؒ، غ ع، اشاعت فروری 1973ء، صفحہ 400۔
ہماری ترقی کا ایک دلچسپ لطیفہ
ہم نے ترقی کو بھی ظاہری شکل دے دی ہے۔ جس نوجوان نے دو جملے انگریزی میں بول لیے، ہم نے اسے ”ماڈرن“ قرار دے دیا۔ جس نے باپ اور ماں کو ڈیڈ اور مام کہنا شروع کردیا، وہ ترقی یافتہ ہوگیا۔ جس نے گھر میں پانچ انگریزی الفاظ اور دفتر میں دس غیر ملکی اصطلاحات استعمال کر لیں، اس کی فائل پر ”ماڈرن مائنڈ“ لکھ دیا۔ بلکہ ہماری مسخروں سے بھی بُری حالت ہے کہ ہم نہ مکمل اردو بول سکتے ہیں اور نہ ہی انگریزی۔اور اگر کوئی شخص اردو میں صاف، سادہ اور شائستہ گفتگو کرے، بزرگوں کا احترام کرے، وعدہ پورا کرے، وقت پر پہنچے، رشوت سے بچے، سچ بولے، پڑوسی کا خیال رکھے اور اپنے ملک کے قانون کی پابندی کرے تو ہم اسے شاید ”پرانے خیالات کا آدمی“ قرار دے دیں!
کیا خوب ترقی ہے!
ہم نے الفاظ کو جدید اور کردار کو فرسودہ کر دیا ہے۔ گھر میں بیس لاکھ کا فرنیچر ہے مگر والدین کے لیے وقت نہیں۔ بچے کے ہاتھ میں جدید ترین موبائل ہے مگر کتاب سے دشمنی ہے۔ گھر میں انٹرنیٹ کی رفتار تیز ہے مگر باپ اور بیٹے کے درمیان گفتگو کی رفتار صفر ہے۔ سوشل میڈیا پر ہزار دوست ہیں مگر محلّے میں بیمار پڑے پڑوسی کا حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ہم ہر روز ”گڈ مارننگ“ کے پیغامات بھیجتے ہیں، مگر گھر کے بوڑھے والدین کو صبح بخیر کہنے کی فرصت نہیں!یہ ترقی نہیں، ترقی کا میک اَپ ہے۔
اقبالؒ کا سوال؟
علامہ اقبالؒ نے مغرب کی ترقی کو دیکھا، اس کے علم و ہنر کی عظمت کو تسلیم کیا، مگر اس کے مادی تمدن کے ساتھ پیدا ہونے والی روحانی بے سمتی پر بھی نگاہ رکھی۔ ان کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ مسلمان علم کیوں حاصل کریں؛ ان کا مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان اپنی روح بیچ کر علم کیوں خریدیں؟
اقبالؒ نے صاف کہا:
؎ اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں، قومِ رسولِ ہاشمیؐ
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو مِلّت بھی گئی!
ایضاً صفحہ 248۔
یہ اشعار کسی قوم سے نفرت کا اعلان نہیں، بلکہ مسلمان کے فکری تشخص کی یاد دہانی ہے کہ اپنی عظمتِ رفتہ کو بحال کرو، اپنے علم و عمل سے، اپنی گفتار و کردار سے۔اقبال کے نزدیک قوم کی اصل قوت صرف زمین، نسل، زبان یا معاشی مفاد نہیں۔ مسلمان کے لیے ایمان، اخلاق اور مشترک دینی شعور بھی اجتماعی زندگی کی بنیاد ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ کہتے ہیں:
؎ ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری
ایضاً صفحہ 248۔
یہاں اقبالؒ کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان اگر ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی اصل بنیاد پہچاننا ہوگی۔ وہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے، مگر اپنی سمت کا تعین دوسروں سے نہ کرائے۔
اکبرؒ الٰہ آبادی کی دُور رس ہنسی
اکبرؒ الٰہ آبادی نے اپنے زمانے میں جس چیز پر طنز کیا تھا، وہ آج ہمارے سامنے پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔ انہوں نے جدید تعلیم کے بعض ایسے پہلوؤں کو نشانہ بنایا جو انسان کو علم کے بجائے صرف نوکری، منصب اور ظاہری مراتب کا طالب بنا رہے تھے:
؎ تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے، فقط سرکاری ہے
اکبرؒ کا طنز دراصل تعلیم کے خلاف نہیں تھا؛ وہ ایسی تعلیم کے خلاف تھے جو انسان کو اپنی تہذیبی اور اخلاقی بنیادوں سے کاٹ دے۔ان کا ایک اور شعر آج بھی ہمارے تعلیمی نظام کے دروازے پر کھڑا مسکرا رہا ہے:
؎ رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائم
رنگِ مذہب میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا
آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہم بچوں کو دنیا بھر کی معلومات تو دے رہے ہیں، مگر یہ بتانے میں ناکام ہیں کہ معلومات اور شعور میں کیا فرق ہے۔بچہ دنیا کے ہر ملک کا دارالحکومت جانتا ہے، مگر اپنے گھر کے بزرگ کا نام نہیں جانتا۔اسے جدید ترین فون چلانا آتا ہے، مگر اپنے جذبات کو قابو کرنا نہیں آتا۔ وہ مصنوعی ذہانت سے سوال پوچھ سکتا ہے، مگر اپنے ضمیر سے سوال پوچھنے کی عادت نہیں رکھتا۔یہاں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ علم بڑھ گیا، مگر دانائی کم ہوگئی۔ ہم نے مغرب سے گھڑی لی، وقت نہ لیا۔ایک زمانے میں مغرب کی ترقی کا راز صرف اس کی مشینوں میں نہیں بلکہ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، تحقیق، ادارہ سازی، قانون کی بالادستی اور مسلسل محنت میں بھی تھا۔ہم نے ان چیزوں کو دیکھ کر بھی ان سے عجیب سلوک کیا۔ ہم نے گھڑی خرید لی، مگر وقت پر پہنچنا نہ سیکھا۔ ہم نے دفتر کا کمپیوٹر خرید لیا، مگر کام کی دیانت نہ خرید سکے۔ ہم نے جدید فائلنگ سسٹم اختیار کر لیا، مگر فائل کو حرکت دینے کے لیے رشوت ”چائے پانی“ کا نظام برقرار رکھا۔ ہم نے بینکنگ سسٹم جدید کرلیا، مگر قرض واپس کرنے کی عادت نہیں چھوڑی۔ہم نے یونیورسٹیوں میں ریسرچ سینٹر بنا دیے، مگر تحقیق کرنے والے کو یہ بھی بتاتے رہے کہ وقت گزارو، ”بھائی، زیادہ سوال نہ اٹھاؤ اور نہ کیا کرو!“ یہی وہ مقام ہے جہاں ترقی، نقالی میں بدل جاتی ہے۔
قرآن مجید کا اصول: تبدیلی باہر سے نہیں، اندر سے
قرآن مجید نے قوموں کی تبدیلی کا ایک بنیادی اصول بیان کردیا۔ قرآن مجید میں اللّہ تعالٰی کا ارشاد اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے:
ترجمہ: ”ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس (اللّٰہ) کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللّٰہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللّٰہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہو سکتا ہے۔“ (سورۃ الرعد آیت 11)، تفہیم القرآن جلد 2، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، اشاعت اپریل 1982ء، صفحہ 448، 449۔
مولانا ظفرؒ علی خان نے اس حکم کی کتنی خوبصورت ترجمانی کی ہے:
؎ خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
غور کیجیے! یہاں لباس بدلنے کی بات نہیں، اندر کی حالت بدلنے کی بات ہے۔قومیں صرف عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں؛ کردار سے ترقی کرتی ہیں۔ قومیں صرف موٹروے سے ترقی نہیں کرتیں؛ قانون پسندی سے ترقی کرتی ہیں۔ قومیں صرف ایٹم بم سے طاقتور نہیں بنتیں؛ علم، نظم، اتحاد، اخلاق، دیانتداری، فرض شناسی اور مضبوط اداروں سے طاقتور بنتی ہیں۔قومیں صرف جدید لباس پہننے سے جدید نہیں ہوتیں؛ جدید سوچ، تحقیق، دیانت، برداشت اور ذمہ داری سے جدید ہوتی ہیں۔
طاقتور مسلمان کون؟
دِینِ اسلام نے کمزوری اور بے عملی کو پسند نہیں کیا۔ محمد رسول اللّہ ﷺ نے فرمایا:
الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ،ۖ احْرِصْ عَلَىٰ مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجِزْ…
ترجمہ: ”طاقت ور مومن اللّہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر ہے۔ جو چیز تمہیں نفع دے، اس کے حصول کے حریص رہو، اللّہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو…“(صحیح مسلم، حدیث 2664)
یہاں طاقت سے مراد صرف جسمانی طاقت نہیں۔ علم کی طاقت، کردار کی طاقت، ارادے کی طاقت، معاشی خود کفالت، فکری آزادی، اجتماعی نظم اور ایمان کی قوت—یہ سب طاقت کے دائرے میں آتے ہیں۔مسلمان کو ایسا طاقتور ہونا چاہیے کہ وہ دنیا سے علم لے سکے مگر اپنی روح نہ دے؛ ٹیکنالوجی استعمال کر سکے مگر ٹیکنالوجی کا غلام نہ بنے؛ عالمی بازار میں مقابلہ کر سکے مگر حرام کمائی کا سہارا نہ لے؛ جدید ادارے بنا سکے مگر انصاف قربان نہ کرے۔ترقی کی تعریف دوبارہ لکھنے کی ضرورت ہے۔ شاید ہمیں اپنی لغت میں ”ترقی“ کے معنی دوبارہ لکھنے پڑیں۔اگر کسی شخص کی آمدنی بڑھ گئی مگر حرام و حلال کی تمیز ختم ہوگئی تو یہ ترقی نہیں۔ اگر مکان محل بن گیا مگر گھر میں سکون نہیں تو یہ ترقی نہیں۔ اگر بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر گئے مگر والدین کو بوجھ سمجھنے لگے تو یہ ترقی نہیں۔ اگر ہمارے پاس دنیا بھر کی معلومات آ گئیں مگر اپنے خالق، مالک اور رب کی پہچان اور معرفت نہ آئی تو یہ ترقی ادھوری ہے۔
اگر ہم نے جدید زبانیں سیکھ لیں مگر سچ بولنا بھول گئے تو یہ علم کس کام کا؟ اگر ہم نے دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھے مگر اپنے نفس کو شکست نہ دے سکے تو یہ فتح بھی شکست ہے۔قرآن مجید کی دعا اس توازن کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے:
ترجمہ: ”اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔“ (سورۃ البقرہ آیت 201)
ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، اشاعت مارچ 1998ء، صفحہ 97۔
ہم کو بار بار یہ دُعا کرنی چاہیے:
”اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“
یہ دعا مسلمان کے ترقیاتی فلسفے کا جامع خلاصہ ہے: دنیا بھی، آخرت بھی؛ علم بھی، اخلاق بھی؛ قوت بھی، تقویٰ بھی؛ صنعت بھی، انسانیت بھی۔اصل غلامی زنجیروں کی نہیں، ذہن کی ہوتی ہے۔ ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں، لیکن کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا ہماری ذہنی آزادی بھی حاصل ہوئی؟ زنجیریں ٹوٹ گئیں، مگر بعض اوقات ذہن اب بھی کسی اور کے پیمانے سے اپنی قدر ناپتا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں: یہ چیز یورپ میں مقبول ہے؟ امریکہ میں لوگ کیا کرتے ہیں؟ دنیا ہمیں کیا کہے گی؟ فلاں ملک میں یہ رواج ہے، ہمارے ہاں کیوں نہیں؟
مگر ہم کم ہی پوچھتے ہیں: ”قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت کیا کہتی ہے؟“ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ مسلمان کا دستورِ حیات ہے۔ ہم مسلمان اس سے نہیں پوچھتے کہ ہمارے مسائل کا کیا حل ہے۔
”ہمارے معاشرے کی حقیقی ضرورت کیا ہے؟ ہماری اپنی تہذیبی اور اخلاقی ترجیحات کیا ہیں؟“
یہ سوالات ختم ہوتے جائیں تو آزادی صرف پاسپورٹ پر رہ جاتی ہے۔ مغرب سے سیکھنا ہے، مغرب بننا نہیں۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مغرب کوئی ایک رنگ کا معاشرہ نہیں اور نہ وہاں کی ہر چیز قابلِ مذمت ہے۔ وہاں تحقیق ہے، سائنس ہے، نظم ہے، قانون کی پاسداری کے نمونے ہیں، ادارہ جاتی تجربات ہیں، شہری سہولتیں ہیں، انسانی خدمت کے بہت سے قابلِ قدر نمونے ہیں۔ مسلمان کو جہاں حکمت ملے، اسے اختیار کرنے میں تنگ نظری نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکمت کو حکمت سمجھ کر لیا جائے، اپنی شناخت بیچ کر نہیں۔ ایک مسلمان جاپان سے صفائی سیکھ سکتا ہے، جرمنی سے صنعتی نظم، برطانیہ سے بعض ادارہ جاتی تجربات، امریکہ سے ٹیکنالوجی، یورپ سے تحقیق کے طریقے—لیکن اسے اپنا عقیدہ، اپنا ایمان، اخلاقی شعور، خاندانی نظام اور تہذیبی شناخت، پہچان کسی بازار میں نیلام کرنے کی ضرورت نہیں۔دنیا سے سیکھو، مگر اپنے آپ کو بھولو نہیں۔ علم جہاں ملے، حاصل کرو؛ مگر سمت اپنے اصولوں سے طے کرو۔ یہی اصل خودداری ہے۔
اقبالؒ کا چراغ اور ہمارا اندھیرا
اقبالؒ ہمیں بار بار خودی، خود اعتمادی، علم، عمل اور حریتِ فکر کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کے ہاں مسلمان کا تصوّر ایسا انسان ہے جو دوسروں کی محتاجی میں اپنی پہچان نہ کھوئے۔ آج ہمیں پھر اسی خودی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے نوجوان چاہییں جو انگریزی بول سکیں مگر اپنی مادری زبان سے شرمندہ نہ ہوں، بلکہ فخر کرنے والے ہوں۔ ایسے سائنس دان چاہییں جو جدید ترین تجربہ گاہ بنا سکیں مگر اپنے رب کو نہ بھولیں۔ ایسے تاجر چاہییں جو عالمی منڈی میں مقابلہ کریں مگر حرام سے بچیں۔ ایسے سیاست دان چاہییں جو اقتدار کو خدمت کا وسیلہ اور امانت سمجھیں۔ ایسے استاد چاہییں جو ڈگریاں نہیں، کردار پیدا کریں۔ایسے صحافی چاہییں جو خبر کو کاروبار نہیں، امانت سمجھیں۔
اور ایسے والدین چاہییں جو بچوں کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ ”بڑا آدمی بنو“، بلکہ یہ بھی کہیں:
”اچھا انسان بنو۔“ سب سے بڑھ کر اچھا، مخلص اور دیانت دار مسلمان بنو۔
آخر میں ایک چھوٹا سا آئینہ
ہمیں دوسروں کو دیکھنے سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنا ہوگا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں فرنگی بن کر ترقی کرنی ہے یا مسلمان رہ کر ترقی کرنی ہے۔ اگر مسلمان ہونے کا مطلب پسماندگی ہے تو ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ دینِ اسلام نے تو علم، عمل، عدل، امانت، محنت، قوت اور انسانیت کی تعلیم دی ہے۔اور اگر فرنگی ہونے کا مطلب صرف لباس، زبان، خوراک اور ظاہری طرزِ زندگی کی نقالی ہے تو ایسی ترقی سے بہتر ہے کہ انسان اپنی شناخت کے ساتھ زندہ رہے۔ہمیں مغرب کی مشین چاہیے، مگر مغرب کی ہر سوچ نہیں۔ ہمیں مغرب کی تحقیق چاہیے، مگر اپنی تہذیبی خودسپردگی نہیں۔ ہمیں جدید سائنس چاہیے، مگر اخلاق سے خالی سائنس نہیں۔ ہمیں مضبوط ادارے چاہییں، مگر ضمیر کے بغیر ادارے نہیں۔ ہمیں خوشحال معیشت چاہیے، مگر حرام کی قیمت پر نہیں۔ہمیں ترقی چاہیے، مگر ایسی ترقی جو انسان کو انسان بنائے۔
کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہمارے پاس کتنی عمارتیں تھیں، کتنی گاڑیاں تھیں، کتنے موبائل تھے، کتنے فالوورز تھے یا بینک میں کتنی رقم تھی۔ سوال یہ ہوگا کہ ہم نے انسان بننے کی کتنی کوشش کی؟
اسدؒ ملتانی کا شعر پھر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے:
؎ کی ترقی جو مُسلمان نے فرنگی بن کر
وہ فرنگی کی ترقی ہے، مُسلمان کی نہیں
اس شعر کا خلاصہ شاید یہی ہے کہ ترقی کرو، مگر اپنی شناخت اور پہچان مٹا کر نہیں؛ علم حاصل کرو، مگر ایمان کھو کر نہیں؛ دنیا بناؤ، مگر آخرت برباد کرکے نہیں؛ مغرب سے سیکھو، مگر مغرب کی اندھی نقالی کرکے نہیں۔اور اگر واقعی ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو شاید سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر ایک چھوٹی سی اصلاح کرنی ہوگی۔گھڑی بھی رکھیں اور وقت کی پابندی بھی۔ کتاب بھی رکھیں اور مطالعہ بھی۔ موبائل بھی رکھیں اور مقصد بھی۔ تعلیم بھی حاصل کریں اور تربیت بھی۔ دولت بھی کمائیں اور دیانت بھی۔ اقتدار بھی ملے تو خدمت بھی کریں۔اور سب سے بڑھ کر—دنیا کے سامنے سر بُلند ہونے سے پہلے اپنے رب کے سامنے سر جھکانا سیکھیں۔کیونکہ جس قوم کے پاس علم ہو مگر کردار نہ ہو، قوت ہو مگر عدل نہ ہو، دولت ہو مگر دیانت نہ ہو، اور ترقی ہو مگر مقصد نہ ہو، وہ بظاہر بہت آگے نکل سکتی ہے؛ لیکن تاریخ کے آئینے میں وہ کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔
اصل ترقی وہ ہے جس میں انسان ترقی کرے، صرف سامان نہ بڑھے۔اصل آزادی وہ ہے جس میں ذہن آزاد ہو، صرف ہاتھوں کی ہتھکڑیاں نہ ٹوٹیں۔ اور اصل کامیابی وہ ہے جس میں دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی۔یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمان کو فرنگی بننے کی نہیں، اپنے اصل کو پہچاننے کی ضرورت ہے اور پہچان کو قائم رکھنے کی اہم ضرورت ہے۔



تبصرہ لکھیے